متفرقات

شمالی وزیرستان ، تعلیم اور پاک فوج

شمالی وزیرستان فاٹا کی انتہائی اہم ایجنسی ہے۔ یہ علاقہ وزیراور داوڑ قبائل کا مسکن ہے۔ افغانستان کے صوبے خوست کے ساتھ ملحقہ اس ایجنسی کی برطانوی راج سے لے کر آج تک خاصی اہمیت رہی ہے۔

افغانستان سے ملحقہ علاقہ ہونے کی وجہ سے شمالی وزیرستان افغانستان میں دہائیوں سے جاری خانہ جنگی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ دہشت گردوں کی خاصی بڑی تعداد افغانستان سے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں منتقل ہوتی چلی گئی اور یوں سال 2014 تک ایجنسی دہشت گردوں کا محفوظ گڑھ بن چکی تھی۔ پاک فوج نے ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کا مصمم ارادہ کیا۔ جون 2014 میں ایک بھرپور کارروائی کی جسے آپریشن ضربِ عضب کا نام دیاگیا ۔ پاک فوج کی انتھک اور بے پناہ قربانیوں کی بدولت آج شمالی وزیرستان امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔ عارضی طور پر منتقل ہونے والی مقامی آبادی اپنے گھروں کو واپس جاچکی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی اور مقامی آبادی کی واپسی کے بعد شمالی وزیرستان میں خصوصاً اور ملک میں عمومی طور پر دیرپاامن کے قیام کے لئے کئی منصوبوں پر کام شروع کیا گیا۔ ان منصوبوں میں تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور پاک فوج، مقامی انتظامیہ اور فاٹا سیکریٹریٹ کے تعاون سے، اس علاقے میں بہتری لانے میں مصروفِ عمل ہے۔
شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی جاری کاوشوں کا تذکرہ کرنے سے قبل قارئین کی آگاہی کے لئے کچھ اعداد و شمار کا بتانا ضروری ہے۔1998 کی مردم شماری کے مطابق شمالی وزیرستان کی کل آبادی 361,246 تھی اور ایک اندازے کے مطابق طلباء و طالبات کی تعداد86233 تھی جن میں لگ بھگ50000 طلباء اور باقی تعداد طالبات کی تھی۔ ایک سروے کے مطابق ایجنسی میں کم و بیش 896 تعلیمی ادارے ہیں جن میں سے604 پرائمری سکول ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اتنی زیادہ تعداد میں تعلیمی ادارے ہونے کے باوجود شرح خواندگی 25 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزیدبرآں خواتین کی شرح خواندگی5 فیصد سے بھی کم ہے جسے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ ماضی میں سرزد کوتاہیوں کو مدِ نظر رکھ کر پاک فوج نے عملی طور پر تعلیم کو ہر بچے تک پہنچانے کا بِیڑہ اٹھایا اور دن رات اپنے مشن کی تکمیل میں مصروفِ عمل ہے۔
سال 2016 کے دوران بے شمار ایسے اقدامات اٹھائے گئے جن سے نہ صرف مقامی بچوں اور نوجوانوں میں حصولِ علم کا شوق پیدا ہوا بلکہ معاشرے میں بہتر سے بہتر تعلیم حاصل کرنے کا رُجحان بھی پیداہونے لگا ہے۔اب صبح کے وقت ایجنسی کے گلی محلوں میں بچوں کی کثیر تعداد سکولوں کی طرف جاتی نظر آتی ہے۔ وہ سڑکیں اور گلیاں جہاں دہشت کا راج ہوتا تھا آج وہاں بچے کتابیں اٹھائے نظر آتے ہیں۔ یہ درحقیقت تبدیلی کی وہ کرن ہے جس کی روشنی سے آنے والے چند سالوں میں شمالی وزیرستان کا چپہ چپہ روشن ہوگا۔ پاک فوج بلاشبہ اپنی اس کاوش پر تعریف کی مستحق ہے۔
پاک فوج کی حالیہ کوششوں سے تعلیمی سرگرمیوں میں لوگوں کی دلچسپی میں روز بروز اضافہ نظر آرہا ہے۔ کئی سالوں سے بند تعلیمی ادارے دوبارہ کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ طلباء کے لئے قائم ڈگری کالج میر علی اور میران شاہ میں بھی تعلیمی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک فوج کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ، فاٹا سیکریٹریٹ اور عوام الناس آگے بڑھ کر تعلیم کے فروغ کے لئے پاک فوج کا ساتھ دیں۔ پاک فوج نے امن کی بحالی کے ساتھ ساتھ شمالی وزیرستان میں تعلیم کے فروغ کے لئے جو کام کئے ہیں ان میں چیدہ چیدہ درج ذیل ہیں:۔


پاک فوج کی جانب سے معیاری سکولوں کی تعمیر فرنیچر اور دیگر سہولیات کی فراہمی۔ *
پہلے سے موجود سکولوں کی حالت کو بہتر کرنے کے لئے ضروری اقدامات۔ *
بچوں میں مفت کتابیں اور سٹیشنری کی تقسیم۔ *
بچیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائئ*
سکولوں کے مابین کھیلوں کے مقابلے اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کا انعقاد۔ *
تعلیمی سروے کا اجراء تاکہ پتا لگایا جاسکے کہ کتنے بچے سکول نہیں جاتے اور انہیں سکولوں میں داخل کروانے کے عملی اقدامات۔ *
تعلیم کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ایک بھرپورمہم کا آغاز۔ *
پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی اور انہیں تحفظ کی فراہمی تاکہ وہ تعلیمی معیار اور شرح خواندگی میں بہتری لانے کے لئے حکومت کا ہاتھ بٹا سکیں۔ 
پاک فوج کی اولین ترجیح چونکہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ اور پھر امن کا اجرا ہیں‘ اور اس نے تعلیم کی بحالی کے لئے جو اقدامات اٹھائے ‘ وہ اضافی ہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ تمام ذمہ داران جیسے صوبائی حکومت‘ فاٹا سیکریٹریٹ ‘ پولیٹیکل ایجنٹ‘ اساتذہ‘ طلباء اور عوام سب کی سطح پر اپنا اپنا رول ادا کیا جائے۔ ذیل میں چند تجاویز دی جارہی ہیں جن پر عمل درآمد سے یقینی طور پر شمالی وزیرستان میں تعلیم کے فروغ میں مدد ملے گی۔
تمام اساتذہ صاحبان کا فوری طور پر اپنی ڈیوٹی پر واپس آکر باقاعدگی سے تعلیمی مہم میں اپنا حصہ ڈالنا۔ اس ضمن میں محکمہ تعلیم اور مقامی آبادی کو بھی اپنا کردارادا کرنا چاہئے تاکہ بند تعلیمی ادارے جلد از جلد اپنا کام شروع کرسکیں۔
لیڈی ٹیچر ز کو تحفظ، قیام اور ٹرانسپورٹ مہیا کرنا۔ *
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور مانیٹرنگ کے عملے کایکسوئی کے ساتھ اپنا فرض نبھانا تاکہ اساتذہ کی باقاعدگی سے حاضری کو یقینی بنایا جاسکے۔ *
اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے علاقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی بھرتی۔ *
خواتین کی تعلیم کی بہتری کے لئے ایجنسی میں کم از کم دوڈگری کالجز کی تعمیر۔*
ایجنسی کے طلباء کے بہتر مشاہدات اورنئی چیزیں سیکھنے کے لئے پاکستان کے دیگر شہروں کے مطالعاتی دورے ۔ *
ضرب عضب کے اس سفر میں پاک فوج کی انتھک کوششوں اور بے پناہ قربانیوں کی بدولت شمالی وزیرستان آج ایک پُرامن علاقہ بن چکا ہے۔وہاں کے ہر گاؤں اور بستی میں طالب علم تعلیم حاصل کرتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب اس علاقے کے ذہین طلباء پاکستان کے دیگر شہروں کے بچوں اور نوجوانوں کی طرح اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہوں گے۔

یہ تحریر 93مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP