قومی و بین الاقوامی ایشوز

شمالی وزیرستان ۔ آپریشن ضربِ عضب

شمالی وزیرستان ، وطنِ عزیز کے شمال مشرقی پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ایک ایسی پٹی ہے جو پاک۔ افغان سرحد کے سے ملحق گیارہ ہزار پانچ سو پچاسی (11,585) مربع کلومیٹر کے علاقے پر مشتمل ہے جب کہ انتظامی طور پر شمالی وزیرستان ’’فاٹا‘‘ کا حصّہ ہے اورچار بڑی زرخیز وادیوں کا سنگم بھی کہلاتا ہے جن میں’’ کُرم‘‘ وادی شمال کی رنگینوں کی امین، ’’دَور‘‘ دریائے ٹوچی کے پانیوں سے سیراب ہونے والی زمین، ’’کھِیتو‘‘ وادی کی کمین اور’’ خِیسورا‘‘ وادی جنوب کی خوب صورتیوں سے جنم لینے والی نازنین ہے۔ چہار وادیاں مجموعی طور پر بلند و بالا خشک اور بنجر پہاڑوں پر مشتمل ہیں جن میں قابلِ ذکر در بستہ، الیگزنڈرا، لاربانہ، مزدک، شوال اور ذاخہ ہیں۔ وادیوں کوپہاڑی سلسلوں کی حد بندی سے ایک دوسرے سے جدا کیا جاسکتا ہے جب کہ اِنہی سلسلوں میں آسمان کی وسعتوں کو چھوتی ہوئی بلند ترین مقامی پہاڑی ’’شودار‘‘ کے نام سے مشہور ہے جس کی بلندی لگ بھگ گیارہ ہزار(11,000) فٹ تک جاتی ہے۔ بحیثیتِ مجموعی ایک پہاڑی سر زمین ہونے کے باوجود یہاں پر کھلے چٹیل میدانوں کا مختصر سلسلہ بھی ملتا ہے جن میں میران شاہ کا شمال میں قریب چالیس مربع میل کا وسیع علاقہ جسے ’’داندے‘‘ کہا جاتا ہے ، میر علی کے شمالاً جنوباً لگ بھگ تیس مربع میل پر پھیلا ہواعلاقہ جسے ’’شر تالا‘‘ کہا جاتا ہے جب کہ میران شاہ کے جنوب میں واقع قریب پچیس مربع میل کا وسیع میدان جسے ’’دتہ خیل‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، یہاں کے مشہور و معروف میدانوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ پاک فوج نے 15جون 2014سے دہشت گردوں کے خلاف حتمی آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ شروع کر رکھا ہے جس میں فضائی اور زمینی دونوں راستوں سے دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ آپریشن کے ابتدائی چند دنوں میں کامیاب پیش رفت نے جہاں پاک افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے وہاں قبائل کی حُب الوطنی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے جنہوں نے بڑے پیمانے پر اس آپریشن کی حمایت اور مکمل مدد اور تعاون کی پوری پوری کوشش کی ہے تاکہ دہشت گردوں کو الگ کیا جا سکے اور خطے کے امن و سکون کو واپس لایا جا سکے۔ موجودہ آپریشن کسی طور بھی قبائلیوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے بیچ چھپے ان دہشت گردوں کے خلاف ہے جو کسی بھی مذہب، قوم اور ملک پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ان کا یقین تخریب کاری اور دہشت گردی ہے جس کے لئے وہ بہت سے ان دیکھے عزائم رکھنے والے ہاتھوں میں کھلونابنتے چلے آ رہے ہیں۔ ان دہشت گردوں میں ایک بہت بڑی تعداد غیرملکیوں خصوصاً ازبک اور تاجک دہشت گردوں کی ہے جو زر خرید لڑاکوں کی طرح ہیں جنہیں کسی بھی وقت‘ کسی بھی ملک میں‘ کسی بھی کام کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اب تک ہونے والے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں اِن قبائلی علاقوں میں بسنے والی سبھی اقوام اور قبائل نے جب بھی ضرورت پڑی اپنی کوششوں کو اس ملک کی سلامتی اور ترقی کے لئے وقف کیا اور پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر عزمِ استقلال کا مظاہرہ بھی کیا۔ حالیہ چند برسوں میں اس خطے کو موجودہ دور کے بڑے مسئلے دہشت گردی سے سابقہ رہا ہے اور اسی سبب اس کی ترقی کی راہیں مسدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ غیرملکی عناصر نے اس صورت حال کو اپنے گھناؤنے عزائم کے لئے استعمال کرنے کی کوشش بھی کی اور کر بھی رہے ہیں خصوصاً موجودہ جاری آپریشن کو غلط انداز میں بیان کرنے کی کوشش تک کی گئی جسے خطے کے سبھی قبائل نے یکسر مسترد کرتے ہوئے ملکی یک جہتی کی کوششوں کو سراہا ہے جس سے ان کی روائتی حب الوطنی کے جذبات کی مکمل عکاسی ہوتی ہے۔ ’’عضب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی تیز، دھار دار، صاف، روشن، ٹھیک وقت پرہو سکتے ہیں جب کہ ہماری اسلامی تاریخ ’’عضب‘‘ کو نبی پاک حضرت محمد ﷺ کی ایک تلوار کے نام سے یاد فرماتی ہے۔ یہ تلوار آپ ﷺ کو ایک صحابیؓ کی طرف سے جنگِ بدر میں روانگی سے قبل پیش کی گئی تھی اور اس بات سے ہم سبھی واقف ہیں کہ جنگِ بدر رمضان المبارک میں فتح و نصرت کے باب لئے وقوع پذیر ہوئی جہاں فرشتے آسمان سے قطار اندر قطار نصرت کے لئے اترے تھے۔آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ بالعموم وزیرستان و ملحقہ اور بالخصوص شمالی وزیرستان کے علاقے کو دہشت گردوں سے صاف کرنے کے لئے کیا جارہا ہے جہاں غیور قبائلی باشندوں کی غیرت کی درخشندہ تاریخ ان کی روشن روایات کی غماز ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی ، اپنے پُرآشوب تاریخی رنگوں کے ساتھ ہمیشہ سے پہچانی جاتی رہی ہے جس میں قبائلی روایت کے ساتھ ساتھ جغرافیائی حالات بھی پیش پیش رہے ہیں۔ مغرب کی جانب افغانستان کے ساتھ سرحدی ملاپ کے علاوہ اِس کی حد بندی شمال کی جانب ہنگو،مشرق کی جانب بنوں اور لکی مروت جب کہ جنوب میں جنوبی وزیرستان کے ساتھ ملتی ہیں۔ شمالی وزیرستان ایجنسی میں اُتمان زئی‘ وزیر اور داوڑ جیسے بڑے قبائل کے ساتھ ساتھ سید گیز، خارسن اور گرباز جیسے اہم قبائل بھی آباد ہیں۔وزیر یہاں کی بڑی طاقت کہلاتے ہیں جب کہ دوسرے اہم ترین قبیلے میں داوڑ شامل ہے ۔ یہاں کے قبائل نے 1851 ء، 1871ء، 1874 ء، 1880 ء اور1902 ء کے دوران برطانوی سپاہ کی بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے انہیں ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ اگرچہ برطانوی راج نے وقفے وقفے سے یہاں موجود مٹی کے قلعوں پر دھاری دار پرچم لہرائے ہیں لیکن ایسا کرنا کبھی بھی ایک آسان عمل نہیں رہا ہے۔ حالیہ جون کے وسط میں جب سیاسی و عسکری قیادت کی باہمی مشاورت سے آپریشن کا آغاز کیا گیا تو اِ س کی تکمیل تک چار بنیادی مرحلوں کی تصدیق کی گئی جن میں پہلے مرحلے پر شمالی وزیرستان کے علاقوں سے مقامی ، غیر عسکری اور حکومت کی حامی آبادی کے انخلاء اور نقل مکانی کے ممکنہ راستوں اور مقامات کی نشاندہی شامل تھی۔ دوسرے مرحلے میں زمینی آپریشن اور علاقے کی ’’فزیکل سرچ‘‘ ، تیسرے مرحلے میں از سرِ نو بحالی جب کہ چوتھے اور آخری مرحلے میں مقامی آبادی کی واپسی اور نوآباد کاری شامل ہے۔پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز 15 جون سے ہو ا جس میں میر علی ، میران شاہ سے لاکھوں کی تعداد میں مقامی افراد نے نقل مکانی کرتے ہوئے بنوں، لکی مروت اور ٹانک کے علاقوں کی جانب سفر شروع کیا۔ اِس نقل مکانی کے دوران جہاں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب نکل جانے کی کوشش کی وہاں حکومتی اور خاص کر فوجی امداد نے آسانی مہیا کی‘ ایک طرف مقامی حکومتوں کے تعاون سے ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کی گئیں ، دوسری جانب پیدل اور بے آسرا چلنے والوں کے لئے پاک فوج کی جانب سے سید گئی کے مقام پر مفت گاڑیوں کی فراہمی کا بندوبست بھی کیا گیا تھا، جب کہ اسی کا ایک درد ناک پہلو یہ بھی رہا کہ وہ چھوٹی گاڑی جو عام حالات میں تین ہزار میں ان علاقوں میں جانا مکمل دیہاڑی کے مترادف گردانتی تھی وہی اِ س مشکل گھڑی میں دس سے پندرہ ہزار کرایہ پر میسر آرہی تھی جب کہ ٹرک ابتدائی چند دنوں میں 60 سے80 ہزار روپے میں جب کہ بعد ازاں 40 سے50 ہزار روپے فی پھیرا پر میسر آ رہے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق مذکورہ تاریخ سے پہلے قریب 59,670 افراد نقل مکانی کر کے بنوں اور گرد نواح میں منتقل ہو چکے تھے جب کہ مذکورہ تاریخ سے اب تک نقل مکانی کرنے اور سید گئی کے مقام پر رجسٹریشن کرنے والوں کی تعداد درج ذیل ہے:
نمبر شمار    رجسٹریشن کا زُمرہ / نوعیت    تعداد
1    15 جون سے پہلے نقل مکانی کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد    59,670
2    خاندان    37,757
3    مرد    1,22,215
4    خواتین    1,47,061
5    بچے    1,97,014
6    (کل (مرد و زن، بچے    4,66,290 (15جون سے نقل مکانی کرنے والے)
مجموعی تعداد        5,25,960 (نوٹ: رجسٹریشن کا عمل وقفے وقفے سے 2500 سے3000 افراد روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے جس کی وجہ سے مجموعی تعداد میں اضافہ ممکن ہے ) بنوں کے علاقے میں داخل ہونے والے متاثرین کے لئے سید گئی کے مقام پر پاک فوج کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کے تحت چیک پوسٹ بنائی گئی تھی جس پر حفاظتی عمل کے لئے 1200 سے 1500 تربیت یافتہ سپاہی تعینات کئے گئے تھے جب کہ رجسٹریشن کے عمل کو آسان، تیز اور قابل عمل بنانے کے لئے پاک فوج کے ساتھ، ایف سی، لیویز اور پولیس کے جوانوں کی بھی ایک معقول تعداد موجود تھی۔ میر علی، میران شاہ سے نقل مکانی کر کے آنے والے چھوٹی بڑی گاڑیوں، ٹرکوں اور ٹرالیوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور رجسٹریشن سید گئی کے مقام پر کی گئی ہے جہاں جامہ تلاشی سے لے کر گاڑیوں کی ’’اسنیپ چیکنگ‘‘ تک اورگاڑی کی رجسٹریشن سے لے کر خاندان کی رجسٹریشن تک کی کارروائی بطریق احسن پوری کی گئی ہے۔ سید گئی کے مقام پر بنائے گئے مختلف کاؤنٹرز پر پاک فوج کے ہمراہ سول حکومت جس میں NDMA ، FDMA ، سول ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، نادرا سٹاف کی معقول تعداد رجسٹریشن کے عمل کو بہتر بنانے میں مصروفِ عمل رہی جس کی تفصیل یوں ہے:
نمبر شمار    محکمہ    عملے کی تعداد
1    پاک فوج    575
2    ایف ڈی ایم اے    50
3    نادرا    25
4    ڈاکٹرز    6-10
5    پیرا میڈیکل سٹاف    25-30 (نوٹ: رجسٹریشن کے مرحلے میں 3-4 لیڈی ڈاکٹرز کی ٹیم بھی موجود رہی ہے۔ ) رجسٹریشن کے مرحلے میں سب سے پہلے گاڑی کا ڈرائیور جاکر گاڑی کے کاغذات دکھاتا اورگاڑی کی رجسٹریشن کراتا جب کہ اس دوران گاڑی پر سوار مرد حضرات نیچے اُتر کر اُس قطار میں لگ جاتے ہیں اور سکیننگ اورجامہ تلاشی سے گزر کر اگلے کاؤنٹر پر پہنچ جاتے جہاں پہلے تو قومی شناختی کارڈز کے ذریعہ پڑتال مکمل کی جاتی جب کہ فوراً بعد ہی قریب موجود ملیشیاء کپڑوں میں ملبوس نوجوان جس نے ہاتھ میں ’’End Polio Now‘‘کا نیلے رنگ کا بکسا اُٹھا رکھا ہوتا تھا، نقل مکانی کر کے آنے والوں کو پولیو کے قطرے پلاتا تھا۔ اِ س مرحلے پر ہر بچے بڑے حتیٰ کہ بوڑھے کو بھی پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے پڑے‘ تب جاکر اگلے مرحلے کی جانب روانگی کا اشارہ ملا۔پولیو کے خاتمے کے لئے کوشاں حکومت اور حکومتی عملہ جنہوں نے بڑی مستعدی سے اس عمل کو سر انجام دیا‘ اس کی تفصیل یوں ہے: پولیو ویکسینیشن کرنے والے عملے کی تعداد و تفصیلات
نمبر شمار    نوعیت    تعداد
1    (پولیو ویکسینیشن (دوائی    2,50,000
2    مرد سٹاف    9 ٹیمیں
3    خواتین سٹاف    6 x ٹیمیں
مجموعی تعداد        x 15 ٹیمیں ( نوٹ:15 جون سے پہلے نقل مکانی کرنے والے افراد کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے بعد ازاں خوراک و رقوم کی تقسیم کے دوران ممکن بنانے کی کوشش کی گئی ہے جہاں موبائل عملہ کے افراد فرداً فرداً معلومات کی بنیاد پر قطرے پلانے کا کام کرتے دکھائی دیتے ہیں) رجسٹریشن کے مرحلے کے دوران گھر بار چھوڑنے کا دکھ اور نقل مکانی کی تکالیف کا ہر ممکن ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بہر صورت آنے والے مہمانوں کے چہروں پر پریشانی عیاں تھی۔ پہلے روز جب رجسٹریش کا آغاز کیا گیا تو آنے والوں کی تعداد کا غلط تخمینہ سول انتظامیہ کی ناقص کارکر دگی کا شاخسانہ بن کر سامنے آیا۔ جہاں ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی کرنے والوں کے لئے محض 500 خوراک کے پیکٹ بہم پہنچائے جاسکے جب کہ باقی ماندہ افراد کو مقامی یونٹ کے لنگر سے پاک فوج کے جوانوں نے پانی، کھانا اور دیگر ممکنہ سہولیات فراہم کر کے مشکل کی اِس گھڑی میں لوگوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کا عملی ثبوت پیش کیا۔ اگلے روز سے اِس معاملے کے سلجھاؤ کی تدبیر کر لی گئی اور بعد ازاں خشک خوراک کی تقسیم کے ساتھ ساتھ پکا پکایا کھانا بھی آنے والوں کے لئے موجود تھا جب کہ ٹھنڈے پانی کے ٹینکرز بھی مسلسل پانی کی فراہمی میں مصروف رہے۔ دوسری جانب پیدل اور بے یار و مددگار افراد و خاندانوں کے لئے گاڑیوں کا مناسب انتظام بھی کر دیا گیا تھا جس کی تفصیلات اعداد و شمار کے مطابق یوں ہیں: ( نوٹ:خوراک کے یہ پیکٹ بنیادی توانائی کی ضرورتوں کو بحال کرنے کے لئے بنائے گئے تھے جب کہ کھانا الگ سے تقسیم کیا جا تا رہا ہے۔ ) سید گئی رجسٹریشن پوائنٹ پر لگ بھگ بیس رجسٹریشن کاؤنٹرز کا اہتمام کیا گیا تھا جوشمالی وزیرستان کے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کر کے آنے والے مہمانوں کی یومیہ تعداد کے حساب سے گھٹتے بڑھتے رہے جن پر ہر وقت پاک فوج ، ایف ڈی ایم اے اور فرنٹیئر ریجن کے سکولوں کے اساتذہ پر مشتمل عملہ تحمل مزاجی اور بردباری کے ساتھ فرائض کی انجام دہی میں مصروفِ عمل رہا جب کہ اِ س ہنگامی صورتِ حال میں اے پی اے فرنٹیئر ریجن بنوں کو رجسٹریشن پوائنٹ تمام عمل کو مربوط کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔موسم کی شدت کے پیش نظر یہیں رجسٹریشن پوائنٹ پر نقل مکانی کر کے آنے والے مہمانوں کے لئے سایہ دار چھپر یا حجرے بھی بنا ئے گئے تھے جن کے نیچے ایک ہی وقت میں 100-150 افراد باآسانی سماسکتے تھے۔ رجسٹریشن پوائنٹ سید گئی پر پاک فوج اور سول انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی دیگر اہم سہولیات میں درج ذیل شامل ہے: ( نوٹ:رجسٹریشن پوائنٹ پر مہیا کی جانے والی یہ بنیادی سہولیات نقل مکانی کر کے آنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے کم و زیادہ کی جاتی رہی ہیں۔) شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے متاثرین کی مجموعی تعداد کے 81 فیصد متاثرین نے کی بنوں کے گرد و نواح میں بسنے والے رشتہ داروں، کرایہ کے مکانوں، عارضی طور پر زمین لے کر خود کار خیمہ بستیوں کا قیام عمل میں لا کر رہائش اختیار کی ہے جب کہ بہت مختصر تعداد میں متاثرہ خاندانوں نے حکومت کی جانب سے لگائے گئے کیمپ میں جانے کو ترجیح دی ہے۔ باقی ماندہ افراد کا 12 فیصد لکی مروت اور ڈی آئی خان جبکہ 7 فیصد کے قریب نے دیگر مقامات پر منتقل ہونے اور سکونت اختیار کرنے کو ترجیح دی ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کے لئے لگایا جانے والا کیمپ ’’بکا خیل‘‘ میں قائم کیا گیا ہے جس میں موجودہ صورت حال حوصلہ افزاء نہیں لیکن انتطامیہ پر امید ہے کہ آنے والے دنوں میں متاثرین کی بڑی تعداد کیمپ کا رخ کرے گی۔ اِس وقت کیمپ میں 32 خاندانوں کے لگ بھگ 257 افراد رہائش پذیر ہیں جن کی سہولت کے لئے کئی اہم اقدامات کئے گئے ہیں۔ اِن اقدامات کی تفصیل درج ذیل ہیں: ( نوٹ:کیمپ میں آنے والے خاندانوں کو کم سے کم دو ٹینٹ یا ضرورت کے مطابق مہیا کئے جا رہے ہیں) بکا خیل کیمپ کے گرد پاک فوج کے جوانوں نے مستقل بنیادوں پرتقریباً 10 کلومیٹرز کا احاطہ گھیرے میں لے کر حفاظتی حصار بنا کر سیکورٹی انتظامات میں بہتری کر دی ہے جب کہ راتوں رات بجلی کے کھمبوں سمیت بلا تعطل بجلی کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا چکی ہے۔ کیمپ میں رہائش پذیر افراد کو تینوں وقت کا پکا پکایا کھانا مہیا کیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری گھریلو سامان جس میں لوٹا ، بالٹی، کولر، پنکھا، چٹائی، برتن اور راشن بھی دیا جا رہا ہے تاکہ اگر کہیں کوئی خاندان اپنے ہاتھوں اپنے لئے کھانا بنانا چاہے تو اسے تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بکا خیل کیمپ کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے زیر انتظام مختلف مقامات پر ’’ڈلیوری پوائنٹس‘‘ (ڈی پی) بھی بنائے گئے ہیں جن کا مقصد ان مقامات تک راشن اور دیگر مراعات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے جہاں پر خود ساختہ کیمپ ایریا بنائے جا چکے ہیں۔ اِن مقامات پر دی جانے والی سہولیات و مراعات کی تفصیل یوں ہے: ( نوٹ:’’ڈی پی‘‘ پر پاک فوج کی جانب سے ’’ون ونڈو‘‘ آپریشن شروع کیا جا چکا ہے جہاں میڈیکل، راشن اور حکومتی گارنٹ ایک ہی مقام پر مہیا کئے جارہے ہیں۔) ابتدائی دنوں میں جب نقل مکانی کر کے آنے والے لوگوں نے بنوں کے گر ونواح میں ڈیرے ڈالنے شروع کئے تو یہی لگا جیسے حکومتی مشینری حرکت میں آنے سے پچھڑ گئی ہے لیکن صورت حال اس وقت بہتر ی کی جانب بڑھنے لگی جب پاک فوج نے ہنگامی بنیادوں پر اپنا ایک مکمل ڈویژن بنوں پہنچا دیا جس کا مقصد صرف اور صرف اِ ن نقل مکانی کرنے والے افراد کو سہولیات کی فراہمی اور اُن کے رہنے سہنے، کھانے پینے کا مناسب بندوبست کرنا اور حکومتی ذرائع کو حرکت میں لانا تھا۔ ایسے میں راتوں رات پاک فوج کی جانب سے ’’وَن ونڈو آپریشن‘‘ کا آغاز کیا گیا جس کے تحت پہلے پہل کیمپ کے علاوہ تین مقامات پر ’’ڈی پی‘‘ لگائے گئے جنہیں تین بنیادی سہولیات کا مرکز بنایا گیا جن میں رجسٹریشن کر کے آنے والے متاثرین کے لئے ایک ہی مقام پر میڈیکل کی بنیادی سہولت جس میں ایک لیڈی ڈاکٹر، دو میل ڈاکٹرز اور ضروری پیرا میڈیکل سٹاف کی فراہمی، پاک فوج، یو اے ای اور ورلڈ فورڈ پروگرام کے تحت ملنے والے راشن کی تقسیم، جب کہ تیسرے نمبر پر مرکزی و صوبائی حکو متوں کی جانب سے ملنے والی نقد رقم کی تقسیم کا نظام قائم کیا گیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق نقل مکانی کر کے آنے والے متاثرین کی مجموعی تعداد جس کا انحصار مختلف مقامات پرمختلف رہا، کی تفصیلات درج ذیل ہیں: مختلف مقامات پر انحصار کرنے والے خاندانوں کا تخمینہ ( نوٹ: اِن ’’ڈی پی‘‘ اور کیمپ کے علاوہ بعض مقامات پرعارضی ’’موبائل ڈسٹری بیوشن پوائنٹس ‘‘ بھی بنائے گئے تھے تاکہ متاثرین کو بروقت امداد مل سکے) پاکستان آرمی، ورلڈ فورڈ پروگرام اور یو اے ای کی جانب سے ملنے والے راشن کے پیکٹس کی تقسیم لگ بھگ 32,961 خاندانوں کی جا چکی ہے جب کہ تخمینہ کے مطابق تقریباً 4,000 خاندان باقی ہیں جن میں مکمل سہولیات و مراعات کی تقسیم کا عمل اگلے چند روز میں مکمل ہو جائے گا۔ ایک بات قابلِ ستائش بھی ہے اور قابلِ فخر بھی کہ اس راشن میں پاک فوج کے ذاتی راشن کے حصہ کے علاوہ پشاور کور ، ملتان کور، ایکس سروس مین ایسوسی ایشن کا بھی بڑا حصہ شامل ہے جب کہ اب تک تقسیم کئے جانے والے راشن میں لگ بھگ 85 فیصد راشن پاک فوج کی جانب سے جب کہ باقی ماندہ راشن دیگر امداد فراہم کرنے والوں کی جانب سے دیا گیا ہے۔ پاک فوج نے پہلے پہل راشن کی تقسیم کا مرحلہ مکمل ہو جانے کے بعد 4 جولائی سے متاثرین کے لئے خصوصی ’’عید پیکج‘‘ کا بھی اعلان کر دیا تھا: راشن کی تقسیم کسی بھی خاندان میں رجسٹرڈ افراد کی تعداد کے حساب سے کم و بیش بھی کی جاتی ہے جس کا مقصد متاثرین کو سہولت فراہم کرنا ہی ہو سکتا ہے۔ اس راشن کی تقسیم کے ساتھ ساتھ ’’نان فوڈ آئٹم‘‘ یا گھریلو سامان کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے ، جس میں ہر خاندان کو بنیادی اشیاء ضروریہ کی فراہمی کی جا رہی ہے تاکہ متاثرین کو گھر چلانے میں پیش آنے والی دیگر مشکلات کو بھی کم کیا جاسکے۔ ان ’’نان فوڈ آئٹم‘‘ یا گھریلو سامان کی تفصیلات یوں ہیں: (نوٹ:خلیفہ گل نواز ہسپتال میں مکمل ہسپتا کی سہولت کے ساتھ ساتھ 7 موبائل ٹیمیں بھی پورے علاقے میں موجود ہیں) شمالی وزیرستان سے آنے والے متاثرہ خاندانوں نے جہاں اپنے ہمراہ ممکنہ گھریلو سامان لانے کی کوشش کی وہاں چھوٹے ، بڑے جانوروں اور مرغیوں کی بھی ایک کثیر تعدد ٹرکوں اور ٹرالیوں پر لدی ہوئی یہاں تک آئی۔ موسمی اثرات اور میلوں کے سفر نے جانوروں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کئے جن کے ازالے کے لئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق شمالی وزیرستان سے تقریباً 40سے45 ہزار بڑے جانور(گائے، گھوڑے اور گدھے)، لگ بھگ 50سے60, ہزار چھوٹے جانور(بھیڑ اور بکریاں) اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ مرغیاں ٹرکوں اور ٹرالیوں پر لائی گئی ہیں۔ یہ جانور ان لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے بنوں اور گرد و نواح میں سکونٹ اختیار کی ہے جن کے لئے مقامی جانوروں کے ہسپتال اور عملہ کے علاوہ پاکستان فوج کی جانب سے مفت چارہ کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔ دیگر اہم تفصیلات ذیل میں ہیں: حکومتی اداروں کی جانب سے شمالی وزیرستان کے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں میں راشن کی تقسیم کے علاوہ نقد رقم کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے جس میں ابتدائی طور پر تو کیش کاؤنٹرز سے نادرا ویری فیکیشن کے بعد رقوم متاثرین تک منتقل کی جاتی رہیں لیکن بعد ازاں تمام متاثرین میں ایک ایک ’’زونگ‘‘ نیٹ ورک کی سم جاری کر دی گئی ہے جس پر باقاعدگی کے ساتھ رقوم متاثرین تک پہنچ جایا کریں گی۔ جب کہ اب تک 28,167خاندانوں میں لگ بھگ 33 کروڑ 80لاکھ روپے کی تقسیم کا عمل بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ اب پنجاب حکومت کی جانب سے بھیجے گئے 4,000 خاندانوں کے لئے راشن اور20 ٹرک کا گھریلو سامان کی تقسیم بھی مکمل کی جاچکی ہے جب کہ پاکستان ایکس سروس مین ایسوسی ایشن کی جانب سے بھیجے گئے 696 خاندانوں کا راشن، 704 آٹے کے تھیلے اور 240 بکسے ادویات سے بھرے ہوئے بھی متاثرین مین تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ موجُودہ حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ، آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم خدمت و قربانی کی اپی اعلیٰ روایات برقرار رکھیں۔ ایسے آڑے وقت میں جب بھائی کو بھائی کی مدد درکار ہے، ہمیں ایک قوم بن کر میدانِ عمل میں اترنا ہے۔ ہمیں اپنے حصے کی روٹی ، اپنے حصے کی خوشیاں ، اپنے حصے کی چھت کو ان مصیبت زدہ بھائیو ں میں تقسیم کرنا ہے اور ان بچوں کے سکولوں کو آبا د کر نا ہے۔ قومی یک جہتی ہماری پہچان ہے اور ہم ان اقوامِ عالم میں شامل ہیں جو اپنی روشن روایات کی حقیقی علمبردار اور پاسدار ہیں۔ بحیثیت قوم سرحدوں کی حفاظت ہو یا قدرتی آفات، ہم ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی جرأت رکھتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں ہر آزمائش پر پورا اترنے کی صلاحیت اور توفیق عطا کرے۔ (نوٹ: اس رپورٹ میں دیئے گئے اعدادو شمار 7 جولائی 2014 تک کے ہیں۔ ہلال کے آئندہ شمارے میں تازہ اعداد و شمار سے قارئین کو آگاہ کیا جائے گا۔)

یہ تحریر 38مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP