قومی و بین الاقوامی ایشوز

شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی شمولیت اور اس کے ثمرات

23اور24 جون کو ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس۔ سی۔ او) کی سولہویں سالانہ سربراہی کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کو مستقل رکنیت دے دی گئی۔ جنوبی ایشیا کے ان دو بڑے ممالک کی شمولیت سے نہ صرف ایس سی او کی ہیئت‘ پروگرام اور سرگرمیوں پر گہرا اثر پڑے گا‘ بلکہ دنیا کے دو اہم خطوں یعنی وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے لئے بھی یہ فیصلہ دوررَس معاشی‘ سیاسی اور سکیورٹی سے متعلقہ مضمرات کا حامل ثابت ہوگا۔ 2001 میں اپنے باقاعدہ قیام کے وقت سے ایس سی او نے نئے ممالک کو رُکنیت دینے پر پابندی عائد کر رکھی تھی اور یہ تنظیم صرف چھ بانی رُکن ممالک یعنی چین‘ روس‘ قازقستان‘ کرغیزستان‘ تاجکستان اور ازبکستان تک محدود تھی‘ لیکن تمام اراکین نے محسوس کیا کہ معاشی ترقی‘ علاقائی تعاون اور تجارت میں اضافے اور سب سے بڑھ کر ان دونوں خطوں میں امن و استحکام اور سلامتی کو فروغ دینے کے لئے نئے ممالک کو شامل کرکے ایس سی او کے پلیٹ فارم کو وسعت دینی چاہئے۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں ایس سی او نے اس جانب نمایاں پیش قدمی کی ہے۔ جیسا کہ سولہویں سربراہی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے روس کے صدر ولاڈی میر پیوٹن نے کہا کہ (پاکستان اور بھارت کو داخل کرنے سے قبل) اس تنظیم کی سرگرمیوں میں18 ممالک حصہ لے رہے تھے۔ ان میں چھ بانی اراکین ‘ چھ آبزرور اورچھ ڈائیلاگ رُکن ممالک شامل ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی شمولیت سے اب ان ممالک کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ پاکستان اور بھارت کی شمولیت کے بعد ایس سی او کی سرحدیں اب بحرِ ہند کے ساحل کو چھونے لگی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی شمولیت کے بعد ایس سی او کے آٹھ مستقل اراکین کی آبادی‘ دنیا کی کل آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہے اور رقبے کے اعتبار سے یہ ممالک ایشیا کے 77فیصد حصے کے مالک ہیں۔

 

دنیا میں علاقائی تعاون اور مشترکہ دفاع کے لئے اور بھی تنظیمیں موجود ہیں‘ مثلاً جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی نتظیم’’آسیان‘‘‘ خلیج فارس کے ممالک کی تنظیم ’’گلف آپریشن کونسل‘‘ یورپی یونین اور نیٹو ۔ لیکن یہ سب تنظیمیں ایک جغرافیائی خطے‘ یایکساں تہذیبی اور ثقافتی پسِ منظر کے مالک ممالک پر مشتمل ہیں۔ ایس سی او پاکستان اور بھارت کی رکنیت کے بعد کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اس کا دائرہ جنوبی ایشیا تک پھیل گیا ہے اور شام‘ مصر اور اسرائیل کی طرف سے رکنیت کے حصول میں دلچسپی کے اظہار کے بعد اب یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ اگر ان ممالک کو بطورِ رُکن یا آبزور کے شامل کرلیا جائے تو ایس سی او کی سرحدیں بحرِ روم اور افریقہ تک پھیل جائیں گی۔

 

موجودہ پوزیشن میں بھی ایس سی او ایک ایسی علاقائی تعاون کی تنظیم ہے جو مزید کئی پہلوؤں سے اپنی ہم عصر تنظیموں سے منفرد ہے۔ مثلاً اس میں چار ایٹمی طاقتیں شامل ہیں یعنی روس‘ چین ‘ پاکستان اور بھارت۔ اس کے علاوہ تین اہم تہذیبوں چینی‘ ہندی اور اسلامی کے باہمی ملاپ کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کررہی ہے۔ چین کی طرف سے قدیم شاہراہِ ریشم کے اِحیاء اور وَن بیلٹ‘ وَن روڈ منصوبے کو روس کی سرپرستی میں قائم ہونے والے یوریشین اکنامک زون سے ہم آہنگ کرنے کے بعد ایس سی او یورپی تہذیب کے ساتھ بھی منسلک ہو جائے گی۔ اسی طرح ایس سی او ایک ایسی تنظیم برائے علاقائی تعاون ہے جو مختلف مذاہب‘ زبانوں‘ ثقافت‘ اقدار‘ سماجی و سیاسی نظام اور معاشی مسائل کے حامل ملکوں میں تعاون برائے ترقی‘ امن‘ بھائی چارے اور سلامتی کے لئے کوشاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی ترقی اور سلامتی کے ساتھ ثقافتی شعبے میں بھی باہمی تعاون کے فروغ کو ایس سی او کے تین بڑے مقاصد یا ستون قرار دیا جاتا ہے۔

 

ابتدا میں ایس سی او کی توجہ علاقائی سلامتی سے متعلقہ مسائل کو حل کرنے اور مشکلات پر قابو پانے کی طرف زیادہ تھی کیونکہ1990 میں سابقہ سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے بعد وسطی ایشیا کی ریاستیں سیاسی عدمِ استحکام‘ افراتفری اور خانہ جنگی کی صورت حال سے دوچار تھیں۔ ہمسایہ ممالک ہونے کی وجہ سے چین اور روس دونوں کو اس صورتِ حال پر تشویش تھی۔ خصوصاً روس کو جس کا ماضی میں وسطی ایشیائی ریاستیں حصہ تھیں اور منسلک سرحدوں کی وجہ سے روس کی اپنی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث بن سکتی تھیں۔ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے روس اور اس کی ہمسایہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان دوطرفہ بنیادوں پر دفاعی معاہدات موجود ہیں۔ روس نے بیلا روس کے ساتھ وسطی ایشیائی ریاستوں کو شامل کرکے ایک ڈھیلی ڈھالی تنظیم سی آئی ایس

(Confederation of Independent States)

قائم رکھی ہے۔اس کا مقصد بھی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ دو طرفہ معاہدات کے تحت افغانستان کی سرحد سے ملنے والی وسطی ایشیائی ریاستوں کے دفاع کے لئے روس نے محدود تعدادمیں سرحدی دستے بھی تعینات کر رکھے ہیں۔ سلامتی کے شعبے میں استحکام حاصل کرنے کے بعد ایس سی او ررُکن ممالک خصوصاً روس اور چین نے تنظیم کی سرگرمیوں کا رُخ معاشی ترقی اور علاقائی تعاون کی طرف موڑنا شروع کردیا۔2006 کی سربراہی کانفرنس کے موقع پر روس کے صدر پیوٹن نے رُکن ممالک کے درمیان ’’انرجی ڈائیلاگ‘‘ پر زور دیتے ہوئے ایک انرجی کلب اور یونی فائڈ انرجی مارکیٹ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ کیونکہ تنظیم میں اس وقت شامل چھ میں سے چار ممالک روس ‘ قازقستان‘ ازبکستان اور تاجکستان تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کے مالک تھے۔ اپنی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لئے یہ ممالک اُن ملکوں کو تیل اور گیس برآمد کرنا چاہتے تھے جہاں معاشی ترقی کی رفتار تیز تھی۔ لیکن توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اُن کے اپنے ہاں مطلوبہ مقدار میں نہ تیل تھا اور نہ گیس۔ مگر اس کے لئے سرمایہ کاری کی ضرورت تھی۔ روس کی معاشی حالت اس قابل نہیں تھی کہ وسطی ایشیامیں تیل اور گیس کی ترقی اور ترسیل کے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں وسیع سرمایہ کاری کرسکے۔ اس کے لئے چین آگے آیا۔ اُسے اپنی معاشی ترقی کی رفتار قائم رکھنے کے لئے تیل اور گیس کی ضرورت بھی تھی اور اُس کے پاس سرمایہ بھی تھا۔ اس سرمائے کی مدد سے چین نے تیل اور گیس پائپ لائنوں کا ایک جال بچھانے کا کام شروع کیا۔ جس میں ’’سنٹرل ایشیا‘ چائنا گیس پائپ لائن‘‘ کا منصوبہ نمایاں ہے۔ یہ دراصل 1100 کلومیٹر لمبائی کا متعدد پائپ لائنوں پر مشتمل ایک منصوبہ ہے جس کے کئی حصوں پر کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی پر کام جاری ہے۔ ان پائپ لائنوں کے ذریعے وسطی ایشیا سے چین کے صوبہ سنکیانگ میں گیس پہنچانے کا پروگرام ہے جہاں چین اس وقت ترقیاتی کام کی رفتار تیز کرنے میں مصروف ہے۔ چین نے قدیم شاہراہِ ریشم کی دوبارہ تعمیر کے ذریعے وسطی ایشیا میں علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لئے 16.3بلین ڈالر کا ایک فنڈ بھی قائم کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ترقیاتی سرگرمیوں اور علاقائی تعاون کے عمل کو تیز کرنے کے لئے چین نے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی طرز پر ایک ایس سی او ترقیاتی بینک کے قیام کی بھی تجویز پیش کررکھی ہے۔ اس وقت وسطی ایشیا میں چین سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکاہے۔ چینی سرمایہ کاری توانائی کے شعبوں تک محدود نہیں‘ بلکہ ٹرانسپورٹ‘ صنعت‘ کان کنی‘ سڑکوں اور ریلوے کی تعمیر بھی اُن شعبوں میں شامل ہے‘ جہاں چین نے بھاری سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ چین کی طرف سے وسطی ایشیا میں وسیع پیمانے پر انفرا سٹرکچر کی تعمیر اور معاشی ترقی کے لئے بھاری سرمایہ کاری کے نتیجے میں‘ خطے میں روس اور امریکہ کا اثر رسوخ کم ہوا ہے اور چین کے لئے نہ صرف حکومتی بلکہ عوامی سطح پر بھی خیر سگالی میں اضافہ ہوا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ایس سی او کی ممبر شپ میں اضافے اور خاص طورپر پاکستان اور بھارت کی شمولیت کے بعد ایس سی او کے اپنے کردار اور ایشیا کے دو بڑے خطوں یعنی جنوبی اور وسطی ایشیا کے حالات پر کیا اثر پڑے گا؟ پاکستان اور بھارت 2005 سے ایس سی او کے آبزرور ممالک کی حیثیت سے چلے آرہے ہیں۔ ان پر تنظیم کے دروازے کھولنے پر دس برس کا عرصہ اس لئے لگا کہ بانی ارکان کو خدشہ تھا کہ ایس سی او میں مستقل حیثیت میں بیٹھ کر یہ ممالک تنظیم کو باہمی اختلافات اور جھگڑوں کا اکھاڑہ بنا دیں گے۔ اس لئے اگر تنظیم نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے انہیں مستقل رکنیت دی ہے تو ایسا کرنے سے قبل ارکان نے یقیناًان دونوں ممالک سے اس امر کی یقین دہانی حاصل کرلی ہوگی کہ وہ ایس سی او کو اپنے اختلافات کی نذر نہیں کریں گے اور تنظیم کے فریم ورک میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ ایسا ہے تو یہ ایک مثبت پیش قدمی ہے۔ اس کی مزید تائید اس موضوع پر چینی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والے تبصروں سے بھی ہوجاتی ہے‘ جن میں کہا گیا ہے کہ ایس سی او کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کے بعد نہ صرف دونوں ملکوں کے قومی مفادات کو تحفظ ملے گا‘ بلکہ باہمی تعاون کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم ہوگی اور ’ون بیلٹ۔ ون روڈ‘ کے چینی منصوبے کے تحت خطے میں تعاون کی بنیاد مضبوط ہوگی۔ اسی طرح افغانستان میں بھی امن و مفاہمت کا عمل دوبارہ شروع ہوسکتا ہے کیونکہ گزشتہ برس اس عمل کے تحت افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا دور ممکن بنانے میں چین کی حمایت بھی شامل تھی۔ چونکہ پاک بھارت اختلافات کو افغانستان میں امن کے راستے میں ایک رکاوٹ سمجھا جاتا ہے اس لئے چین اور روس کی موجود گی میں ان دونوں ممالک کی ایس سی او میں شمولیت ‘ افغانستان میں پاک بھارت محاذ آرائی کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔

 

ایس سی او میں پاکستان اور بھارت کی شمولیت سے دونوں ملکوں کو زبردست اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک اب تنظیم کے فیصلہ سازی کے عمل میں براہِ راست حصہ لے سکیں گے۔ ایس سی او کے پلیٹ فارم سے توانائی ‘ تجارت‘ مواصلات اور سرمایہ کاری کے لئے جوبھی منصوبے بنیں گے‘ پاکستان اور بھارت اب اُن سے براہِ راست مستفید ہوں گے۔ پاکستان کے لئے یہ رُکنیت اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس سے پاک چین اکنامک کاریڈور کا رابطہ نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ اس سے بھی آگے یورپ تک کے ساتھ پیدا ہو سکتاہے۔ ان معاشی فوائد کے ساتھ جیوپولیٹیکل فوائد بھی اپنی جگہ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی شمولیت سے جنوبی ایشیا کے امن اور سلامتی میں ایس سی او ممبران خصوصاً روس اور چین کے سٹیک میں اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے رسمی طور پر نہ سہی لیکن غیر رسمی انداز میں کشمیر اور افغانستان جیسے علاقائی تنازعات کے کل کے لئے درپردہ کوششوں کا آغاز ہوسکتا ہے۔


پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔ آپ ان دنوں یونیورسٹی آف سرگودھا سے منسلک ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 57مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP