خصوصی رپوٹ

سیلاب دو ہزار چودہ اور پاک فوج کا کردار

عوام سے اعتماد کا رشتہ پاکستان آرمی کا طرہ امتیاز اور اثاثہ ہے ۔ افواج پاکستان نہ صرف اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں بلکہ مصیبت کی ہر گھڑی میں وہ قوم کی دادرسی کے لئے موجود ہوتی ۔ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کا سیلاب ‘ پاکستان آرمی نے ہمیشہ قوم کی پُکار پر لببیک کہا ہے۔ پچھلے چند سالوں سے مُون سُون کے موسم میں پاکستان بھر اور خاص کرپنجاب میں سیلاب نے بے پناہ تباہی مچائی ہے۔ بے شمارلوگ بے گھر ہوئے اور کئی دیہات زیر آب آئے ۔ لوگوں کے مال مویشی اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ 1980 سے لے کر 2010 تک 87,053لوگ لقمہ اجل بن گئے جبکہ5کروڑ سے زائد لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے۔ پچھلے 3سال سے لگا تار پاکستان کو سیلاب کا سامنا ہے ۔ اگرچہ پاک فوج اس وقت دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے تاہم چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی ہدایت پر پاکستان آرمی نے سب سے پہلے راولپنڈی ڈویژن ، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں ریسکیو اور ریلیف کا آغاز کیا ۔ مسلسل بارشوں کی وجہ سے ریسکیو کا کام انتہائی مشکل تھا۔مگر جہاں جذبے موجود ہوں وہاں کوئی رکاوٹ راستے میں حائل نہیں ہو سکتی ۔ سرائے عالمگیر میں ہیلی آپریشن کے ذریعے تقریباََ80لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔ گلگت میں دیو سائی کے مقام پر جو کہ سولہ ہزار فُٹ کی بلندی پر واقع ہے‘ سخت برف باری کے باوجود 33افراد کو اُنکے مال مویشی کے ساتھ بحفاظت چلم کے مقام پر پہنچایا گیاجہاں ان کے لئے ایک ریلیف کیمپ قائم کیا گیاہے ۔جہاں ان لوگوں کو نہ صرف طبی امداد دی گئی بلکہ کھانے پینے کے علاوہ رہائش اور دیگر سہولیات بھی مہیا کی گئیں ۔ 5ہیلی کاپٹرز اور350سے زیادہ کشتیوں پر مشتمل پاکستان آرمی کے ریلیف دستوں نے1700سے زیادہ سیلاب میں گھرے لوگوں کو کوٹ مومن ، پنڈی بھٹیاں ، جلال پور بھٹیاں ، وزیر آباد ، وانی تارڈ، رسول نگر اور چنیوٹ سے محفوظ مقام پر پہنچایا ۔ اس کے علاوہ دس ہزار سے زیادہ راشن پیکٹ ہیلی کے ذریعے سیلاب متاثرین تک پہنچائے گئے ۔ گوجرانوالہ میں پاکستان آرمی نے54ریلیف کیمپ اور73موبائل میڈیکل کیمپ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لئے قائم کئے۔ علااوہ ازیں آرمی ٹروپس کو ملتان ، ڈی جی خان، لیہ ، ساہیوال اور تریمو ہیڈ ورکس میں کسی بھی نا گہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے چوکس کر دیا گیا ہے ۔ چیف آف آرمی سٹاف نے گجرانوالہ ڈویژن کا دورہ کیا اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مصروف فوج کے جوانوں سے ملاقات کی۔ آرمی چیف نے ہدایت کی کہ سیلاب متاثرین کی ہر قسم کی مدد کی جائے اور اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھا جائے۔ یہ سیلاب جنوبی پنجاب سے ہوتا ہوا سندھ کے علاقوں میں پہنچے گا جس سے سیلاب کی تباہ کاریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ قدرتی آفات سے لڑنا آسان نہیں تاہم مناسب منصوبہ بندی سے نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹھوس منصوبہ بندی کے ذریعے ایسے نقصانات کو کم سے کم کیا جائے۔ پاکستان آرمی اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے متاثرین کی بحالی اور امداد میں مصروف ہے ۔ ضرب عضب میں مصروف ہونے کے باوجود پاکستان آرمی نے نہایت تیزی کے ساتھ لوگوں کی تکالیف کو کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔

یہ تحریر 11مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP