قومی و بین الاقوامی ایشوز

شام کی صورتِ حال اور عالمی سیاست

شام کی روز بروز بدلتی صورت حال ایک عالمی مسئلہ ہے جو کہ شاید عظیم طاقتوں کی اَنا کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ اگر ہم اس غور طلب معاملے پر ایک تنقیدی نظر دوڑائیں تو اس کی جڑیں عرب دنیا میں اٹھنے والے
Spring Revolution
سے ملتی ہیں۔ اس انقلاب نے جہاں عرب دنیامیں کئی دہائیوں سے بیٹھے حکمرانوں کو چلتا کیا وہیں پر یہ شام میں ایک خونریز جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ 2011 کے شروع میں حقوق اور جمہوری نظام کے حق میں نکالے جانے والے جلوس اور ریلیاں اب ایک منظم اور باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہیں جو کہ اقوام متحدہ کے کردار اور فعال ہونے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ بہت سے محقق اور تبصرہ نگار یہ خیال کرتے ہیں کہ بشارالاسد کے خلاف نکالے جانے والے غم و غصے میں امریکہ کا کردار کلیدی ہے۔

روسی صدر پیوٹن کا یہ فیصلہ کہ وہ ہر قیمت پر بشارالاسداور اس کی حکومت کا دفاع کریں گے نے شام کو جنگِ کوریا اور ویت نام جیسا بنا دیا ہے۔ مگر یہ بات قابلِ دید ہے کہ پیوٹن کا یہ فیصلہ ایک عمل نہیں بلکہ شام کے لئے امریکی خارجہ پالیسی کا ردِ عمل ہے۔ یہ روسی صدر کا ایک مصمم اور غیر متزلزل ارادہ ہے کہ مغربی ممالک کی تمام تر مخالفت کے باوجود وہ شامی صدر کی مکمل حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اپنی تمام تر کو ششوں کے با وجودروس کے حمایت یافتہ بشا ر الاسد شام کے صرف پچیس فیصدحصے پر کنٹرول برقرار رکھ سکے ہیں۔ شامی صدر کو روس کے علاوہ ایران، عراق اور حزب اللہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔
1991میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یہ خیال کیا جانے لگا تھاکہ اب امریکہ ایک تن تنہا سپر پاور بن گیا ہے اور حتیٰ کہ ایک امریکی پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر
Francis Fukuyama
نے اپنی مشہور کتاب
The End of History
بھی لکھ ڈالی اورشاید یہ خیال ظاہر کیا کہ اب امریکی طاقت کی بدولت جنگ ہونا نہایت مشکل اور ناممکن ہے۔ اس کتاب کے جواب میں ایک اور امریکی پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر
Samuel Huntington
نے اپنی کتاب
The Clash of Civilizations
پیش کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ ہونے والی جنگیں نسل اور تہذیب کی بنیا د پر لڑی جائیں گی۔ مگر شام کے گھمبیر حالات اور روسی صدر پیوٹن کے عزم نے ان دونوں حضرات کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ 
امریکی وزیر خارجہ جان کیری تو کچھ عرصہ پہلے تک بات چیت کی ناکامی کی صورت میں اپنے
Plan-B
کو بھی پیش کر چکے ہیں جس کے تحت امریکہ نے شام کی خود مختار ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا خاکہ پیش کیا۔ یہ بات حیران کن ہے کہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب
Sergey Lavrov 
سے کئی ملاقاتیں کیں جن کی بنیا دی وجہ شاید شام میں امریکی آپریشنل اور سٹریٹجک کمزوریاں ہیں۔ 
یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ سیز فائر کے بعد17ستمبر 2016کو امریکہ نے شامی افواج پر دیر الزور کے مقام پر ایک شدید فضائی حملہ کیا جس میں تقریباً62شامی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس حملے نے نہ صرف شامی فوج کو نقصان پہنچایا بلکہ داعش کے جنگجوؤ ں کے لئے راستہ بھی ہموار کیا۔ یہ کیا ماجراہے کہ اگر ہم اُس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے2009-13کے بیانات کو دیکھیں تو وہ صاف طور پر یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ ہم جنگجوؤں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ بشارالاسد کے بے رحمانہ اور مطلق العنان نظامِ حکومت کے خلاف لڑ سکیں۔
Wiki-Leaks
کے جولیان آسانج نے بھی ہیلری کلنٹن کے دوہرے معیار کا پردہ چاک کردیااور وہ تمام خفیہ دستاویزات عام کر دیں جن میں داعش کو اسلحے کی فراہمی اور تربیت سے متعلق معلوما ت تھیں۔ چند روسی اور عالمی ماہرین یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بدنامِ زمانہ گوانتاناموبے جیل سے بیشتر قیدیوں کو خفیہ طور پر رہا کر کے داعش اور النصرہ فرنٹ میں شامل کیا گیااور اب وہی امریکی تربیت یافتہ جنگجو شام میں فساد کا باعث بن رہے ہیں۔
شاید یہ ایک حقیقت ہے کہ شام کے معاملے سے پہلے بہت سے لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ عالمی نظام
Unipolar
ہے یعنی اس نظام میں صرف ایک سُپر پاور (امریکہ) موجود تھا۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادکے برعکس اور اجازت کے بغیر 2003میں عراق پر حملہ کیا ۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ امریکہ ایک بار پھر شام میں عراق والی مثال دہرائے گا اور بشار الاسد کو صدام حسین کی طرح تختہ دار پر لٹکائے گا۔ تاہم امریکہ ایسا کرنے سے بوجوہ باز رہا۔
جولائی 2016میں ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت‘ روس اور ترکی کو بہت قریب لے آئی ہے۔ یاد رہے کہ نومبر 2015میں ترک فضائیہ نے روسی فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرایا تھا جس کی وجہ سے دونوں ممالک میں شدید تناؤ تھا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے نیٹو اور امریکہ کا ہاتھ تھا۔ کیو نکہ اُس وقت روسی فضائیہ امریکہ نواز باغیوں پر کاری ضرب لگانے میں مصروف تھی۔ اب پیوٹن اور طیب اوردگان ایک سمت جا رہے ہیں جس کا بنیا دی مقصد داعش اور امریکہ نواز کُرد باغیوں کا خاتمہ ہے جو کہ ترکی میں بیشتر بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔ ایک امریکی صحافی
David Swanson
نے فروری 2016میں اپنے آرٹیکل میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شام میں سیزفائر امن کے لئے نہیں بلکہ دونوں اطراف اس کو اپنے اپنے حامی متحارب گروپوں کو اسلحہ اور دیگر چیزیں فراہم کر نے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔
اگر ہم شام میں ہونے والے تمام قتل و غارت گری سے قطعِ نظر اس معاملے کو عالمی سیاست کے تناظر میں دیکھیں تو ہم یہ بات ماننے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ صورتِ حال صدر پیوٹن کی ایک عظیم سیاسی ،سفارتی اور فوجی فتح ہے۔ روسی افواج شام میں اپنے تمام جدید ترین اسلحے کو استعمال کر رہی ہیں اور اس کی آپریشنل استعدادِ کار کو پرکھ رہی ہیں۔ روسی فوج نے اپنے نہایت جدید ایئر ڈیفنس سسٹم S-400اور ایس - 300کوشام میں آپریشنل کر کے امریکی اور اتحادی فوجوں کی فضائی مہم کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس مسئلے کی بدولت امریکہ اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے
Tomahawk
کروز میزائل استعمال کرے گا لیکن روسی ایئر ڈیفنس سسٹم ان کروز میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کردینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس سے ایک طرف اگر روسی آپریشنل اور سٹریٹجک برتری نظر آئے گی تو دوسری طرف امریکی فوج کی حقیقی طاقت کی قلعی کُھل جائے گی۔ روسی سسٹم نے حقیقتاًشام میں امریکی فضائی افواج کونا قابلِ استعمال کردیا ہے۔
حَلب
(Aleppo)
کی حالیہ لڑائی میں ایک دلچسپ واقعہ دیکھنے میں آیا جب امریکہ نواز شامی باغیوں نے ایک امریکی ساختہ
BGM-71 TOW
اینٹی ٹینک میزائل سے روسی ساختہ جدید ترین ٹی - 90ٹینک کو نشانہ بنایا۔ ایک طرف تو اس واقعہ سے یہ بات بالکل صاف دکھائی دیتی ہے کہ شام کی لڑائی متحارب گروہوں کی نہیں بلکہ امریکہ اور روس کے درمیان ہے ۔ دوسری طرف اس واقعے سے ایک حیرت انگیز بات یہ سامنے آئی کہ جدید ترین امریکی اینٹی ٹینک میزائل اپنی پوری ٹیکنالوجی اور قابلیت کے باوجودروسی ٹی - 90ٹینک کو تباہ کرنے میں ناکام رہا اور ٹینک کا عملہ محفوظ رہا۔ اس واقعے نے امریکی میزائل اور اسلحہ سازکمپنی
Raytheon
کو ایک نئی کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ روس اپنے جدیدترین ایس یو - 34 اور ایس یو - 35 طیاروں کو بھی شام میں استعمال کر رہا ہے۔ روس اب تک تقریباً پانچ سو ملین ڈالرشام کی جنگ پر خرچ کر چکا ہے اور لتا قیہ اور طرطوس میں قائم کئے جانے والے بحری اور فضائی فوجی اڈے شاید اس خرچ کے علاوہ ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ روسی افواج کی مشرقِ وسطیٰ میں تمام تر سرگرمیاں ا مریکی سینٹرل کمانڈکے لئے شدید دردِ سر بنی ہوئی ہیں۔ روس نے2014میں
Crimea
کے واقعے کے بعدعالمی سیاسی پنڈتوں کی پیش گوئیوں کے بر عکس ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دکھائی ہے کہ وہ ایک موثر عالمی طاقت ہے ۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شام کی لڑائی رُوس کے جدید ترین اسلحے کے لئے ایک شو روم کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور اس کے ہتھیاروں کی برآمدات ریکارڈ 56بلین ڈالر کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ہم ایک نیو کولڈ وارکے دور سے گزر رہے ہیں۔ جہاں امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار ہیں اور ایک دوسرے کواور شاید پوری دنیا کو داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں سے مسلسل ڈرانے میں مصروف ہیں۔ در حقیقت داعش اور القاعدہ جیسے نان اسٹیٹ ایکٹرز ایک بہانے سے زیادہ کچھ نہیں اور بجائے ان گروپوں کو ختم کرنے کے، ان کی آڑ میں اپنے مفادات کاتحفظ کیا جا رہا ہے ۔ آج بھی
Realpolitik ،Thucydides
اور 
Machiavelli
کے اصول عالمی سیاست پر چھائے ہوئے ہیںیعنی اپنی پالیسی کو حالات کے مطابق شکل دینا اور پھر ان حالات سے فائدہ اٹھانا۔
شام کی تمام تر صورت حال مجموعی طور پر امریکہ کے مفادات کے خلاف ثابت ہو رہی ہے۔ بھارت، جو کہ روس کا خود ساختہ اور تاریخی دوست ہونے کا بھی دعویدار ہے، نے بھی شام پر روسی مؤقف کی کھل کر حمایت نہیں کی جیساکہ روس نے1971کی جنگ میں بھارت کی نہ صرف کھل کر حمایت کی بلکہ امریکی بحری بیڑے کو مشرقی پاکستا ن کی فوجی امداد سے مکمل طور پر باز رکھا۔ بھارت کی خارجہ پالیسی جس کی بنیاد ہمیشہ سے
Hedging
کے اصول پر منحصر رہی ہے اب شاید اسے مہنگی پڑ رہی ہے اور اس کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہو ئی قربتیں روس اور پاکستان کو قریب لارہی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ شام میں عالمی طاقتوں کی پنجہ آزمائی کا اصل فائدہ روس ، چین اور ترکی کو ہو رہا ہے۔ تاہم اس کشمکش میں پاکستان، چین اور روس کے مزید قریب آ گیا ہے۔ حال ہی میں بھارت میں ہونی والی 
BRICS
کانفرس میں وزیراعظم نریندر مودی کو ایک بڑا دھچکا لگا جب روس اور چین نے پاکستان پردہشت گردی کے بھارتی بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیا۔ یہ تمام واقعا ت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی برادری نے داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن ضربِ عضب کے کردار کو سراہا ہے اور امن کے لئے اس کی نیک نیت کوششوں کی بھر پور حمایت کی ہے۔
یہ رائے قائم کر نا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کم از کم مزید سات سے آٹھ سال جاری رہے گی۔ کیونکہ اس جنگ میں شامل کوئی بھی فریق عارضی جنگ بندی کے لئے بھی تیا ر نہیں ہے۔ یہ رائے تمام فریقین کے نزدیک ایک حقیقت ہے کہ جنگ بندی یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیاں درحقیقت اُن کے دشمنوں کو مضبوط ہونے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس تمام حالت کو
Clausewitz
کے نظریہ
Fog of War
کی مدد سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے جس کے مطابق جنگ افراد ، قوموں اور لیڈروں کے سوچنے اور سمجھنے پر بہت گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ دُھند نما دُھواں نظر کی حد کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی بد اعتمادی اور غیر یقینی کی کیفیت کو بھی جنم دیتا ہے اور یہ کیفیت فیصلہ سازی کے عمل کو بہت حد تک متا ثر کرتی ہے۔اگر ہم ایک نظر رُوسی اور امریکی (مغربی )میڈیا پر ڈالیں تو ان دونوں کی آپس کی چپقلش اس بات سے ثابت ہو جاتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف زہر اُگلنے میں ہمہ وقت مصروف نظر آتے ہیں۔ امریکی تمام حالات کا ذمہ روس اور روسی تمام تر ملبہ امریکہ اور مغربی طاقتوں پر ڈال دیتے ہیں۔ ان سب باتوں کو سننے اور پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر حقیقت کیا ہے۔
امریکہ دنیا میں جمہوریت کے پھیلاؤ اوراظہارِ رائے کی آزادی کا خواہشمند ہے اور امریکی نظریہ ء
Manifest Destiny
شاید امریکی حکومت کو اس قدر عزیز ہے کہ وہ اس کی خاطر قوموں کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے سے گریز نہیں کرتی۔ برطانوی اور امریکی افواج نے اِسی خواہش پر پہلے صدام حسین کے پُرامن عراق کا بیڑہ غرق کیا اور پھر معمر قذافی کے خوشحال لیبیا کو آگ اور خون میں نہلا دیا۔ لیبیا اور عراق میں لگنے والی آگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ صدر پیوٹن کے متعلق نیو یارک ٹائمزکے ایک صحافی Steven Lee Myers
نے ایک کتاب
The New Tsar
لکھ ڈالی۔ جس میں انھوں نے صدر پیوٹن کو ایک نیا ’’زار‘‘ قرار دیا اور یہ کہا کہ وہ روس کی عالمی طاقت کو بڑھانے کے لئے تشدد کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں۔ امریکہ یا روس دونوں شام کے اندرونی مسئلے کو ایک علاقائی جنگ بنانے کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن شاید اصل ذمہ دار امریکہ ہے جس نے شام پر عراق کی طرح کا یَک طرفہ حملہ کرنے کا عندیہ 2011میں دے دیا تھا۔ یہ بات بھی امریکی اور مغربی ممالک کی سازشوں کا پردہ چاک کرتی ہے کہ شام کے خالصتاً سیاسی مسئلے کو سُنی اور شیعہ کے درمیان فساد بنا کر رکھ دیا گیا ہے اور اب اس لڑائی میں سعودی عرب اور ایران آمنے سامنے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے عالمِ اسلام کی طا قت مکمل طور پر منقسم ہو چکی ہے۔
ایک امریکی ماہر سیا سیات
John Mearsheimer 
نے 2004میں اپنے آر ٹیکل 
Why China's Rise will not be Peaceful
میں یہ کہا تھا کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت جارحانہ عزائم کے لئے ہے۔ لیکن اس آرٹیکل کے بارہ سال گزرنے کے باوجود چین نے کسی مقام پر بھی کوئی فوجی کارروائی نہیں کی اور حتیٰ کہ امریکہ اور جاپان کے ساتھ بھی تجارت کا راستہ اختیار کیا۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ چین اس معاملے میں اپنا کر دار ادا کرے۔ روس اور امریکہ دونوں بلکہ پوری دنیا چین کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اورتمام اقوامِ عالم یہ بات ذہن نشین کر چکی ہیں کہ اب چین کو عالمی سیا ست میں اس کا مقام دینا پڑے گا۔ چین شام میں امن فوج کی سر براہی کرے اور قیامِ امن کے فوری بعد ملک میں عالمی برادری کے مبصرین کی نگرانی میں آزاد اور شفاف الیکشن کرائے جائیں تا کہ شامی عوام اپنے حکمرانوں کا انتخاب خود کر سکیں۔ روس اور امریکہ چاہے کتنے ہی مذاکرات کر لیں مگر شاید مزید پانچ سال بھی شام کے مسئلے کا حل نہ ڈھونڈ پائیں گے۔ شاید یہ بات بہت سے لوگ 
Utopian
اور نا قابلِ عمل خیال تصور کریں۔ مگر تقریباً چھ سال کی خانہ جنگی ، پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کی ہلاکت ، اربوں ڈالر کے انفراسٹرکچرکی تباہی اور لاکھوں انسانوں کی ہجرت اور سب سے بڑی بات کہ سپر طاقتوں اور علاقائی طاقتوں کی باہمی چپقلش کا یہ واحد حل ہے۔


مضمون نگار نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ایم فل کر رہے ہیں۔
([email protected])

یہ تحریر 105مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP