متفرقات

شہر خالی

کرونا زدہ انسان۔۔۔
قرنطینہ شدہ دنیا ۔۔
خوفزدہ دل ۔۔۔
ویران شدہ نظر۔۔۔
ڈرتی ہوئی سانسیں۔۔۔
گلو گیر آوازیں۔۔۔
عمر رسیدہ سسکیاں۔۔۔
جواں سال مایوسیاں۔۔۔
ٹپ! ٹپ!ٹپ!
بالکونی کے شیڈپر صدیوں سے یہ ٹپکتی بارش۔۔۔
"شہر خالی، جادہ خالی" کی لے۔۔۔
پہلے کبھی امیر جان صبوری، افغان گلوکارہ کایہ گیت سناکرتی تھی تو سوچا کرتی تھی کیسی ہوتی ہو گی اتنی ویرانی، اتنی تنہائی، اتنا خالی پن؟؟؟
آج پھر سے وہی گیت، نگارہ خلوا ، تاجک گلوکارہ  کی،  سننے والے کے دل و جان کوخالی ترکردینے والی آواز میں، جابجا سنائی دیتا ہے کہ۔۔۔
"شہر خالی، جادہ خالی"۔۔۔
تو سوچتی ہوں کون شاعر اتنا اداس ہوگا؟؟
کیا دنیا اتنی  خالی پہلے بھی کبھی تھی؟
جیسی اب ہے۔۔۔
لیکن اب یہ آواز کسی انسان کی نہیں، فطرت کی تڑپ لگتی ہے۔۔۔
آج خود اداس معلوم ہوتی  فطرت، گاتی سنائی دیتی ہے۔۔۔
شہر خالی، جادہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی
جام خالی سفرہ خالی، ساغر و پیمانہ خالی
یعنی شہر ویراں، رستے خالی، کوچہ و بازار بے آواز، حتی خانہ خدا بھی خالی، خوشیوں کے جام، ملن کے میلے، ساغر و پیمانے بھی خالی۔۔۔
پھر آواز ابھرتی ہے۔۔۔
کوچ کردہ دستہ دستہ
آشنایان، عندیبان
باغ خالی باغیچہ خالی، شاخہ خالی لانہ خالی
آہستہ آہستہ ،گروہ در گروہ، تمام آشنا چہرے،  عندلیب لہجے،جانے کہاں جا بسے، تبھی تو باغ خالی ، باغیچے خالی، شجر اور گھونسلے خالم خالی۔۔۔
وای از دنیا کہ یار از یار می ترسد
غنچہ ہای تشنہ از گلزار می ترسد
عاشق از آواز دیدار می ترسد
پنج خنیاگران از خار می ترسد
شہسوار از جاد ہموار می ترسد
این طبیب از دیدن بیمار می ترسد
ہائے رے ایسی دنیا!!! یار یار سے، عاشق دلدار سے، گل گلزار سے،مضراب تار سے،   مسافر راہ ہموار سے،  طبیب بیمار سے خوف کھائے، ہائے!۔۔۔
سازہا بشکست و درد شاعران از حد گذشت
سالہای انتظاری بر من و تو بد گذشت
آشنا نا آشنا شد تا بلی گفتن بلا شد
تمام ساز ٹوٹ گئے، شاعروں کا  درد حد سے گزر گیا، برسوں جیسے طویل انتظار کے لمحے،  ہم تم سے کاٹے نہیں کٹتے، کیا وقت آگیا ہے،آشنائوں سے ناآشنائی برتنی پڑ رہی ہے، اب تو اچھوں کی اچھائی میں بھی سو نادیدہ ، جان لیوا بلائوں کا خدشہ ہے۔۔۔
گریہ کردم نالہ کردم
حلقہ بر ہر در زدم
سنگ سنگ کلبہ ی ویرانہ را بر سر زدم
آب از آبی نجنبید خفتہ در خوابی نجنبید
شہر خالی جادہ خالی کوچہ خالی خانہ خالی
جام خالی سفرہ خالی ساغر و پیمانہ خالی
فطرت نے اپنے ہر روپ میں ، ہر در پر دستک دی، کبھی ہوا،تو کبھی  بارش،اور کبھی دھوپ  کے روپ میں ۔۔۔ ،لیکن اس کی آہ و زاری سے کوئی جنبش نہیں، گویا سب انسان کسی گہرے خواب میں چلے گئے ہیں، تبھی تو   شہر ویران، رستے خالی، کوچہ و بازار بے آواز، حتی خان خدا بھی خالی، خوشیوں کے جام، ملن کے میلے، ساغر و پیمانے بھی خالی۔۔۔
چشمہ ہا خشکید و دریا خستگی را دم گرفت
آسمان افسانہ ما را بہ دست کم گرفت
جام ہا جوشی ندارند عشق آغوشی ندارد
بر من و بر نالہ ہایم ہیچ کس گوشی ندارد
شہر خالی جادہ خالی کوچہ خالی خانہ خالی
جام خالی سفرہ خالی ساغر و پیمانہ خالی
انسان کے لیے بہتے چشموں، دریائو ں کی روانی کوئی معنی نہیں رکھتی، اس آسمانی آفت نے انسان پر اس کی ہیچ وقعت اور کم مائیگی کو ثابت کردیا ہے۔۔۔
ہائے کیا وقت ہے کہ محبت بھری آغوش  خالی ہے، اپنے اپنوں سے کتراتے ہیں، کوئی کسی کے دکھ سکھ کا ساتھی نہیں۔۔۔چاہے تو بھی نہیں ۔۔
کیونکہ شہر ویران، رستے خالی، کوچہ و بازار بے آواز، حتی خان خدا بھی خالی، خوشیوں کے جام، ملن کے میلے، ساغر و پیمانے بھی خالی۔۔۔
بازآ تا کاروان رفتہ باز آید
بازآ تا دلبران ناز ناز آید
بازآ تا مطرب و آہنگ و ساز آید
تا گل افشانان نگار دلنواز آید
بازآ تا بر در حافظ سر اندازیم
گل بہ افشانیم و می در ساغز اندازیم
فطرت پھر سے،گلی کوچوں میں اس گئے وقت کو ۔۔۔ کہ شاید و ہ زندگی کے کارواں پھر سے لوٹ آئیں، وہ حسین چہرے پھر سے اس دنیا  کی رونقوں کوبحال کرسکیں ، پکارتی ہے ۔۔۔لوٹ آ ، اے عہد رفتہ۔۔۔لوٹ آ کہ پھر سے خوشیوں کے گیت فضائوں میں گھل جائیں۔۔۔ لوٹ آ کہ پھر سے مل کر درِ حافظِ شیراز پر رونق افزا ہوں، کہ شہر ِحافظ،شیراز کی بہار ہمیشہ سے بے مانند رہی ہے، وہاں کے گل و گلزار کا کوئی ثانی نہیں رہا۔۔۔
کیا پھر سے ممکن ہو سکے گا؟؟؟
یا یہ دنیا، بن انسان؟؟؟؟
 کیسے؟؟؟
 نہیں، نہیں!!!
دیکھو!
فصل بہار کی آمد آمد ہے۔۔۔
21 مارچ کو ،ہجری شمسی  تقویم کے نئے سال کا آغاز بھی ہو چکا۔۔۔
ماہِ فروردین ہے۔۔۔
  فطرت نے زمستانی لبادہ اتار کر رنگین  بسنتی  چولا پہن  لیا ہے۔ شفاف پانی ، مہکتی ہوائیں ، بے داغ سبزہ، خوش رنگ پھول، ابر نیساں،جلترنگ سی بارش، چھن چھن آتی دھوپ۔۔۔
ایسی ہی ہوتی ہے بہار۔۔۔
 لیکن اب کی بار بظاہر، بہار پر بہار تر ہے اور رنگ رنگین تر ۔۔۔
خوشبو پر بارتر اور بلبل پر آواز تر۔ ۔۔
  کھڑکی سے باہر کا منظر تو ایسا ساہی  لگتا ہے، کانوں میں تو ایسی ہی چہچہاہٹ  آن پڑتی ہے۔۔۔
اس حسن و دلربائی کا سامنا کون کرے؟؟؟
کوئی شاعر! ہے کوئی شاعر جو اس رنگینی نوبہار کا  مضمون  باندھے!!!
کوئی کھلی فضا میں گہرا سانس لے تو بتائے کہ اب کی بہار کی مہک کتنی گہری ہے۔۔۔
کوئی گل کا سامنا کرے  تو بتائے کہ بلبل کا ناز بجا ہے یا نہیں۔۔۔
بلبل بے تاب گفتگو پر آمادہ نہیں۔۔۔
گل کو نہ گل چیں کا خوف ،نہ بلبل کو صیاد کا۔۔۔
بہار نے انسان سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔۔۔
انسان اکیلا رہ گیا ہے  اپنے خوف کے ساتھ،   اجتماعی تنہائی میں  ۔۔۔
 پر!!!
 پربہار  فطرت جانتی ہے بنا انسان، یہ فصلِ بہار، نیم بار ہے۔۔۔
رنگینی فطرت کو ایک دیکھنے والی آنکھ درکار ہے۔۔۔
 فطرت خود کلامی نہیں کرتی، اس کو ایک ہم کلام درکار ہی ہو گا۔۔۔
مخلوقات میں سب سے اشرف۔۔۔
ہاں!!!
میں نے ابھی ابھی دیکھا ہے۔۔۔۔۔۔ 
صدیوں سے لمبی ساعتوں تک بالکونی کے شیڈ  پر ٹپکنے  والی قطرہ قطرہ  بارش کے بعد ۔۔۔۔۔۔
بادل چھٹے ہیں۔۔۔۔
 دھوپ کی اجنبی کرنوں سے آنکھیں  مانوسیت پیدا کر نے لگی ہیں۔۔۔
اپنی بے چارگی پر رحمت خداوندی کی بہار آتی دیکھی ہے۔۔۔
 مہکتی فضا ں کو چیرتی ، شکرگزارنظر آسمان کی بلندیوں  کی طرف اٹھ رہی ہے۔۔۔
اور میں نے ابھی ابھی  دیکھی ہے۔۔
رنگینی نو بہار سے سرشار، ایک رنگین پتنگ۔۔۔
بادِ نوبہاری میں لہرا رہی ہے۔۔۔
جس کی ڈوریقینا ایسے انسان کے ہاتھ میں ہے جو رحمت خداوندی سے قطعا ً مایوس نہیں!!!


مضمون نگار نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی سے وابستہ ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 43مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP