ہمارے غازی وشہداء

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

جہلم شہر سے راولپنڈی کی طرف بذریعہ سڑک آئیں تو جہلم شہر سے چند کلومیٹر دور ایک قصبہ کالاگوجراں آتا ہے۔ سڑک کے داہنے کنارے ایک اونچی سی بلڈنگ پر ایک بورڈ لگا ہوا ہے۔ جس پرجلی حروف میں لکھا ہے ’’کیپٹن معظم علی شہید ہسپتال۔‘‘جہلم شہر کی اس دھرتی پر وہ کڑیل جوان شہید معظم علی ابدی نیند سو رہا ہے۔ جو جب تک زندہ تھا تو سیاچن جیسے مشکل ترین اور سرد ترین محاذ پر دشمن کوناکوں چنے چبواتا رہا اور جب شہید ہوا تو دشمن نے وائرلیس پر اس پیغام سے شہید کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ آج ہم نے اس آہنی انسان کو ایچ ائی ٹی کر لیا جو ہمیں بے حد تنگ کئے ہوئے تھا۔

 

اس کہانی کے ہیرو کیپٹن معظم علی کی داستان کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب اس شہید کے والد ڈاکٹر میجریوسف اختر اپنی عسکری زندگی کے سلسلے میں اردن کے ایک شہر کرک میں تعینات تھے۔ ایک روز ڈاکٹر میجر یوسف کو اس کی ماموں زاد بہن کا خط ملا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ انہیں ملے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ میجر یوسف اختر کے گھر بیٹا پیدا ہو گا اس کا نام معظم علی رکھنا۔ چنانچہ 13اکتوبر 1972 کو میجر یوسف کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی اور خواب کی بشارت کے مطابق اُس کا نام معظم علی رکھا گیا۔ بچپن کی دنیا بڑی ہی سہانی بڑی ہی خوبصورت ہوتی ہے۔ نہ فکر فردا‘ نہ غم روزگار‘ بس ہنسنے کھیلنے کے مستقبل کے سہانے سپنے دیکھنے کی عمر ہوتی ہے۔ مگر معظم علی کا رحجان شروع سے ہی دوسرے بچوں سے مختلف تھا۔ اتنی چھوٹی عمر میں ہی ان کی خوبصورت آنکھوں نے فوجی بننے کے خواب دیکھنا شروع کر دیئے تھے۔ ان کے دادا جو انجینئر تھے، ان کی بڑی خواہش تھی کہ ان کا یہ پیارا سا پوتا معظم علی بھی انجینئر بنے۔ مگر معظم علی نے اوائل عمری میں ہی اپنے آپ کو فوجی بننے کے لئے وقف کر دیا تھا۔ شہادت کا شوق لڑکپن سے ہی یوں بدرجہ اتم عود کر آیا تھا کہ پانچویں چھٹی میں ہی وہ اپنی کاپیوں پر جابجا علامہ اقبال کے اس شعر کو جلی حروف میں لکھا کرتے۔

 

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

 

7اکتوبر 1990کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں جائن کی 15اکتوبر 1992 کو اپنی عسکری تربیت مکمل کر کے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور 35پنجاب رجمنٹ میں اپنے عسکری فرائض سرانجام دینے لگا۔ معظم علی کو بچپن سے ہی شہادت کا بڑا شوق تھا۔ شاید اس لئے کہ آنکھ کھولتے ہی معظم علی کو اپنے والدین کے ساتھ حضرت شعیب ؑ ، حضرت ہارونؑ ، حضرت زید بن حارثؓ، حضرت عبداﷲؓ اور حضرت جعفر طیارؓ کے مزارات پر حاضری کی سعادت حاصل ہوئی اور پھر جب ذرا ہوش سنبھالا اورسلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے مزار پر جب حاضری کا موقع ملا تو وہ بری معصومیت اور حیرت سے اس دربار کو دیکھ رہا تھا۔ ان تمام برگزیدہ ہستیوں کا ہی فیضان تھا کہ دس گیارہ سال کی عمر میں ہی وطن کی محبت کا جذبہ اس کی رگ رگ میں یوں سرایت کر گیا تھا کہ جب بھی پاکستان کا قومی ترانہ بجتا تو وہ پورے اہتمام سے مٹھیاں بند کر کے سیدھا ساکت کھڑا ہو جاتا خواہ کوئی اور کھڑا ہو یا نہ ہو۔ پاکستان سے محبت کی یہ انتہا ہی تھی کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی معمولی سی بھی بات نہیں سن سکتا تھا اور لڑنے مرنے پر آ جاتا تھا۔

 

آرمی جوائن کرنے کے بعد اس کی یونٹ سیاچن محاذ پر بھیج دی گئی۔ تمام دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سیاچن عسکری نقطہ نظر سے انتہائی خطرناک اور سردترین محاذ ہے۔ وہاں فوجی تو ایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکار ہوتے ہی رہتے ہیں مگر موسم سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے۔ جو بلاامتیاز ہر کس و ناکس کو نگلنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ سیاچن کی خطرناک پوسٹوں میں ایک پوسٹ تابش بھی ہے۔ پاکستان آرمی کی یہ پوسٹ تقریباً بیس ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے اور دشمن نے اس کو اپنی دو پوسٹوں اکبر اور رانا کے ذریعے جو کہ تابش پوسٹ سے بلند ہیں، گھیر رکھا ہے۔ حتیٰ کہ تابش پوسٹ سے بیس کیمپ کی طرف آنے کا راستہ بھی دشمن کی نظر میں ہے۔ معظم علی کو شہادت کی اتنی شدت سے تمنا تھی کہ جنوری 1995میں سیاہ چن سے جب معظم علی اپنی بڑی بہن اسماء کی شادی پر آیا تو اپنے آبائی گاؤں روہتاس میں دادا ابو کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے بعد بہن کو ایک طرف لے کر سرگوشی سے کہا کہ باجی جب میں شہید ہو جاؤں تو مجھے دادا ابو کی قبر کے ساتھ دفن کروانا۔ ایک روز اپنی ماں سے بڑے لاڈ سے کہنے لگا۔ ماں، اﷲتعالیٰ ماؤں کی دعائیں ضرور قبول فرماتا ہے، میری شہادت کی دعا کرنا۔ شہادت کا یہ متوالا ایک روز جب اس کے ابو میجر یوسف اختر مغرب کی نماز سے فارغ ہوئے، توکہنے لگا ابو میری شہادت کی دعا کریں۔ عملی زندگی میں کیپٹن معظم علی شہید ایک عظیم انسان تھا۔ سیاچن پر ہی ایک رات ایک سپاہی بیمار ہو گیا۔ اس کو آرام کرنے کے لئے خود رائفل پکڑ کر بطور سنتری ڈیوٹی دیتا رہا۔ شہادت کی شدت سے طلب اور سیاچن جہاں کی پوسٹنگ پر بڑے بڑوں کا پِتّہ پانی ہونے لگتا ہے،وہاں پر مستقل ڈٹے رہناکہ شہادت کی منزل پا لے، یہ دونوں وہ خواہشات تھیں جو معظم علی کی ترجیحات میں پہلے نمبر پر تھیں۔ تابش پوسٹ پر معظم علی کی ڈیوٹی کا عرصہ نومبر 1994میں پورا ہو چکا تھا اور وعدے کے مطابق اسے دوبارہ وہاں نہیں جانا تھا۔ مگر فروری 1995 میں سیاچن میں اپنی یونٹ میں چھٹی سے واپس جا کر پہلا کام اس نے یہ کیا کہ یونٹ کے سی او لیفٹیننٹ کرنل محمد محمود بٹ سے بہت اصرار کر کے اپنے آپ کو دوبارہ تابش پوسٹ پر تعینات کروا لیا۔ استفسار پر یہ بتایا کہ سچی بات یہ ہے کہ میرا دل یہاں سے کہیں اور جانے کو نہیں چاہتا۔ برف پوش پہاڑ اتنے بلند ہیں اور آسمان اتنا صاف اتنا نزدیک نظر آتا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ خدا بھی قریب بہت قریب ہے۔ اس ماحول میں اس فضا میں مجھے اتنی اپنائیت محسوس ہوتی ہے کہ شاید میری آرزو پوری ہو جائے مجھے شہادت نصیب ہو جائے۔

 

اور پھر وہ وقت آ ہی گیا جس کی آرزو بچپن سے ہی معظم علی کے دل میں مچل رہی تھی۔ 15مئی 1995کا وہ دن جب معظم علی ارض وطن کی حرمت کی خاطر برفیلے پہاڑوں کی بلندیوں پر وطن کے لئے قربان ہو گیا۔12مئی کو سیکٹر کمانڈر نے خبردار کیا کہ دشمن کا فائر آنے والا ہے۔ چنانچہ 14مئی کی صبح سے دشمن کا متوقع فائر آنا شروع ہو گیا۔معظم علی اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے دشمن کی پوزیشن تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ 14مئی ہی کی شام دشمن نے فائر بند کر دیا۔ تمام وقت الرٹ رہنے اور فائر کروانے سے معظم علی کی آنکھیں سوج گئی تھیں۔ صبح سے کھایا پیا بھی کچھ نہ تھا۔ رات کو میجر افتخار کا فون آیا کہ صبح دشمن کا فائر پھر آئے گا، الرٹ رہیں۔ پندرہ مئی کی صبح طلوع ہوئی تو دس اور گیارہ بجے کی درمیان متوقع فائر آنے لگا۔ گیارہ بجے کے قریب معظم اپنے بنکر سے نکل کر بائیں ہاتھ گیا جدھر گن تھی۔ کچھ ہی دیر بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ دشمن نے راکٹ فائر کیا تھا۔ معظم علی شہید ہو چکا تھا۔ دایاں بازوں کندھے سے ذرا نیچے اڑ گیا تھا۔ پیٹ اور سینے پر ان گنت زخم تھے اور دونوں ٹانگیں گھٹنوں سے ذرا نیچے چور چور ہو چکی تھیں۔ اس طرح 15مئی 1995 کو دن گیارہ بج کر دو منٹ پر شہادت کی تلاش کا وہ سفر ختم ہو گیا جو 13اکتوبر 1972 رات نو بجے اس شہید نے اس دنیا میں آ کر شروع کیا تھا۔ شہید کا جسد خاکی جب جہلم لایا گیا تو جہلم گیریژن کے آفیسرز کے علاوہ پنڈی سے بہت سارے آفیسرز تشریف لائے جن میں کئی جنرل صاحبان بھی شامل تھے۔ ایک خلقت تھی جو نوجوان شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے آئی تھی۔ ان میں ایک ایسا بوڑھا بھی تھا جو تابوت کے قریب کھڑا حسرت سے کہہ رہا تھا۔ ’’بیٹے جب تم رسول پاکﷺ کے سامنے جاؤ تو میرا بھی سلام کہنا‘‘ اور پھر وہ رو پڑا اور کہا ’’پتر تیری عمر مرنے کی نہیں تھی۔‘‘

 

شہادت کے دس دن بعد اس کے بھائی ہارون کو خواب میں معظم علی نظر آیا تو بھائی نے پوچھا سناؤ بھائی معظم اس دنیا سے جانے کے بعد تجھ پر کیا بیتی۔ معظم نے جواب دیا کہ شہید ہو کر جب وہ اﷲ کے حضور پہنچا تو وہاں حضرت امام حسینؓ نے اسے شربت کا پیالا دیا اور حضرت فاطمہؓ نے اسے کہا کہ یہ لو خزانے کی چابیاں۔ دو سال قبل شہید کے والدکو ان کے ایک دوست ملے جنہوں نے بڑے وثوق سے انہیں یہ بتایا کہ وہ حج کے لئے گئے تھے تو وہاں معظم علی نے اس کے ساتھ حج کیا ہے۔

 

شہادت سے کچھ دن پہلے شہید معظم علی نے اپنے والد میجر (ر) یوسف اختر سے کہا کہ جب میں شہید ہو جاؤں تو میرے جو واجبات ملیں ان کو کسی ایسے کام میں خرچ کریں جو صدقہ جاریہ ہو۔ چنانچہ ان کے واجبات جو کہ ساڑھے آٹھ لاکھ بنتے تھے، ان سے الصادق میموریل کے نام سے ایک ٹرسٹ کا آغاز کیا گیا جہاں خواتین کو سلائی کڑھائی اور دیگر فنون دستکاری سکھائے جاتے ہیں۔

یوں تقریباً بائیس سالہ معظم علی شہید عہد شباب میں شہداء کے اس قافلے کا راہرو بن گیا جن کی منزلیں کہکشاؤں کے دیس میں نیلے آسمانوں کے اس پار ہوا کرتی ہیں جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

یہ تحریر 102مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP