خصوصی فوکس

سی پیک،تعلیم، فنی تعلیم اوربلوچستان 

گوادر کی تاریخ اور اس کے محل  وقوع اور اس کے ذریعے آنے والی معاشی ترقی پر اتنا لکھا  جاچکا ہے کہ کسی نئے جملے کی تلاش مشکل ہے لیکن جس کسی نے بھی گوادر کا نام رکھا تھا، لگتا ہے وہ کوہ باطل کی اونچائی پر ضرور گیا ہوگا جہاں سے اسے بحیرہ عرب سے آتی ہوائوں کی شدت محسوس ہوئی ہوگی جس کے بعد بلوچی کے دو الفاظ'گوات'  اور  'در' کا مجموعہ گوادر بنا ہوگا۔ گوادر کے بلوچی زبان میں لغوی معنی ہیں ہوا کا دروازہ اور یہ شہر اب پاکستان اور بلوچستان کی ترقی کا دروازہ بن رہا ہے۔



1997میں جس پورٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ 2006 میں اس کا افتتاح ہوا ،لیکن 2010 میں چائنہ نے دنیا کا سب سے بڑا معاشی منصوبہ متعارف کروانے کا فیصلہ کیا۔ یہ منصوبہ ون بیلٹ ون روڈ کے نام سے دنیا کی معیشت کو جوڑنے کا اس کا پہلا پائلٹ پروجیکٹ بنا۔ سی پیک یعنی پاک چین اقتصادی راہدار ی اور اس منصوبے کے تحت مختلف مراحل میں کام ہورہا ہے۔ اس وقت اس کے فیز ٹو پر کام جاری ہے اور فیز ٹو میں پاکستان کے مختلف حصوں بالخصوص گوادر میں اکنامک زونز کے قیام پر کام جاری ہے اور اس کے لئے بلوچستان میں بالخصوص مروجہ تعلیم اور فنی تعلیم کے فروغ کی ضرورت ہے   بلوچستان کے معاشی ماہر محفوظ علی خان کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ مکمل طور پر آپریشنل ہونے کی صورت میں گوادر، مکران اور بلوچستان میں تین سو کے لگ بھگ مختلف ٹریڈز میں افرادی قوت کی ضرورت ہوگی اس کے لئے بلوچستان حکومت کو اپنی جامعات اور ٹیکنیکل کالجز میں شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم کورسز متعارف کروانے کی ضرورت ہے جس پر تاحال خاطر خواہ کام نہیں ہوسکا جبکہ دوسری جانب چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نصیر خان کاشانی سمجھتے ہیں کہ گوادر پورٹ پر قائم پہلا اکنامک زون آئندہ ایک سے ڈیڑھ سال میں مکمل ہوگا اور اگر یہ منصوبہ بروقت مکمل ہوتا ہے تو آنے والے سالوں میں گوادر میں محتاط اندازے کے مطابق تیس سے چالیس ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوںگے۔ کیا ان سب کے لئے بلوچستان تیار ہے اس سلسلے میں گوادر اور بلوچستان کے نوجوانوں کو مروجہ تعلیم کے ساتھ فنی تعلیم کی فراہمی نہایت ضروری ہے اور اس کے لئے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت گوادر میں 10 ملین ڈالر کی لاگت  سے پاک چائنہ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے مذکورہ منصوبے کے لئے گوادر پورٹ اتھارٹی نے 18ایکڑ اراضی حاصل کرلی ہے۔ اس منصوبے کی فزی بیلٹی رپورٹ جنوری 2017 میں تیار کی گئی اوراس کے منٹس پر چائنہ انٹرنیشنل انجینئرنگ کمپنی سے 9 اگست 2017 میں دستخط ہوئے جبکہ اس کا معاہدہ اپریل 2018 میں ہوا تھا ۔ اس منصوبے کو وزارت میری ٹائم افیئرز، پلاننگ اور ڈویلپمنٹ سپروائز کررہی ہیں جس کا مقصد گوادر کے بیروزگار نوجوانوں کو فنی تربیت دے کر مستقبل میں گوادر پورٹ پر روزگار فراہم کرنا ہے۔اس انسٹیٹیوٹ کے ذریعے گوادر کے ہزاروں نوجوانوں کو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ہنر مند بنایا جائے گا۔ گوادر میں فنی تعلیم سے آراستہ ہر طرح کے ہنر مند موجود ہیں جو زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ بلوچستان بھر میں بھی بے شمار ہنر مند افراد  اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایسے نوجوانوں  کے لئے  پاک چائنہ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کی تعمیر کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ تعلیم اور ہنر دو ایسی چیزیں ہیں کہ جن کا تعلق انسانی عقل سے ہے۔ تعلیم یعنی علم کا حصول ایک خدا داد نعمت اور ایسی دولت ہے کہ جو بھٹکے ہوئے انسانوں کو راہ راست پر لے آتی ہے  جبکہ ٹیکنیکل ایجوکیشن کسی بھی معاشرے کے تعلیمی اور نتیجتاً معاشی استحکام کی ضامن ہوتی ہے۔
پاکستان کو بلوچستان کی وجہ سے قدرتی طور پر ملا جغرافیائی محل وقوع اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ یہ  پوری دنیا کی تیل، گیس، زراعت، صنعتی و معدنی پیدوار اور منڈیوں کے درمیان پل بن سکتا ہے۔ اس قدرتی محل وقوع کی اہمیت اورافادیت کومدنظر رکھتے ہوئے پاکستان اور چین نے مل کر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بنانے کا فیصلہ کیا جو کاشغر سے شروع ہو کرگوادر پر اختتام پذیر ہوگا۔یہ منصوبہ ہزاروں کلومیٹر ریلوے لائن، موٹرویز،فائبر آپٹکس، لاجسٹک سائٹس اور بندرگاہوں کا ایک مربوط نظام ہے جو بلوچستان میں سنگلاخ پہاڑوں اور دریاؤں، کھیتوں، کھلیانوں اور ریگستانوں کے سینوں کو چیرتے ہوئے انقلابی تبدیلی لانے کے لئے بے تاب ہے۔ سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سی پیک کا حجم 50ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔اس میں سے 7ارب ڈالر بلوچستان کے مختلف 12منصوبوں کے لئے مختص کئے جا چکے ہیں۔
 گوادر کے فری تجارتی زون پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے جس پر 150ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے،فری تجارتی زون کے پہلے مرحلے میں ایک کثیر المقاصد بزنس سینٹر، چینی اشیاء کے لئے ایک نمائشی ہال اور ایک کولڈ سٹوریج بھی تعمیر کیا جائے گا۔ فری تجارتی زون اور گوادر کا خصوصی اقتصادی زون یہ وہ منصوبے ہیں جن کی حکومت پاکستان نے ترجیحی بنیادوں پر منظوری دی ہے تاکہ سرمایہ کاری کے لئے کشش پیدا کی جا سکے،ان دونوں تجارتی زونوں میں بالترتیب 23سال اور 10سال کے لئے کمپنیوں کو ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی۔ گوادر شہر میں نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لئے انسٹیٹیوٹس کھولے گئے ہیں۔ سکول بنائے گئے ہیں، جہاں انہیں چینی زبان سِکھائی جارہی ہے گوادر کی مستقبل میں ابھرتی ہوئی تصویر کو سوچ کر یہ یقین ہو جاتا ہے کہ یہاں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ترقی اور خوشحالی کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے اور ماہی گیروں کا یہ شہر مستقبل میں ایک بڑا کاروباری مرکز بن جائے گا جہاں جہاز رانی اور سیاحت کے لئے لوگ دیگر ممالک سے کھنچے چلے آئیں گے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی بدولت بہت تیزی سے پاکستان،بلوچستان اور بالخصوص گوادر میں تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ اور رونما ہوتی ان تبدیلیوں سے فوائد سمیٹنے کے لئے حکومت پاکستان کو صوبہ بلوچستان اور ملک کی عوام کومروجہ تعلیم اور فنی تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔ محکمہ ٹیکنیکل ایجوکیشن بلوچستان سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سات ٹیکنیکل کالجز جن میں دو کوئٹہ ایک خانوزئی ایک مسلم باغ، ایک گوادر، ایک پنجگور اور ایک اوتھل میں قائم ہیں جبکہ۔ منگوچر، زیارت، چمن اور دالبندین کے لئے منظوری حالیہ بجٹ میں دے دی گئی ہے۔  دوسری جانب کوئٹہ اور گوادر کے کالجز کو سینٹر آف ایکسی لینس بنانے کے لئے فائل وفاقی حکومت کے پاس زیر غور ہے۔ اگر سی پیک کی ترقی کے ثمرات کو  بلوچستان کے عام آدمی تک پہنچاناہے توہمیں خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی لسبیلہ یونیورسٹی آف میرین سائنسز اور بیوٹمز(بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز) کے ساتھ ان ٹیکنیکل کالجز میں ایسے کورسز متعارف کروانے ہوں گے جس کی مدد سے آنے والے دنوں میں ایک بہتر ہیومن ریسورس صوبے میں تیار کیا جائے ''ہوا کا دروازہ'' نامی یہ شہر، گوادر، ترقی کا دروازہ ثابت ہوگا اگر ہماری حکومت فنی تعلیم پر خصوصی توجہ دے گی تو سی پیک اور ترقی کے ثمرات بلوچستان میں ضرور نظر آئیں گے۔ ||



 
 

یہ تحریر 60مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP