ہمارے غازی وشہداء

شہید باپ کا شہید بیٹا

اوسی یو مطلوب حسین 1986 میں چکوال کے ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم لانس نائیک نخرہ خان نے پاک فوج کی 19 پنجاب رجمنٹ میں عسکری خدمات انجام دیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا۔ اپنے والد کی طرح مطلوب حسین کو بھی بچپن سے ہی فوج میں عسکری خدمات انجام دینے کا انتہائی شوق تھا اور اسی شوق کو پورا کرنے کے لئے میٹرک کے بعد ستمبر 2004 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور آرٹلری سنٹر اٹک میں ابتدائی عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد 19 اکتوبر 2005 کو میڈیم رجمنٹ میں بطور اوسی یو پوسٹ ہوئے۔ مطلوب حسین اپنے حسن سلوک اور دلیری کی وجہ سے بہت جلد پوری یونٹ میں اپنا نام بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

 2006 کے آغاز میں یونٹ کو‘ آپریشن ’کول مائن‘ کا موقع ملا تو یونٹ کے کم سروس سپاہیوں میں سے او سی یو مطلوب کا جذبہ دیدنی تھا۔ آپریشن کول مائن میں فتح کے جھنڈے گاڑنے کے بعد جب یونٹ خیریت سے واپس پہنچی تو اوسی یو مطلوب حسین کو والدہ صاحبہ نے فون کر کے بتایا کہ بیٹا ستمبر میں تمہاری شادی ہے لہٰذا زیادہ چھٹی لے کر آنا۔ مگر مطلوب حسین کی والدہ کو کیا پتا تھا کہ مطلوب حسین تو اب کسی اور راستے کا مسافر ہے۔

یہ اگست 2006 کی بات ہے جب اوسی یو مطلوب حسین نے تقریباً تین بجے اپنی تنخواہ لی اور اپنے حوالدار میجر سے چھٹی کے بارے میں بات کی تو حوالدار میجر نے مطلوب کو بتایا کہ آپ تیاری کرو میں بیٹری کمانڈر سے تمہارا لیو پاس سائن کروا کر آتا ہوں۔ مطلوب اپنے کپڑے اور ضروری سامان بیگ میں ڈال کر بیٹھا ہی تھا کہ حوالدار میجر کی طرف سے ملنے والے لیو پاس سے مطلوب حسین کی خوشی دوبالا ہو گئی کیونکہ لیوپاس میں دو ماہ کی چھٹی لکھی تھی۔ مطلوب حسین نے گیٹ پر آؤٹ کروانے کے بعد ابھی پہلا ہی قدم یونٹ کے گیٹ سے باہر رکھا تھا کہ یونٹ کو ایک اہم حکم دیا گیا۔ اوسی یو مطلوب حسین نے رجمنٹل پولیس سے پوچھا کہ کیاماجرا ہے تو پتا چلا کہ یونٹ کو ’سن رائز‘ آپریشن پر جانے کا حکم ملا ہے۔

یہ خبر سنتے ہی مطلوب حسین کو چھٹی بھول گئی اور اس نے رضاکارانہ طور پر آپریشن میں شمولیت کا اظہار کیا۔ بیٹری کمانڈر نے مطلوب حسین کی دلیری اور شجاعت کی داد دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا تم ابھی تو ایک آپریشن لڑ کر آئے ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ اگلے ماہ تمہاری شادی بھی ہے۔ شادی کے بعد آجانا۔ لیکن اوسی یو مطلوب حسین کے دل میں دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کا ایسا جذبہ تھا کہ اس جذبے کے سامنے ہر کوئی بے بس ہو گیا اور باجود بار بار منع کرنے کے اوسی یو مطلوب حسین کی ایک ہی ضد تھی کہ میرے ملک کی عزت مجھے شادی سے زیادہ عزیز ہے۔ لہٰذا مطلوب حسین نے اپنا لیو پاس حوالدار میجر کو واپس کیا اور بیگ میں سے کپڑے نکال کر وردی اور ضروری سامان رکھ کر آپریشن پر جانے کے لئے تیار ہو گیا۔

 17اگست کی رات جب دہشت گردوں پر قابو پانے کے لئے میجر قیصر عباس کی سربراہی میں کانوائے نکلا تو میجر قیصر نے اپنی گاڑی میں سیٹ آپریٹر کے طور پر اوسی یو مطلوب کو منتخب کیا۔ کانوائے نے ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ دہشت گردوں نے فائر کھول دیا۔ اس دوران اوسی یومطلوب حسین نے نہ صرف اپنی ریئر پارٹی سے کمیونیکیشن کر کے فائر منگوایا بلکہ اپنی گن سے دہشت گردوں کے فائر کا منہ توڑ جواب بھی دیتا رہا۔ اوسی یو مطلوب نے اپنی زندگی کا یہ آخری معرکہ بڑی دلیری اور جانفشانی سے لڑا۔ یہ جھڑپ طلوع آفتاب تک جاری رہی اور آخر کار مطلوب کی بروقت کمیونیکشن اور جوابی کارروائی سے یونٹ کو اس محاذپر کافی بڑی کامیابی ملی۔

اس کامیاب آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد ابھی کانوائے واپسی کی تیاریاں ہی کر رہا تھا کہ میجر قیصر کی گاڑی کا پچھلا ٹائر زمین میں چھپائی گئی آ ئی ای ڈی پر آ گیا۔ دھماکے کی وجہ سے گاڑی کا پچھلا حصہ جس میں اوسی یو مطلوب حسین بھی بیٹھے تھے مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور اس کے نتیجے میں 17 اگست 2006 کو او سی یو مطلوب حسین کو شہادت ملی اور انہیں 18 اگست 2006 کو چکوال کے قریب ان کے آبائی گاؤں میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ اوسی یو مطلوب حسین کی شہادت کے بعد جب ان کی ماں سے پوچھا گیا کہ وہ مطلوب کے بارے میں کیا سوچتی ہیں تو انہوں نے کچھ یوں جواب دیا۔ ’’مائیں جب اپنے بچوں کوفوج میں بھیجتی ہیں تو انہیں اسی لمحے اﷲ کی سپردگی میں دے دیتی ہیں۔ ویسے تو ہم سب نے ایک نہ ایک دن اﷲ کی طرف لوٹ کر جانا ہوتا ہے لیکن جس شان سے ایک سپاہی اپنے ملک و قوم کی بقاء کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے وہ شان ہی نرالی ہوتی ہے اور اس شان پر نہ صرف مجھے بلکہ پوری قوم کو فخر ہے۔

یہ تحریر 1مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP