متفرقات

شوکت علی … ملی نغموں کا مایہ ناز گلوکار

پاکستانی مشہور گلوکار شوکت علی2 اپریل 2021ء کو انتقال کرگئے ، جن کے بعد ہماری لوک موسیقی کے ساتھ ساتھ قومی نغمات کا ایک عہد بھی ختم ہوگیا …شوکت علی جو 3 مئی 1944ء کو ملک وال میں پیدا ہوئے انھوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا ۔وہ ہماری ملّی و عسکری نغمات کی تاریخ کا ایک درخشاں باب تھے۔ انھوں نے اپنا پہلا قومی نغمہ 28نومبر 1964ء کو پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز پر پیش کیا ۔ یہ شوکت علی کا ہی نہیں بلکہ پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ کا بھی پہلا قومی نغمہ ثابت ہوا جسے حمایت علی شاعر مرحوم نے تحریر کیا تھا۔ میاں شہریار کی موسیقی سے مزین اس نغمے کے بول تھے۔
 '' پاکستان کے ہر گوشے میں رقصِ اخوت جاری ہو،
  لمحہ لمحہ لحظہ بہ لحظہ ہر سو رحمتِ باری ہو ''
تاہم شوکت علی کو قومی نغمات کے ضمن میں مقبولیت جنگِ ستمبر کے دوران  ملی جب اُن کی آواز میں مسعود رانا اور نورجہاں بیگم کے ہمراہ '' ساتھیو مجاہدو جاگ اٹھاہے سارا وطن ''ریڈیو پاکستان سے گونجنے والے اولین نغمات میں سے ایک تھا یہ نغمہ دراصل4 ستمبر کو ریلیز ہونے والی فلم مجاہد میں شامل تھا جسے حمایت علی شاعر نے تحریر کیا تھا جبکہ موسیقار خلیل احمد تھے۔ جنگِ ستمبر کے دوران ہی شوکت علی نے مسعود رانا کے ساتھ ایک اور ملی نغمہ '' اے دشمنِ دیں تو نے کس قوم کو للکارا '' بھی گایا جو صدرِ مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کو بھی بے حد پسند تھا … اسی نغمے کی بناء پر شوکت علی کو بعد از جنگ تمغۂ خدمت سے بھی نوازا گیا۔ اس نغمے کو بھی حمایت علی شاعر نے ہی تحریر کیا تھا جبکہ موسیقار خلیل احمد ہی تھے اسی دوران اونچی اور گھرج دار آواز کے مالک شوکت علی نے مسعود رانا کے ساتھ حبیب جالب کا تحریر کردہ نغمہ
 '' کردے گی قوم زندہ ماضی کی داستانیں… 
باطل کی وادیوں میں گونجیں گی پھر اذانیں '' 
بھی ریکارڈ کروایا جو بعد ازاں فلم وطن کا سپاہی کا حصہ بنا … جنگِ ستمبر میں شوکت علی نے قومی دفاعی فنڈ اکٹھا کرنے میں بھی حصہ لیا اور ساتھ ساتھ وہ  پاک فوج کے جوانوں کوکھیم کھرن کے مورچوں پر بھی جنگی اور ملی ترانے سنانے گئے جہاں انھوں نے '' ہم نے گرائے سو طیارے '' اور نسیم بیگم کی عدم موجودگی میں'' اے راہِ حق کے شہیدو '' جیسا نغمہ بھی گایا ، وہ اگلے محاذوں پر نغمہ سرائی کرتے تو اُن کی پرجوش آواز کی بدولت ارضِ پاک کے لیے سینہ سپر مجاہدوں کا جوش اور بڑھ جاتا۔  جنگِ ستمبر کے بعد شوکت علی نے فلم ولی عہدکے لیے کلیم عثمانی کا تحریر کردہ جنگی ترانہ '' ساتھیو مرحبا دوستو مرحبا ، پھول بن کے کھلو چاند بن کے ہنسو ! دے رہی ہے زمینِ وطن یہ صدا ''نذرِ عوام کیا جسے خلیل احمد نے موسیقی سے سجایا تھا یہ نغمہ فلم کے علاوہ ریڈیو سے بھی بے حد مقبول ہوا ۔بعد از جنگ شوکت علی کا شمار قومی فنکاروں میں ہونے لگا جو ریڈیو پاکستان پر ملّی ترانے بھی گاکر قوم میں جذبۂ حب الوطنی کی قندیلیں روشن کرتے۔
دسمبر1971ء میں قوم پرایک بار پھر وقتِ آزمائش آیا تو شوکت علی نے ایک بار پھر لاہور ریڈیو پر آواز کا مورچہ تیار کیا  اور سب سے پہلے عبدالرؤف شیخ کاتحریر کردہ نغمہ'' ڈک لو ڈک لو قہر دے طوفان '' نذرِ افواجِ پاکستان کیا ۔ اس کے بعد انھوں نے '' جنگ باز انڈیا ' جنگ باز انڈیا '' اور بھارتی ریڈیو آکاش وانی پر طنزیہ نغمہ '' جھوٹ بولنیے اے جھوٹیے آکاش وانیے'' بھی ریکارڈ کروایا جسے اعجاز کاشمیری نے تحریر کیا تھا۔6 دسمبر1971ء کو شوکت علی نے تصور خانم کے ساتھ مرحوم فیاض ہاشمی کا لکھا ہوا ترانہ '' دشمنو! تم نے اُس قوم کو للکارا ہے '' بھی گایاجو بعد میں فلم '' آزادی '' کا حصہ بھی بنا۔  اس جنگ میں ریڈیو پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی ویژن بھی ایک موثر ادارہ بن چکا تھا، اسی لیے شوکت علی نے پی ٹی وی لاہور مرکز پر بھی دیگر فنکاروں کے ساتھ قومی نغمات ریکارڈ کروائے جن میں '' اے وطن تو نے ہم کو پکارا تو ہم سربکف آگئے '' دورانِ جنگ بے حد مقبول ہوا ۔ 
جنگ کے بعد شوکت علی نے قومی نغمات کی جہت میں اہم کردار ادا کیا اور ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے شاندار اور اپنے عہد کے مقبول قومی نغمات ریکارڈ کروائے ۔ ریڈیو پاکستان لاہور کے لیے کسان بھائیوں کا نغمہ '' چل چل چل ' چل میرے ہل '… کردنیا کی تو مشکل حل'' نے وطن کے ہاریوں میں بے حد مقبولیت حاصل کی ۔طفیل ہشیارپوری کے تحریر کردہ اس نغمے میں شوکت علی کے ساتھ ہل چلانے کے صوتی اثرات معروف براڈ کاسٹر خالد عباس ڈار نے دیئے ۔  طاہرہ سید کے ساتھ اُن کا گایا ہوا نغمہ'' اپنا اپنا کام کرو ' اپنا اپنا عہد نبھاؤ''کا شمار بھی ستر کی دہائی کے مقبول قومی نغمات میں ہوتا ہے ۔  اگست 1972ء میں شوکت علی نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے جمیل الدین عالی کا تحریر کردہ نغمہ '' یہ پاک سرزمین ہے ' یہ منزلِ مراد ہے '' بھی گایا جو سانحۂ مشرقی پاکستان کے بعد ٹوٹے ہوئے دلوں میں احساس جگاتے ہوئے کہہ رہا تھا  :
'' اسی زمین کے لیے ' ہزار امتحاں دیئے …
بہت کٹھن تھے مرحلے مگر وہ ہم نے طے کئے 
گزر گیا جو وقت وہ تمام ہم کو یاد ہے …
 یہ پاک سرزمین ہے 'یہ منزلِ مراد ہے ''
اسی طرح شوکت علی نے احمد ندیم قاسمی مرحوم کا تحریر کردہ دعائیہ قومی نغمہ
 '' یا رب میرے وطن کو اک ایسی بہار دے ' 
جو سارے ایشیا کی خزاں کو نکھارر دے ''
 بھی سکول کے بچوں کے ساتھ پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز پر ریکارڈ کروایا ۔
دسمبر 1974 میں شوکت علی نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے حمایت علی شاعر کا تحریر کردہ قومی نغمہ '' اے قائدِ اعظم ' تیرے نقشِ کفِ پا ہیں ' یہ چراغِ منزل' گایا تو یہ پاکستان ٹیلی ویژن کا ریکارڈ شدہ پہلا نغمۂ قائدِ اعظم تھا کیونکہ اس سے پہلے پی ٹی وی پر قائدِ عظم کے نام سے وہی نغمات نشر ہوتے تھے جو فنکار پہلے ہی ریڈیو سے نذر عوام کرچکے ہوتے تھے ۔ 1974ء میں ملک کو سیلاب کی قدرتی آفت نے گھیرا تو اس موقع پر بھی شوکت علی آگے بڑھے اور انھوں نے  ریڈیو پاکستان لاہور پرجمیل الدین عالی مرحوم کا تحریر کردہ نغمہ '' بہت گمبھیر تھا طوفان مگر سب جھیل گیا انسان '' متاثرین سیلاب کی نذر کرکے ان کا حوصلہ بلند رکھا ۔ 
80کی دہائی قومی نغموں کے ضمن میں شوکت علی کی دہائی تھی جب انھوں نے ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن سے کئی لازوال قومی نغمات ریکارڈ کروائے جو ہمارے قومی نغمات کی تاریخ میں امر ہوگئے ۔ ان میں ریڈیو پاکستان لاہور کے لیے صہبا اختر کا لکھا ہوا نغمہ'' سلام پرچمِ وطن سلام '' ، محشر بدایونی کا تحریر کردہ ترانہ '' اپنی قوت اپنی جان'' ( ترمیم شدہ اشعار کے ساتھ) اور کلامِ اقبال '' یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے '' نے نشر ہوتے ہی مقبولیت حاصل کرلی ، یہ تمام نغمات پہلے تاج ملتانی اور نگہت سیما کی آوازوں میں مقبولِ عام ہوچکے تھے لیکن شوکت علی نے انھیں ایک بار پھر تازگی بخشی۔پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز کے لیے شوکت علی خلیل احمد کی طرز میں ملی کلام ''خودی کا سرِ نہاں لا الٰہ الا اللہ'' کو ایک نئی طرز میں پڑھا تو وہ بھی اُن کی گرج دار آواز کی وجہ سے مقبول ہوگیا ۔1984ء کوشوکت علی نے امید فاضلی کے تحریر کردہ نغمے '' نین منڈیروں پر اک سپنا دیا جلانے آیا ہے '' کو ایک نئی طرز سے ہمکنار کیا کیونکہ اس سے پہلے یہ نغمہ نسیمہ شاہین اور شازیہ بھی گاچکی تھیںاسی طرح 1985ء میں میجر ضمیر جعفری کا تحریر کردہ نغمہ '' اے پاک وطن تو رخشندہ ' تو پائندہ … تو زندہ تو ہم زندہ '' بھی گاکر ہمارے قومی نغمات میں ایک اور پرجوش نغمے کا اضافہ کیا۔ اسی سال یعنی1985ء میں انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز کے لیے شازیہ کے ساتھ میجر ضمیر جعفری کا تحریر کردہ نغمہ '' اپنا پرچم ایک ہے اپنا قائدِ اعظم ایک ہے ''گایا تو اس کا شمار مقبول ترین نغمات میں ہونے لگا جس کی تازگی آج بھی برقرار ہے۔ مارچ1986ء میں شوکت علی نے معروف گلوکارہ ناہید اخترکے ساتھ مسرور انور کا لکھا ہوا نغمہ '' اے پیارے لوگو سجدے میں جاکے مانگو دعا یہ خدا سے… خاکِ وطن کو سیراب کردے اپنے کرم کی گھٹا سے '' گایا تو اس نغمے کو صدرِ مملکت جنرل محمد ضیاء الحق شہید نے بھی بے حد پسند کیا ۔شوکت علی کے قومی نغمات کا سلسلہ90ء  اور 2000ء کی دہائی تک جاری رہا جس میں وہ اکثر نغمات  ری ڈو بھی کرتے تھے جن میں '' اے مردِ مجاہد جاگ ذرا ''، '' جاگ اٹھا ہے سارا وطن'' ، ہم مصطفوی ہیں '' جیسے نغمات شامل ہیں لیکن انھوں نے  دوسری طرزوں میں بھی کئی نغماتِ وطن گائے جن میں یہ نغمات مقبول ہوئے  :
٭پیار کا گلشن قدم قدم آباد کریں  ( طفیل نیازی کے ساتھ ، شاعر مسرور انور )
٭ اے وادیٔ کشمیر ' ختم ہوگی یہ شب ( شاعر: ضمیر جعفری  )
٭ اللہ میرے پاکستان کو پھولوں سے مہکائے رکھنا  ( شاعر: مسرور انور )
٭وطن کے پاک ساحلوں کی پاسبان بحریہ ( شاعر:ضمیر جعفری  )
2007 ء میں انھوں نے آئی ایس پی آر کے لیے ایک بار پھر اپنا گایا ہوا سابقہ ترانہ '' جاگ اٹھا ہے سارا وطن '' اپنے فرزند عمران شوکت کے ساتھ گایا۔  اس کے بعد قومی تہواروں کے موقع پر وہ پاکستان ریڈیو اور ٹی وی پر بطورِ مہمان آکر اپنے پرانے نغمات ہی گاتے رہے اور یہ سلسلہ یومِ دفاعِ پاکستان کی گولڈن جوبلی تک جاری رہا ۔ شوکت علی نے1964ء سے لے کر 2015ء تک51 سالوں میں ریڈیو پاکستان ' پی ٹی اور فلموں کے لیے  پچاس سے زائد قومی نغمات گاکر خود کو محب ِ وطن فنکاروں کی فہرست میں شامل کروالیا ،اُن کا شمار پاکستانی قومی نغمات کے عہد ساز گلوکاروں میں ہوتا ہے جنھیں ملک پاک سازِ وطن کے سُر بکھیرنے پر ہمیشہ یاد رکھے گا۔
یاد رہے کہ شوکت علی جن دنوں علیل تھے تو ایک پرائیویٹ ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ ظاہر ہے عمومی طور پر لوگ پرائیویٹ طور پر مہنگا علاج کروانے کی سکت نہیں رکھتے۔ شوکت علی کا خاندان بھی اس حوالے سے پریشان تھا۔ اس امر کی خبر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ہوئی تو انہوں نے فوری طور پر ہدایات جاری کیں اور قومی نغمے گانے والے عظیم گلو کار شوکت علی کو فوری طور پر سی ایم ایچ  منتقل کیاگیا جہاں اُن کا علاج بالکل مفت کیاگیا۔ بلاشبہ یہ ایک قابلِ تحسین اقدام ہے کہ پاک فوج نے مشکل کی اس گھڑی میں ایک قومی فنکار کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا خیال رکھا۔ زندہ قومیں یقینا اپنے ہیروز کو فراموش نہیں کرتیں۔ اعلیٰ قوموں کا یہی شیوہ ہو اکرتا ہے۔ ||


 [email protected]

یہ تحریر 112مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP