متفرقات

شہادت کا تاج

شہید کیپٹن عاقب جاوید ولدجاویدمحمود موضع نوتھیں تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے سے حاصل کی۔ سکول و کالج میں اساتذہ سے اپنے ان ہیروز کے بارے میں جاننے کا موقع ملا، جنہوں نے وطن کی خاطر جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے دشمن کی گولیوں کی بوچھاڑکے سامنے اپنے سینوں کی ڈھال بنا کر عوام کو محفوظ رکھا۔عاقب جاوید کے دل میں بھی فوج جوائن کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ دل میں وطن کی خاطر کچھ کرنے کی لگن تو بچپن ہی سے موجود تھی، مگرجب یہ لگن جنون میں بدل چکی تو اسے منزل تک پہنچانے کے لئے انہوں نے افواج پاکستان کا حصہ بننے کے لئے دلجمعی سے محنت کی۔



عاقب جاوید کو وردی سے محبت اپنے گھر سے ملی، ان کے والد پاکستان نیوی سے لیفٹیننٹ کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے،عاقب جاوید کے والدِ گرامی نے بھیبیٹے کی اس محنت کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے اس کاساتھ دیا، لیکن دل میں ایک وسوسہ ہمیشہ سے رہا کہ ایسا بچہ جو عام بچوں سے مختلف ہے۔ جو ہر وقت صرف اپنی ہی دنیا میں گم رہتا ہے، عام بچوں والی حرکتیں نہیں کرتا، شرارتوں سے تو ایسے دور بھاگتا تھا جیسے اس کی صحت پر گراں گزریں گی۔ حالانکہ شرارتیں ہی بچوں کے لئے اچھی سمجھی جاتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جو بچے زیادہ شرارتی ہوتے ہیں، ان میں سیکھنے کی صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں ۔
جبکہ عاقب جاوید کے ساتھ ایسا کچھ نہیں تھا وہ بس چپ چاپ رہتے تھے،  ہم عصر ساتھیوں سے الگ تھلگ تھے، جیسے کہ بچوں میں کوئی بڑا آدمی بیٹھا انہیں زندگی جینے کے رموز بتا رہا ہو۔ اسی خاصیت کے بدولت انہیں بچپن سے ہی الگ مقام حاصل تھا۔ بڑے بزرگ اُن کے اس رویے کو پسند کرتے تھے کہ کتنا فرمانبردار بچہ ہے۔ جب کبھی بھی گائوں کے بزرگوں کی بیٹھک ہوتی نئی نسل کی تربیت کا تذکرہ ہوتا تو عاقب کا تذکرہ ضرور ہوتا اور سب ہی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔ شرافت کا یہ عالم تھا کہ اپنے ہی گھر میں داخل ہونے سے پہلے دروازہ کھٹکھٹانا نہیں بھولتے تھے۔
ماں سے بے حد پیار کرتے تھے۔ مگر اس میں بھی حجاب،لجا اور احترام کا دامن کبھی نہیں چھوڑا، گھنٹوں بیٹھ کر ان کے ساتھ مستقبل کی باتیں کرتے رہنا تو معمول تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ ماں بیٹا نہیں کوئی دو سہیلیاں بیٹھ کر اپنے دکھ سکھ کی باتیں کر رہی ہوں،ماں بھی بیٹے سے اتنا ہی پیار کرتی تھیں، ہر وقت ان کی سلامتی کی دعائیں مانگتیں، ان کی ہر پسند نا پسند کا خاص خیال رکھا کرتی تھیں،انمول ہیرے سے تشبیہہ دیا کرتی تھیں۔ ماں بیٹے کے پیار کو پورے خاندان میں مثال سمجھا جاتا تھا، وہ ہمیشہ اپنے بھائی اور بہن کے ساتھ بھی یہی پیار روا رکھتے تھے۔اُنہیںبتاتے کہ بڑوں کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہئے، چھوٹوں کا خیال کیسے رکھنا چاہئے، ماں باپ اور گائوں کے بزرگوں کے لئے ہم پر کیا فرائض ہیں۔
ایک بچہ ایسی باتیں کیا کرتا تھا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی تھیں، نجانے ایسا کون سا خواب دل میں لئے بیٹھے تھے کہ اپنے علاقے کے لئے سوچتے تھے کہ کس طرح میں اپنے لوگوں کے کام آ سکتا ہوں۔ کس طریقے سے ان کی امداد کر سکتا ہوں، ان کے معیار زندگی کو کیسے بلند کر سکتا ہوں، اپنی عمر سے بڑھ کر باتیںکیا کرتے تھے۔بزرگ کہہ دیتے کہ اس کے اندر تو کوئی بہت ہی پرانی روح سرایت کر چکی ہے۔ شاید قدرت بھی جن کی قربانی پسند کرتی ہے ان کی تربیت ایسے روپ میں کرتی ہے کہ انہیں منزل تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ جس منزل کے وہ مسافر ہیں اس تک بغیرکسی پریشانی کے پہنچ پائیں۔
قدرت اسی لئے ہر کام میں آسانیاں پیدا کر رہی تھی۔ سب کچھ جلدی جلدی طے پا رہا تھا۔ بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 2015 ء میں132 لانگ کورس میں کمیشن لے کر عاقب جاوید پی ایم اے کاکول میں اپنے خوابوںمیں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے پہنچ گئے۔ جہاں پر ان کی صلاحیتوں کو قابل اساتذہ نے مزید نکھارا ۔جسمانی،ذہنی اور پیشہ وارانہ تربیت حاصل کرنے کے بعد 131 ایس پی میڈیم رجمنٹ میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ اپنی ڈیوٹی سر انجام دینے لگے۔ جلدہی  اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر انہوں نے افسروں اور جوانوں میں اپنی الگ پہچان بنا لی۔ جوانوں کے ساتھ گھل مل جانا معمول کی بات تھی،کبھی احساس نہیں ہونے دیتے تھے، کہ وہ افسر ہیں اورجو ان اُن کے ماتحت ہیں، ہمیشہ ان کے چہرے پر سنجیدہ مسکراہٹ ہوتی تھی، جس سے وہ سب کو ہی اپنا گرویدہ بنالیا کرتے تھے۔ نوجوان افسر ہونے کی وجہ سے کھیلو ں میں بھرپور حصہ لیا کرتے تھے اور یونٹ کو نمایاں مقام دلوانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا کرتے۔
بیٹا جہاں ترقی کی منازل طے کر رہا تھا، تو والدین خاص طور پر والدہ شادی کے لئے تیاریاں کر رہی تھیں کہ جلد سے جلد بیٹے کے لئے چاند سی دلہن لائوں۔ بہن بھائی بھی گھر میںبھابھی کی آہٹ سننے کے لئے منصوبہ بندی میں برابر شریک ہوتے تھے۔ پورا خاندان ہی کیپٹن عاقب جاوید کی شادی کے لئے بھر پور تیاریاں کر رہا تھا۔ 
ماں اپنے خیالوں میں گم رہا کرتی تھیں۔ انہیں جلدی تھی کہ کب ان کے بیٹے کے سر پر سہرا سجے گا۔ جس کے لئے وہ ہر چیز سے بے نیاز ہو کر دن رات تیاریوں میں مصروف تھیں۔ ان کی دلہن کے لئے شاپنگ کے لئے جاتیں،پھر نجانے کیا ہوتا بدلنے چل پڑتیں کہ ایسا نہ ہو کہ میرے بیٹے کو پسند نہ ہو۔ بار بار بدلتی کہ میرے عاقب کی دلہن کے لئے کسی طرح کی کوئی کسر باقی نہ رہ جائے۔ ان کے پائوں خوشی سے زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔ گائوں کی خواتین سے ہر روز مبارک بادیں وصول کر کے خوش ہوتیں۔
بہن ،بھائی نے شادی کی رسموں کی ایک لمبی فہرست شہید کیپٹن عاقب جاوید کے ہاتھوں میں تھما دی تھی کہ ہمیں فوجی ڈسپلن کی قید میں جکڑ کر ان سے جان چھڑانے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔یہ نہ ہو کہ ہم پر حکم صادر کر دیں کہ تم فلاں قانون کے تحت یہ رسم انجام نہیں دے سکتے ہو۔ بھائی کی شفقت ایک بار پھر معصوم پیار سے لبریز خواہشوں کے سامنے بے بس نظر آئی،لبوں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا لگتا یوں ہے کہ یہ دن تو میری قید اور غلامی کا ہے، ہر کوئی مجھے پوچھ کم اور بتا زیادہ رہا کہ ہم ایسے کریں گے تم بس چپ چاپ کر کے سرہلاتے رہنا، بہن نے روٹھتے ہوئے کہا ٹھیک ہے بھائی ہم کچھ نہیں کریں گے، پگلی میں تو مذاق کر رہا ہوں، ارے میں بھی تو مذاق کر رہی تھی، قدرت بھی دیکھ رہی تھی کہ کیا منصوبے بنائے جا رہے ہیں،جبکہ میرا منصوبہ تو کچھ اور ہی ہے جو ان سب پر بھاری ہوگا، اور اسی پر عمل بھی ہوگا،جس پر دنیا اَش اَش کر اٹھے گی، جس بچے نے علاقے کا نام روشن کرنے کا سوچا تھا اس کی اس معصوم خواہش کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔
کیپٹن عاقب جاوید جو کہ رواں سال اپریل 2019ء سے بلوچستان ایف سی میں تعینات تھے، جہاں دشمن کئی دہائیوں سے تاک لگائے بیٹھا ہے، کبھی کسی صورت تو کبھی کسی صورت میں سامنے آتا رہتا ہے۔ جہاں سے دشمن کا حاضر سروس کمانڈر بھی پکڑا گیا ہے، جو بلوچستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، تاکہ دہشت پھیلا کر بلوچی عوام کو ترقی سے دور رکھا جا سکے۔ گوادار جو پاکستان کا مستقبل ہے اسے سبوتاژ کیا جا سکے۔ لیکن ہمارے جوان، افسر دشمن کے ہر منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ ایسے ہی ان دیکھے دشمن کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر تربت میں آپریشن کیا جا رہا تھا، جس کی کمانڈ کیپٹن عاقب جاوید کر رہے تھے ۔بہادر سپہ سالار کی طرح سب کو لیڈ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ اسی اثناء میں چھپ کر وار کرنے والے بزدلوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے  شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوگئے۔ انہوں نے ماں کے کہے ہوئے ان الفاظ کو نبھا دیا کہ بیٹا تم جن عظیم لوگوں میں جا رہے ہو، ان کی شاندار روایات ہیں۔ کبھی کسی نے گولی پیٹھ پر نہیں کھائی،اگر کبھی ایسا موقع آیا تو تم بھی اس دھرتی کی بنیادوں کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے والوں کی طرح اپنا سینہ پیش کرنا، تاکہ جو سیسہ پلائی دیوار دشمن کو ناکام بناتی ہے اس میں قوم کے ایک اور بیٹے کی چھاتی جڑ سکے، اور یوں شہید کیپٹن عاقب جاوید نے ماں کے الفاظ کو حکم جانتے ہوئے دشمن کی گولیوں کے سامنے اپنا سینہ پیش کر کے شہیدوں کی روایات کو قائم رکھا۔جس سر پر سہرا اور جسم پر شیروانی سجانے کے لئے تیار یاں تھیں اس سر پر شہادت کا تاج اور جسم پر ملک سے محبت کی''پوشاک'' پہن کر ہمیشہ کے لئے زندہ رہنے والی دنیا میں جا بسا۔
 دشمن کئی دہائیوں سے اس کوشش میں ہے کہ بلوچستان کی غیور عوام کو پنجاب کے خلاف بھڑکا کر ان کے خلاف استعمال کیا جائے۔ ایسا لگے کہ بلوچی پنجابیوں کا قتل عام کرتے ہیں، تاکہ نفرتوں کی آگ کو دہکا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کئے جا سکیں، جبکہ شہادتیں تمام طرح کے ہتھکنڈوں کی نفی کر دیتیں ہیں۔صوبہ پنجاب کے ایک افسر نے اپنے بلوچی بھائیوں کی حفاظت کے لئے اپنی جان کی پروا کئے بغیر دشمن کی گولیوں کا سامنا کیا تاکہ بلوچستان سے ایسے افراد کا صفایا کیا جائے جو ہمیں آپس میں لڑانے کی تگ و دو میں ہیں۔ ہر شہادت دشمن کو واضح پیغام دیتی ہے کہ تم جتنے بھی منفی ہتھکنڈے استعمال کرلو ہم اپنے خون سے انہیں صاف کر کے نئی منزلوں کے راستوں میں متحد ہو کراپنے ملک کو دنیا کے اہم ممالک کی صف میں کھڑا کریں گے۔ جس کے لئے چمکتی آنکھوں اورمسکراتے چہرے کے ساتھ کیپٹن عاقب جاوید نے 26 جولائی 2019 ء کو جام شہادت نوش کیا ۔27 جولائی 2019ء کو شہید کیپٹن عاقب جاوید کو شاندار فوجی روایات کے مطابق تما م اعزازات کے ساتھ دفن کیا گیا، جیتے جی بھی اپنے ہم عصروں اور گائوں والوں کے لئے مثال تھے، اور شہادت کا رتبہ حاصل کر کے نہ صرف والدین بلکہ علاقے کا نام روشن کر کے ہمیشہ کے لئے دعائوں اور دلوں میں زندہ وجاوید ہو گئے۔
    
 

یہ تحریر 1مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP