متفرقات

شہید کی ماں کا خط

گرامی قدر جناب یوسف عالمگیرین صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ!
اِ ک طرز جہاں ثباتی اِک عالمگیریتِ آفاقی
سرائے عالمگیر کے ملٹری کالج کے بندۂ وجدان عالمگیرین بہ شناخاتی
اﷲ کی رحمت ہو آپ پر!
سر! میرے نام کے ساتھ اتنا عظیم لاحقہ یعنی شہید کی ماں 
بلاشبہ۔۔۔ وَتُعِزُّمَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ
میرے دو بچے بھی ملٹری کالج جہلم میں گئے
جو بچہ آٹھویں کلاس میں ملٹری کالج میں چلا جائے اُس کا سونا جاگنا ‘ کھانا پینا‘ پڑھنا لکھنا‘ اور کھو جنا‘ سبھی کچھ فوج نے دیا۔ فوج نے کہا
کبھی سختی کبھی نرمی‘ کبھی ڈانٹ ‘ کبھی انعام


پھرملٹری کالج سے جے . سی.بی اور پی.ایم.اے ایسے میں اماں کہاں کھڑی ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ یہ میری ریاکاری ہوگی۔ کہ میں یہ ٹائیٹل اوڑھ لوں اتنے سارے موسموں میں بارش دھوپ میں کڑا کے کی سردی میں‘ طبیعت کی ناسازی میں۔
کبھی کبھی حالات کی ناسمجھی اور ناگواری میں بس نے اُسے اٹھایا ‘ دلاسہ دیا اور حوصلہ بخشا۔ برسات کی رم جھم میں کینٹین کا بن سموسہ‘ چنے کی دال کا حلوہ‘ بڑا کھانا یہ سب میں نے تو نہیں فوج نے دیا۔


میں کیسی ہوں میں نے جی بھر کے اس کے کپڑے بھی دھوئے؟ سکھائے نہیں۔ یونیفارم سجائے؟ نہیں۔ کریڈٹ تو ملٹری کالج جہلم سرائے عالمگیر کو جاتا ہے پھر جے . سی.بی اور پی.ایم.اے کو۔میرے پاس تو مہمانوں کی طرح آتے تھے۔ پہلا بیٹا ڈاکٹر امیر محسن عباس آرمی میڈیکل کور اور دوسرا حسین عباس بریگیڈیر حسین عباس۔


خلیل جبران نے کہا تھا کہ اپنی اولاد پہ اپنا حق نہ جتاؤ یہ فطرت کی اولاد ہیں یعنی اس کائنات میں نظمِ کائنات میں بس رحمان کی ترتیب و تخلیق‘ نسب کا نساب بھی اُسی کی دین ہے۔ بس ہماری اولادیں ایک ہی ذات‘ ذاتِ خداوندی کا احسان ہیں۔ انہوں نے نسب کو ممتاز کردیا اور حسب کو بھی۔ یہ تربیت گاہوں کا بھی احسان ہے ہم پر۔


میں اس قابل تو نہیں کہ ’’ہلال‘‘ کے لئے لکھوں بس کچھ عاجزانہ سا خیال اے پی ایس پشاور کے شہید بچوں کی نذر کررہی ہوں۔ رب العزت سے دعا ہے کہ ہماری ’ماں‘ جیسی پاک فوج جس کی کوکھ میں ہزاروں حسین شہید موجود ہ ہیں‘ کو سلامت تاقیامت رکھے۔ آمین

درِ شہوارحسین


اے پی ایس پشاورکے شہید بچوں کے لئے ایک نظم

کل یہیں تھے وہ دلبرانِ چمن

کمسنی بن گئی بجھارت سی

میرے آنگن میں چہچہاتے تھے

رب کی مجھ پر بڑی عنایت تھی

کہکشاؤں میں کیوں سدھارے ہو

لوٹ آؤ کہ ماں بلاتی ہے

اشک آنکھوں میں جھملاتے ہیں

تیری بہنا بلبلاتی ہے

ہاتھ سینے پہ ضبط و اضطراب دل میں لئے

اپنے بیٹے کو درمیان لاشوں کے یا

جسم کے اُڑتے ہوئے چیتھڑوں کے

ڈھونڈتا ہے تجھے تیرا بابا

’’اے نورِ نظر دینا آواز کہ کہاں ہے تو؟

میرے آنگن کے بیل بوٹے بھی

گھاس بھی سبزہ و دیواریں بھی

ہیں ترستے تیری صداؤں کو‘

تیری مہکار سے پرے ہم ہیں

تو مگر ہے کہاں بتا تو سہی

تیرے غم میں ہوائیں روتی ہیں

اور بادل تڑپ برستے ہیں

کونسی کہکشاں کے تارے ہو

سورۃ البروج القرآن کی آیات کے امین

درِّ شہوار حسین

(والدہ محترمہ بریگیڈیئر حسین عباس شہید)

یہ تحریر 60مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP