قومی و بین الاقوامی ایشوز

سید علی گیلانی:فکر ِ اقبال کی انسانی تصویر

بیسویں صدی کے حریّت پسندوں میں، سید علی گیلانی کا امتیاز کیا ہے؟
یہ وہ صدی ہے جس میں انسانی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہو ئی۔یہ صدی سلطنتوں کے خاتمے اور قومی ریاست کے آغاز کا اعلان تھا۔ قومیت (Nationalism)  اس دور کا سب سے مقبول نعرہ تھا جو آزادی کی تحریکوں میں بلند ہو تا اور لوگوں کو ایک نئے عہد کی نوید سناتا تھا۔ رنگ و نسل اور علاقے کو قومیت کی اساس تسلیم کیا جاتا تھا اور اسی بنیاد پرنئی مملکتیں قائم ہو رہی تھیں۔
برصغیر میں بھی آزادی کی تحریک بر پا تھی۔ مگر اس تحریک کا رنگ دیگر خطوں میں اٹھنے والی تحریکوں سے مختلف تھا۔یہاں قومیت کا ایک نیا تصور جنم لے رہا تھا۔اس تصور کی اساس مذہب تھا۔مسلمانوں میں یہ احساس بہت گہرا تھا کہ وہ برصغیر کے شہری ہونے کے ساتھ مسلم  شناخت بھی رکھتے ہیں اور وہ اس سے دستبردار ہو نے کو تیار نہیں تھے۔ مسلمان کسی ایسے حل کو قبول کر نے پر آمادہ نہیں تھے جس سے انہیں دو میں سے کسی ایک شناخت کو قبول کر نا پڑے۔وہ اس سر زمین سے محبت رکھتے تھے لیکن انہیں یہ دکھائی دے رہا تھا کہ بدیشی حکمرانوں سے آزادی ان کے مسائل کا حل نہیں۔انہیں اس سوال کا جواب بھی مطلوب تھا کہ انگریزوں کے جانے کے بعدان کی اسلامی شناخت کیسے باقی رہ سکتی ہے؟ 
علامہ اقبال پہلے آدمی تھے جنہوں نے اس مسئلے کا ایک قابلِ عمل حل پیش کیا۔ان کا خیال یہ تھا کہ انگریز یہاں موجود رہیں یا چلے جائیں،دونوں صورتوں میں مسلم اکثریتی علاقوں کو ایک خود مختار حیثیت دے دی جائے۔اس سے مسلمانوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور انہیں کسی آزمائش سے گزرنا نہیں پڑے گا۔انہوں نے اس مقدمے کے حق میں مضبوط دینی اور سیاسی دلائل پیش کیے۔یہ تصور بعد میں دو قومی نظریہ کے عنوان سے معروف ہوا۔
علامہ اقبال کی ا س فکرکو جن نوجوانوں نے دل و جان سے قبول کیا،ان میں سے ایک سید علی گیلانی تھے۔علی گیلانی کی عمر ایک سال ہوگی جب علامہ اقبال نے یہ بات کہی۔ جب وہ جوان ہوئے تو اقبال کا فکر بھی عالمِ شباب کو پہنچ گیا تھا اور بر صغیر کی اکثریت اسے اپناچکی تھی۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی دوسرے شخص تھے جو اس وقت  قومیت کے وطنی تصور کے خلاف قلمی جنگ لڑ رہے تھے۔سید علی گیلانی نے دونوں سے اثر قبول کیاجب وہ اورینٹل کالج لاہور کے طالب علم تھے، علامہ اقبال سے ان کو عشق تھا۔انہوں نے علامہ اقبال کے فکرکو حرزِ جاں بنایااور ان کے فارسی کلام کا ترجمہ کیا۔پاکستان کا تصور ،فکرِ اقبال کی معرفت ان کے دل و دماغ میں اترا اور پھر یہاں اس طرح مقیم ہوا کہ موت بھی انہیں اس سے الگ نہیں کر سکی۔وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کا تابوت سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا تھا اور یہ بات بھارتی حکومت کو کسی طور گوارا نہ تھی۔
سید علی گیلانی نے سب سے زیادہ فکرِ اقبال سے کسبِ فیض کیا۔اس سے ان کی فکری بنیادیں ایسی مستحکم ہوئیں کہ وہ کشمیر اور پاکستان کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھ نہیں سکتے تھے۔جس طرح ناخن گوشت سے جدا نہیں ہو سکتا،اسی طرح وہ سمجھتے تھے کہ کشمیر کو پاکستان سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔اس بات پر وہ اتنی مضبوطی سے کھڑے تھے کہ ان کی استقامت پرلوگوں کو حیرت ہوتی ہے۔
 سید علی گیلانی نے اپنے گھر پر علامہ اقبال کے ایک سو ساتویں یومِ ولادت پر ایک تقریب کا اہتمام کیا۔گویا اقبال کے ساتھ ان کا جو جذباتی رشتہ نوجوانی میں استوار ہوا،وہ آخری وقت تک جوان تھا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ قرآن و سنت کے ساتھ اقبال کا مطالعہ بھی کرتے رہیں۔واقعہ یہ ہے کہ یہی وہ بات ہے جو علی گیلانی کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ان کی تصنیف''روح ِدین کا شنا سا:اقبال'' اس کی ایک شہادت ہے۔
وہ یہ بات سمجھتے تھے کہ پاکستان اور کشمیر کے لوگوں کا رشتہ محض جغرافیائی نہیں ہے۔یہ پختہ نظریاتی تعلق ہے جس کو زوال نہیں۔وہ اسے دنیاوی سودو زیاں سے ماورا ایک رشتہ سمجھتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ ماہ و سال گزرتے رہے مگر ان کی پاکستان سے وابستگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔وہ پاکستان پر اپنا اتنا ہی حق سمجھتے جتنا کسی شہری کا ہو سکتا ہے۔وہ رہتے تو مقبوضہ کشمیر میں تھے مگر ان کا دل اہلِ پاکستان کے ساتھ دھڑکتا تھا۔
فکرِ اقبال کے زیرِ اثر انہوں نے یہ بھی جانا تھا کہ پاکستان سے محبت یا اسلام سے وابستگی کا مطلب کسی دوسرے مذہب سے نفرت نہیں۔ان کے کشمیر کی ہندو پنڈتوں سے تعلقات رہے اورانہوں نے مذہبی اختلاف کو سماجی تعلقات میں حائل نہیں ہونے دیا۔اس کا اندازہ ایک واقعے سے کیا جا سکتا ہے۔ان کے علاقے سوپور میں ٹائن ایریا کمیٹی کا چیئرمین ایک ہندو پنڈت تھا جس کا نام اوتار کشن گنجوتھا۔وہ1972سے 1983 تک چیرمین رہا۔جب نیشنل کانفرنس نے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک  پیش کی تو سید علی گیلانی کی ہدایت پر جماعت اسلامی سے وابستہ وارڈکمیٹی کے اراکین نے اوتار کشن کی حمایت کی اور وہ اپنے منصب پر بر قرار رہے۔وہ دلی میں سردیوں میں جس فلیٹ میں رہتے تھے،اس کے اوپر ایک کشمیری ہندو فیملی آباد تھی جس کے ساتھ ان کے گھریلو تعلقات تھے۔اسی طرح1986 میں جب کشمیر میں ہندو مسلم فساد برپا کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ ہندو گھروں اورمندروں کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کھڑے ہوئے۔
سید علی گیلانی کا یہ کردار انہیں بیسویں صدی کے حریت پسندوں میں ممتاز بناتا ہے۔وہ کسی مرحلے پر اپنے اخلاقی وجود کی سلامتی سے بے خبر نہیں رہے۔انہوں نے آزادی کی جنگ کو ایک دینی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھ کر لڑا۔اگر ہم اس عہد میں برپا ہونے والی آزادی کی دیگرجنگوں اوران کے لیڈروں کے احوال کا مطالعہ کریں توشاید ہی کوئی رہنما ہو جو اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کے بارے میں اس طرح متنبہ ہو۔یہ اسلام کے گہرے مطالعے کا نتیجہ تھا کہ وہ آزادی اور سماجی تعلقات کے مطالبات کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور ان میں موجود فرق کا لحاظ رکھتے تھے۔
سید علی گیلانی نے آزادی کے لیے ہمیشہ سیاسی جد وجہد کو ترجیح دی۔وہ تین بار مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔تاہم ان کے اس پرامن کردار کو سراہنے کے بجائے بھارتی حکومت نے انہیں قید میں ڈالے رکھا اور آزادی کا نعرہ بلند کرنے والوں کو مسلسل ریاستی تشدد کا نشانہ بنائے رکھا۔سیاسی کوششوں کی ناکامی اور بھارتی ریاست کے ظالمانہ طرزِ عمل نے نوجوانوں کے ایک گروہ کو مسلح جد وجہد پر ابھارا۔سید علی گیلانی کی شخصیت ان کے لیے بھی حوصلہ مندی کا نشان بنی رہی۔یوں انہوں نے بھی مقتل میں کھڑے ہو کر اہلِ عزیمت کی روایت کو زندہ رکھا۔  
سید علی گیلانی دنیا سے رخصت ہوئے لیکن اہلِ کشمیر کے دلوں سے کبھی رخصت نہیں ہوں گے۔جب تک کشمیر آزاد نہیں ہو جا تا،علی گیلانی کا نام زندہ رہے گا اور آزادی کے بعد بھی ان کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جن کے مجسمے بنائے جاتے ہیں تاکہ ہر آنے والی نسل کو یاد دلایا جا تا رہے کہ ان کی آزادی کن لوگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔علامہ اقبال نے ایسے لوگوں ہی کے بارے میں کہا ہے:
فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مرکز سے  دور رہتا ہے ||


 مضمون نگار معروف دانشور ،سینیئر تجزیہ کار اورکالم نویس ہیں۔
 [email protected]


 

یہ تحریر 46مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP