متفرقات

شوق آوارگی 

آج اس شہر میں، کل نئے شہر میں، بس اسی لہر میں 
اُڑتے پتوں کے پیچھے، اُڑاتا رہا، شوقِ آوارگی 
اُس گلی کے بہت کم نظر لوگ تھے، فتنہ گر لوگ تھے 
  زخم کھاتا  رہا،  مسکراتا  رہا،  شوقِ  آوارگی 
کوئی پیغام گُل تک نہ پہنچا مگر، پھر بھی شام و سحر 
ناز  بادِ  چمن  کے  اُڑاتا  رہا ،  شوقِ  آوارگی 

 حبیب جالب  کے ''شوق آوارگی'' نے انہیں ساری زندگی بے چین رکھا۔ گو کہ اُن کا ہجرت کے بعد زیادہ وقت لاہور میں ہی گزرا ور وہیں آسودہ خاک ہوئے مگر اُن کی بے چین روح شہر شہر انہیں لئے پھرتی رہی جس کا اظہار انہوں نے اپنی غزلوں میں بڑی خوب صورتی اور دردمندی سے کیا ہے۔ 
مگر جالب صاحب کی غزلوں کا ذکر کرنے سے پہلے میں اُن کی اُس بڑی اور بھرپور نظم کا ذکر کرتا چلوں کہ جس میں وہ اپنے آبائی گائوں ''دو آبے'' کا ذکر کرتے ہوئے ہجرت اور پھر اس کے بعد وطنِ عزیز میں جو اُن پر بیتی اس کا ذکر بڑے دکھ سے کرتے ہیں… جالب صاحب اس نظم کو جب بھی مشاعروں اور جلسوں میں سُناتے تو جہاں سامعین کی آنکھیں بھیگ جاتیں وہیں خود جالب صاحب بھی اس نظم کے بعد کوئی شعر نہیں پڑھ پاتے۔ ''داستانِ دلِ دو نیم'' کے نام سے یہ جالب صاحب کی طویل ترین نظم ہے جس کا آغاز وہ اپنے گائوں سے کرتے ہیں: 
اک حسیں گائوں تھا کنارِ آب 
کتنا شاداب تھا دیارِ آب
کیا عجب بے نیاز بستی تھی 
مفلسی میں بھی ایک مستی تھی 
کتنے دلدار تھے ہمارے دوست 
وہ بے چارے وہ بے سہارے دوست 
اپنا اک دائرہ تھا دھرتی  تھی
زندگی چین سے گزرتی تھی 
قصّہ جب یوسف زلیخا کا 
میٹھے میٹھے سُروں میں پھیلتا تھا 
قصر شاہوں کے ہلنے لگتے تھے
چاک سینوں کے سلنے لگتے تھے 
یہ بجا زیست پا پیادہ تھی 
دھوپ سے چھائوں تو زیادہ تھی
 
اور پھر یہاں سے جالب صاحب اُس ''ہجرت'' کا ذکر کرتے ہیں جس نے جالب صاحب سمیت لاکھوں انسانوں کو بے گھر ہی نہیں کیا بلکہ جس وطن کی آرزو میں وہ سب کچھ لُٹا کر آئے تھے اُس میں انہیں نہ سر چھپانے کو چھت ملی اور نہ عزتِ نفس کے ساتھ روٹی…  
اجنبی لوگ اجنبی راہیں 
لب پہ آباد ہو گئیں آہیں 
ہوئے آقا فرنگیوں کے غلام 
شبِ آلام ہو سکی نہ تمام 

جالب صاحب کے ''شوق آوارگی'' میں جواستعارہ سب سے نمایاں ہو کر آیا… وہ ''شہر'' کا ہے ''برگِ آوارہ'' کی بیشتر غزلوں میں وہ اُن شہروں کا ذکرکرتے جہاں انہوں نے اپنی نوجوانی کے بھرپور دن گزارے…  یہ وہ دور ہے جب انہوں نے  ابھی اپنی عملی سیاسی زندگی کا آغاز نہیں کیا تھا۔ یہ غزلیں اُسی ''فراق و وصال'' میں ڈوبی ہوئی ہیں جو اُس دور کے تمام ہی شعراء کرام کا موضوعِ سخن تھا ۔ 
منیر نیازی، احمد مشتاق، ناصر کاظمی، جالب صاحب کے ہم عصر شعراء تھے… مگر ان کے مقابلے میں جالب صاحب کا سفر آوارگی زیادہ کٹھن اور تکلیف دہ تھا۔ لائل پور، ملتان اور پھر لاہور۔ جالب صاحب کے پہلے مجموعہ کلام ''برگِ آوارہ'' میں شامل غزلوں کا اردو شاعری میں بڑا مقام ہے او رپھر ان شہروں کو انہوں نے جس طرح اپنی شاعری میں ''برتا'' اُس نے تو ''شہر'' کے حوالے سے اُن کے اشعار کو لازوال بنا دیا ہے۔ 
جالب صاحب اکثر بڑے فخر سے کہتے۔بھئی اردو کے صاحبِ طرز ادیب مولانا چراغ حسن حسرت ہمیں دیکھ کر یہ شعر پڑھتے تھے ۔۔۔

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے 
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے 

یقین سے نہیں … مگر جالب صاحب کی محفلوں میں بیٹھ کر جب میں نے یہ غزلیں سنیں اور ان کی گفتگو سے جو دور سامنے آیا اس سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ اُن کے محبوب شہر ''لائل پور'' کے دور کی ہیں جب لاہور آنے سے قبل انہوں نے کچھ عرصہ اس شہر میں گزارا۔۔۔
دل کی بات زباں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سُنا تھا اسی بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں 
بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیں 
لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں 
وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا 
اس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے ہیں 
اور پھر ''لائل پور'' کی گلیوں، محلوں میں گزرے دنوں کو یاد کرتے ہوئے جالب صاحب کے یہ اشعار   
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم 
لیکن یہ کیا کہ شہر تیرا چھوڑ جائیں ہم 
مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے 
آوارگی کو دل سے کہاں تک بچائیں ہم 
 
جالب صاحب کے ساتھ جو بعد کے دنوں میں ساتھ رہا تو کبھی رات کے آخری پہر اپنی پہلی محبت کی ناکامی پر جب یہ اشعار اپنے ترنم سے سناتے تو ایک سماں بندھ جاتا:     

پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے 
ہم تیرا شہر چھوڑ جائیں گے 
دُور افتادہ بستیوں میں کہیں 
تیری یادوں سے لو لگائیں گے 
آخری بار ایک غزل سن لو 
آخری بار ہم سنائیں گے 

اور پھر اسی رنگ میں لائل پور کو یاد کرتے ہوئے وہ غزل لکھتے ہیں جس کا ایک شعرمحاورہ بن گیا ۔

محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے 
تیرے شہر میں اِک جہاں چھوڑ آئے 
بہت مہرباں تھیں وہ گل پوش راہیں 
مگر ہم انہیں مہرباں چھوڑ آئے 
یہ اعجاز ہے حسنِ آوارگی کا 
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے 

 ابتداء میں کہیں میں نے لکھا ہے کہ جالب صاحب کی برگِ آوارہ کی بیشتر بلکہ ساری غزلیں ہی رومانوی رنگ لئے ہوئے ہیں… مگر جب میں اس غزل پر پہنچتا ہوں کہ۔۔ 

اپنوں نے وہ رنج دئیے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں 
دیکھ کے اس بستی کی حالت ویرانے یاد آتے ہیں 
اس نگری میں قدم قدم پر سَر کو جُھکانا پڑتا ہے 
اس نگری میں قدم قدم پہ بُت خانے یاد آتے ہیں 
اور پھر یہ تاریخی شعر جو اُن کی انقلابی شاعری کا پرچم بنا اور خود میں نے جالب صاحب کے لئے کراچی پریس کلب میں جتنی بھی محفلیں سجائیں اُن میں سٹیج پر یہی شعر بینر پر ہوتا کہ ۔۔
کوئی تو پرچم لے کر نکلے اپنے گریباں کا جالب 
چاروں جانب سناٹا ہے دیوانے یاد آتے ہیں 

یقین نہیں مگر اندازے سے کہا جا سکتا ہے کہ یہی وہ دور تھا جب جالب صاحب کی انقلابی شاعری کے تابناک دور کا آغاز ہوا اور پھر وہ تاریخی نظم آئی جس نے ''جالب صاحب'' کوسارے ملک میں شاعر عوام کا وہ بلند رُتبہ دیا کہ جو وطن عزیز میں نہ پہلے اور نہ بعد میںکوئی شاعر حاصل کر سکا ۔میری مرادان کی مشہور نظم ''دستور'' سے ہے۔ 
لائل پور کے بعد ''لاہور'' ہی وہ شہر ہے جس سے جالب صاحب کو بے پناہ محبت اور لگائو تھا۔ اکثر جب کراچی میں ہوتے تو کہتے ''یہ لاہور شہر کراچی میں نہیں آ سکتا…'' کیوںکہ مجھ سے پیار کرنے والے کراچی میں زیادہ ہیں۔ 

اب اور نیا کیا ستم ایجاد کرو گی  
لاہور کی گلیو مجھے تم یاد کرو گی
           
محسوس یہ ہوتا ہے ابھی جاگ رہے ہیں 
لاہور کے سب یار بھی سو جائیں تو سوئیں 

لاہور کہ جہاں جالب صاحب نے اپنی زندگی کی چار دہائیاں گزاریں، جہاں سے ملک گیر بلکہ بین الاقوامی شہرت حاصل کی، جہاں کے تھانوں اور جیلوں کو آباد کیا، جہاں کے کافی ہائوسوں اور مئے خانوں میں زندگی سے بھرپور دن گزارے اور پھر جہاں کی سڑکوں، فٹ پاتھوں پر اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے چپلیں ہی نہیں گھسیں اپنے پیر بھی لہولہان کئے… اور پھر بالآخر … تنگ دستی، بیماری اور اپنے دوستوں کی بے اعتنائی اور معاشرے کی بے حسی نے انہیں… ''شیخ زید ہسپتال'' کے جنرل وارڈ کے اُس بیڈ پر پہنچا دیا جہاں اُن کی آخری غزل کا آخری شعر یہ تھا   
بہت تذلیل تو کر لی ہماری زندگانی کی 
اجازت موت کی اب ہم کو بن کے مستقل دے دو 

یہاں آتے آتے قلم رُک گیا۔ افسردگی غالب آ گئی… مگر میں نے سوچا کہ کیوں نہ آخر میں جالب صاحب کی غزلوں کے چند منتخب اشعار آپ تک پہنچائوں جو میرے تو پسندیدہ ہیں ہی اور یقینا جو آپ کو بھی پسند آئیں گے   

ہوائے جور و ستم سے رُخِ وفا نہ بجھا
بجھے تمام دئیے ایک یہ دیا نہ بجھا 
ہر اہلِ جور کی خواہش رہی ہے میں نہ رہوں 
مگر میں ہوں کہ میرا شعلۂ نوا نہ بجھا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                 
شوقِ آوارگی میں کیا نہ ہُوا 
ایک تیرا ہی سامنا نہ ہُوا
اب تو ہم خاک ہو چکے جالب 
اب ہمارا کوئی ہُوا نہ ہُوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔             
سوئے منزل میرے تیزی سے قدم اٹھنے لگے 
جب بھی مجھ کو تیرے وہ اشکِ رواں یاد آئے 
غم چھلکنے لگا آنکھوں سے جہاں یاد آئے
اس سے پہلے کبھی تم اتنا کہاں یاد آئے
         ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔          
  
بُھلا بھی دے اُسے جو بات ہو گئی پیارے 
نئے چراغ جلا رات ہو گئی پیارے 
 کبھی کبھی  تیری   یادوں  کی  سانولی   ر ت  میں                                      
بُجھے جو اشک تو برسات ہو گئی پیارے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔               

حبیب جالب کی شاعری کو محض ''پروپیگنڈا اور سیاسی'' کی تہمت دینے والے نقادانِ ادب کیا کہیں گے ان اشعار کے بارے میں۔۔۔ ؟
اور ہاں ، ذرا جالب صاحب کے تعلق سے ایک دلچسپ واقعہ سن لیں۔۔۔ گو35سال گزر گئے مگر جب بھی یاد آتا ہے تو دکھ سے آنسو ضبط کرنا مشکل ہوجاتے ہیں۔
ہماری شادی کو کوئی ہفتہ بھر ہوا تھا ۔1985ء کے لگ بھگ کی بات ہوگی۔ جالب صاحب چند ماہ پہلے کراچی پریس کلب میں ایک نظم پڑھ کر شہر بدر ہوچکے تھے ۔مگر ہماری شادی میں خاص طور پر آئے ۔ہم نے اپنے سیاسی دوستوں کو تاکید کردی تھی کہ ''بھئی نہ کوئی مشاعرہ ہوگا نہ جلسہ ،تاکہ جالب  صاحب کے ساتھ ذرا ایک شام کی محفلیں رہیں'' ۔مگر پارٹی کے نظریاتی دوستوں کے اصرار پر وہ ایک مشاعرہ پڑھنے پر راضی ہوگئے۔میں اور شیریں بھی مشاعرے میں شرکت کے لئے پہنچ گئے۔ اشاروں میں پرچیوں سے تاکید کی کہ صرف ''غزل'' پڑھئے گا۔مگرآپ کو علم ہے کہ جالب صاحب کسی مشاعرے اور جلسے میں ہوتے تو وہ اپنے چاہنے والوں کی فرمائشوں کے اسیر ہوجاتے ۔ گھنٹے بھر وہ ساری نظمیں سنائیں جو لو گ سننا چاہتے تھے۔میںا ور شیریں آنے والی افتاد کے لئے تیار تھے۔ مگر یہ خیال نہیں تھا کہ پکڑ اتنی جلدی ہوگی۔مشاعرے کے اختتا م پر ہماری شادی کے حوالے سے دوستوں نے پارٹی رکھی تھی ۔کسٹم گاڑی میں آگے کی سیٹ میں میں اور میری بیوی شیریں، پچھلی سیٹوں پر دوستوں کے درمیان جالب صاحب ۔گاڑی نے فرلانگ کا فاصلہ بھی طے نہ کیا تھا کہ چہار جانب سے پولیس کی موبائلوں نے گھیرے میں لے لیا۔جہاں یہ گھیراؤ ہوا وہ فیروز آباد تھانے میں لگتا تھا۔تھانے کے ایس ایچ او نے بڑے مہذب انداز میں کہا:'' جالب صاحب ،آج آپ ہمارے مہمان ہوں گے ۔''جالب صاحب نے اُس لمحے بھی حسِ مزاح کا دامن نہ چھوڑا اور کہا: ''ایسی بھی کیا جلدی ہے ،پہلے'' مجاہد علی '' کی شام گزار لیں بلکہ آپ بھی چلیں۔پھر رات کا کھانا آپ کے ساتھ تھانے میں کھالیں گے ۔'' بے چارہ ایس ایچ او بڑی لجاجت سے کہنے لگا:'' جالب صاحب اوپر کا حکم ہے آج ہی رات کو پہلی فلائٹ سے لاہور بھیجنا ہے ۔'' یقین کریں اتنے برس بیت گئے۔۔۔جب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے ،آنکھیں نم ہوجاتی ہیں ۔شادی کو چند دن ہوئے تھے،جذبات سے مغلوب ہوکر بھی یہ جرأت نہیں کرسکا کہ ان کے ساتھ تھانے چلا جاتا ،جس کا افسوس آج بھی ہوتا ہے۔
غم چھلکنے لگا آنکھوں سے جہاں یاد آئے
اس سے پہلے کبھی تم اتنا کہاں یاد آئے ||

یہ تحریر 48مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP