قومی و بین الاقوامی ایشوز

شمالی وزیرستان میں ملٹری آپریشن

شمالی وزیرستان میں گزشتہ ماہ کے وسط سے جاری ملٹری آپریشن اب دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔پہلے مرحلے میں پاک فوج نے ٹینکوں،بھاری توپ خانے،جنگی ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں کی مدد سے دہشت گردوں کے اڈوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا۔اس کارروائی میں نہ صرف سیکڑوں مقامی اور غیرملکی دہشت گرد ہلاک کئے گئے بلکہ اْن کے ٹھکانوں کو بھی نیست و نابود کر دیا گیا جہاں اْنہوں نے دہشت گردوں اور خود کْش حملہ آوروں کے لئے تربیتی کیمپ اور اسلحہ خانے قائم کر رکھے تھے۔دوسرے مرحلے میں جس کا آغاز 30جون کو ہوا،پاک فوج نے زمینی کارروائی کر کے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کرنا شروع کر دیا ہے۔ان کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 500 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد غیر ملکی دہشت گردوں کی ہے۔بہت سے دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور باقی فرار ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دس برسوں میں پاکستان کے شمال مغرب میں واقع قبائلی علاقوں میں فوج نے دہشت گردوں کے خلاف متعدد آپریشن کئے ہیں لیکن موجودہ آپریشن ماضی کے تمام آپریشنز سے اس لئے مختلف ہے کیونکہ (1)حکومت نے آپریشن سے پہلے دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دی تاکہ امن کو ایک موقعہ دیا جاسکے لیکن دہشت گردوں نے اسے حکومت کی کمزوری سمجھا اور اپنی مذموم دہشت گردی کی کارروائیوں کو جاری رکھا۔ان کارروائیوں میں8جون کو کراچی ایرپورٹ پر دہشت گردوں کا حملہ بھی شامل ہے جن میں حصہ لینے والے دس حملہ آور سب کے سب غیر ملکی تھے۔ (2)یہ آپریشن حکومت کی واضح ہدایات کے تحت شروع کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سول اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔دہشت گردی کے خلاف موثر اور فیصلہ کْن کارروائی کے لئے اس قسم کی ہم آہنگی کی بے حد ضرورت ہے تاکہ دہشت گردوں کو یہ پیغام واضح طور پر ملے کہ مملکتِ پاکستان کے تمام ادارے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے متحد ہیں۔ (3)آپریشن شروع ہونے کے بعد ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں اور عوام کے تمام طبقوں کی طرف سے جس طرح فوج کے ساتھ اظہارِ یک جہتی اور آپریشن کی حمایت کی گئی ہے،اْس سے اس حقیقت کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ آپریشن کا فیصلہ نہ صرف صحیح بلکہ بروقت تھا کیونکہ دہشت گردوں کی کارروائیوں میں دن بدن اضافہ ہورہا تھا اور ملک کا کوئی بھی حصہ ان کارروائیوں سے محفوظ نہیں تھا۔عوام میں عدمِ تحفظ کا احساس اس قدر بڑھ چکا تھا کہ لوگوں نے آپریشن کے آغاز پر اطمینان کا سانس لیا۔ (4)جیسا کہ آپریشن کے آغاز پر اعلان کیا گیا ہے ،یہ کارروائی ایک جامع اقدام ہے اور اس کا مقصد صرف قبائلی علاقوں سے نہیں،بلکہ ملک بھر سے دہشت گردی کو جڑ سے اْکھاڑ پھینکنا ہے۔آپریشن شروع کرنے کے بعد وزیراعظم جناب محمد نوازشریف نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ یہ آپریشن اْس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ اس کا حتمی مقصد(Ultimate Objective) حاصل نہیں ہوجاتا۔اْنہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں کسی بھی دہشت گرد کو اپنی پناہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اسی طرح16جون کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران واضح کیا کہ آپریشن کا بنیادی مقصد شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں اور اْن کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ہے۔اس کے علاوہ ملک کو دہشت گردی کے خطرے سے مکمل طور پر نجات دلانا بھی اس آپریشن کا مقصد ہے۔وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے بھی ایک بیان میں اسی عزم کا اظہار کیا ہے کہ جب تک ملک سے دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوجاتا یہ آپریشن جاری رہے گا۔ (5)اسی آپریشن کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں بلا امتیاز دہشت گردوں کے تمام گروپوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔خواہ ان میں مقامی دہشت گرد ہوں یا غیر ملکی۔اس سے \"دوست طالبان\"اور\"دْشمن طالبان\"کے مفروضے کی بھی نفی ہوتی ہے۔اسی طرح حقانی نیٹ ورک جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ اْن کے جنگجوؤں نے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج پر حملوں کے لئے پاکستان کی سرزمین پر محفوظ ٹھکانے بنا رکھے تھے،سے نمٹنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ان اطلاعات کی روشنی میں کہ دہشت گرد قبائلی علاقوں سے بھاگ کر ملک کے متعدد شہروں میں پناہ لے رہے ہیں،حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف شہروں میں بھی آپریشن شروع کیا جائے گا۔تقریباََ تین ہفتوں سے جاری اس آپریشن میں پاکستانی فوج کے جوانوں اور افسروں نے جس بہادری،مہارت اور پختہ عزم کا مظاہرہ کیا ہے،اْس سے اس آپریشن کی کامیابی میں کوئی شک نہیں۔لیکن اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی نقل مکانی اور دہشت گردوں کی طرف سے جوابی کارروائی کے امکانات ایسے مسائل ہیں جن پر ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو بھر پور توجہ دینی چاہیے۔ اس سلسلے میں حکومت کی کاوشوں کے ساتھ ساتھ عوام کا تعاون اور خصوصاََ افواجِ پاکستان کے لئے اْن کی حمایت اور حوصلہ افزائی کلیدی اہمیت کے حامل اقدامات ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق آپریشن کی وجہ سے بے گھر ہونے والے رجسٹرڈ افراد کی تعداد ساڑھے نو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔اگر اْن افراد کو شامل کیا جائے جن کو اب تک رجسٹرڈ نہیں جاسکا تو ایسے افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔اگر ان اعدادوشمار کو درست تسلیم کر لیا جائے تو1947میں ہندوستان سے آنے والے مہاجرین اور 1979-80میں افغانستان پر روسی حملے کے نتیجے میں افغان مہاجرین کی آمد کے بعد پاکستان میں یہ تیسری بڑی اندرونی نقل مکانی (Internal Migration)ہے۔اتنی بڑی تعداد میں افراد کی دیکھ بھال جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے، ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس کا کامیابی سے سامنا کرنے کے لئے حکومت اور عوام دونوں کا تعاون درکار ہے۔حکومت اپنے تمام وسائل کو کام میں لاکر اپنے اس فریضے کو سرانجام دے رہی ہے۔عوام اور سیاسی پارٹیاں بھی اپنے ان ہم وطنوں کی مدد کے لئے میدان میں اْتر آئی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ افواج پاکستان بھی اپنے راشن میں سے حصہ نکا ل کر ان مصیبت زدہ افراد کی مدد کر رہی ہے۔ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مقامی مسئلہ نہیں۔نہ یہ محض پاکستان کا مسئلہ ہے بلکہ اس کی نوعیت علاقائی کے علاوہ عالمی بھی ہے۔دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت صرف اپنی بقاء کے لئے نہیں بلکہ دنیا بھر کی سلامتی کے لئے جنگ لڑ رہا ہے ۔اس لئے عالمی برادری خصوصاََ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کا فرض ہے کہ ایسے موقعے پر پاکستان کی اعانت کریں۔ اپنی طرف سے پاکستان نے افغانستان کا تعاون حاصل کرنے کے لئے کابل حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان سے ملنے والی سرحد کو سیل کردیں تاکہ آپریشن کے نتیجے میں فرار ہونے والے دہشت گرد افغانستان میں پناہ نہ لے سکیں۔اسی طرح پاکستان نے افغانستان حکومت سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ پاکستان کی سرحد سے ملحقہ افغان صوبوں کنٹر‘ نورستان اور پکتیا میں پناہ لینے والے پاکستانی طالبان کو پاکستان پر حملہ آور ہونے سے روکیں اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مفرور سربراہ ملا فضل اللہ کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ شمالی وزیرستان آپریشن کی وجہ سے پاک۔افغان سرحد پر سخت کنڑول کی اہمیت واضح ہے۔یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں افغانستان کے ایک فوجی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کی عسکری قیادت سے ملاقات کی۔اس دورے کے اختتام پر دونوں ملکوں نے قبائلی علاقوں سے ملنے والی سرحد پر سخت حفاظتی اقدامات پر اتفاق کا اعلان کیا ہے۔ افغانستان کے علاوہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ بھی تعلقات کو پْر امن اور خوشگوار رکھنے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ وزیراعظم نریندرامودی کی حلفِ برداری کی تقریب میں وزیراعظم محمد نوازشریف کی شرکت اور پاکستان کی طرف سے دوطرفہ مذاکرات کو بحال کرنے کی تجویز ان اقدامات میں شامل ہے۔کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ بیرونی سرحدوں پر امن کے بغیر اندرونی محاذ پر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان،یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات و سیاسیات کے چیئرمین ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 63مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP