قومی و بین الاقوامی ایشوز

سیکولر بھارت میں علیحدگی پسند تحریکیں

دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر سٹیٹ کے دعویدار بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی صرف مقبوضہ کشمیر میں ہو رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پورا بھارت ہی مذہبی، لسانی اور معاشرتی تعصبات اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔پاکستان پر عسکریت پسند تنظیموں کی پشت پناہی کے الزامات لگانے والے بھارت کی اپنی حالت یہ ہے کہ سرکاری سطح پر فرقہ واریت و لسانیت کو فروغ دیا جا رہا ہے اورریاست کے جارحانہ طرزِ عمل کی وجہ سے اس کی سرزمین پر لاتعداد علیحدگی پسند تحریکیں سرگرم عمل ہیں ۔بھارتی آئین میں ’’سیکو لرازم ‘‘ کا لفظ شامل کیا گیا تھا جس کا مطلب تھاکہ یہ ریاست کسی خاص مذہب کے حقوق کی علمبردار نہیں ہوگی اوریہاں ہرقوم‘مذہب اورلسانی و علاقائی گروہ کویکساں حقوق دیئے جائیں گے مگر عملاً اس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے اوریہ ریاست اگر کسی کے لئے جنت کا روپ دھار چکی ہے تو وہ صرف اور صرف ہندو انتہاپسند ہیں باقی تمام مذاہب اور گروہوں کے لئے یہ سرزمین تنگ کی جارہی ہیں اور ان سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے ۔ بھارت میں خود ہندوؤں میں بھی ملیچھ اور اچھوت ایک ایسی اقلیت ہیں جن کے ساتھ آج بھی امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اور اعلیٰ ذات کے ہندو انہیں مناسب مقام او ر حقوق دینے کو تیار نہیں ۔ بھارت کے انہی متعصبانہ رویوں کے سبب ملک بھر میں علیحدگی پسند تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوئیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے وجود کے لئے نہایت مہلک ثابت ہو رہی ہیں۔


بھارت میں کئی ریاستیں ایسی ہیں جن پر اس نے اپنی تخلیق کے فوری بعد فوجی طاقت کے بل بوتے پر قبضہ جما کرانہیں’’ انڈین یونین‘‘ میں شامل کرلیا اور پھر ان علاقوں میں بزورِ بازو اپنی تہذیب ،کلچر،ماحول، تمدن ،سوچ و فکر ،لٹریچر اور آرٹ و زبان کا نفاذ کرنا چاہا جب کہ ان ریاستوں کی اپنی ایک تہذیب ہے ‘ثقافت ہے ، ادب ہے اور زبان و طرزِ معاشرت ہے ۔ علاوہ ازیں ان علاقوں میں قدرتی وسائل کی بہتات ہے جنہیں تختِ دلی نے ہمیشہ للچائی نظروں سے دیکھااور مقامی آبادی کے حقوق کو غصب کرتے ہوئے ان پر ہاتھ صاف کئے۔قدرتی وسائل سے مالا مال ان ریاستوں کے بارے میں نئی دہلی سرکار کی نیت ہمیشہ خراب رہی ۔ ان ریاستوں کے مکین یہ ظلم آخر کب تلک برداشت کرتے ‘چنانچہ انہوں نے مرکزی حکومت سے علیحدگی کی ٹھانی اور علمِ بغاوت بلند کر کے ہتھیار اٹھا لئے۔

 


47ء میں پاک بھارت تقسیم کے بعد ریاست تامل ناڈو کی تامل علیحدگی پسند تحریک اور سکھوں کی’’ اکالی دل ‘‘اور ’’خالصتان ‘‘ نامی تحریکیں بھارت کے لئے درد سربن گئیں ۔خالصتان تحریک کو دبانے کے لئے بھارتی فوج کے مظالم کسے یاد نہیں جب سکھوں کی آبادیوں پرٹینک چڑھا دیئے گئے ‘ خالصتان تحریک کے رہنماؤں کے گھروں اور دفتروں پر چھاپے مارے گئے، انہیں پابند سلاسل کیا گیا، ان کا قتل عام کیا گیااور آخر کار سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل کومسمار کر دیا گیا ‘گو بھارت نے خالصتان تحریک کو دبا دیا مگر آزاد خالصتان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے جس سے ہندو ذہن خائف ہے کہ یہ تحریک کسی بھی وقت شعلہ جوالہ بن کر تختِ دلی کو ہلا سکتی ہے ۔ ہندو کی یہی وہ تنگ نظری پر مبنی روش ہے جس کی بنا پر دیکھتے ہی دیکھتے پورے بھارت میں 70کے قریب علیحدگی پسند تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ عالمی ماہرین ان تحریکوں کو محض بھارت کی ریاستی تنگ نظری‘فکری گراوٹ ‘بے حسی اور متعصبانہ رویوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔


ایک بھارتی ٹی وی رپورٹ کے مطابق صرف آسام میں 34باغی تنظیمیں کام کر رہی ہیں جو ملک کے 162اضلاع پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔ شمال مشرقی بھارت کی سیون سسٹرز (سات بہنیں)کہلا نے والی سات ریاستیںآسام، تریپورہ ، ہماچل پردیش ، میزورام،منی پور ، میگھالیہ اور ناگالینڈ باغی تحریکوں کا مرکز سمجھتے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہار، جھاڑ کھنڈ ، چھتیس گڑھ ، مغربی بنگال ، اڑیسہ،مدھیا پردیش ، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش میں بھی علیحدگی پسند گروپ سرگرم ہیں لیکن ناگالینڈ کے ناگا باغی اورنکسل باڑیوں کی تحریک بھارتی وجود کے لئے حقیقی خطرہ بن چکی ہے۔یہ علیحدگی پسند تنظیمیں جن میں زیادہ تر مسلح تنظیمیں ہیں، ایک سیکولر سٹیٹ کا کچا چٹھا کھول دینے کے لئے کافی ہیں۔ان عسکری گروہوں میں بیس کے قریب تو ایسے ہیں جو حقیقت میں بھارتی وجود کو مسلسل کھوکھلا کر رہے ہیں۔ انہی کے متعلق سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ یہ کہنے پر مجبور ہوئے تھے کہ یہ بھارت کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ ان تحریکوں میں سب سے زیادہ موثر اور سرفہرست نکسل باغی ‘ناگا لینڈ کے باغی اور مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند تنظیمیں ہیں۔


نکسل تحریک مغربی بنگال کے ایک گاؤں نیکسل باڑی سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک بڑے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔چونکہ یہ باغی چین کے عظیم انقلابی رہنما ماؤزے تنگ کے نظریات سے متاثر ہیں اس لئے انہیں ماؤسٹ یا ماؤ باغی بھی کہا جاتا ہے ۔ اب تک ہزاروں ماؤ باغی ‘عام شہری اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکار اس تحریک کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران بھارتی فوج کے ایک ہزار سے زائد اہلکار مارے جا چکے ہیں ۔ بھارت کی مختلف ریاستوں میں نیکسل باڑیوں نے قیامت برپا کر رکھی ہے ۔ 2010 میں بھارتی سکیورٹی اداروں نے ماؤ باغیوں کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور ان کے خلاف آپریشن
Green Hunt 
شروع کیا گیا جو ناکامی سے دوچار ہوا اور ماؤ بغاوت کوختم نہ کیا جا سکا۔ ایک بھارتی ادارے ’’انسٹی ٹیوٹ آف کونفیلکٹ مینیجمنٹ ‘‘کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں ماؤ باغی اپنی قوت بڑھانے میں کامیاب ہوئے ہیں اوروہ خودکو مزید طاقتور بنانے کے لئے جہاں شمال مشرقی ریاستوں میں کئی علیحدگی پسند تنظیموں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں وہیں پورے ملک کے آزادی پسندوں کے ساتھ بھی تعاون کر کے اپنا دائرہ اثر وسیع کررہے ہیں۔ 70کے قریب ان علیحدگی پسند تحریکوں میں مندرجہ ذیل زیادہ منظم سمجھی جاتی ہیں۔


ریاست آسام میں یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ، نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ برچھا کمانڈوز، یونائیٹڈ لبریشن ملیشیا،مسلم ٹائیگر فورس، آدم سینا، حرکت المجاہدین، حرکت الجہاد ، گورکھا ٹائیگر فورس اور پیپلز یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ قابل ذکرہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں لشکر عمر ، البرق، الجہاد فورس ، تحریک جہاداسلامی ، حزب المجاہدین وغیرہ بھارتی قبضے کے خلاف سرگرم عمل ہیں جبکہ پنجاب میں ببر خالصہ انٹر نیشنل ،خالصتان زندہ باد فورس، خالصتان کمانڈوز، بھنڈرانوالہ ٹائیگرز، خالصتان لبریشن فرنٹ، خالصتان نیشنل آرمی اور ریاست منی پورمیں پیپلز لبریشن آرمی ، منی پور لبریشن ٹائیگر فورس، نیشنل ایسٹ مائنارٹی فرنٹ،کوکی نیشنل آرمی ، کوکی ڈیفنس فورس اور ناگالینڈ میں نیشنل سوشلسٹ کونسل اور تری پورہ میں آل تری پورہ ٹائیگر فوس، تری پورہ آرمڈ ٹرائبل والنٹیئر فورس، تری پورہ مکتی کمانڈوز،بنگالی رجمنٹ اور میز و رام میں پروفیشنل لبریشن فرنٹ سمیت کئی تنظیمیں بھارت کے لئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔ آسام میں آزادی تحریک کی بنیاد ’’یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام‘‘نے ڈالی اور مسلح جدو جہد کا راستہ اختیار کیا جبکہ بعد میں مزید علیحدگی پسند جماعتیں بھی سامنے آئیں۔یہاں مسلمانوں کی ایک قابل ذکر تحریک ’’مسلم یونائیٹڈ لبریشن ٹائیگرز آف آسام ‘‘بھی کام کررہی ہے ۔ علاوہ ازیں بوڈو قبائل نے بھی اپنے علاقے بوڈو کی آزادی کے لئے’’ بوڈو سکیورٹی فورس‘‘ کے نام سے ایک ونگ بنا رکھا ہے۔ ناگا اور کوکی قبائل کی اکثریت پر مشتمل شمالی بھارت کی ایک چھوٹی سی ریاست مانی پور کے باشندوں کی ’’پیپلزلبریشن آرمی آ ف مانی پور‘‘کے نام سے علیحدگی پسند تنظیم سرگرم عمل ہے ۔ ریاست تری پورہ میں ’’نیشنل لبریشن فرنٹ آف تری پور ہ ‘‘کے نام سے ایک تحریک چل رہی ہے جو ایک مضبوط عسکریت پسند گروہ سمجھا جاتاہے۔ علاوہ ازیںآل تری پورہ ٹائیگر فورس بھی قابل ذکر تحریک ہے ۔ میگھالیہ ریاست میں علاقائی خود مختاری کے حصول کے لئے سرگرم عمل’’ نیشنل لبریشن کونسل ‘‘کام کر رہی ہے اور اسی طرح ایسٹ انڈیالبریشن فرنٹ ریاست آرنچل پردیش میں بھارتی تسلط کے خلاف نبرد آزما ہے ۔ ریاست تامل ناڈومیں تامل زبان بولنے والوں پر جب زبردستی ہندی نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو یہاں کے باشندے بھی بغاوت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔


تیزی سے ابھرتی علیحدگی کی ان تحریکوں کو دبانے کے لئے بھارت نے 1958ء میں ’’افسپا’’ (آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ) کے نام سے ایک کالا قانون نافذ کیا جس کا مقصد فوج کو خصوصی اور لامحدود اختیارات دے کر علیحدگی پسندرجحانات کو دبانا تھا۔اس کے تحت ایک عام سپاہی کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ کسی بھی شخص کو غدارقرار دے کر اسے قتل کر سکتا ہے ۔اس قانون کا بھیانک انداز میں استعمال کیا گیا اور کشمیر، منی پور ہ ، آسام ودیگر ریاستوں میں نہ صرف علیحدگی پسندوں بلکہ عام شہریوں کے خون سے بھی ہولی کھیلی گئی ‘بے دریغ قتل عام ہوا‘املاک جلائی گئیں‘خواتین کی آبرو ریزی کی گئی ‘غرض بھارتی فوج نے اس کالے قانون کی آڑ میں ہر جائز و ناجائز ذریعہ اور ظلم و جبر کے تمام حربے استعمال کرڈالے ‘اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علیحدگی پسند تحریکوں میں مزید تیزی آتی گئی اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس قانون کے تحت فورسز شتر بے مہار ہو گئیں اور وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہ رہیں۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں اس قانون پر کڑی نکتہ چینی کرتی ہیں اور اس کے خاتمے کے لئے آواز بلند کرتی آئی ہیں‘ حتیٰ کہ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ایک موقع پر ا س کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا تھا۔ دیگر بھارتی سیاستدانوں کی جانب سے بھی اس کالے قانون کو تمام ریاستوں سے ختم کرنے کا پرزورمطالبہ کیاجاتا رہاہے جبکہ بھارتی وزارت دفاع ہمیشہ سے اس قانون کا تحفظ کرتی آئی ہے اور اسے باغی ریاستوں کے لئے ضروری خیال کرتی ہے ۔ انسانی حقوق کی ممتا ز کارکن اور سپریم کورٹ کی سینئر وکیل ورندا گروورنے بین الاقوامی جرمن ریڈیو ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے اس قانون کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ ان کاکہنا تھا کہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ نہ صرف بھارتی آئین سے متصادم ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قانون کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے ‘کیونکہ اس کے تحت بھارتی فورسزکو مکمل طور پر فری ہینڈدے دیا گیا ہے اور کوئی ان سے باز پرس نہیں کر سکتا ۔


آخر کیا وجہ ہے کہ اس قدر سخت قوانین اور بے دریغ قتل عام کے باوجودبھی علیحدگی کی تحریکیں مسلسل پنپ رہی ہیں۔اس بابت روزنامہ ایشیا دہلی سے وابستہ انڈیا کے نوجوان صحافی عمران عاکف خان نے راقم السطور کوبتایا کہ در اصل ان آزادی پسندوں کا نئی دہلی حکام سے اعتبار اٹھ چکا ہے اور مجموعی طورپر ان تمام حریت پسندوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں بھارت سے الگ کر دیا جائے ‘ہم اپنا نظم و نسق خود سنبھالیں گے ۔ہمارے اپنے وسائل ہیں،پانی ہے،اناج ہے،زمین ہے،جنگل ہے ‘لہٰذاہم پر نئی دہلی اپنی تہذیب و ثقافت اوراپنے قوانین کا نفاذ نہ کرے اورہمیں آزادکر دیا جائے ۔جیسا کہ ماؤ باغیوں کا نعرہ ہے کہ ’’جل، جیون، جنگل(یعنی پانی،زندگی اور جنگل) ہماری یہ تینوں چیزیں ہمیں لوٹادوباقی سارا بھارت اپنے پاس رکھو مگر نئی دہلی کے حکمرانوں کو ان کے یہ مطالبات منظور نہیں اور ایک بڑی باغی تحریک کوگفت و شنید، ٹیبل ٹاک اور مفاہمتی عمل کے ذریعے غیر مؤثرکرنے کے بجائے محض فوجی طاقت پر انحصارکر کے ا سے دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جو بظاہر بار آور ثابت ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔


ان بھارتی ریاستوں میں اس لئے بھی علیحدگی کے رجحانات پائے جاتے ہیں کیونکہ ایک تو انہیں ان کی مرضی کے خلاف ’’انڈین یونین ‘‘کا حصہ بنا یاگیا تھا اور پھر بجائے بنیاد ی حقوق فراہم کر نے اور یہاں کے باشندوں کے دل جیتنے کے ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ۔ان کی تہذیب و تمدن ، شناخت اور زبان تک ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں اور آخر کار ان ریاستوں کے باشندے بغاوت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ گو وسائل کی کمیابی کے سبب بعض ریاستوں میں یہ تحریکیں زیادہ مؤثر نہیں رہیں تاہم علیحدگی کے رحجانات آج بھی پائے جاتے ہیں اور یہ ریاستیں کسی بھی پل بھارت کے چنگل سے بھاگ نکلنے کوتیار ہیں۔
ان تحریکوں کو غیر مؤثر کرنے کے لئے ضروری تھا کہ ان علاقوں کے مکینوں کو ان کے مذہبی ، سیاسی اور سماجی حقوق دیئے جاتے ۔ان کی بنیاد ی ضروریاتِ زندگی پر توجہ دی جاتی مگر مرکزی حکومت نے آج تک ا ن معاملات پر توجہ نہیں دی اور ہمیشہ سے یہ احسان جتاتی آئی ہے کہ ہم نے تمہیں مرکزی دھارے میں شامل کیا اور انڈین یونین کا حصہ بنا کر تمہیں شناخت دی ‘لہٰذا ہمارا تم پر یہی احسان کافی ہے۔


ان ریاستوں کی ناگفتہ بہ حالت کااندازہ لگائیے کہ سکول و کالجز اور دیگر عوامی و فلاحی اداروں کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے ‘پسماندگی کا دو ر دورہ ہے اور ہر جانب صرف اور صرف سکیورٹی اداروں کا ہی راج ہے اورمختلف فورسز کے دفاترو کیمپ موجود ہیں جو وہاں کی سول انتظامیہ سے زیادہ سپر پاور ہیں۔ بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ ذرا سی صورت حال کشیدہ ہوئی ،فوج نے فوراً سارا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پولیس ،کمانڈوز،آرمی اہل کار آبادیو ں میں خوفناک اسلحہ دکھا دکھا کر گشت کرنے لگے ،علاقوں میں سناٹے چھا گئے اور ماحول میں ہو کا عالم۔بھارت کی یہی وہ ریاستی دہشت گردی ہے ‘یہی وہ ظلم و جور ہے جو علیحدگی پسند فکر اور رجحانات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ صورتحال یونہی جاری رہی تولامحالہ ایک دن ایسا آئے گا جب بھارت کا ان ریاستوں کو اپنے ساتھ رکھنا ممکن نہ رہے گا اور’’ سیکولر بھارت‘‘ یا ’’انڈین یونین‘‘کے حصے بخرے ہو جائیں گے ۔محض سنگینوں کے زور پر آزادی کی ان تحریکوں کو کب تک دبایا جاتارہے گا ...؟اس کا جواب یقیناًآنے والا وقت اورآنے والا لکھاری ہی دے پائے گا۔


مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

[email protected]

یہ تحریر 127مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP