ہمارے غازی وشہداء

صف اول کا شہید

کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے ڈاکٹر اسامہ کے حوالے سے فیض اللہ فراق کی تحریر

جب سے کرونا وائرس کی بازگشت گلگت بلتستان کی برف پوش چوٹیوں سے ٹکرائی ہے تب سے پورے ملک کی طرح مذکورہ خطے کا چپہ چپہ سراسمیگی کی کیفیت سے دوچار ہے۔۔۔ چین کے شہرو وہان سے سفر کرنے والے اس خطرناک وائرس نے قلیل وقت میں چاروانگ عالم میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور بلاتفریق انسانی زندگی کو مشکل میں ڈالتے ہوئے عالمگیر سطح پر خوف کا سکہ بٹھا دیا ۔  دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس موذی وبا سے خود کو نکالنے کے لئے کوشاں ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس کائناتی حقیقت کا علاج ہنوز دریافت نہ ہوسکا، جس وجہ سے دنیا کی بے چینی اور بڑھ گئی ہے ۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان نے بھی کرونا وائرس مستعار لیا ہے اور وائرس کے شکار تمام مریضوں کی ٹریولنگ ہسٹری بیرون ممالک سے جڑی ہوئی ہے ۔ پاکستان میں کرونا وائرس سے پہلا مریض مردان میںفوت ہوا اس کے بعد گلگت بلتستان میں ایک ینگ ڈاکٹر مریضوں کو بچانے کی غرض سے اپنی جان قربان کرگیا۔ کرونا وائرس نے ملک کو یکجا کیا اور تمام اداروں نے ایک پیج پر آ کر اس وبا سے لڑنے کا عزم کیا ہے جس کا نتیجہ بہتری کی صورت میں سامنے آیا۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک کو اس خطرناک وبا سے نکالنے کے لئے عملی کوششیں کیں۔


 


اس وبا کے فرنٹ لائن کے سپاہی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف ہیں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر انسانیت کی بقا کے لئے پیش پیش رہے اور یہی وجہ ہے پوری قوم نے صف اول کے ان جانبازوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ پاکستان میں میڈیکل شعبے سے وابستہ اس جنگ کے پہلے ہیرو ڈاکٹر اسامہ چیلاسی ہیں جنہوں نے نا قابل فراموش قربانی کے ذریعے قوم کے حوصلے بلند کئے ۔ ڈاکٹر اسامہ کا تعلق گلگت بلتستان کے گیٹ وے کہلانے والے ضلع دیامر کے ہیڈ کوارٹر چیلاس سے تھا۔ انہوں نے آبائی علاقے سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد میٹرک اور ایف ایس سی کا امتحان پبلک سکول اینڈ کالج گلگت سے نمایاں نمبروں سے پاس کر کے میڈیکل کے شعبے کا انتخاب کیا۔ ان کے والد محکمہ لوکل گورنمنٹ میں بطور ڈپٹی ڈاریکٹر فرائض انجام دے رہے ہیں ۔


گلگت بلتستان میں ایک ینگ ڈاکٹر مریضوں کو بچانے کی غرض سے اپنی جان قربان کرگیا۔ کرونا وائرس نے ملک کو یکجا کیا اور تمام اداروں نے ایک پیج پر آ کر اس وبا سے لڑنے کا عزم کیا ہے جس کا نتیجہ بہتری کی صورت میں سامنے آیا۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک کو اس خطرناک وبا سے نکالنے کے لئے عملی کوششیں کیں۔


قائد اعظم میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ڈاکٹر اسامہ نے محکمہ صحت گلگت بلتستان میں بطور میڈیکل افسر جوائن کیا تھا۔ ڈاکٹر اسامہ گلگت کے مقام پر زائرین کی سکریننگ سنٹر پر مامور تھے ۔ دوران ڈیوٹی طبیعت بگڑ گئی اور واپس گھر چلے گئے وہاں طبیعت کی مزید ناسازی پر انہیں ڈی ایچ کیو ہسپتال گلگت لے جایا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک تھی انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔ ساتھ کرونا ٹیسٹ کے لئے ان کے خون کے نمونے حاصل کئے گئے ۔ رپورٹ مثبت آئی جبکہ دوسری جانب ڈاکٹر اسامہ موت اور زندگی کی کشمکش میں زندگی کی آخری سانسوں کی گنتی کر رہے تھے۔ والد اور چاہنے والوں کے لئے وینٹی لیٹر کی سانسیں امید کی آخری کرن ثابت نہ ہوسکیں اور 48 گھنٹے کے بعد داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے ڈاکٹر اسامہ کو قومی ہیرو قرار دیتے ہوئے ان کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر اسامہ پہلے پاکستانی ڈاکٹر ہیںجوکرونا کی جنگ میں اپنے لہو کی سرخی سے داستان وفا لکھ گئے ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ کی نا قابل فراموش قربانی ملک میں پھیلے ہوئے خوف کے جواب میں طمانیت اور سکون ثابت ہوئی اور پوری قوم کو ڈاکٹر اسامہ کی روپ میں ایک دلاسہ اور حوصلہ ملا جسے ہم بھلا نہیں سکتے ۔ ڈاکٹر اسامہ نے اپنی عمر سے بڑا کام کیا اور وقت سے پہلے انسانیت کے لئے خود کو قربان کیا۔ پورے ملک کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس اس وقت قلیل وسائل میں کرونا جیسی وبا کی پہلی صف میں کھڑے ہیں۔ پاکستانی قوم ڈاکٹر اسامہ کو کبھی بھول نہیں سکتی۔۔ ہماری نوجوان نسل کے لئے ڈاکٹر اسامہ قربانی اور جذبے کا انمٹ حوالہ ہے جو رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گا۔ ڈاکٹر اسامہ کے والد محمد ریاض نے جواں سال بیٹے کی شہادت پر ماہنامہ ''ہلال اردو'' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا ایک جذبہ لے کر میڈیکل کے شعبے میں گیا تھا۔ وہ انسانیت شناس شریف النفس اور اپنی پڑھائی سے لگن رکھنے والے انسان تھے ان کی جدائی ہمارے لئے صدمے کا باعث ضرور ہے لیکن مجھے فخر بھی ہے کہ انہوں نے انسانیت کے لئے اپنی جان قربان کی ہے ۔ وہ کرونا جیسی عالمی وبا کی جنگ کے صف اول کے شہید ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تو جوان ہوئے تھے ان کے کئی خواب تھے۔  وہ باہر جا کر سپیشلا ئیزیشن کرنا چاہتے تھے اور اس کے بعد شادی کرنے کے خواہاں تھے مگر اللہ کو یہی منظور تھا کہ وہ ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ اب وہ اپنی عمر سے بہت بڑے ہوگئے ہیں کیونکہ وہ انسانی وقار اور عظمت کے لئے طویل سفر پر روانہ ہوگئے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ ہم سب نے ایک نہ ایک دن وہاں جانا ہے ۔۔انہوں نے کہا کہ اللہ میرے ڈاکٹر بیٹے کی شہادت کے طفیل پوری دنیا سمیت پاکستان کو کرونا جیسی موذی وبا سے نجات دلائے ۔


[email protected]
 

یہ تحریر 36مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP