متفرقات

سیلابی پانی ۔۔۔اور آنکھوں کا پانی

اس سال کا سیلاب تو سمندر میں غرق ہوا۔ لیکن اگلے سال کے لئے کیا بندوبست ہے؟ مانا کہ حکومتی اداروں اور خاص طور پر افواج پاکستان نے مشکل میں گھرے اپنے ہم وطن سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کی اور اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ لیکن تعریف کے ساتھ اگلے سال کی تدبیر بھی کرنی ہے۔ پھر مون سون آئے گا۔ پھر پانی چڑھے گا اور کہیں یہ سیلابی پانی پھر سے غریب کی آنکھ کا پانی نہ بن جائے اس کی تدبیر کرنی ہو گی۔
یہ کوئی دو چار سو افراد کا نوحہ نہیں

تو ہزاروں خاندانوں کو بہا کر لے گیا

تجھ کو فصلوں کی تباہی پر ذرا آیا نہ رحم

کھیت کم تھے‘ جو کسانوں کو بہا کر لے گیا

شاہراہوں کی تباہی کا مجھے صدمہ نہیں

غم یہ ہے علمی خزانوں کو بہا کر لے گیا

بادشاہوں کے محل موجود ہیں اپنی جگہ

تو فقط کچے مکانوں کو بہاکر لے گیا

سیلاب۔۔۔ سیل آب۔۔۔ اور پھر آیا پورا پاکستان زیر آب ہر سال آتا ہے یہ سیلاب۔ ہر سال ہوتی ہے تباہی‘ ہر سال ہوتے ہیں نوحے‘ہر سال ہوتے ہیں نئے وعدے اور دعوے۔ ہر سال ہم قلم‘ کیمرے اور مائیک والوں کو ایک نئی کہانی مل جاتی ہے۔ لیکن جن گھروں کے مہکتے اور چہکتے دالانوں کی کہانیاں اجڑ جاتی ہیں‘ جن کے پیاروں کے لاشوں کو سیلابی پانی غسل دیتا ہے۔ جن کی جوان فصلیں آن کی آن میں بوڑھے مردہ جسموں کی مانند ڈھے جاتی ہیں ان کا قصہ سال بھر بعد سب بھول جاتے ہیں۔سیلابی پانی تو اُتر جاتا ہے لیکن جن کی آنکھیں غم سے پانی پانی ہو جاتی ہیں وہ پانی مشکل سے اترتا ہے ‘ آخر ایسا کیوں؟ پاکستان حادثات و آفات کی زد میں ایسا گِھرا ہے کہ ہم ہر لمحے نئے حادثے
اور آفت کا انتظار کرتے ہیں اور گزر جانے والی آفت اور حادثے کے انجام پر غور نہیں کر پاتے۔ ورنہ یہی 2010کا سیلاب تھا جس سے سبق سیکھنے کے ہم نے دعوے تو بہت کئے تھے پھر یہی 2011کا سیلاب۔ بعد کے سالوں میں بھی آنے والے چھوٹے سیلاب اور اب 2014میں ایک بار پھر وہی بڑی تباہی۔ ہر سال فلڈ کمیشن بنتے رہے اور نظر انداز ہوتے رہے۔ آخر ہم رپورٹس بھی کتنی پڑھیں؟ حادثات بھی اتنے ہیں! لیکن کیا یہ سیلاب کی آفت کو کہیں ہم خود دعوت تو نہیں دیتے؟ آخر ہم نئے Damsکیوں نہیں بناتے؟ آخر ہم نہری نظام کو بہتر کیوں نہیں کرتے؟ آخر ہم دریا کنارے غیرقانونی بند اور آبادیاں ختم کیوں نہیں کرتے؟ آخر ہم جنگلات کی غیرقانونی کٹائی روکتے کیوں نہیں؟ آخر ہم طوفانی بارشوں سے نمٹنے کا نظام کیوں نہیں بناتے؟ ایسی بارشیں پوری دنیا میں ہوتی ہیں‘ صرف پاکستان میں ہی تو نہیں ہوتیں۔ دوسرے ممالک کے نظام سے ہم سیکھتے کیوں نہیں؟ مانا کہ سیلاب ایک ایسی قدرتی آفت ہے جسے مکمل روکنا بس میں نہیں لیکن کیا اس کے نقصانات کم سے کم کرنا بھی ہمارے بس میں نہیں ؟ چلئے کالاباغ ڈیم کو تو ہم نے ایک متنازع مسئلہ بنا دیا لیکن چھوٹے ڈیمز بنانے پر کس نے اعتراض کیا؟ عالمی ادارے بھی پاکستان میں سیلاب کے متعلق اپنی رپورٹس جاری کرتے ہیں اور نئے چھوٹے ڈیم کی تعمیر اور نہری نظام کی بہتری کی تجویز دیتے ہیں۔ ہر سال یہ بیش قیمت پانی‘ جو ہمارے زرعی ملک کے لئے اﷲتعالیٰ کی رحمت ہو سکتا ہے‘ ایک زحمت بن جاتا ہے۔ قصبے‘ گاؤں‘ شہر ڈوب جاتے ہیں اور ہم صرف امداد پہنچانے کے لئے رہ جاتے ہیں۔ عوام کی حفاظت کا باعث کیوں نہیں بنتے؟ اس لئے کہ میرے اور آپ کے پکے گھر تو محفوظ ہیں جناب! گھر ڈوبتا اور بہتا ہے تو غریب کا۔ اور غریب کا کیا۔۔۔؟ دو بول دلاسوں کے‘ دو تھیلے راشن کے اور دو قسطیں امداد کی اسے بہلا لیتی ہیں۔ لیکن حضور! ریاست اور سیاست نام ہے عوام کی خدمت کا اور ان کے جان و مال کی حفاظت کا۔۔۔ اور یہی درس تو دیتا ہے اسلام جس کے نام پر مبنی ہے ہماری اسلامی مملکت پاکستان! اس سال کا سیلاب تو سمندر میں غرق ہوا۔ لیکن اگلے سال کے لئے کیا بندوبست ہے؟ مانا کہ حکومتی اداروں اور خاص طور پر افواج پاکستان نے مشکل میں گھرے اپنے ہم وطن سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کی اور اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ لیکن تعریف کے ساتھ اگلے سال کی تدبیر بھی کرنی ہے۔ پھر مون سون آئے گا۔ پھر پانی چڑھے گا اور کہیں یہ سیلابی پانی پھر سے غریب کی آنکھ کا پانی نہ بن جائے اس کی تدبیر کرنی ہو گی۔ متعلقہ حکومتی ادارے ابھی سے بیٹھیں اور کوتاہیوں پر خلوصِ نیت سے غور کریں‘ نشاندہی کریں اور جہاں غلطی ہو‘ اسے درست کریں اور اس ضمن میں کسی اثر و رسوخ یا دباؤ کو خاطر میں نہ لائیں۔ جہاں غیرقانونی یا ’زمیندارہ‘ بند ہو اُسے ختم کروایا جائے۔ جہاں غیرقانونی آبادیاں ہیں انہیں بھی ختم کروائیں۔ نئے ڈیم بنوائے جائیں۔ نہری اور آب پاشی کے نظام کو بہتر کیا جائے۔ جتنی فلڈ کمیشن رپورٹس ہیں ان پر سختی سے عمل کیا جائے۔ ایک نیشنل کانفرنس بلائی جائے اور سیلاب اور اس کے نقصانات سے بچاؤ کا حتمی پلان او رحکمت عملی بنائی جائے۔ جہاں جہاں ضرورت ہو افواج پاکستان کی مدد بھی ضرور حاصل کی جائے۔ اور یہ آج ہی کرنا ہو گا۔ اس کے لئے پانچ سال کی مدت کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ بارشیں او رسیلاب پانچ سال کسی کا انتظار نہیں کرتیں۔ اگلے سال بارشوں اور سیلاب سے کسی کا گھر نہ اجڑے۔ اس کہانی کی تحریر آج سے ہی لکھنی ہو گی۔ سیلاب ہمارے وطن کی زمینوں کو سیراب ضرور کرے لیکن سیلابی پانی کسی کی آنکھ کا پانی نہ بنے‘ یہ سوچنا ہو گا اور عمل کرنا ہو گا۔ سوچئے کس نے یہ سیلاب کی آفت دی ہے ان حوادث کو خود انسان نے دعوت دی ہے
مضمون نگار غریدہ فاروقی ایک مشہور رپورٹر‘ اینکر پرسن اورنجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

اِک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا

(منیر نیازی)

اور یہ آج ہی کرنا ہو گا۔ اس کے لئے پانچ سال کی مدت کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ بارشیں اورسیلاب پانچ سال کسی کا انتظار نہیں کرتیں۔ اگلے سال بارشوں اور سیلاب سے کسی کا گھر نہ اجڑے۔ اس کہانی کی تحریر آج سے ہی لکھنی ہو گی۔ سیلاب ہمارے وطن کی زمینوں کو سیراب ضرور کرے لیکن سیلابی پانی کسی کی آنکھ کا پانی نہ بنے‘ یہ سوچنا ہو گا اور عمل کرنا ہو گا۔

یہ تحریر 23مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP