قومی و بین الاقوامی ایشوز

صدر اوبامہ کا دورۂ بھارت اور جنوبی ایشیا کا سیاسی مستقبل

ماضی میں بھارت کی بری،ہوائی اور بحر ی افواج کے لئے ہتھیاروں کا روس سب سے بڑا ذریعہ تھا۔اب بھی بھارتی مسلح افواج جن ہتھیاروں سے لیس ہیں اُن کا70%حصہ روسی ساخت کے ہتھیاروں پر مشتمل ہے۔لیکن ہتھیاروں کے سلسلے میں بھارت روس پر اپنے انحصار کو بتدریج کم کر رہا ہے۔امریکہ اب اس شعبے میں روس کی جگہ لینا چاہتا ہے۔کیونکہ ہتھیاروں کی فروخت ایک بہت نفع بخش کاروبار ہے ۔امریکہ نے بھارت کو جدید ترین ہتھیار نہ صرف بیچنے کی پیش کش کی ہے بلکہ مشترکہ بیان کے مطابق کئی ہتھیاروں‘ جن میں طیارہ بردار جہاز کی تعمیر بھی شامل ہے‘کی پیداوار کے لئے امریکہ بھارت مشترکہ منصوبوں پر بھی کام کریں گے۔اسی طرح امریکہ نے خلائی تحقیق میں بھی بھارت کو ضروری امداد اور سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

امریکہ اور بھارت کے باہمی تعلقات اور تعاون میں فروغ کا آغاز تو سرد جنگ کے اختتام کے وقت سے ہی شروع ہوگیا تھا،لیکن صدر بارک اوبامہ کے حالیہ دورہ(25سے 27 جنوری 2015) سے دونوں ملکوں کے تعلقات بلندیوں کی ایک ایسی سطح پر جاپہنچے ہیں جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی ۔اگرچہ صدر بل کلنٹن کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران میں بھارت کو ایٹمی دھماکے کرنے کے پاداش میں امریکہ کی طرف سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا،تاہم کلنٹن کے جانشین جارج ڈبلیو بُش کے دورمیں امریکہ ۔بھارت تعلقات میں بہت اہم پیش رفت ہوئی تھی۔اس کی واضح مثال 2005میں سابق بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دورۂ امریکہ کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجک پارٹنرشپ کے قیام کا اعلان اور سول نیوکلےئر تعاون کے معاہدے پر اتفاق کی صورت میں پیش کی جاسکتی ہے۔2006میں جب صدر بُش نے بھارت کا دورہ کیا تو اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کر دئیے گئے تھے۔لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اُس رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہا تھاجس کی فریقین توقع کررہے تھے۔اس کی وجہ سول نیوکلئیر معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے راستے میں حائل دو بڑی رکاوٹیں تھیں۔ایک کا تعلق دورانِ ترسیل ایٹمی مواد کے نقصان کی ذمہ داری کے تعین سے تھا اور دوسرے کا واسطہ بھارت میں باہر سے آنے والے ایٹمی ایندھن کے استعمال پر نظر رکھنے سے تھا۔صدر اوبامہ کے دورۂ بھارت کے نتیجے میں یہ دونوں مسائل حل کر لئے گئے ہیں۔اب امریکہ اور بھارت کے درمیان سول نیوکلےئر معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان سٹرٹیجک تعلقات میں یہ ایک بہت اہم پیش رفت ہے۔

2014سے قبل امریکہ اور بھارت کے درمیان جتنے بھی معاہدات ہوئے اُن کا بڑا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط اور گہرا کرنا تھا لیکن ستمبر2014میں بھارتی وزیراعظم مودی کے دورۂ امریکہ کے بعد سے اب تک امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں جو ڈرامائی پیش رفت ہوئی ہے اُس نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔پہلے باہمی تعلقات صرف سٹریٹجک ڈائیلاگ پر مبنی تھے‘ اب ان کی بنیاد سٹریٹجک اور اکنامک ڈائیلاگ ہے۔اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان ملٹری‘پولیٹکل ڈائیلاگ بھی قائم کردیا گیا ہے۔اس سے پہلے امریکہ اور بھارت کے درمیان جن امور پر مکمل مفاہمت، اتفاق یا سمجھوتوں کا اعلان کیا جاتا تھا،اُن کا دائرہ صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود تھا۔اب اس دائرے کو وسیع کردیا گیا ہے اور اس میں دیگر ملکوں مثلاََ افغانستان اور جنوبی ایشیا کے علاوہ ایشیا‘بحرالکاہل اور وسطی ایشیا کے دیگر ملکوں کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر اوبامہ کے دورۂ بھارت کے بعد امریکہ اور بھارت کی اس سانجھ کو سٹریٹجک اور گلوبل پارٹنر شپ کا نام دیا جارہا ہے۔

صدر اوبامہ کے دورۂ بھارت کے موقع پر 59نکات پر مشتمل جو ایک طویل مشترکہ اعلانیہ جاری کیا گیا ہے،اُس کے مطابق بھارت اب یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اُس کی خارجہ پالیسی غیر جانبدارنہ اصولوں پر مبنی ہے۔بلکہ بھارت کے ایک مشہور سٹریٹجک تھنکر اور نئی دہلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر مٹو کے مطابق 1971میں بھارت نے روس کے ساتھ دوستی اور تعاون کا جو سمجھوتہ کیا تھا،اُس کے بعد اب بی جے پی کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کے لئے سمجھوتوں پر دستخط کر کے عملاً بھارت کو امریکہ کا ایک اتحادی ملک بنا دیا ہے۔

پروفیسر مٹو کے مطابق 1971میں بھارت اور سوویت یونین کے درمیان الحاق کے دومحرکات تھے۔ ایک یہ کہ صدر نکسن کی حکومت کا پاکستان کی طرف واضح جھکاؤ تھا اور دوسرے یہ کہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوگئی تھی۔یاد رہے کہ اُس برس صدر نکسن کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہنری کسنجر نے پاکستان سے اُڑ کر امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کے قیام کی راہ ہموار کی تھی۔ان دوعوامل کی وجہ سے بھارت کو یہ فکر لاحق ہوگئی تھی کہ اُس کے خلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اور اسی کے خلاف ردِعمل کے طور پر اندراگاندھی نے سوویت یونین کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے جس کی آڑ میں بھارت نے1971میں مشرقی پاکستان کے بحران میں براہ راست مداخلت کر کے پاکستان کو دولخت کر دیا۔لیکن 2014کے حالات یکسر مختلف ہیں۔ان میں چین کی اُبھرتی ہوئی معاشی اور فوجی طاقت اور اس کے نتیجے میں اُس کے اِردگرد علاقوں مثلاً مشرق بعید جنوب مشرقی ایشیا، بحرہند کا خطہ اور وسطی ایشیا میں اُس کا بڑھتا ہوا سیاسی اثرورسوخ ہے۔امریکہ اور بھارت دونوں اسے اپنے مفادات کے لئے خطرہ تصور کرتے ہیں کیونکہ گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے

ایشیا‘بحرالکاہل کا خطہ امریکہ کا حلقہ اثررہا ہے اور یہاں امریکہ کے بڑے اہم معاشی،سیاسی اور فوجی مفادات موجود ہیں۔مغرب میں نہرسوئیز سے مشرق میں آبنائے ملا کا‘ اور شمال میں بھارت سے لے کر جنوب میں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا تک‘ بحر ہند کے خطے پر کبھی برطانیہ کی مکمل عملداری تھی۔ برطانیہ کے چلے جانے کے بعد بھارت اپنے آپ کو اس پورے خطے یعنی مشرق وسطیٰ‘ خلیج فارس،مشرقی افریقہ سے ہند چینی تک برطانیہ کا جانشین سمجھتا ہے اور صرف جنوبی ایشیا نہیں بلکہ اس پورے خطے کو اپنے حلقۂ اثر میں شمار کرتا ہے۔

امریکہ کو علم ہے کہ وہ ایشیا،بحرالکاہل،جنوب مشرقی ایشیا بحرہند اور مغربی ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کے آگے بند نہیں باندھ سکتا۔اس لئے کہ اُس نے سردجنگ کے زمانے کے اپنے دو اتحادی ممالک یعنی آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کر کے بھارت کو بھی اس سہ فریقی اتحادی شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔وزیراعظم مودی کی حکومت نے امریکہ کی اس کوشش کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزارتِ عظمی کا حلف اُٹھانے کے فوراََ بعد بھارتی وزیراعظم کا جاپان اور آسٹریلیا کا دورہ،بھارت کی اس سوچ کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔

مشترکہ بیان کے بنظر غور مطالعہ سے اب یہ بات بالکل واضح معلوم ہوتی ہے کہ امریکہ بھارت کو ایک بڑی طاقت کی صورت میں دیکھناچاہتا ہے۔اس لئے اُس نے بھارت کو پانچ بڑی طاقتوں یعنی روس، امریکہ، چین، برطانیہ اور فرانس کے ہم پلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رُکن بنانے کی حمایت کی ہے۔ لیکن کیا امریکہ کے سہارے بھارت ایک بڑی خصوصاََ چین کے ہم پلہ طاقت بن کر اُبھر سکے گا؟ اس کے بارے میں اگرچہ بھارتی حلقے بڑے پُر امید ہیں لیکن بھارت سے باہر اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت بے شمار تضادات کا شکار ہے۔

مشترکہ بیان کے پیرا۔4میں اس منصوبے کو بیان کرتے ہوئے امریکہ اور بھارت نے ایک مشترکہ لائحہ عمل کا تصور پیش کیا ہے جس کے تحت دونوں ملک نہ صرف معاشی،کاروباری،دفاعی اور سیاسی شعبوں میں اپنے دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو وسیع کریں گے،بلکہ دونوں نے ایشیا‘بحرالکاہل او ر بحر ہند کے خطوں میں ایک دوسرے کی حمایت میں پالیسیاں اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں بھارت نے بحر جنوبی ایشیا (South China Sea)کے مسئلے پر اپنا سارا وزن امریکی پلڑے میں ڈالنے کا علان کر دیا ہے۔ہندچینی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی علاقائی تنظیم’’آسیان‘‘کے دیگر رُکن ممالک کے ساتھ چین کے دوطرفہ تجارتی اور معاشی تعلقات میں گزشتہ ایک دہائی سے زبردست اضافہ ہوا ہے۔امریکہ اور بھارت دونوں اسے اپنے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھتے ہیں اس لئے مشترکہ بیان میں امریکہ کی مشرق کی طرف رجوع (Look East)پالیسی اور بھارت نے امریکہ کی Pivot Asiaپالیسی کی حمایت کی ہے۔دونوں نے مشترکہ ہدف حاصل کرنے کے لئے اپنی پالیسیوں کو مربوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مشترکہ ہدف کیا ہے؟ان علاقوں میں اپنے مفادات کا تحفظ اور چینی چیلنج کا مقابلہ کرنا اور اس کے حصول کے لئے امریکہ اور بھارت نے جن عملی اقدامات پر اتفاق کیاہے،اُن کا مشترکہ بیان میں اعلان کیا گیا ہے ان کے تحت امریکہ کی طرف سے بھارت کو ہر شعبے میں مدد فراہم کرکے اسے ایک بڑی طاقت بنایا جائے گا۔

مثلاً امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔اس کے لئے دونوں ملکوں نے ڈیفنس پالیسی گروپ اور سب گروپس قائم کر رکھے ہیں۔ان کے ذریعے دوطرفہ بنیادوں پر دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے گا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے ایک امریکہ ‘ بھارت مشترکہ کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ امریکہ اور بھارت قومی ترقی کے لئے تعلیم کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔اس کے لئے ایک ہائر ایجوکیشن ڈائیلاگ کے نام سے فورم قائم کیا گیا ہے جس کا پہلا اجلاس 17نومبر 2014کو نئی دہلی میں ہوا تھا۔اس ڈائیلاگ کے ذریعے امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلیم کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔امریکی اور بھارتی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے درمیان رابطے قائم کئے جائیں گے،دونوں ملکوں کے طلباء اور ماہرین کے وفود کا تبادلہ کیا جائے گا اور اساتذہ کو مل کر ریسرچ کرنے میں مدد دی جائے گی۔ امریکہ بھارت کو ایک بڑی معاشی قوت بنانا چاہتا ہے اس کے لئے توانائی کے شعبے میں امریکہ کی طرف سے فراخ دلانہ پیش کش کی گئی ہے۔مشترکہ بیان کے مطابق بھارت اور امریکہ کے درمیان سول نیوکلےئرتعاون میں حائل رکاوٹوں کو دور کر دیا گیا ہے۔ اس طرح بھارت کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ امریکہ اور بھارت باہمی تعاون یا پالیسیوں کے اشتراک کو محض دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ ان کے دائرے کو جنوبی ایشیا اور اس سے باہر دیگر ملکوں تک پھیلانا چاہتے ہیں۔مشترکہ بیان کے پیرا۔46کے مطابق صدر اوبامہ اور وزیراعظم مودی کی بات چیت میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ امریکہ اور بھارت جس طرح مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے دوطرفہ بنیادوں پر تعاون اور مدد کررہے ہیں اسی طرح دیگر ملکوں کو بھی مختلف شعبوں میں درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لئے مدد فراہم کریں گے۔ان شعبوں میں صحت،توانائی،خوراک، سکیورٹی،قدرتی آفات اور ویمن ایمپاورمنٹ شامل ہیں۔

افغانستان ،مشرقی اور جنوبی افریقہ کے بعض ممالک میں امریکہ اور بھارت پہلے ہی اس قسم کی سرگرمیوں میں مل جل کر حصہ لے رہے ہیں۔ مشترکہ بیان میں اس ارادے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایشیا اور افریقہ کے دیگر ملکوں کو بھی اس کییٹگری میں شامل کر لیا جائے گا۔اس عمل کو تیز کرنے کے لئے امریکہ نے نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ بھارت سے باہر جنوبی ایشیا،مغربی ایشیا،وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ بھارت کے مواصلاتی رابطوں کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔پاکستان کے راستے افغانستان،ایران اور اس سے آگے وسطی ایشیائی ممالک کے تجارتی اور معاشی تعلقات کا قیام بھارت کا ایک دیرینہ خواب ہے۔اب تک اس خواب کو پورا کرنے کی تمام بھارتی کوششیں ناکام رہی ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ کشمیر کا حل طلب تنازعہ ہے لیکن اب امریکہ کی صورت میں بھارت کو ایک بہت بڑا حمایتی مل گیا ہے۔امریکہ اور بھارت کی جانب سے جنوبی ایشیاء اور وسطی ایشیاء کے درمیان ٹرانسپورٹ اور معاشی رابطوں پر بہت زور دیا جارہا ہے۔نئی دہلی میں صدر اوبامہ اور وزیراعظم مودی کی بات چیت کے بعد جو مشترکہ اعلان جاری کیا گیا ہے،اُس میں ان رابطوں کو فروغ دینے کے ارادے کا ایک دفعہ پھر اعادہ کیا گیا ہے۔

مشترکہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ان رابطوں کے قیام سے افغانستان میں امن اور استحکام پیدا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ اور بھارت کے درمیان افغانستان میں جو سٹریٹجک پارٹنرشپ قائم ہے اُسے مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان متواتر صلاح مشوروں کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

ماضی میں بھارت کی بری،ہوائی اور بحر ی افواج کے لئے ہتھیاروں کا روس سب سے بڑا ذریعہ تھا۔اب بھی بھارتی مسلح افواج جن ہتھیاروں سے لیس ہیں اُن کا70%حصہ روسی ساخت کے ہتھیاروں پر مشتمل ہے۔لیکن ہتھیاروں کے سلسلے میں بھارت روس پر اپنے انحصار کو بتدریج کم کر رہا ہے۔امریکہ اب اس شعبے میں روس کی جگہ لینا چاہتا ہے۔کیونکہ ہتھیاروں کی فروخت ایک بہت نفع بخش کاروبار ہے ۔امریکہ نے بھارت کو جدید ترین ہتھیار نہ صرف بیچنے کی پیش کش کی ہے بلکہ مشترکہ بیان کے مطابق کئی ہتھیاروں‘ جن میں طیارہ بردار جہاز کی تعمیر بھی شامل ہے‘کی پیداوار کے لئے امریکہ بھارت مشترکہ منصوبوں پر بھی کام کریں گے۔اسی طرح امریکہ نے خلائی تحقیق میں بھی بھارت کو ضروری امداد اور سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اس میں مریخ پر تحقیق کرنے کے لئے امریکہ اور بھارت کی مشترکہ کوششیں بھی شامل ہوں گی۔مشترکہ بیان کے بنظر غور مطالعہ سے اب یہ بات بالکل واضح معلوم ہوتی ہے کہ امریکہ بھارت کو ایک بڑی طاقت کی صورت میں دیکھناچاہتا ہے۔اس لئے اُس نے بھارت کو پانچ بڑی طاقتوں یعنی روس، امریکہ، چین، برطانیہ اور فرانس کے ہم پلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رُکن بنانے کی حمایت کی ہے۔ لیکن کیا امریکہ کے سہارے بھارت ایک بڑی خصوصاََ چین کے ہم پلہ طاقت بن کر اُبھر سکے گا؟ اس کے بارے میں اگرچہ بھارتی حلقے بڑے پُر امید ہیں لیکن بھارت سے باہر اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت بے شمار تضادات کا شکار ہے۔یہ تضادات سماجی بھی ہیں اور سیاسی بھی۔ذات پات کی بناء پر معاشرتی تقسیم نے بھارت کو اندر سے کھوکھلا کر رکھا ہے۔پچھلی دو دہائیوں میں بھارت نے معاشی میدان میں بلا شُبہ اہم ترقی کی ہے لیکن اب بھی یہ وسیع و عریض ملک علاقائی معاشی ناہمواریوں کا شکار ہے۔بھارت اپنے آپ کو جنوبی ایشیا کا حصہ سمجھتا ہے لیکن اس کے تجارتی،معاشی اور ثقافتی رابطے ہمسایہ ملکوں کے مقابلے میں مشرق اور مغرب کے دور دراز ممالک سے زیاد ہ ہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے تقریباََ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ حل طلب تنازعات ہیں جن کی وجہ سے دونوں جانب عدم اعتماد کی فضاء پائی جاتی ہے۔ مگر اس کے باوجود بھارت اور امریکہ دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر ایک دوسرے کے ساتھ جس تعاون کی بنیاد رکھ رہے ہیں،وہ اس پورے خطے کے لئے ایک انتہائی اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔صدر اوبامہ کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان جن معاہدات پر دستخط ہوئے ہیں اور آئندہ کے لئے جس لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا ہے،اُس کی روشنی میں بھارت صرف جنوبی ایشیاء میں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک اہم کردار ادا کرتا نظر آرہا ہے۔ پروفیسر


ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔ آپ ان دنوں یونیورسٹی آف سرگودھا سے منسلک ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 63مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP