قومی و بین الاقوامی ایشوز

سی پیک قومی تناظر میں

پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری با لعموم نشیب و فراز کا شکار رہی ہے۔ شومئیِ قسمت کہ نشیب بکثرت لیکن فراز کبھی کبھار ہی ممکن ہوا۔ بھلے وقتوں میں براہِ راست سرمایہ کاری کا حجم دو ارب ڈالر سالانہ کے لگ بھگ رہا۔باقی دنوں میں ایک ارب ڈالر سالانہ کے لگ بھگ کو ہی جمع تفریق میں جوڑ کر دل کو دلاسا دے لیا۔ اس دوران د ل کے بہلانے کو کئی جواز خوب کام آئے۔ ان میں سکیورٹی اور سیاسی صورتحال میں اتار چڑھاؤ جیسی سدا بہار توجیحات نے بڑا ساتھ نبھایا۔ رواں مالی سال کے آٹھ مہینوں میں بمشکل ساڑھے سات سو ملین ڈالر کی براہِ راست سرمایہ کاری ہو سکی۔ سرمایہ کاری کی اس ’’خشک سالی‘‘ کے بعد سی پیک کا اعلان اپنے ساتھ اعتبار اور بے اعتباری کا ایک سیلاب لے کر آیا۔

 

سی پیک کی تفصیلات ہی ہوش ربا تھیں۔ اگلے دس سالوں میں چھیالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری۔۔۔ کچھ امداد، کچھ ایکویٹی سرمایہ کاری اور باقی قرض۔۔۔ کچھ حکومتی سطح پر اور زیادہ تر بینکاری کے ذریعے۔ گیارہ ارب ڈالر کے لگ بھگ انفرا سٹرکچر کے لئے مختص اور باقی چونتیس ارب ڈالر کے لگ بھگ پروجیکٹ سرمایہ کاری کے لئے جس میں زیادہ تر انرجی منصوبے شامل ہیں۔ انفراسٹرکچر منصوبوں میں مغربی اور مشرقی روٹ کے تحت سڑکوں اور انڈسٹریل اسٹیٹس کا مربوط سلسلہ شامل ہے۔ ہمارے ہاں بات بات پر سیاسی اور غیر سیا سی معاملات میں اعتراضات اور تنازعات ایک معمول سا بن چکا ہے۔ کالا باغ ڈیم سمیت بہت سے قیمتی منصوبے انہی اعتراضات اور تنازعات کی نذر ہوئے۔ لہٰذا سی پیک جیسے بہت بڑے اور کثیر ا لجہت منصوبے پر اعتراضات اور بد گمانیوں کا سامنے آنا قابلِ فہم اور فطری تھا۔ کسی کو سیاسی مفاد پرستی کا گلہ ہوا، کسی کو آبادی کے توازن کے بگاڑ کا خدشہ ہوا اور کسی کوعلاقائی مفادات کا تعصب نظر آیا۔ میڈیا نے بھی رونق لگائی اور معترض حلقوں نے بھی اپنی آواز اٹھائی۔ اپنے تئیں حکومت نے اعتراضات اور خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز میں سی پیک پر یکساں اور مکمل اعتماد پیدا ہو سکے۔ مکمل اجتماعی اعتماد ہی اس منصوبے کی کامیابی اور افادیت کا ضامن ہو سکے گا۔

 

انفراسٹرکچر منصوبے اپنی نوعیت کے اعتبار سے طویل المدت ہوتے ہیں۔ سی پیک میں گوادر پورٹ میں توسیع اور اپ گریڈیشن، گوادر شہر میں ائیرپورٹ سمیت بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی، انڈسٹریل پارک کا قیام، مغربی اور مشرقی روٹس پر گوادر سے لے کر چینی سرحد تک موٹر وے نیٹ ورک، بڑے شہروں کے لئے رابطہ سڑکیں، ریلوے ٹریکس میں توسیع و انقلابی اپ گریڈیشن اور تیل کی پائپ لائنز وغیرہ شامل ہیں۔ ان منصوبوں کے متعلقہ علاقوں میں لا محالہ معاشی اور سیاسی اثرات ہوں گے۔ سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی تعمیر ان علاقوں میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں، ترقی کے ایک نئے دور کے آغاز کا سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہونے کے بھی امکانات ہیں۔ غربت کے خاتمے کے لئے یہ مواقع لاکھوں خاندانوں کو غربت کی بیڑیوں سے آزاد کر سکیں گے۔ اگر تمام منصوبے پروگرام کے مطابق مکمل ہو گئے تو زیادہ تر علاقوں میں کاروبار، صنعت اور تجارت کا روایتی انداز اور طرز ہمیشہ کے لئے بدل سکتا ہے لیکن ان امکانات کے ساتھ بہت سے ’’اگر مگر‘‘ بھی منسلک ہیں۔ اگر یہ ’’اگر مگر‘‘ صحیح انداز میں اور بروقت سنبھال لئے گئے تو اس منصوبے کے فوائد ان امکانات کو حقیقت بنا سکتے ہیں جن کا شہرہ چار وانگ عالم میں ہے۔ اگر خدا نخوا ستہ معاملات کی تدبیر میں ہماری ماضی کی کوتاہیاں دہرائی گئیں تو فوائد کا یہ دبستان حوالے کی کتابوں میں زیادہ اور زمین پر کم ملے گا۔

 

پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج اپنی منصوبہ سازی اور عمل در آمد کی صلاحیت کو عالمی معیار کی بہترین سطح پر لانا ہے۔ اس میں منصوبے کے پلان کو عملی شکل دینے کی بھر پور صلاحیت کی حیثیت مرکزی ہے۔ ہمار ے قوانین اور پالیسی فریم ورک میں سرمایہ کاری کے لئے درکار بلوغت، شفافیت اور ہمہ جہتی سمیت سرمایہ کاری کے لئے ہمہ وقت مستعدی اور تعاون کا انداز اپنانا ضروری ہے۔ چین کا انڈسٹریل پارکس کے ذریعے صنعتی ترقی کا حیرت انگیز تجربہ ہے۔ اپنے اسی تجربے کی بنیاد پر چین کی جانب سے پورٹ اور موٹر ویز پر انڈسٹریل پارکس کی تجویز ہے۔ بظاہر بڑی صائب تجویز ہے لیکن پاکستان کا اپنا تجربہ اس معاملے میں اتنا خوش گوار نہیں ہے۔

 

ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں اس وقت 74 انڈسٹریل پارکس یا انڈسٹریل اسٹیٹس ہیں۔ ان میں سے بتیس پنجاب، تین اسلام آباد ، تینتیس سندھ ، سات بلوچستان اور سترہ کے پی کے میں ہیں۔ ان انڈسٹریل اسٹیٹس میں زیادہ تر منصوبے ٹیکسٹائلز، ہینڈی کرافٹس، مشروبات، فوڈ پروسیسنگ، چمڑہ سازی اور دیگر گھریلو اشیا ء کی انڈسٹری پر مشتمل ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ چند بڑے شہروں کی معدودے چند اسٹیٹس کو چھوڑ کر زیاداہ تر انڈسٹریل اسٹیٹس میں استعداد سے کہیں کم تعداد میں منصوبے کام کر رہے ہیں۔ ملک میں صنعتی شرح نمو سال ہا سال سے دو تین فی صد کے لگ بھگ رہی ہے۔ بینکنگ اور نجی شعبے کی استعداد اس مایوس کن شرح نموکے مطابق ہی پروان چڑھی ہے۔ اس پر مستزاد پاکستان مجموعی طور پر

low value added industries

میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ کاروباری نظامت اور ٹیکنیکل افراد کی صلاحیت کی اٹھان موجودہ انڈسٹریل معیار تک ضرور ہے لیکن عالمی معیار کی ویلیوایڈڈانڈسٹری کے لئے درکار تجر بے، باصلاحیت مینیجرز اور نجی انٹرپرینیورز کی قلت ہے۔ کیا انڈسٹریل اسٹیٹس کے اپنے اس مایوس کن تجربے کے ساتھ پاکستان چین کی طرف سے تجویز کردہ بزنس ماڈل کے لئے اپنے آپ کو تیار کر سکے گا؟ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اسی مسئلے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان انڈسٹریل اسٹیٹس میں چینی سرمایہ کا ر نئے یا اپنے چلتے ہوئے صنعتی یونٹس لگا ئیں گے تو کس حد تک مقامی لیبر اور وائٹ کالرافراد کی کھپت ہو گی۔ کئی ماہرین کو خدشہ ہے کہ استعداد یا قابلیت کو بنیاد بنا کر چینی لیبر اور مینجمنٹ ہی ان صنعتی یونٹس کو چلانے کے لئے استعمال ہوئی تو مقامی روزگار کے مواقع کا ڈھنڈورہ بھی ایک سراب ہو سکتا ہے۔ کچھ جلد باز دوستوں نے تو چینی لیبر کی متوقع تعداد کے ہوش ربا تخمینے بھی جاری کر دیے ہیں۔ ایسے میں اس امر کی ضرورت ہے کہ ممکنہ انڈسٹریل اسٹیٹس کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ صراحت کے ساتھ ان اندسٹریز کی بھی تفصیل جلد طے کی جائے جو ان اسٹیٹس میں لگائی جائیں گی ۔ مقصد اس تفصیل کا یہ ہو کہ ممکنہ ضرورت کے مطابق لیبر کی فراہمی ، ٹیکنیکل اسٹاف کی تربیت اور فراہمی، مینیجرز کی تربیت اور ملکی انٹرپرینیورز کا وژن واضح ہو سکے۔ اسی طرح ان انڈسٹریز سے جڑی سپلائی چین کی دیگر اندسٹریز بھی اپنی استعداد اور صلاحیت میں اس تناسب سے بر وقت اضافہ کر کے اس سرمایہ کاری کے لئے بہتر تیاری کر سکیں اور اس نادر موقع سے بہرہ مند ہو سکیں۔

 

حالیہ سالوں میں تیز تر ترقی کے لئے زیادہ تر ملکوں نے برآمدات کی بنیاد پر معاشی ترقی کا ماڈل اپنایا۔ چین سمیت آسیان اور مشرق وسطیٰ کے زیاد ہ تر ممالک نے برآمدات کے لئے انڈسٹریز میں سرمایہ کاری ، اپنی لیبر اور افرادی قوت کو اسی تناسب سے بڑھایا۔ گو زیادہ تر ممالک نے ٹیکسٹائل انڈسٹری پر بھی انحصار کیا لیکن ان کی توجہ کا مرکز ملبوسات یعنی ایپیرل کی برآمدات رہیں کہ اسی میں بہترین ویلیو ایڈیشن اور منافع تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان ممالک نے بہتر ویلیو ایڈیشن والی انڈسٹریز پر توجہ مرکوز کی۔ یوں وقت کے ساتھ ساتھ ایپیرل کی برآمدات کا تناسب ان ممالک کی مجموعی برآمدات میں کم ہوتا گیا اور بیش قیمت اشیاء کی برآمدات کا تناسب بڑھتا گیا۔ پاکستان کا المیہ یہ رہا کہ ہماری برآمدات کا ڈھانچہ وقت بدلنے کے ساتھ نہیں بدلا۔ ٹیکسٹائلز، لیدر، چاول اور سپورٹس گڈز کل بھی برآمدات کا غالب حصہ تھیں اور آج بھی۔

 

پاکستان کے لئے یہ نادر موقع ہے کہ روایتی انڈسٹریز کے ساتھ ساتھ نئی ویلیوایڈڈ اور ہیوی انڈسٹریز کے فروغ کا ڈول ڈالے۔ پورٹ سٹی ہونے کے ناتے گوادر میں پیٹرو کیمیکلز، آئرن سٹیل، آئل ریفائینری اور ایسی دیگر ہیوی اور ویلیوایڈڈ انڈسٹریز کا انتخاب سود مند ہو گا۔ اسی طرح انڈ سٹریل اسٹیٹس میں بھی ویلوایڈڈ انڈ سٹریز پر فوکس کی ضرورت ہے نہ کہ اسی گھسی پٹی روٹین کی۔ کیمیکلز، پلاسٹک، الیکٹرونکس، الیکٹریکل، ربڑ، آٹو پارٹس، زرعی آلات و مشینری، لایٹ و ہیوی انجینئرنگ، فوڈ پروسیسنگ با لخصوص حلال فوڈ پروسیسنگ کی عالمی معیار کی صنعتیں اور آئل ریفائنریز جیسی انڈسٹریز کا انتخاب کیا جائے تاکہ پاکستان ویلیوایڈیشن کی اعلیٰ سطح پر پہنچنے کے قابل ہو سکے۔ اس مشکل مرحلے میں چین کی مالی معاونت، ٹیکنیکل اشتراک اور مارکیٹنگ میں تعاون اس ہدف کو ممکن بنا سکتا ہے بشرطیکہ ہم اپنی روایتی تن آسانی کو چند سالوں کے لئے تہہ کر کے علیحدہ رکھ سکیں

 

انڈسٹریل اسٹیٹس کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ان کا آسان اور فوری رابطہ نزدیکی بڑے شہروں، مارکیٹس اور پورٹ سٹی سے ہو۔ بلا واسطہ اور با لواسطہ کاروباری سپلائی چین کے لئے انڈسٹریل اسٹیٹس سے منسلک شہری آبادیوں اور سہولتوں کا جال پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی ڈویلپمنٹ کا کچھ کام تو وفاقی حکومت کے ذمے ہو گا جبکہ زیادہ تر کام صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آئے گا۔ ہمارے ہاں عام تعمیراتی منصوبے معینہ مدت میں مکمل ہونے کی روایت بہت کمزور ہے، ان انڈسٹریل اسٹیٹس کے لئے اسپیڈ اور اعلیٰ پائے کا انفرا سٹرکچر کام بروقت مکمل کرنا بھی ایک مشترکہ چیلنج ہو گا۔ اب تک کی تفصیلات کے مطابق انرجی منصوبوں کے لئے تین چوتھائی وسائل مختص کئے گئے ہیں۔ ان وسائل کا نصف یا اس سے زائد دیگر ہیوی انڈسٹریز کے لئے مختص کرنے سے موجودہ صنعتی لینڈ اسکیپ پر دور رس اثرات ممکن ہو سکتے تھے۔ تسلیم کہ انرجی کی قلت نے معیشت کی نشو ونما کو متاثر کیا ہے لیکن انرجی سرمایہ کاری میں انتہائی پر کشش شرائط کی وجہ سے پہلے ہی مقامی و غیر مقامی سرمایہ کار سرمایہ کاری کے لئے آگے آرہے ہیں۔ لہٰذا انرجی کی فوری قلت کے برابر فوری اور ضروری سرمایہ کاری کرنے کے بعد باقی وسائل دیگر انڈسٹریز کے لئے مختص کرنے کے زیادہ مفید اور دور رس اثرات ہو سکتے تھے۔ ایک اہم چیلنج ملکی سرمایہ کاروں اور بنکوں کو بلا واسطہ اوربا لواسطہ سی پیک پروجیکٹس میں شراکت کے مواقع مہیا کرنے کا ہے۔ اب تک دستیاب مبہم تفصیلات کے مطابق تمام امکانات اور اہتمام چینی سرمایہ کاروں کے ارد گرد گھوم رہا ہے۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ جلد سے جلد سی پیک کے تحت سرمایہ کاری کے لئے شعبوں اور ویلو ایڈڈ انڈسٹر یز کا ایسا انتخاب اور امتزاج تشکیل دیا جائے جس کے تحت ملکی سرمایہ کار، لیبر اور سپلائی چین انڈسٹری سی پیک کی منفرد افادیت سے بھر پور فائدہ اٹھا سکے، ملکی برآمدات کا فرسودہ ڈھانچہ تبدیل کیا جاسکے اور پاکستان اپنے انڈسٹریل اسٹرکچر میں بنیادی تبدیلی لا کر ویلیو ایڈڈ انڈسٹریز کی طرف قدم بڑھائے۔


مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ‘ سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 121مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP