متفرقات

صحت مند زندگی! مگر کیسے؟

آج ہماری ساری توانائیاں‘ مسائل اور وقت اس بات پر صرف ہو رہا ہے کہ:

صحت مند کیسے رہا جائے؟ *

بیماریوں سے کیسے بچا جائے یا بیماریوں کے خلاف مدافعت کیسے بڑھائی جائے؟ *

کیا کھائیں کہ وہ توانائی فراہم کرے؟ *

بے ڈول ہوتے جسم کو کیسے سمارٹ کیا جائے۔ *

 

ایک نیو ٹریشینسٹ کی حیثیت سے میرے مریضوں میں بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی موٹاپا تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ بچوں کے معمولات اور مشغلہ جات کی تفاصیل جان کر میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ سب سے بڑا مسئلہ تناسب کا ہے جتنی کیلوریز لی جا رہی ہیں اتنی خرچ نہیں ہو رہیں۔ چھوٹے گھرانے‘ خوشحال گھرانے ‘کے تصورنے بچوں کے نخرے اور لاڈ بھی بڑھا دیئے ہیں۔

 

14سو سال قبل آپﷺ نے واضح کر دیا کہ کیا کھائیں کتنا کھائیں اور کب کھائیں؟

حدیث نبویؐ میں آیا ہے کہ معدے کے تین حصے کریں۔ ایک حصہ کھانے‘ دوسرا پانی اور تیسرا ہوا کے لئے۔

 

آپﷺ کو دودھ زیادہ پسند تھا۔ اس زمانے میں اونٹنی کا دودھ دستیاب تھا یا بکری کا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ جگہ جگہ خانہ بدوش اونٹنی کا دودھ جگر‘ گردہ اور دیگر امراض کے لئے منہ مانگے داموں پر فروخت کر رہے ہیں۔ آج سائنس ریسرچ کر کے بتا رہی ہے کہ دودھ اور اس سے بنی ہوئی چیزیں تیزابیت کی لسٹ میں ہے۔ ماسوائے بکری اور اونٹنی کے۔

 

پھلوں کے متعلق آپﷺ نے فرمایا کہ نہ زیادہ کچا کھاؤ نہ زیادہ پکا ہوا بلکہ درمیانہ کھاؤ۔ آج یہ بات سائنس نے ثابت کر دی ہے کہ موسم کا پھل سب سے زیادہ غذائیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگر موسم کے شروع میں کھائیں گے تو بھی وہ فائدے کا حامل نہیں ہو سکتا۔

 

ہمارے ہاں پھل کو کھانے کے اوقات غلط ہیں۔ ہم اکثر پھل کھانا کھانے کے بعد کھاتے ہیں پھر شکایت کرتے ہیں کہ اتنے مہنگے پھل بچوں کو کھلاتے ہیں‘ خود کھاتے ہیں لیکن چہرے بے رونق ہیں۔ کھانے کے بعد پھل کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ کھانے کو معدے میں گرائنڈ کرنے اور مکس کرنے کے لئے قدرت نے معدے میں تیزابیت کا اہتمام کیا ہے۔ جب ہم پھل کھانے کے بعد کھاتے ہیں تو اتنے تیزاب میں پھل سڑ جاتا ہے۔ اس طرح ہم صرف زبان کے ذائقے کی حد تک پھل کو انجوائے کر سکتے ہیں۔ اس کی غذائیت سے فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ سبزیاں جو کہ قدرت کا انمول تحفہ ہیں‘ وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہیں۔ لیکن ہمارے کھانے کے طریقے ایسے ہیں ہم سوائے ذائقے اور فائبر کے سب ختم کر دیتے ہیں۔ کیونکہ پانی میں حل پذیر وٹامنز زیادہ حرارت کے باعث ختم ہو جاتے ہیں۔ سلاد کا تصور اول تو ہے ہی کم اور جو ہے وہ پیاز‘ ٹماٹر اور کھیرے تک محدود ہے۔ جبکہ وہ تمام سبزیاں بغیر پکائے کھائی جا سکتی ہوں جن میں بند گوبھی‘ پھول گوبھی‘ شلجم‘ گاجر‘ مٹر‘ پالک‘ ساگ‘ لیموں‘ ادرک‘ بروکلی‘ مکئی ابلی ہوئی‘ بھی سلاد کے طور پر کھائی جا سکتی ہے۔

 

فائبر کا استعمال ہمارے ہاں اسپغول کی صورت میں بہت زور پکڑتا جا رہا ہے۔ یقین جانئے اگر ہم چھلکوں والی دالیں‘ سبزیاں کچی اور پکی‘ بغیر چھنے آٹے کی روٹی کا استعمال اپنی خوراک میں رکھیں تو ہمیں الگ سے اسپغول کاچھلکا استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے معدے کو کوڑے دان کی طرح بھرنے کے بجائے غذائیت سے بھرپور کھانے کھائیں۔

 

جہاں تک کھانے کے اوقات کا تعلق ہے تو صبح کا ناشتہ بہترین ہونا چاہئے۔ دوپہر کا کھانا اگر صرف سلاد یا پھل پر مشتمل ہو تو بہترین ہے۔ اور رات کا کھانا مغرب کے فوراً بعد کھا لیا جائے تاکہ کھاتے ہی بستر پر لیٹنے کی نوبت نہ آئے۔ جہاں تک کھانے کے ہضم ہونے کا تعلق ہے تو بہت سے نفسیاتی پہلو کھانے کے ہاضمے پر اثر اندازہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق کھانا اگراشتہا یا بھوک پر کھایا جائے تو ہاضمے میں آسانی ہوتی ہے۔ کیونکہ معدے کے بہت سے ہاضمے کے جوسز اشتہا یا بھوک لگنے پر خارج ہوتے ہیں۔ اکثر ہم صرف کھانا اس لئے کھا رہے ہوتے ہیں کہ کھانے کا وقت ہو گیا ہے اس میں بھوک کا دخل نہیں ہوتا۔ اس لئے وہ کھانا بوجھ بن جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ کھاتے وقت ان باتوں کا بھی خیال رکھا جائے۔

 

صحت کے لئے جہاں کھانوں کی اہمیت ہے‘ وہاں کس وقت کھائیں؟ کب کھائیں؟ سونے جاگنے کے اوقات کی بے ترتیبی ہے۔ ہارمونز کو متاثر کرتی ہے۔ اﷲ نے جو سونے جاگنے کے اوقات مقرر کئے ہیں ان میں بڑی حکمت ہے۔ صبح جلدی جاگنے سے ہارمونز بہتر رہتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ صبح کے کاموں میں برکت ہے۔ جب ہم صبح جلدی اٹھتے ہیں تو روزمرہ معمولات کی انجام دہی کے لئے ٹائم ہوتا ہے۔ ناشتہ پُرسکون ماحول میں کرنے سے ہاضمہ متاثر نہیں ہوتا۔ آج کل ہر دوسرا شخص یا تو معدے کے مرض میں مبتلا ہے یا پھر قبض کے۔

 

یا پھر کھانے کے غلط انتخاب، بے وقت کھانا، بے حساب کھانا اور غفلت میں کھانا موٹاپے کا سبب بنتا ہے۔ بے ڈول جسم نہ سنبھالے سنبھلتے ہیں، نہ گھٹنے وزن سہار پاتے ہیں، نہ کمر‘ میرے پاس زیادہ تعداد وزن کی زیادتی سے پریشان مریضوں کی نہیں بلکہ وزن کی زیادتی کی وجہ سے ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث آنے والوں کی ہے۔ کمر کے مسائل‘ گھٹنوں کے مسائل۔ دراصل بیماری ایک دم نہیں آتی پہلے الارم ضرور دیتی ہے مگر ہم توجہ نہیں دیتے۔ اگر چار پانچ کلو وزن کی زیادتی پر ہم بے اعتدالیاں چھوڑ دیں تو یہ زیادتی کبھی بھی 25-30 کلو زیادتی پر نہیں پہنچتی۔

 

میرے پاس زیادہ تعداد ایسے افراد کی ہوتی ہے جو وزن کی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ جن کے نفسیاتی یا معاشرتی وزن کی زیادتی سے منسلک مسائل ہیں۔ میں ہمیشہ اپنے مریضوں سے ایک بات کہتی ہوں۔ زندگی میں کامیابی کے لئے کوئی مختصر راستہ نہیں ہے۔ آپ کو قدم بہ قدم منزل کی طرف بڑھنا ہے۔ ایک ہی جست میں سب کچھ پا لینے کی خواہش بعض اوقات منہ کے بل گرا دیتی ہے۔ صحت مند زندگی کے کچھ اصول ہیں جن میں اہم درج ذیل ہیں۔

 

زندگی کو اﷲ اور رسولﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق بسر کریں۔ *

خوراک سادہ رکھیں تو غذائیت ملے گی ورنہ صرف ذائقہ۔ *

خوراک کی منصوبہ بندی کرتے وقت یہ خیال رکھیں کہ روزانہ دودھ، دہی، دال، سبزی، گوشت، پھل اور چپاتی مناسب مقدار میں اور صحیح وقت پر کھا کر ہی اس کے فائدے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ *

آپ کا معدہ کوئی ڈسٹ بن نہیں کہ اسے بھرنا ہے۔ بلکہ غذائیت سے بھرپور غذا ئیں لیں۔ *

چھلکوں والی دالیں۔ بغیر چھنے آٹے کی روٹی‘ تازہ پھل‘ بہترین غذائیت کے حامل ہیں۔ انہیں کیک، پیسٹری، نان، سموسے، پکوڑے اور پیزا پر فوقیت دیں۔ *

کھاتے وقت پرسکون ماحول کا اہتمام کریں۔ ٹی وی دیکھنا اور اخبار پڑھنا آپ کے کھانے کی مقدار کو اپنے کنٹرول سے باہر کر سکتا ہے۔ *

دانت آپ کے منہ میں ہیں، معدے میں نہیں اور ہاضمے کا عمل منہ سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اس لئے چبا چبا کر کھانا کھائیں۔ *

پانی کو سنت کے مطابق کھانے کے شروع میں پیئیں اس سے آپ کے معدے کی پی ایچ ( پوٹینشل آف ہائیڈروجن )بہتر ہو گی اور معدے کا ایک حصہ بھی بھر جائے  گا۔ *

پھلوں کو دو کھانوں کے درمیانی وقتوں میں کھائیں۔ *

ایک ہی پھل کے مستقل استعمال سے بہت بہتر ہے کہ پھلوں کے انتخاب میں تنوع ہو۔ *

ادرک اور پودینہ ہاضمے میں مددگار ہیں۔ ان کی چٹنی اور قہوہ دونوں بہترین ہیں۔ *

 ریشہ دار اشیاء کا انتخاب کریں جن میں چھلکوں والی دالیں سلاد ‘ اناج اور پھل شامل ہیں یہ چیزیں کولیسٹرول کو کم کرتی ہیں۔ شوگرکو کنٹرول کرتی ہیں۔ پیٹ بھرے رہنے کا احساس دلاتی ہیں اور قبض کشا ہیں۔ *

میوہ جات جن میں انجیر، کھجور، بادام، اخروٹ، سورج مکھی کے بیج اور کدو کے بیج وغیرہ شامل ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی مقدار مناسب ہو۔ *

 

پانی جسم کے فاسد مادوں کے اخراج کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ موسم کے مطابق اس کا اہتمام کریں۔ *

 کوشش کریں کہ اپنے آپ کو کولڈ ڈرنکس کی عادت سے بچا سکیں۔ورنہ آپ اپنی ہڈیاں گنوا بیٹھیں گے۔ کیونکہ کولڈ ڈرنکس میں موجود فاسفورس اور ہائی ایسڈک جسم سے کیلشیم کے اخراج کا سبب بنتا ہے۔ *

گرین ٹی یا سبز قہوہ میٹابولزم کو تیز کرتے ہیں جسم سے فاسد مادوں کا اخراج فالتو چربی کو پگھلانے اور ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں معاون ہے۔ *

 شکر کریں کہ ہم چل سکتے ہیں۔ شکرانے کے طور پر روزانہ 45سے 50منٹ چلیں یقین جانئے آپ کا کولیسٹرول اعتدال میں آ جائے گا۔ وزن کم ہو جائے گا اور دل جوان ہو جائے گا۔ *

 ہم جب ڈیپریشن میں ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا سو جاتے ہیں حالانکہ ریسرچ سے ثابت ہے کہ چہل قدمی سے آپ کی ٹینشن ختم ہو جاتی ہے۔ *

اپنی زندگی کو اسلام کے مطابق بسر کریں۔ طہارت، پاکیزگی آپ کی سوچ بدل دے گی۔ *

اپنی بیماریوں کی آگاہی ڈاکٹر سے پہلے آپ کو ہو جاتی ہے۔ اس لئے دھیان رکھیں اپنے پہلے معالج آپ خود ہیں۔ *

 

یہ تحریر 45مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP