متفرقات

سیرالیون میں بحالی امن میں پاک فوج کا کردار

پاکستانی سپاہی پچھلے 67سالوں میں جہاں بھی بحالی امن کے لئے اقوام متحدہ کے دستوں کا حصہ بنے ہیں‘ انہوں نے وہاں ہمیشہ ملک کا نام روشن کیا ہے۔ دنیا کے شاید ہی کسی ملک کو کامیابیوں کے تناسب کے لحاظ سے اتنی پذیرائی ملی جتنی پاکستان کے حصے میں آئی۔ پاکستانی دستوں نے اپنی اعلیٰ کارکردگی اور پیشہ ورانہ مہارت سے یہ ثابت کیا ہے کہ افواج پاکستان دنیا کی بہترین افواج ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی امن فوج میں شامل ہو کر 1960میں قیام امن کے لئے کام کا آغاز کیا۔ پاکستان کا پہلا دستہ کانگو گیا جہاں فرض سے لگن اعلیٰ اخلاق‘ ایثار اور قربانیوں کی وجہ سے اس نے کامیابیاں حاصل کیں۔ سرالیون میں اقوام متحدہ کا امن مشن کامیابیوں کے تناسب کے لحاظ سے شاید سب سے کامیاب امن مشن تھا جہاں امن کے قیام کا سہرا بلاشبہ پاکستانی دستوں کے سر ہے۔ جنہوں نے اپنی مہارت انسان دوستی اور نظم و ضبط کے اعلیٰ معیار کی بدولت ایسے علاقے میں امن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جہاں باغی گروپ خونریزی میں مصروف رہتے تھے۔ یہ لڑائی ہیروں کے علاقے پر قبضہ کے لئے تھی۔ کونوہیروں کی پیداوار کے لحاظ سے ایک زرخیر علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں شہر کے چاروں طرف پھیلے ہوئے وسیع و عریض میدانوں میں مقامی لوگ صبح و شام ہیرے کے کانیں کھودتے نظر آتے تھے۔ دراصل انہی ہیروں کی پیداور ہی خانہ جنگی کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ تھی۔

انسانی تاریخ میں ہیروں کا ایک منفرد مقام اور اہمیت رہی ہے۔ یہ ہیرے جہاں نہایت قیمتی اور خوبصورت ہونے کے باعث بڑے بڑے شہنشاہوں اور امراء کے لئے باعثِ زینت رہے ہیں۔ وہیں ڈاکوؤں، لٹیروں اور سمگلروں کی بے پناہ دلچسپی کی وجہ سے اپنے مالک کے لئے خطرۂ جان و مال بھی رہے ہیں۔ مگرایسا بہت کم ہوا ہوگا کہ حکومتِ وقت ایک مضبوط معیشت اورفعال دفاعی اداروں کی موجودگی میں نہ صرف ہیروں کی کانیں (Mines)غیر حکومتی عناصر سے چِھنوا بیٹھے بلکہ ہیروں کے حرص اور لالچ میں پھیلنے والی بدامنی کے نتیجے میں پورا ملک ہی اپنے ہاتھ سے گنوا کر عوام کو لٹیروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے پر مجبور ہو جائے۔ براعظم افریقہ کے مغرب میں واقع سرالیون قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ مشرقی ضلع کونو میں ہیروں کے ذخائر ہیں تو جنوب مغرب میں ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر، جس میں خام تیل کے بیش بہا ؤخائر موجود ہیں۔حقیقت میں پورا ملک خوبصورت اور حسین سبز وادیوں پر مشتمل ہے۔ سیرالیون نے7 2 اپریل 1961 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی ۔سیرالیون پرتگالی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے شیروں کا پہاڑ۔ اس ملک میں 60 فی صد مسلمان30 فی صد عیسائی اور 10 فی صد پرانے عقائد کے مختلف قبائل آباد ہیں۔ یہ تمام مذاہب آپس میں بہت پیار محبت سے رہ رہے تھے کہ اچانک کسی کی نظر لگ گئی۔ 1990کی دہائی سیرالیون کے عوام کے لئے بدحالی، تباہی و بربادی اور خانہ جنگی کا پیغام لے کر آئی ۔ اس سارے کھیل میں سیر الیون کے بے گناہ اور مجبور لوگوں کے خوشیوں بھرے آنگن ویران ہوگئے ۔ کلیسا‘ جن میں حضرت یسوع مسیحؑ کے ماننے والے محبت کے گیت گاتے تھے‘ ویران ہو گئے۔ مسجدیں‘ جن میں اللہ اکبر کی صدائیں گونجتی تھیں، انسانی وجود کو ترسنے لگیں۔ جہاں کبھی محبت کے پھول کھلتے تھے وہاں نفرت کی خاردار جھاڑیوں نے اس ملک کے ہر باسی کے دامن کو تار تار کردیا ۔ محبت کی دیوی سب سے ناراض ہوگئی ، نفرت کی آگ نوجوانوں کے سینوں میں بھڑکنے لگی اور لوگ سازشی عناصر کے آلۂ کار بننے لگے۔ ہیروں سے مالامال زمینوں پر قبضہ کرنے کے لئے خون کی ہولی کھیلی گئی۔ اتنی گولیاں برسیں کہ رنگ و نسل، بڑے چھوٹے اور مردوزن کی تمیز ختم ہوگئی۔ بچے جو کبھی کھلونوں سے کھیلتے تھے روٹی کی بھیک مانگتے نظر آنے لگے اور بوڑھے اپنی قوم کی زبون حالی پر ماتم کرنے لگے غرض ہر طرف مایوسی پھیل گئی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ملک بہت خوشحال تھا۔ یہاں کی کرنسی لیون ہے۔ 1990 میں ایک لیون کے بدلے ڈیڑھ ڈالر مل جاتے تھے۔ پھر ہیروں پر قبضہ کرنے کی لئے خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ لالچ نے پیار اور محبت کی چادر کو تار تار کردیا۔ ایک بھائی متحدہ انقلابی محاذ(Revolutionary United Front) کا سر گرم کارکن بن گیا تو دوسرا بھائی اُس کے سب سے بڑے مخالف گروپ سی ڈی ایف (Civil Defence Force) میں شامل ہو گیا۔ بھائی بھائی کی جان کا دشمن ہو گیا۔ ایسی خونریز خانہ جنگی شروع ہوئی کہ پورا ملک تباہ ہو کر رہ گیا۔ سرکاری ادارے تباہ ہوگئے ۔ شہروں کے شہر جلادیئے گئے اور لوگ جان بچا کر جنگلوں میں جا چھپے۔ لیون ایسا گرا کہ 2002 میں ایک ڈالر لینے کے لئے 2400 لیون دینے پڑتے تھے۔ 1998 میں اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے (UNOMISL) United Nation Observer Mission in Sierra Leone قائم کرتے ہوئے جناب Okeloکو سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا خصوصی نمائندہ اور مشن کاسربراہ مقر ر کیا ۔ اس مشن نے جنگجوؤں سے اسلحہ واپس لینے اور سر الیون کی سکیورٹی فورسز کی تشکیل نو کا مشورہ دیا۔ پھر 7 جولائی1999 کو اقوام متحدہ ہی کی کوششوں سے صدر کباہ اور RUF کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جسے (LPA) Lome Peace Agreementکا نام دیا گیا۔ طرفین کی طرف سے صدر کباہ اور Fody Sankoh نے معاہدے پر دستخط کئے۔ جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر ادارے ثالثی اورمصالحت کروانے میں پیش پیش رہے۔ ان کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، لائبریا، لیبیا، نائیجیریا اور گھانا کی حکومتوں کے سربراہان اور نمائندوں نے بطور مبصر اس معاہدہ امن میں شرکت کی۔ سکیورٹی کونسل نے1999 میں اس معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے UNOMISLکو ختم کر کےUNAMSIL کی بنیا د رکھی۔ اگرچہ UNAMSIL کے ابتدائی ممبران کی تعداد2000 رکھی گئی۔ لیکن اس تعداد کو بڑھاکر مارچ 2001 تک 17,500کر دیا گیا۔ جن میں پاک فوج کے بہادر افسران، تجربہ کار سردار اور شیر دل جوان بھی شامل تھے۔ سیرالیون کو امن کی راہ پر واپس لانے کے لئے جو کوششیں ہوئیں ان میں سب سے کار آمد اور نتیجہ خیز بات UNAMISL کا قیام تھا۔ کیا اقوام متحدہ کی سیر الیون میں قیام امن کی کوشش بار آور ہوئیں؟ کیا (UNAMISL)امن کی فاختہ کا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوا؟ ان سوالات کے جوابات ہمیں سیرالیون کے بچوں ، بوڑھوں، نوجوانوں نے دیا جب ہم اپنے کیمپ سے نکل کر سیرالیون کے عوام سے ملے۔ UNAMISL کی آمد کے بعد صورت حال بتدریج بدلنے لگی تھی جنگل ویران ہونے لگے اور شہروں میں آبادکاری ہونے لگی۔ جن گھروں پر فقط آسمان سایہ فگن تھا، وہاں چھتیں پڑنے لگیں ۔ پاک فوج نے اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے سیرالیون کے عوام کو پُر امن ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خوراک ، لباس ، رہائش، صحت ، کھیل، اور مواصلات کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ، جنگ سے تباہ شدہ بہت سے چرچ اور مساجد کی مرمت اور تزئین و آرائش کی۔ مذہب رنگ اور نسل کی پروا کئے بغیر انسانیت کی فلاح کے لئے کام کیا۔یہی وجہ ہے کہ آج سیرالیون کے عوام پاکستانی فوج کا بہت احترام کرتے ہیں اور اُن سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔

آج ہم سیرالیون میں جا کر دیکھیں تو ہمیں زندگی کی کرن نظر آئے گی۔ Chop Chop کی صدائیں لگانے والے بچے آج Good Morning اور السلام علیکم کہہ کر اپنی محبت کا اظہار کریں گے۔ سیرالیون کے نوجوان آج اقوم متحدہ اور پاکستان کو اپنا غم خوار اور ہمدرد قراد یتے ہیں۔ بزرگوں کے لبوں پر دعائیہ کلمات ہیں ۔ مسجد یں اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے انسانیت کو در گزر اور بھائی چارے کا درس دے رہی ہیں۔ گرجا گھروں میں محبت کی شمعیں روشن ہورہی ہیں اور پیار و محبت کے گیت گائے جارہے ہیں۔ نوجوان اپنی اقتصادی حالت کو سنوارنے کی ٹھان چکے ہیں ۔ کھیلوں کے میدان آباد نظر آتے ہیں۔ بازاروں میں زندگی کی جھلک نظر آتی ہیں۔ لوگوں میں قانون کے احترام کا جذبہ اُجاگر ہوچکا ہے اب ہر کوئی امن و امان کی بحالی اورملک کی ترقی کے لئے سر گرم نظر آتا ہے۔ آج وہ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ محبت و ایثار سے ایک دوسرے کے دل فتح کرنا چاہتے ہیں۔عوام شکر گُزار ہیں اقوام متحدہ کے کہ جس نے اُنہیں امن کی راہ دکھلائی۔ وہ اس بات کے معترف ہیں کہ UNAMISL کے ہر رکن نے امن کے پیامبر کا کردار ادا کیا اور ہمیں فخر ہے کہ ہم نے امن کے سفیربن کر اپنی خدمات سر انجام دیں ہم خوش ہیں کہ آج سیرالیون کے باشندے ماضی کی تلخیوں کو فراموش کر کے دوبارہ بغل گیر ہو رہے ہیں۔ آج اُن میں نہ کوئی فاتح ہے اور نہ کوئی مفتوح۔ وہ آپس میں ہی نہیں بلکہ ہمارے بھی بھائی ہیں۔ وہ بڑے پیار سے کہتے ہیں Thank You Pakistan

(جو بات دشمن سے پوشیدہ رکھنا چاہئے دوست سے بھی پوشیدہ رکھو ہو سکتا ہے کبھی وہ تمہارا دشمن بن جائے۔ (حضرت لقمان

(احسان ہر جگہ بہتر ہے مگر ہمسائے کے ساتھ بہترین ہے۔ (حضرت مجدد الف ثانی

(غصہ کے پی جانے سے بہتر ہے کہ معاف کر دو کیونکہ جو شخص غصہ پی جائے اور معاف نہ کرے ممکن ہے اس کے دل میں کینہ جڑ پکڑ جائے۔ (حضرت نظام الدین اولیاء

(جب دو آدمی کسی مسئلہ پر بحث کئے بغیر متفق ہو جائیں تو ثابت ہوتا ہے کہ دونوں بے وقوف ہیں۔ (برنارڈشا

(بری کتابیں ایسا زہر ہیں جو جسم کو نہیں روح کو مار ڈالتی ہیں۔ (لیوٹاٹسائی

یہ تحریر 27مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP