قدرتی آفات

سیلاب 2022۔۔۔۔ مسلح افواج  امدادی اور بحالی کی سر گرمیوں میں پیش پیش

گزشتہ دنوں پاکستان نے اپنی تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کیا جب غیر معمولی مون سون کے باعث ملک بھر میں معمول سے زائد بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ پاکستان میں کم از کم 1300 سے زائد افراد ہلاک اور 33 ملین متاثر ہوئے ہیں 30 ارب ڈالر سے زائد کے نقصانات کا سامنا ہے جبکہ اس سیلاب کی وجہ سے 20 لاکھ مکمل یا جزوی تباہ شدہ گھروں، تقریباً 24000 اسکولوں، صحت کی پانچ ہزار سہولیات کی مرمت یا انہیں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ تیرہ ہزارکلومیٹر سڑکیں، پل، ہوٹل، ڈیم اور دیگر مواصلاتی ڈھانچے بھی بہہ گئے۔بارشوں نے پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان کو شدید متاثر کیا ہے۔ 



سندھ میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے7 لاکھ 22 ہزار مکانات تباہ ہو گئے جبکہ 11 لاکھ 59 ہزار کو جزوی نقصان پہنچا، صوبے میں 37 لاکھ 77 ہزار ایکڑ زرعی اراضی متاثرہوئی ہے۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلاب سے ایک کروڑ 21 لاکھ افراد متاثرہوئے، صوبے میں 23 لاکھ 18 ہزار 365 گھرانے متاثر ہوئے، 73 لاکھ 83 ہزار 23 افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جبکہ جانی نقصان اس کے علاوہ ہے ۔ 
پی ڈی ایم اے بلوچستان نے سیلاب کے باعث ہونے والی تباہی کے بارے میں رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر صوبے بھر میں 75 ہزار سے زائد مکانات منہدم ہوئے اور 1 لاکھ 50 ہزار گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق بارشوں میں 2 ہزار 378 کلو میٹر سے زائد مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں، بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر 54 پل ٹوٹ چکے ہیں، بارشوں سے 2 لاکھ 70  ہزار 744 مال مویشی مارے گئے ہیں جبکہ جانی نقصان  الگ ہے ۔



یہی نہیں ان طوفانی بارشوں اور سیلاب کے بعد صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے کم از کم چار اضلاع میں ہنگامی حالت کا اعلان کیاجبکہ جنوبی پنجاب کا علاقہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے شدید متاثر ہوا خصوصاً ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ غازی خان، راجن پور کے اضلاع سیلاب سے شدید متاثر ہیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے۔
آرمی چیف نے کور کمانڈر کانفرنس میں سیلاب کے متاثرین کی پورے ملک میں فوری مدد کا فیصلہ کیا اور فوج کو ملک بھر میں امدادی سرگرمیوں میں عوام کی مدد کے لیے سرگرم عمل رکھا۔ اس سنگین  صورتحال میں ایک بار پھر پاکستان آرمی ،پاکستان بحریہ اورپاکستان فضائیہ کے جوانوں نے اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا ۔ 
 پاکستان کی بری ،بحری اور فضائی افواج نے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاکر  سیلاب متاثرین مدد کی ۔ دور دراز یا پھر آس پاس افواج پاکستان ہر اس مقام تک  پہنچی جہاں کوئی صوبائی حکومت نہیں پہنچ سکی تھی۔سیلاب متاثرہ علاقوں کی عوام کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر  ریسکیو اور ریلیف  بحالی کے آپریشن شروع  کردیے ۔
پہلے مرحلے میں سیلاب متاثرین جو زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا تھے، ان کو بچایا گیا ۔ اس مرحلے  میں پاکستان آرمی، پاکستان نیوی اور پاکستان فضائیہ نے اپنی  quick response teams کے ٹرانسپورٹ فلیٹ ہیلی کاپٹر ز، فاسٹ سپیڈ بوٹس diving teams اور Rescue teams  کو شامل کیااور دن رات ایک کرکے آفت زدہ آبادیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا۔
دوسرے مرحلے میں افواج پاکستان کی جانب سے متاثرین کو راشن ، میڈیکل سہولیات کی فراہمی ، رہائش اور باقی ضرورت کی چیزیں دی جا رہیں ہیںجس کے لیے رفاعی اداروں، مخیر حضرات اور حکومتوں کا تعاون بھی شامل ہے۔ خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں طبی امداد کی فراہمی اور بحالی کے عمل میں افواجِ پاکستان سول انتظامیہ کی بھرپور مدد کر رہی ہیں۔ 
پاکستان کے ساحلوں، کریک اور آبی گزرگاہوں کی حفاظت کرنے والی پاک بحریہ کی جانب سے سندھ،پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے علاقوں بشمول میر پور خاص، سکھر،سانگھڑ،قمبر شہدادکوٹ ،سجاول،راجن پور،پہاڑ پور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن کیاگیا۔ ضلع دادو کے علاقوں میں محصور افراد کے انخلا کے لیے دو ہوور کرافٹ تعینات کیے ۔ان ہوور کرافٹس کی مدد سے گوٹھ احمد خان چانڈیو،خیر پور ناتھن شاہ سے سیکڑوں افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچا یا گیا ۔ ہوور کرافٹس زمین،پانی اور دلدلی علاقوں میں آپریشن کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پاک بحریہ کریکس کے علاقوں میں دفاع کے لیے ان کا استعمال کرتی ہے۔ ان ہوور کرافٹس کی سیلاب زدہ علاقوں میں تعیناتی سے ریسکیو آپریشن میں تیزی آئی اور ایسے علاقوں سے سیلاب زدگان کا انخلا ممکن ہو ا جہاں چھوٹی کشتیوں سے پہنچنا مشکل تھا۔
علاوہ ازیں افواجِ پاکستان کے اہلکاروں نے دور دراز علاقوں میں ہیلی کاپٹر کی مدد سے ریسکیو آپریشن بھی پوری تندہی سے جاری رکھا۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کو راشن،پینے کا صاف پانی اور تیار کھانا بھی فراہم کر رہی ہیں۔کئی مقامات پر میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو طبی امداد فراہم کی جا سکے۔فضائی آپریشنز کے ساتھ ساتھ فوجی دستے ریلیف آپریشنز میں سرگرم رہے اور ڈائیونگ اور ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں کا ڈیرہ اسماعیل خان، راجن پور، جام پور، فاضل پور اور سندھ کے مختلف علاقوں سمیت ملک بھر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رہا ۔ امدادی ٹیمیں جان بچانے والے سازوسامان کے ساتھ ہر طرح کی مدد فراہم کر تی رہیں اور دور دراز علاقوں میں لوگوں تک پہنچتی رہی ہیں۔اس طرح مسلح افواج کے اہلکاروں نے بدین کے علاقے ماتلی میں عیسائی اور ہندو کمیونٹی کے بچوں، بزرگوں اور خواتین سمیت مختلف افراد کو ریلیف فراہم کیا۔ یہ افراد سیلابی پانی میں دو روز سے محصور تھے۔ ان افراد کوبنیادی اشیائے ضرورت فراہم کیں۔ متاثرین میں راشن بیگز، تیار کھانا، صاف پانی اور دیگر ضروریات کی اشیاء فراہم کی جارہی ہیں جبکہ میڈیکل کیمپس کے علاوہ مختلف علاقوں میں موبائل میڈیکل ٹیمیں بھی کام کر رہی ہیں۔
اسی طرح اگر پاک فضائیہ کے ریسکیو اور ریلیف آپریشن  کو دیکھیں  تو پاک فضائیہ کے اہلکاروں نے ٹرانسپورٹ فلیٹ، ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے مقامی لوگوں کے انخلا میں مدد کی اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں طبی امداد کی فراہمی اور بحالی کے عمل میں سول انتظامیہ کی بھرپور مدد کر رہی ہے۔ پاک فضائیہ کے میڈیکل لیب کلیکشن پوائنٹس سیلاب سے متاثرہ افراد میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی تشخیص کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ وبائی امراض پر قابو پانے کی غرض سے پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیمیں طبی سہولیات کی بر وقت فراہمی میں مصروف عمل ہیں۔
یہی نہیں ترک حکومت اور پاک فضائیہ کے باہمی اشتراک کے تحت بھولاری ایئربیس کے قریب خیمہ بستی قائم کر دی گئی ہے جہاں ایک سو تیس خاندانوں کے رہنے کی گنجائش ہے۔ 



پاکستان آرمی کے دستے  دن رات ایک کرکے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں ۔  پاک آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز نے 4 ہزار 659 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ۔ ریلیف کیمپس اور امدادی اشیاء جمع کرنے کے پوائنٹس مکمل فعال ہیں، ملک بھر میں 147 ریلیف کیمپس، 157 امدادی اشیاء  کلیکشن پوائنٹس قائم ہیں۔
اس سیلاب کے دوران پاکستان آرمی کا کمراٹ میں کیا جانے والا ریسکیو آپریشن انتہائی قابل ذکر ہے جہاں 200 سیاح سیلابی ریلے اور موسمی صورت حال کے باعث پھنس گئے تھے۔ جن میں خواتین اور شیر خوار بچے بھی شامل  تھے۔



وادی کمراٹ کے دونوں اطراف دریاکا بہائو بہت تیز ہوگیا تھا اور تمام رابطہ پل ٹوٹ گئے تھی، مسلسل بارش کی وجہ سے نالوں میں طغیانی سے لینڈسلائیڈنگ بھی ہورہی تھی۔ اس خطرناک موسمی صورتحال میں پاک فوج کے جوانوں نے کامیاب ائر ریسکیو آپریشن کیا۔ اسی دوران کور کمانڈر کوئٹہ جنرل سرفراز سمیت ڈ ائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی اور بریگیڈیئر خالد،عملے کے تین ارکان پائلٹ میجر سعید احمد، پائلٹ میجر محمد طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض نے لسبیلہ میں اپنے فرض کی ادائیگی میں جام شہادت نوش کیا۔ 
پاکستان میں جب بھی غیر معمولی صورتحال ہو چاہے 2005 کا زلزلہ ہو یا  2010 کا سیلاب ،کرونا کی وبا یا پھر حالیہ طوفانی بارشوں کے بعد کی تباہ کاریاں ، افواج پاکستان  اپنا فرض نبھانے کے لیے پیش پیش ہوتی ہے ۔اس فرض کی ادائیگی میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرتی ہے۔ ||


مضمون نگار معروف صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 229مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP