متفرقات

شاہلائلہ بلوچ ...موت سے ہار گئی

اُس نے جس کھیل کا انتخاب کیا تھا اس کا مستقبل پاکستان میں نہیں تھا۔وہ جس علاقے سے تعلق رکھتی تھی وہاں لڑکیوں کا میدان میں جا کر کھیلنا تو کجا اُن کے لئے گھر سے باہر نکلنا بھی آسان نہ تھا۔وہ لڑکی تھی، صنف نازک تھی مگر اس نے ایسے کھیل کا انتخاب کیا تھا جسے ’’طاقت‘‘ کا کھیل کہا جاتا ہے جو مردوں کے لئے بھی اتنا آسان نہیں مگر لڑکی ہونے کے باوجود پورے جوش و خروش کے ساتھ اس میں حصہ لیا اور ’’مردانہ وار‘‘ اپنی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کا مقابلہ بھی کیا۔وہ پاکستان میں بہت سی لڑکیوں کے لئے مشعل راہ تھی جسے کھیلتا ہوا دیکھ کر بہت سے والدین نے اپنی بیٹیوں کو کھیلوں کے میدان میں اترنے کا موقع دیا۔ایک گیند اور گول پوسٹ پر نشانہ ...یہ اُس کی زندگی کا مقصد تھا کیونکہ اس کا انداز جارحانہ تھا اور وہ دفاع پر کاربندنہیں ہوسکتی تھی ۔وہ ہر لمحہ فٹ بال کو گول پوسٹ میں پھینکنا چاہتی تھی مگر موت اُس کا نشانہ لے چکی تھی۔موت کے فرشتے کو پنالٹی کک ملی اور اس نے شاہلائلہ بلوچ کی زندگی کو گول پوسٹ میں ڈال دیاجو 16اکتوبر کو محض 20سال کی عمر میں کراچی کے رہائشی علاقے میں کار کے حادثے میں اپنی جان کی بازی ہار گئی۔


شاہلائلہ بلوچ کا تعلق کھیلوں سے محبت کرنے والی فیملی سے تھا جس کی والدہ روبینہ عرفان نہ صرف سینیٹر ہیں بلکہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کی ویمن ونگ کی چیئرپرسن بھی ہیں جبکہ شاہلائلہ کی ایک بہن سہیلہ زرین انٹرنیشنل کھلاڑی اور دوسری بہن راحیلہ زرمین قومی ٹیم کی مینجر ہیں۔کوئٹہ میں پیدا ہونے والی شاہلائلہ نے محض سات برس کی عمر میں فیفا کی کم ترین کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کیا جبکہ پاکستان کی قومی چمپئن ٹیم بلوچستان یونائیٹڈ کی نمائندگی کرنے والی شاہلائلہ نے 2009، 2011 اور 2013 میں پاکستان کی بہترین ویمن فٹبالر کا اعزاز اپنے نام کیا۔ میراڈوناجیسے کھلاڑی کو اپنا آئیڈیل بناکر فٹبال کھیلنا شروع کرنے والی شاہلائلہ کا پسندیدہ کھلاڑی لائل میسی تھا۔شاہلائلہ کو اگر حقیقی پیشہ ورانہ کھلاڑی کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کیونکہ پاکستان میں ویمنز فٹبال کا مستقبل تاریک دیکھنے کے باوجود شاہلائلہ پرعزم تھی کہ پاکستان کو اس میدان میں بہتر مقام دلوائے گی کیونکہ اس کا مقصد فٹبال کھیل کر اپنا شوق پورا کرنا نہیں تھا بلکہ اس کا خواب عالمی سطح پر پاکستان کا نام بلند کرنا تھا اور اگر زندگی یہ موقع دیتی تو شاہلائلہ اپنا یہ خواب بھی پورا کرسکتی تھی کیونکہ یہ کھیل اس کا جنون تھا،اس کی محبت تھی مگر موت نے زندگی کے میدان میں اسے ’’آف سائیڈ‘‘قرار دے دیا۔

 

اسٹرائیکر شاہلائلہ بلوچ کا تعلق فٹبال سے وابستہ خاندان سے تھااور اکثر اوقات یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایسے پس منظر سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کی صلاحیت دب کر رہ جاتی ہے کیونکہ ان کھلاڑیوں کی قومی ٹیم تک آمد کو ہمیشہ خاندانی پس منظر کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اور ان کی اچھی کارکردگی کو اتنا سراہا نہیں جاتا جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ شاہلائلہ نے بھی انہی مسائل کے ساتھ پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا اور اس لئے ان پر یہ الزام بھی عائد کیاجاتا تھا کہ وہ اپنی والدہ (فٹبال فیڈریشن کی سربراہ)اور بہن(ٹیم مینجر)کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کا حصہ ہیں لیکن شاہلائلہ نے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا کہ والدہ اور بہن کے اہم عہدوں پر فائز ہونے کی وجہ سے انہیں متعدد مرتبہ تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے لیکن اس کے باوجود اس بات کا اثر ان کے کھیل پر نہیں پڑتا بلکہ جب وہ میدان میں اترتی ہیں تو ان کا مقصد محض اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر شاہلائلہ کے مختصر سے کیرئیر کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بارہا ثابت ہوئی کہ شاہلائلہ کی موجودگی پاکستانی فٹبال ٹیم کے لئے نہایت سودمند ثابت ہوئی ہے۔ 2014ء کی ساف
(South Asian Football Federation)
ویمنز چمپئن شپ میں بھوٹان کے خلاف مقابلہ شاہلائلہ کا پاکستان کے لئے آخری مقابلہ تھا جس میں 4-1کی فتح میں ایک گول کرکے شاہلائلہ نے اپنا حصہ بھی ڈالا۔اس کے علاوہ پاکستان کی طرف سے بیرون ملک ہیٹ ٹرک اسکور کرنے والی پہلی خاتون فٹبالر کا اعزاز بھی شاہلائلہ بلوچ کو حاصل ہواجس نے مالدیپ کے سن کلب کے لئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مالدیپ میں کلب فٹبال کھیلنے والی شاہلائلہ کا خواب مشہور زمانہ فٹبال کلب بارسلونا کی ویمنز ٹیم کی نمائندگی تھا لیکن وقت سے کون کہے یار ذراآہستہ!


فٹبال کے جوتے اور جرسیاں جمع کرنے والی شاہلائلہ کی پہلی محبت فٹبال کا کھیل ہی تھا ۔سب سے بڑی خوشی بھی شاہلائلہ کے لئے فٹبال کھیلنا ہی تھا جو ڈربلنگ اور ہیڈنگ کے ذریعے مخالف کھلاڑیوں کو چکمہ دیتے ہوئے گیند کو جال میں پہنچا دیا کرتی تھی۔کبھی بھی ہمت نہ ہارنے والی لڑکی کے لئے کار کا حادثہ جان لیوا ثابت ہوا جس نے پلک جھپکتے ہی شاہلائلہ کو آخری سفر پر روانہ کردیا ۔شاہلائلہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ویمنز فٹبال کا سفر بھی عالمی سطح پر شروع ہوا تھاجو یقیناًشاہلائلہ کی ناگہانی موت کے بعد رکے گا نہیں بلکہ جاری رہے گا مگر زندگی سے بھرپور فٹبالر شاہلائلہ بلوچ کی موت سے پیدا ہونے والا خلاء پاکستان میں فٹبال کے میدانوں میں ایک عجب سی اُداسی چھوڑ گیا ہے۔ممکن ہے کہ شاہلائلہ بلوچ نے اپنی مختصر سی زندگی میں بہت زیادہ دن فٹبال کے میدانوں میں نہ گزارے ہوں مگر سات نمبر کی جرسی پہننے والی اسٹرائیکر ایسا راستہ تراش گئی ہے جو آنے والے عرصے میں نہ صرف اسپورٹس بلکہ ہر شعبے میں اُن پاکستانی لڑکیوں کے لئے منزل کا نشاں ثابت ہوگا۔

یہ تحریر 65مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP