ہلال نیوز

صحرائے تھر میں پاک آرمی کا فری میڈیکل  کیمپ 

کیمپ کے دوران چار ہزار سے زائد مرد، خواتین اور بچوں کومفت چیک اپ کے بعد ضروری ادویات مہیا کی گئیں

صحرائے تھر کا شمار دنیا کے بڑے صحرائوں میں کیا جاتا ہے اور اس کو انسان دوست صحرا بھی کہا جاتا ہے۔ دو لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط اس صحرا میں لاکھوں لوگ آج بھی اپنی روایات اور ثقافت کی پاسداری کے ساتھ آباد ہیں ۔ اپنی وسعت اور موسمی سختیوں کے باعث یہ علاقہ بہت سی مشکلات کا بھی شکار ہے جس میں سرِفہرست طبی سہولتوں کی فراہمی ہے۔ سخت مجبوری کی صورت میں عوام کو دوردراز ضلعی ہیڈکوارٹرز کا سفر کرنا پڑتا ہے جو ایک بہت پریشان کن اور دشوار امر ہے۔



پاکستان آرمی نے ہمیشہ کی طرح عوام کی اس بنیادی ضرورت کو بھی محسوس کیا اور چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایات کے پیشِ نظراپنے لوگوں کو ہر ممکن سہولیات مہیا کرنے کی کوشش کی۔ تھر کے اضلاع جو دوردراز دیہات پر مشتمل ہیں وہاں انسانی ضروریات کی بنیادی سہولتیں مہیا کرنا یقیناایک خاصا دشوار کام ہے ۔یہ مشکل اور دوردراز علاقے پاکستان آرمی کے حیدرآباد ڈویژن کے حصے میں آتے ہیں اس لئے سپہ سالار کے عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے جی او سی حیدرآباد میجر جنرل محمد کاشف آزاد نے73 میڈیکل بٹالین کو خصوصی فری میڈیکل  کیمپ لگانے  کی ہدایات جاری کیں ۔
یہ میڈیکل کیمپ 24 تا 27 فروری2021 یعنی تین روز کے لئے تعلقہ جات چھاچھرو ، ڈالی اور عمرکوٹ کے دوردراز دیہات میں لگایا گیا اور اس کیمپ کے لئے تمام ضروری وسائل ڈویژن ہیڈکوارٹرز نے فراہم کئے۔



کیمپ کے دوران چار ہزار سے زائد مرد، خواتین اور بچوں کومفت چیک اپ کے بعد ضروری ادویات مہیا کی گئیں۔ ابتدائی معانئے کے بعد جن مریضوں کو باقاعدہ علاج کی ضرورت تھی انہیں ضلعی ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں ریفر کیا گیا۔
مزید برآں ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم نے مقامی طور پر پائی جانے والی بیماریوں کی نشاندہی کی اور اہلِ علاقہ کو ان سے متعلق آگاہی بھی فراہم کی ۔
یہاں فوجی ماہرین کی ٹیم کو ایک خوشگوار حیرت کا سامنا بھی ہوا جب مختلف مقامات پر کیمپ کے دوران مقامی ڈاکٹرز نے بھی اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کردیں جو پاکستان آرمی کے ساتھ عوام کی محبت اور دلی وابستگی کا ایک بین ثبوت تھا۔

یہ تحریر 129مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP