صحت

صحت مند زندگی کے لئے اپنے، اور اپنے پیاروں کے، دل کا خیال رکھیں

 دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
شور برپا ہے خانۂ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی
ناصر کاظمی کی مشہور غزل کے ان اشعار میں دل کا ذکر کیا گیا ہے۔ دنیا کی تمام تر زبانوں میں کی گئی شاعری میں دل کی ایک خاص اہمیت ہے۔ پھر وہ چاہے دل کا خوش ہونا ، دل کا چُرانا، دل جیتنا ہو یا دل کا ٹوٹنا ان سب صورتوں میں دل کی بات ہی کی جاتی ہے۔ جیسا کہ مرزا غالب نے بھی کہا کہ
'' دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
 آخر اس درد کی دوا کیا ہے''
یہ تو تھی شعروشاعری کی دنیا کی بات لیکن اگر انسان کی زندگی کی حقیقت دیکھی جائے تو دل انسانی جسم کا سب سے اہم عضو ہے۔



 دل سینے کے تقریباً وسط میں پھیپھڑوں کے درمیان ہوتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق نارمل حالت میں دل کی دھڑکن کی رفتارایک منٹ میں ساٹھ سے سو مرتبہ ہوتی ہے۔تاہم عمر کے ساتھ ساتھ دھڑکن کی رفتار بڑھ سکتی ہے اور جسمانی طور پر سرگرم افراد میں یہ رفتار کم ہو سکتی ہے۔جوکہ نارمل حالت میں ایک منٹ میں چالیس بار ہو سکتی ہے۔ اگر دل ناکام ہوجائے تو ہمارا مکمل جسم سانس لینا اور کام کرنا بند کر دیتا ہے، نتیجتاً ہمارا وجود ختم ہوجاتا ہے۔ 
دل انسانی جسم کا اہم ترین حصہ ہے اور پورا نظامِ خون اس پر منحصر ہے۔ ایک عضلاتی پمپ کی طرح اس کا بنیادی مقصد پورے جسم کو خون پہنچانا ہے۔
ادارہ برائے عالمی صحت کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ دنیا میں ہر برس امراضِ قلب سے ایک کروڑ 75 لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دل کے امراض بیشتر ممالک میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہوتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زیاہ افراد دل کے امراض سے جاں بحق ہو جاتے ہیں ۔
کن افراد میں دل کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جن افراد میں بلند فشارِ خون، مٹاپا، شوگر اور کولیسٹرول کا مسئلہ ہوتا ہے ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔لیکن مناسب وقت پر علاج اور دوائیوں یا پھر آپریشن سے اموات میں کمی ممکن ہے۔غیرمتوازن غذا، ورزش یا چہل قدمی نہ کرنا، تمباکو نوشی اور الکوحل کا استعمال کرنے والے افراد میں بھی دل کے امراض ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق احتیاط اور آگاہی نہ ہونے سے دل کی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
دل کی بیماریاں اس وقت شروع ہوتی ہیں جب کولیسٹرول، چربی، اورپلاک کی شکل میں چونا(کیلشیئم)خون کی نالیوں (شریانوں)میں جمنا شروع ہو جاتا ہے۔ کولیسٹرول، چربی اور کیلشیئم کے جمنے سے دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں خون کے گزرنے کا راستہ تنگ ہوجاتا ہے، اور دل کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں مل پاتی۔ دل کو آکسیجن کی یہ کمی سینے میں درد کا باعث بنتی ہے، اور اس کو انجائنا بھی کہتے ہیں۔ دل کی بیماری اور ہارٹ اٹیک دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں رکاوٹ کے باعث ہوتی ہے ۔
ذہنی دباؤ، ڈپریشن،پریشانی اور افسردگی۔۔۔کیا ان کے باعث بھی دل کے مسائل ہو سکتے ہیں؟
امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ جاننے کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ ذہنی تنائو دل پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ لیکن ذہنی تناؤ ان عوامل کو متاثر کرسکتا ہے جو دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھاتے ہیں جیسے کہ ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں اضافہ ، سگریٹ نوشی وغیرہ۔ کچھ افراد اپنے ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے لئے بہت زیادہ شراب یا سگریٹ پینے کا انتخاب کرتے ہیں جوکہ بلڈ پریشر بڑھا سکتا ہے اور شریانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اگر یہ صورتحال زیادہ دیر تک رہے تو جسم ایک ہارمون جاری کرتا ہے جو ایڈرینالین (Adrenaline)کہلاتا ہے جو عارضی طور پر آپ کی سانس لینے اور دل کی شرح رفتار تیز کرنے اور آپ کے بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔جس کا مقصد کسی آنے والی صورتحال کے لئے انسان کو تیار کرنا ہے۔ 
گھر ، دفتر یا سڑک کہیں بھی ہوں۔ ذہنی دباؤ سے بچنا مشکل ہے، کسی بھی شخص کی زندگی سو فیصد پرسکون نہیں ہوتی۔ تاہم امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کی تجاویز کے مطابق اگر ان چیزوں پر عمل کیا جائے تو کسی حد تک پرسکون زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ مثبت انداز میں خود کلامی کرنا جیسے کہ میں یہ کر سکتا ہوں جس سے تناؤ میں کمی آ سکتی ہے، اس کے علاوہ خود کو مثبت سرگرمیوں میں مشغول کرنا جیسے کہ لکھنا پڑھنا، عبادت کرنا ،یوگا ، ورزش، چہل قدمی، کھیل، بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ، میوزک سننا وغیرہ۔ 
دل کی بیماریوں کی عمومی علامات کیا ہوتی ہیں؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دل کی شریانوں یا وریدوں کی بنیادی بیماری کی کوئی علامت تو نہیں ہوتی تاہم فالج یا دل کا دورہ اس بیماری کی پہلی وارننگ ہو سکتی ہے۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے چئیرمین اورماہر امراضِ قلب ڈاکٹر حبیب الرحمان نے دل کی بیماریوں کی علامات کے حوالے سے بتایا کہ اس کے علاوہ مریض سانس لینے میں دشواری یا تکلیف کا سامنا کرسکتا ہے۔ الٹیاں کرنا ، سرمیں ہلکا درد یا بیہوش ہونا ، ٹھنڈے پسینے آنا بھی دل کی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔
دل کے دورے اور فالج کی علامات میں سینے کے درمیان میں اکثر درد یا تکلیف کا ہونا، بازوؤں ، بائیں کندھے ،کہنیوں ، جبڑے یا پیٹھ میں درد کا ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق فالج کی سب سے عام علامت جسم کے ایک طرف چہرے ، بازو یا ٹانگ کی اچانک کمزوری یا بے حسی ہوتی ہے، الجھن کا شکار ہونا ،بولنے یا سمجھنے میں دشواری ہونا، ایک یا دونوں آنکھوں میں دیکھنے میں دشواری ، چلنے پھرنے اور توازن برقرار رکھنے، شدید سر درد اور بیہوشی بھی فالج کی علامت ہو سکتی ہے۔ان سب علامات کا سامنا کرنے والے افراد کو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنا چاہئے۔
دل کے چار خانے یا چیمبر ہوتے ہیں۔ جبکہ ہر خانے سے دوسرے خانے میں داخل ہونے کے لئے خون والو(Valve) سے گزرتا ہے۔جو کہ خون کے واپس بہاؤ کو روکتا ہے۔ ان کی تعداد بھی چار ہی ہوتی ہے۔والو ایک دروازے کا کام کرتا ہے۔
دل کے والو کی بیماریاں بھی بہت عام ہیں جس کے بارے میں آگاہی کی ضرورت ہے۔ماہرامراضِ قلب ڈاکٹر حبیب الرحمان اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ پاکستان میں دل کے والو کی بیماریوں کی کم آگاہی کی وجہ سے مریض بروقت علاج نہیں کروا پاتے جو بیماری کی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتا ہے۔جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ دل کے فیل ہونے اور موت تک کا باعث بن سکتا ہے۔ دل کے والو کی بیماریوں کی چند اہم وجوہات ہیں جن کا جاننا اہم ہے۔ جیسے ریومیٹک بخار(گٹھیا) کا ہونا جس سے دل کے والو بند ہو جاتے ہیںیا سکڑ جاتے ہیں۔کچھ مریضوں میں والو کے نقائص پیدائشی بھی ہو سکتے ہیں۔یا پھر عمر کے بڑھنے سے بھی والو میں خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔اس کے علاوہ دل کے دورے کے بعد بھی دل کے بڑھ جانے سے والو میں لیکیج ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر حبیب الرحمان کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں زیادہ توجہ دل کی شریانوں کی بیماری پر دی جاتی ہے اس لئے دل کے والو کی بیماریوں کی آگاہی کم ہے اور عمومی طور پر لوگ دل کی شریانوں کی بیماری کو بھی والو کی بیماری ہی سمجھتے ہیں۔
عمومی طور پر دل کے والوکی تبدیلی سرجری کے ذریعے کی جاتی ہے لیکن چند مریض ایسے ہوتے ہیں جن میں سرجری کے ذریعے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا اور رسک زیادہ ہوتا ہے۔ جیساکہ عمر کا زیادہ ہونا، مختلف بیماریوں کی وجہ سے بھی اوپن ہارٹ سرجری ممکن نہیں ہوتی۔ ایک نیا اور جدید طریقہ علاج بھی آ چکا ہے جس میں آپریشن کے بغیر والو کی تبدیلی ممکن ہے۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں شعبہ امراض قلب کی ٹیم نے خطے کا پہلا بغیرآپریشن دل کے پرانے سرجیکل والو کا بذریعہ TAVR (Transcatheter Aortic Valve Replacement) جدید اور منفرد علاج کامیابی کے ساتھ کیا۔
یہ پروسیجر ڈا کٹر اسد اکبر خان (کنسلٹنٹ انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ) کی سربراہی میں کیا گیا جو کہ امریکہ میں 500 سے زائد اس طرح کے پروسیجر کر چکے ہیں۔یہ طریقہ علاج ایک اہم پیش رفت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے اور اب اس طریقہ علاج کوایک متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے نازک صحت کے حامل منتخب مریضوں کے دل کے والو کی تبدیلی اوپن ہارٹ سرجری کے بغیر بھی ممکن ہے۔
اس نئے انٹروینشنل پروسیجر کی بدولت مریض کے دل کے والو کی تبدیلی ٹانگ میں ایک چھوٹے سے کٹ کی مدد سے Transcatheter کی رسائی کو ممکن بنا کر کی جاتی ہے۔ 
کن احتیاطی تدابیر سے دل کی عمومی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے ؟
سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور ماہر امراضِ قلب  میجر جنرل(ر)اظہر کیانی کہتے ہیں کہ چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے دل کی بیماریوں سے بچاو ٔمیں مدد مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سادہ غذا، ورزش، پیدل چلنا کم از کم ایک گھنٹہ روزانہ، وزن کو نہ بڑھنے دیا جانا ، سگریٹ نوشی کو ترک کرنے سے دل کی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ تمباکو نوشی کے حوالے سے ڈاکٹر اظہر کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف دل کی بیماریوں بلکہ مختلف قسم کے کینسر کا خدشہ بھی بہت بڑھ جاتا ہے۔ 
اس کے علاوہ ان کا یہ بھی مشورہ ہے کہ بلڈ پریشر اور شوگر میں مبتلا افراد کو چاہئے کہ اس پر کنٹرول رکھیں۔کیونکہ اسی فیصد دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد شوگر کے مریض ہیں اور اگر بلڈ پریشر قابو میں نہ ہو تو فالج،نظر ختم ہو سکتی ہے۔دل کمزور ہو سکتا ہے جس کے بعد دل میں خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے اور دل اور گردے فیل ہو سکتے ہیں۔پھیپھڑوں میں پانی بھی بھر سکتا ہے۔  
ڈاکٹر اظہر کیانی کہتے ہیں کہ حیرت انگیز طور پر نہ صرف عمر رسیدہ افراد بلکہ بچے اور نوجوان بھی دل کی تکلیف، ہارٹ اٹیک کے ساتھ ان کے ہسپتال میں آتے ہیں اور بیس سے چالیس سال تک کے افراد بھی دل کے دورے کے ساتھ ان کے پاس ایمرجنسی میں آتے ہیں۔جن میں بیشتر یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس ہیں اوربیشترکھانے پینے میں غیر محتاط ہیں اور گھر سے باہر کھانا کھاتے ہیںجو کہ گھی اور تیل میں بنائے گئے ہوتے ہیں جو کہ اس کی بنیادی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ وہ ورزش یا چہل قدمی نہیں کرتے جس کی وجہ سے غیر صحت بخش غذا میں سے چربی ان کی دل کی شریانوں میں جمنا شروع ہو جاتی ہے اور جب Angiography انجیوگرافی کی جاتی ہے تو ان کے دل کو جانے والی نالیوں میں رکاوٹ خون کے جمنے اور چربی کے اکٹھا ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے جو دل کے دورے کا باعث بنتی ہے۔اس لئے خوراک کم تیل کے ساتھ پکا کراستعمال کرنی چاہئے۔ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے۔ تیل کا استعمال کم کرنا چاہئے۔ کولڈ ڈرنکس ، فاسٹ اینڈ جنک فوڈ سے اجتناب کرنا چاہئے۔ڈاکٹر کی رائے کے مطابق کبھی کبھار ایسے چکنائی والے کھانوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس کو معمول بنا لینا انتہائی نقصان دہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ورزش اور وزن پر کنٹرول انتہائی ضروری ہے۔ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود اگر کسی کو دل کا عارضہ لاحق ہو جائے تو جتنا جلد ممکن ہو اس کا علاج کروانا چاہئے اور ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنا چاہئے۔ اگر گھر میں ایک فرد کو یہ عارضہ لاحق ہو جائے تو سارے گھر والوں کو اس کی مدد کرنا چاہئے۔ کھانے میں بد پرہیزی نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ تمام گھر والوں کو چاہئے کہ کھانوں میں نمک، چکنائی اورمیٹھے وغیرہ میں احتیاط کریں اور مریض کو وقت پر دوا لینے کے لئے یاد دہانی بھی کروائیں۔اس کے علاوہ یہاں ایک بات اور بہت اہم ہے کہ اگر کسی کے خاندان کے بزرگوں میں عارضہ قلب ہے تو ماہرین کے مطابق اس بات کا امکان پچاس فیصد تک ہوتا ہے کہ خاندان میں آنے والی نسل میں بھی یہ بیماری ہو سکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ افراد جن کے خاندان کے قریبی عزیزکو عارضہ قلب ہو تو وہ چھوٹی عمر سے ہی احتیاطی تدابیر اپنائیں۔ ||

یہ تحریر 119مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP