قومی و بین الاقوامی ایشوز

سیکولر بھارت میں اقلیتوں کی حالتِ زار

1947ء میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد بھارت کے ہندولیڈروں نے وقتی طور پر اقلیتوں کی ہمدردیاں لینے کی خاطر نعرہ لگایا تھا کہ بھارت کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہو گا ‘یہ ایک سیکولر ریاست ہو گی جہاں ہندو ، مسلمانوں ، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے۔ اپنے اس دعوے اور نعرے کو سچ ثابت کرنے کی خاطر آئین میں بھی بھارت کو سیکولر سٹیٹ قرار دے دیا گیالیکن عملی طور پر سب اس کے الٹ ہوا اور بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو متعصب ہندوؤں کی طرف سے روزِ اول سے ہی امتیازی سلوک کاسامنا کرنا پڑا ۔آئیے اس کا مختصر سا جائزہ لیتے ہیں۔

 

معروف صحافی اور ادیب خشونت سنگھ نے اپنی کتاب، دی اینڈ آف انڈیا، میں کہا تھا : ’’بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے ‘پاکستان یا دنیا کا کوئی بھی ملک بھارت کو تباہ نہیں کرے گا بلکہ یہ اپنے آپ ہی تعصبانہ رویوں کی بدولت خودکشی کا ارتکاب کر ے گا ‘‘۔ڈاکٹر امبیدکر نے جو بھارت کے آئین کے معمار ہیں، ہندو ہونے کے باوجود کہتے تھے کہ میں ہندو کی حیثیت سے پیداتو ہو گیا، اس لئے کہ پیدائش پر میرا بس نہیں چلتا تھا مگر میں ہندو کی حیثیت سے ہرگز نہیں مرنا چاہوں گا‘ چنانچہ وہ اپنی زندگی کے آخری دور میں بد ھ مت کے پیرو کار ہو گئے تھے۔ معروف بھارتی مصنفہ ارون دتی رائے نے 23دسمبر2015ء کو ممبئی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’ بھارت میں اقلیتیں خوف کے ماحول میں رہ رہی ہیں اور تشدد پسندی کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویوں کو ’’عدم رواداری‘‘ کے چھوٹے سے نام میں نہیں سمویا جا سکتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندو مذہب میں عدم برداشت بہت ہے اسی وجہ سے تو بھارتی آئین کے معمار ڈاکٹر امبیدکر نے ہندو مت چھوڑ کر بدھ مذہب اختیار کر لیا تھا۔ بھارت کی ممتاز صحافی تلوین سنگھ کہتی ہیں :’’بھارت میں اقلیتوں پر جس حساب سے ظلم ہو رہا ہے، اس نے ساری دنیا میں بھارت کو رسوا کر کے اس کے منہ پر کالک مل دی ہے‘‘۔

 

قارئین! ’بغل میں چھری دبا کر منہ سے رام رام کرنے والوں نے مسلم ، عیسائی اور سکھ مذہب کے حقوق آئینی سطح پر تسلیم کرنے کے باوجود روزِ ازل سے اپنے ہی بنائے گئے آئین سے انحراف کیا اور قلبی و ذہنی طور پر نہ صرف ان مذاہب کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کے ماننے والوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کردیاگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب سیکولر بھارت کا اصل چہرہ آئے روز واضح ہوتا جا رہا ہے اور یہ تیزی سے ایک متعصب ‘تنگ نظر اور تشدد پسند ہندو ریاست میں تبدیل ہو رہا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے نیشنل مینارٹی کمیشن نے کہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ بھارت میں تمام اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں کہا:’’ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہتک آمیز اور اشتعال انگیز بیانات دئیے جاتے ہیں اور ان پر حملوں، مذہب کی جبری تبدیلی کے واقعات عام ہو رہے ہیں‘‘۔ اسی ضمن میں ایک اور خبر (23دسمبر2015ء کو) آئی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیہ میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا ہے جس کے لئے 20ٹن پتھر کی پہلی کھیپ راجستھان سے بابر ی مسجد کی جگہ پہنچا دی گئی ہے۔رام مندر تحریک کے مرکزی راہنما نرتیہ گوپال داس کا کہنا ہے کہ اب ایودھیہ میں رام مندر بنانے کا وقت قریب آگیا ہے ‘دوسری جانب وی ایچ پی (وشوا ہندو پریشد)کے ایک راہنما شرد شرما نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر کے لئے کم ازکم دو لاکھ ٹن پتھر درکا ر ہے اور بیس ٹن پر مشتمل پہلی کھیپ پہنچا دی گئی ہے۔ جب مودی بر سر اقتدار آ ئے تو اس وقت ایک جریدے نے لکھا تھا: ’’رام مندر کی تعمیر کے لئے انتہا پسند صرف اور صرف نریندر مودی اور آر ایس ایس کے راہنماؤں کے ایک اشارے کے منتظر ہیں اور وہ اشارہ جلد ملا چاہتا ہے ‘‘۔

 

 

بھارت میں جب سے بی جے پی کے نریند ر مودی نے اقتدار سنبھالا ہے، ہندو انتہاپسندوں کی باچھیں کھل اٹھی ہیں اور آر ایس ایس اور وی ایچ پی جیسی پُرتشدد ہندوتنظیمیں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لئے پہلے سے بڑھ کر متحرک ہو گئی ہیں۔ جنونی ہندوانتہا پسندوں نے موجودہ بھارتی حکومت سے رام مندر کی تعمیر کے لئے اس لئے بھی بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں کہ یہی بی جے پی تھی جس نے 1991میں ریاست اتر پردیش میں اقتدار سنبھالا اور ایک سال بعد اپنی سرپرستی میں بابری مسجد شہید کروادی تھی۔ یاد رہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ بابر ی مسجد کی زمین ہندوؤں اور مسلمانوں میں برابر تقسیم کر دی جائے‘ اس کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا کہ متنازع جگہ پر کسی قسم کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سپریم کورٹ کا یہی وہ تاریخ ساز فیصلہ تھا جس کی بناء پر رام مندر کی تعمیر رکی رہی مگر لگتا ہے کہ اب مو دی نے ڈنکے کی چوٹ پر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے رام مندر کی فوری تعمیر کا حکم دے دیا ہے۔

 

جب سے نریند ر مودی نے اقتدارسنبھالا ہے، بھارت کے سیکولر ازم کی رہی سہی کسریں بھی نکل رہی ہیں۔حیرت اس امر پر ہے کہ مودی کے اقتدار میں آنے سے قبل اقلیتوں کے متعلق جو خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے وہ اس قلیل مدت میں ہی درست ثابت ہونے لگے ہیں۔ تنگ نظر ہندو ازم کا زہر پوری ریاست میں پھیل رہا ہے اور اقلیتوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ عیسائیوں، مسلمانوں اور سکھوں کو یہ کہہ کر ان کا استحصال کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی اپنی ریاستوں میں چلے جائیں کیونکہ بھارت صرف ہندوؤں کی سرز مین ہے، یہاں کسی اور گروہ ، فرقے یا مذہب کی جگہ نہیں۔ یوں اپنی مذموم اور گھٹیا حرکات سے سیکولر بھارت کے منہ پر کالک مل دی گئی اور ’’سیکولر ریاست ‘‘اپنا منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔ وی ایچ پی (ویشوا ہندو پریشد) ، بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) ، آر ایس ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ)، بجرنگ دَل اور ڈی جے ایس (دھرم جاگرن سمیتی)جیسی ہندو انتہا پسند تنظیمیں مسلسل طاقت پکڑ رہی ہیں اور ان شدت پسند تنظیموں نے ہندو نوجوانوں کو ’’سنگھ پریوار ‘‘کے نام پر متحد کرنے کی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ تقریباً سات دہائیوں بعد بھی زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ان کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ان پر عرصہ حیات اس قدر تنگ کر دیا گیا کہ ان کے لئے سانس لینا بھی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ہندوؤں کی کوشش ہے کہ مسلمانوں ‘عیسائیوں اور سکھوں کو تعلیم‘ روزگار‘ تجارت ‘غرض ہر شعبے میں پسماندہ رکھا جائے تاکہ بالآخر یہ ریاست چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔

 

بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے گئے ظالمانہ ، امتیازی اور شرمناک سلوک کے بے شمار واقعات چپے چپے پر بکھرے پڑے ہیں۔ جون 1984ء میں اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے احکامات کے تحت ا مرتسر میں سکھوں کی بہت بڑی عبادت گاہ ’’گولڈن ٹیمپل‘‘ پر انڈین آرمی نے چڑھائی کر کے اسے اس بناء پر مسمار کر دیا تھا کہ اس عمارت میں علیحدگی پسند سکھ نوجوانوں نے پناہ لے رکھی تھی جو خالصتان کی آزاد حکومت اور ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔بعد ازاں اکتوبر1984ء میں وزیرا عظم اندرا گاندھی اپنے دوسکھ محافظوں ’’ستونت سنگھ اور بے انت سنگھ ‘‘کے ہاتھوں قتل ہوئیں تو اس کے فوراًبعد کئی روز تک بھارت سکھوں کی قتل گاہ بنا رہا۔ایک اندازے کے مطابق تقریباً پانچ ہزار کے قریب نہتے سکھوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ جبکہ ایک سیکولر ریاست نے ایک لمحے کو بھی نہیں سوچاکہ سکھوں کی مقدس ترین جگہ کو مسمار کرنے کے رد عمل ہی میں اندرا گاندھی کو اس کے محافظوں نے قتل کیا تھا۔ گولڈن ٹیمپل کی مسماری سے اب تک بھارت میں سکھ کمیونٹی کو چین نصیب نہیں ہوا اور انہیں مختلف حیلوں سے ہندوشدت پسندوں اور ان کی سرپرستی کرنے والی حکومتوں کی تنگ نظری کا سامنا ہے۔

 

13اکتوبر2015ء کو بھارتی پنجاب کے علاقے فریدکوٹ میں ہندوؤں نے ایک گردوارے کے قریب سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب کے سو سے زائد مسخ شدہ نسخے پھینک دئیے۔ اطلاعات کے مطابق ان نسخوں کو گردوارے سے کچھ روز پیشتر چور ی کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے پر پولیس نے مظاہرین پر گولی چلا دی جس سے پانچ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے جبکہ لاتعداد مظاہرین کو گرفتار کرکے ان پر تشدد کیا گیا۔ بعد ازاں پے در پے گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کے واقعات بڑھے اور جالندھر، لدھیانہ ، امرتسر، کوٹ کپور میں چھ مختلف واقعات میں سکھوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کر کے سکھ کمیونٹی کے جذبات مجروح کئے گئے۔ اسی طرح 2002ء میں ریاست گجرات میں پانچ ہزار مسلح ہندوؤں نے مسلما نوں کی آبادیوں پر حملے کر کے انہیں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ ا س وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی (موجودہ وزیر اعظم بھارت)نے مسلمانوں کے قتل عام پر کہا تھا کہ یہ سب گودھرا واقعہ کا فطری رد عمل ہے (یاد رہے کہ گودھرا ٹرین حملے میں کچھ یاتری جان سے ہاتھ بیٹھے تھے جس کا الزام مسلمانوں پر لگایا گیا تھا )۔

 

بھارت میں مسیحی برادری بھی ایک بڑی اقلیت ہے جو ہندوؤں کے رحم و کرم پر ہے۔ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنا، جلانا ، مذہبی کتابوں کی بے حرمتی اور انہیں زبردستی ہندو دھرم میں شامل کرنا جیسے واقعات عام ہیں اور خوف و ہراس پر مشتمل تحریری مواد مسیحی آبادیوں میں تقسیم کرکے انہیں ہراساں کیاجاتا ہے۔ہندوؤں کا خیال ہے کہ اکھنڈ بھارت کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عیسائیوں کو ختم نہ کر دیا جائے۔ یوں بھارت میں عیسائیوں کا خاتمہ بھی ’’سنگھ پریوار ‘‘کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ 2014ء کے اواخر میں دہلی کے بڑے گرجا گھر سینٹ سیستان چرچ میں آگ لگاکر اس کی بے حرمتی کی گئی اور 2015ء کے اوائل میں دلی کے ایک اور چرچ میں توڑ پھوڑ کی گئی ‘ مجسموں کو توڑا گیا۔ چر چ میں لگے خفیہ کیمرے کی آنکھ نے حملہ آوروں کا ریکارڈ محفوظ کر لیا مگر ریاستی اداروں نے پھر بھی مجرموں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا۔ دلی میں مسیحی سکول ہولی چائلڈ پر بھی حملے ہوئے اور پولیس و دیگر ادارے ملزموں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں رہے۔ اس سے قبل ریاست کیرالہ ، آندھرا پردیش کے واقعات کسے یاد نہیں جن میں درجنوں گرجا گھروں پر بم برسائے گئے اور مسیحی قبرستانوں کو اکھاڑ دیا گیا۔ایسے واقعات کے خلاف جب بھی مسیحی برادری نے پرامن احتجاجی جلو س نکالا اور نفرت آمیز رویوں کے خلاف سراپا احتجا ج ہوئے ان پر ریاستی اداروں نے چڑھائی کر کے ان پرتشدد کیااور گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا۔ انہی حالات کو دیکھتے ہوئے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ مسئلہ اٹھایا تھاکہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا جا رہا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ، امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ہم اس امر سے یقینی طور پر آگاہ ہیں کہ بھارت میں اجتماعی طو ر پر لوگوں کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یوں تو گزشتہ 67سالوں سے بھارت میں اقلیتوں کا استحصال کیا جا رہا ہے تاہم جب سے نریندر مودی نے زمام اقتدار سنبھالی، اقلیتوں کا مستقبل مزید داؤ پر لگا دیا گیااور ان پر سرزمین ہند تنگ کر دی گئی۔ ان تمام مذاہب کے خلاف ہندوؤں کی متعصبانہ کارروائیوں اور نفرت آمیز رویوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو اہے۔ انہی حالات کے پیش نظرخطے کے تجزیہ کار مودی سرکار کو سیکولر ازم کے لئے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں اور ان کے اقدامات کو ’’سیکولر ازم ‘‘کے تابوت میں آخری کیل کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔


مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں۔ 

[email protected]


یہ تحریر 165مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP