ہمارے غازی وشہداء

سیاچن نے بھی جنہیں جھک کر سلام کیا

خدیجہ محمود شاہد کی اپریل 1989 میں سیاچن کے بلند ترین محاذ پر آپریشن چمک کے دو اہم کرداروں
 کیپٹن کامران اور لیفٹیننٹ نوید سے انٹرویوپر مبنی ہلال اُردوکے لئے خصوصی تحریر



سیاچن دنیا کا بلند ترین محاذِ جنگ جہاں دشمن سے بڑا ایک اور دشمن ہے۔ وہ ہے شدید ترین موسم جہاں کا درجہ حرارت سردیوں میں منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے۔ برف کا وہ صحرا جہاں برفانی طوفان اور Land Slideہونا معمول کی بات ہے۔ جہاں خون منجمد کر دینے والی بے مہرہوائیں جسم و جان کو شل کردیتی ہیں۔ لیکن سلام ہے عزم و ہمت کے ان پیکروں پر جن کے سینے میں دل کی جگہ پاکستان دھڑکتا ہے وہ برف کے اس ظالم ریگستان میں بھی Volunteer کرکے جاتے ہیںکہ اس بلند ترین مقام پر بھی سبز ہلالی پرچم اسی آن سے لہراتا رہے۔ سیاچن جہاں کے برفیلے تودوں تلے کتنے سجدے مدفون ہیں۔ جس کی یخ بستہ وادی میں کتنی اذانوں ، کتنے نعرئہ تکبیر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے آج بھی گونجتے ہیں۔ یہ ہے سیاچن۔۔۔ بہادروں کا مسکن۔
کچھ فتوحات لوحِ آسمانی پر لکھی جاچکی ہوتی ہیں۔ آج کی تحریر دنیا کے بلند ترین محاذِ جنگ سیاچن کی تاریخ کے ایک اہم ترین معرکے ،''آپریشن چمک ''کی داستان ہے۔ تحریر میری ضرور ہے لیکن تفصیلات و واقعات ان دو غازیانِ داستانِ شجاعت نے رقم کی ہیں کہ آج بھی چمک سیکٹر کی چوٹیاںجن کے نام پر نویدبیس اور کامران ٹاپ کے نام سے پہنچانی جاتی ہیں، جن کے فاتحین اس وقت کے کیپٹن کامران (ستارئہ جرأت) اور لیفٹیننٹ نوید(ستارئہ جرأت) اور آج کے لیفٹیننٹ کرنل محمدکامران (ستارئہ جرأت، تمغۂ امتیاز) اور میجر نوید خان (ستارئہ جرأت، تمغۂ امتیاز) ہیں۔(میں ریٹائرڈ کا لفظ ساتھ نہیں لگا رہی کیونکہ میرا ماننا ہے کہ پاک فوج کا کوئی غازی ، کوئی سپاہی کبھی ریٹائرنہیں ہوتا)
Once a Soldier, Always a Soldier 
دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفاں
اس مصرعۂ اقبال کے سانچے میں ڈھلے ہیں
جس خاک سے اٹھے تھے کبھی طارق و خالد
اس خاکِ مقدس سے خمیر ان کے اٹھے ہیں
یہ داستان سر فروشی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اپریل1989 کے اوائل میںسگنل کور کے ایک مستعد آپریٹرنے اپنے وائرلیس سیٹ پر دشمن  کے کچھ پیغامات سنے جو کہ سیاچن میں چمک سیکٹر کے علاقے میں اس کے خطرناک عزائم کی نشاندہی کررہے تھے۔دشمن کا مقصد اس علاقے کی بلند ترین چوٹی 22158 Point  پر پہنچ کر اپنی پوسٹ قائم کرنا تھا۔ اگر وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو جاتے تو اس چوٹی کے سامنے دور تک نظر رکھ سکتے تھے اور باآسانی پاکستان کی نسبتاً زیریں پوسٹوں پر فائر گرا سکتے تھے۔
اطلاع کے مطابق دشمن آہستہ آہستہ اس چوٹی پر پیش قدمی کرچکا تھا۔ پاک فوج کے پاس اس خطرناک صورت حال سے نمنٹنے کا صرف ایک حل موجود تھا کہ ہندوستانی ٹروپس سے پہلے ہم اس چوٹی پر پہنچ جائیںا ور اس پر قبضہ کرکے اپنی پوزیشن کومستحکم کرلیں۔
وقت کم تھا۔ دشمن سے علاقہ بچانا تھا۔ اگر پیدل فوج بھیجی جاتی تو بہت وقت لگتا اور دشمن کی نظروں میں بھی آجاتے۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی Teamبھیجنا  ناممکن تھا ایک آخری ذریعہ  Sling Operationیعنی جوانوں کو ہیلی کاپٹر سے رسے سے لٹکا کر ایک ایک کرکے چوٹی کے قریب کسی مناسب جگہ پر گرایا جائے۔
 معلومات کے مطابق دنیا کی تاریخ میں پہلے کبھی کسی جنگ میں یہ طریقہ استعمال نہیں ہو ا تھا ۔ صرف سامان کی ترسیل کے لئے ہی یہ ذریعہ استعمال کیاجارہا تھا۔ لیکن اب معاملہ مختلف تھا، ارضِ پاک کے دفاع کے عہد کو پورا کرنے کا وقت آگیا تھا۔موقع پر موجود افسر وجوان اس آپریشن میں حصہ لینے کے لئے پُرجوش تھے۔
سرفروش و جا ں نثار
جرأتوں کے راز دار
شاہ سوار و شہہ سوار
بندگانِ کردِگار
شانِ لشکرِ جہاد
پاک فوج زندہ باد
19 اپریل 1989 کو فیصلہ ہوا کہ یہ ٹاسک کیپٹن کامران کو دیا جائے لیکن وہیں موقع پر موجود لیفٹیننٹ نوید کا اصرار تھا کہ یہ سعادت پہلے وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو موقع دیا جائے۔ یہ بات جب میرے علم میں آئی تو میں ماضی کی ان ساعتوں میں پہنچ گئی جب 
        صف بستہ تھے عرب کے جوانانِ تیغ بند
تھی منتظر حنا کی عروس زمینِ شام
اِک نوجوان صورتِ سیماب مضطرب
آکر ہوا امیرِ عساکر سے ہم کلام
اے بوعبیدہ!  رخصت پیکار دے مجھے
لبریز ہو گیا ہے میرے صبرو سکوں کا جام
زندگی ایک بار ملتی ہے۔ جان کس کو عزیز نہیں ہوتی لیکن اس احساس کو کیانام دیا جائے؟ کیا وہ لذتِ سرشاری ہوگی کہ موت کا کوئی خوف نہیں بلکہ ایک سے بڑھ کر دوسرا اپنی جان کی بازی لگانے کے لئے آگے بڑھ رہا ہے۔
میںنے سوچا کہ کیوں نہ جنگی تاریخ کے اس اَنہونے اور مشکل ترین آپریشن کے مرکزی کرداروں سے خود بات کرکے اس معرکے کی تفصیلات معلوم کروں۔
میںنے اس وقت کے لیفٹیننٹ نوید اور آج کے میجر نوید (ستارئہ جرأت، تمغۂ امتیاز) سے رابطہ کیا۔ انہوں بتایا کہ ''سیاچن پر اس سے پہلے کبھی ایسا Sling Operation نہیں ہوا تھا، ایسے علاقے میں آپ اس طرح ہیلی کاپٹر سے رسے سے لٹک کر جائیں جہاںGaitatioal Pull ہوMammatus cloudsہوں، آکسیجن کی شدید کمی ہو۔ برف اور ہوا کا طوفان ہو اور دشمن کے فائر کا بھی اندیشہ ہو۔ 
مجھے رسے کی مدد سے ہیلی کاپٹر کے نیچے لٹکایا گیا۔  ہیلی کی اُڑان بھرنے کے ساتھ ہی برفانی طوفان شروع ہوگیا۔ میں ہیلی کے نیچے رسے سے لٹکتا جارہا تھا یخ بستہ ہوا کے تھپیڑے میرے جسم پر لگ رہے تھے۔ مجھے اپنی رگوں میں خون جمتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔  موسم کی شدت اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے میرے ناک اور کان سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا۔Point 22158 کے نیچے اور تھوڑا پیچھے مجھےRunning drop دیاگیا۔ یعنی گرایاگیا۔ وہاں پہنچ کر میںنے اپنے آپ کو سنبھالا اور اﷲ تعالیٰ سے مدد کی دعا مانگی کہ یا اﷲ مجھے میرے مقصد میں سرخرو فرما۔ 
سلام ہے اس آپریشن میں شامل پاک فوج کے ان دونوں ہوا بازوں کیپٹن سہگل اور کیپٹن ضیاء کی جرأت اور پیشہ ورانہ مہارت کو جنہوںنے اس آپریشن کو انجام دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کیونکہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اتنی بلندی پر اور برفانی طوفان کے اندر ہیلی کاپٹر کو اتنی اونچائی تک لے کر جانا اور Sling Operationکو انجام دینا واقعی غیر معمولی بات تھی۔ اقبال نے ایسے ہی دلیر شاہینوں کے لئے کہا تھا:     
       محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
     ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
تقریباًایک گھنٹے کے بعد ہیلی کاپٹر SSG کے نائیک یعقوب کو لے کر آیا۔ پرواز کے دوران ہی نائیک یعقوب کوFrost Biteہونا شروع ہوگیا تھا۔ پہاڑی کی دوسری طرف مجھے دشمن کی حرکت نظر آئی جس سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ دشمن بھی22158 کی جانب بڑھنے کی کوشش کررہا ہے۔
میںنے اپنی SMG سے کچھ فائر مختلف جگہوں پر بیٹھ کر کئے میرا مقصد یہ تھا کہ دشمن کو یہ تاثر دیا جائے کہ پاک فوج ان سے پہلے ہی اس مقام پر پہنچ گئی ہے تاکہ ان کے ایڈوانس کوSlowکیا جائے اور اس دوران ہماری مزید نفری بھی پہنچ جائے۔
ہیلی کاپٹر جب اپنی تیسری پرواز کے دوران ہمارے لئے کھانے پینے کی اشیاء اورخیمے وغیرہ کا بنڈل لارہا تھا تو دشمن کا فائر اس بنڈل پر لگا اور سارا  سامان راستے میں ہی گرگیا۔ اگلے د ودن تک موسم کی خرابی کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کی پرواز ممکن نہ ہوسکی۔ میں اور نائیک یعقوب کھلے آسمان تلے دشمن سے زیادہ اس بے رحم موسم سے لڑتے رہے ۔ دو دن تک برفانی طوفان جاری رہا۔ نائیک یعقوب کے ساتھ مجھے بھی Frost Bite  ہونا شروع ہوگیا تھا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھا رہے تھے اور اﷲ سے دعا کررہے تھے کہ اے زمین و آسمان کے مالک ہمیں اتنی مہلت دے دے کہ موسم ٹھیک ہوتے ہی ہمارے مزید ساتھی پہنچ جائیں تاکہ اس سیکٹر میں دشمن کی پیش رفت کو روکا جاسکے۔
میں کیا لکھوں ان شیر جانبازوں کے لئے کہ اس کڑے وقت میں بھی اپنی جان سے زیادہ پاک سرزمین کا جذبہ ہر تکلیف اور پریشانی پر حاوی تھا۔
21 اپریل 1989 کو موسم تھوڑی دیر کے لئے بہتر ہوا۔ پاک فوج کے ایک اور شیردل افسر کیپٹن کامران کی باری تھی جو دو دن سے بے صبری سے آگے جانے کا انتظار کررہے تھے۔ کرنل کامران نے گفتگوکے دوران  مجھے اپنے اس معرکتہ لآرا اور مشکل ترین سفر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ''موسم صاف ہوتے ہی مجھے رسے کی مدد سے ہیلی کاپٹر کے نیچے لٹکایاگیا۔ ساتھ میں ضروری سامان کا ایک بیگ جس میں وائرلس سیٹ، اسلحہ ، کھانے کی چیزیں وغیرہ بھر کے میری کمر کے ساتھ باندھا گیا۔ جیسے ہی ہیلی نے پرواز بھری ہیلی پیڈ پر کھڑے جوانوں کی نعرئہ تکبیر، اﷲ اکبر، پاکستان زندہ باد کے نعروں کی آواز میرے کانوں میں گونجی، میں نے دل سے دعا کی یا اﷲ جس مقصد کے لئے مجھے بھیجا جارہا ہے مجھے اس میں کامیابی عطا کرنا۔
شدید ہوا کی وجہ سے پرواز انتہائی ناہموار تھی۔ ایک شدید جھٹکے کے نتیجے میں میرا سر نیچے اور پائوں اوپر کی طرف  ہوگئے۔ باقی تقریباً 15 منٹ کا سفر میںنے اسی حالت میں طے کیا۔ اس دوران میں نے سیدھا ہونے کی بہت کوشش کی جس کی وجہ سے میری کمر پر بندھے ہوئے سامان کا بیگ جس میں میرا اسلحہ بھی تھا گرگیا۔پائلٹ کی کوشش تھی مجھے اس جگہ ڈراپ کیا جائے جہاںلیفٹیننٹ نویدموجود تھا۔ مگر اسی دوران دشمن کا فائر آناشروع ہوگیا جس کی وجہ سے مجھے تھوڑی دور ہی گرا دیاگیا۔ گرنے کے بعد میری حالت یہ تھی کہ نہ میرے پاس اسلحہ تھا اور نہ ہی ضروری سامان۔ سب کچھ راستے میں گرگیاتھا۔ میںنے تھوڑی دیر تک اپنے حواس بحال کئے پھر میںنے نوید والی پوزیشن کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ اس دوران میرے اردگرد دشمن کا فائر آرہا تھا۔ جب میں لیفٹیننٹ نوید اور یعقوب کے پاس پہنچاتو وہ دو دن تک کھلے آسمان تلے رہنے کی وجہ سے خاصی حد تکFrost Bite  کا شکار ہو چکے تھے۔ جسم پر نقاہت طاری تھی لیکن اﷲ کے فضل سے جذبے اور ہمت میں کوئی کمی نہیں تھی۔ اسی دوران دشمن کا ہیلی کاپٹر ہماری طرف آتا دکھائی دیا۔ میںنے نوید کی SMG لے کر  اس پر فائر کیا جس کے نتیجے میں وہ ہیلی واپس چلاگیا۔ کچھ دیر کے بعد پاک فوج کا ایک اور ہیلی کاپٹر آیا۔ جس میں میرے لئے اسلحہ، واکی ٹاکی اور کچھ راشن کابیگ تھا ،اسے ہمارے قریب گرا دیا۔ میںنے اﷲ کا شکر ادا کیا کہ اب میرے پاس اپنا اسلحہ تھا اور واکی ٹاکی کے ذریعے میرا رابطہ اپنے سیکٹر ہیڈکوارٹر سے بھی ہوگیا تھا۔ 
میںنے نوید اور یعقوب کوبیگ سے نکال کر کچھ کھجوریں کھانے کو دیں لیکن ان کے جبڑے اتنے خراب ہو چکے تھے کہ کھجور چبانہیں سکتے تھے۔ میںنے برف لے کر اس میں انرجائل ملا کر نوید کے منہ میں ٹپکانے کی کوشش کی لیکن اس کا حلق بند ہونے کی وجہ سے پانی بھی نہیںنگل پایا۔ آخر کار مجبور ہو کر میںنے انرجائل کا ایک گھونٹ اپنے منہ میں بھر کے پریشر سے نوید کے منہ میں ڈالا جس کی وجہ سے کچھ قطرے اس کے گلے میں چلے گئے۔ میں یعقوب کے ساتھ بھی یہی عمل کیا اس کے بعد میںنے نوید کے کان میں اذان دی۔
اتنی دیرمیں ہیلی کاپٹر مزید پانچ جوان اور کچھ ضروری سامان لے کر پہنچ گیا۔ پھر ہم سب نے مل کر اس جگہ کوٹھہرنے کے قابل بنایا کیا اور ایک محفوظ جگہ پر دو چھوٹے خیمے بھی نصب کئے۔ اب اس پوزیشن نے ہمارے لئے Base Campکا کام کرنا تھا۔ آج بھی چمک سیکٹر کی یہ جگہNaveed Base کے نام سے جانی جاتی ہے۔
میں نے3 جوان یعنی لانس حوالدار اسلم ، نائیک جاوید اور سپاہی صیدخان کو ساتھ لیا اور اپنے مشن کے مشکل ترین مرحلے یعنیPoint 22158کی طرف سفر کا آغاز کیا۔ وہ راستہ ایسا تھا کہ جس میں تقریباًساڑھے تین ہزار فٹ کی گہری کھائی تھی اور اس کے دوسری جانب بالکل عمودی ڈھلوان تھی۔ کھائی کراس کرنے کے بعد ہم نے عمودی ڈھلوان  پر چڑھنا شروع کیا لیکن برف کی وجہ سے پائوں بار بار سلپ ہو رہا تھا اور چڑھنا بہت مشکل تھا۔ اس کا حل ہم نے رسوں کی مدد سے نکالا یعنی برفیلی چٹانوں میں میخیں ٹھونک کر اور رسے باندھ کر آہستہ آہستہ چڑھنا شروع کیا۔ جب ہماری ٹیم تقریباً چٹان کے درمیان تک پہنچی تو دشمن نے ہمیں دیکھ لیا اور اس کی طرف سے ہم پر شدید فائر آنا شروع ہوگئے۔ ہم رسوں کی مدد سے تقریباً لٹکے ہوئے تھے اور فائر سے بچنے کی کوئی جگہ بھی نہیں تھی۔ میںنے اپنے ساتھیوںسے کہا کہ ہمارے پاس دو راستے ہیںیا تو ہم نیچے واپس چلے جائیں یا چوٹی کی جانب چڑھتے ہیں۔گولی نیچے اُترتے ہوئے بھی لگ سکتی ہے اور اوپر چڑھتے ہوئے بھی۔ طارق بن زیاد کی طرح میںنے اپنی کشتیاں جلا دی ہیں۔ ہمارے پاس واپسی کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ میرے تمام ساتھیوں نے ایک زباں ہو کر کہاسرہم اوپر چلیں گے۔''
کرنل کامران نے مزید بتایا کہ'' دشمن کی جانب سے فائر آتا رہا لیکن اﷲ نے ہماری حفاظت کی اور ہم اوپر کی طرف چڑھتے رہے بیچ میں ایک ایسا موقع آیا کہ پائوںSlip  ہونے کی وجہ سے میں پھسل کر رسے سے لٹک گیا۔ مجھے نیچے ہزاروں فٹ گہری کھائی نظرآرہی تھی۔ اﷲ نے اپنا کرم کیا ،مجھے ہمت دی اور میںنے دوبارہ اپنا توازن ٹھیک کیا۔ میں رسے سے ہوا میں لٹک رہا تھا تو موت مجھے سامنے نظر آئی۔ یقین کریںمجھے موت کا کوئی خوف نہیں تھا۔ میں اپنا مشن مکمل کرنا چاہتا تھا۔ میں اﷲ تعالیٰ سے اس کے پیارے رسولۖ اور اصحابِ بدر رضی اﷲ عنہم  کا واسطہ دے کر دعا مانگی کہ جیسے تونے بدر والوں کی مدد کی تھی آج اُن کے صدقے میں ہمیں بھی کامیابی عطا کر۔''
اصحابِ بدررضی اﷲ عنہم کا واسطہ سُن کر بخدا میری آنکھوں میں آنسو آگئے کیسے نہ آتے؟
کتنا عجیب اتفاق تھا کہ معرکۂ بدر بھی ماہِ رمضان میں ہوا اورمعرکۂ چمک بھی رمضان میں ہو رہا تھا۔
فرزندانِ وطن اوپر کی جانب جارہے تھے۔چلنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا تھا۔ اس دوران سیکٹر کمانڈر نے کیپٹن کامران سے صورت حال پوچھی کیپٹن کامران کا جواب تھا ''نصرمن اﷲ وفتح قریب''
 سر! انشاء اﷲ فتح قریب ہے۔
آفرین ہے اس پاک دھرتی کی مائوں پر جنہوںنے ایسے شیر بہادر پیدا کئے جو ملک کی حفاظت کی خاطر اپنی جان پر کھیل رہے تھے۔جسم و جان کو چیرتی ہوئی بے رحم ٹھنڈک رسوں کی مدد سے چڑھتے ہوئے شل بازو، برف میں جمتے ہوئے پائوں اور دشمن کا آتا ہوا فائر۔
مگر ہمت نہ ہاری بیشۂ ایماں کے شیروں نے 
شجاعت کی دکھا دی شان اسلامی دلیروں نے
آخر کار کیپٹن کامران اور ان کے ساتھی چمک سیکٹر کی سب سے بلند چوٹیPoint 22158پر پہنچ گئے۔ کچھ اس ادا سے ان فرزندانِ توحید نے یہ معرکہ سرانجام دیا۔ خدا کی رحمت کو جوش آیا اس کا کرم شامل حال ہوا۔ اس چوٹی پر قبضہ کرنے کا دشمن کا جواب شرمندئہ تعبیر نہ ہوسکا۔ کامران نے واکی ٹاکی پر سیکٹر کمانڈر کو نوید سناتے ہوئے قرآنِ پاک کی آیت پڑھی جس کا ترجمہ ہے ''حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور بے شک باطل مٹنے کے لئے ہے۔''
اس دوران دشمن نے Point 22158پر فائر کیا جس کا کیپٹن کامران اور ان کے ساتھیوں نے بھرپور جواب دیا۔ دشمن جان گیا تھا کہ وہ Point 22158 پر پہنچنے کی  بازی ہار چکا ہے اور اس کی اس علاقے میں قائم کردہ تین اور پوسٹس کامران اور اس کے ساتھیوں کی زد میں آچکی ہیں۔
 بتا دیا ہے میری فوج کے جوانوں نے 
ہمارے ساتھ لڑو گے تو حشرکیا ہو گا
یہ بات وادی گنگ و جمن کو یاد رہے
ہمالیہ پہ ہمارا ہی نقشِ پا ہو گا
یہ چوٹی جو پہلے اپنی بلندی کی وجہ سے پہچانی جاتی تھی وہ آج تک اور ہمیشہ کے لئے کامران ٹاپ کے نام سے جانی  پہچانی جاتی رہے گی۔
جرأت وشجاعت کے اس بے مثال کارنامے پر کیپٹن کامران اور لیفٹیننٹ نوید کو ستارئہ جرأت سے نوازا گیا اور کیپٹن کامران کو میجر اور لیفٹیننٹ نوید کو کیپٹن کے رینک پر پروموٹ کردیاگیا۔
سیاچن کی تاریخ کی یہ بہت بڑی فتح تھی۔ اس معرکے نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ خالد بن ولید، طارق بن زیادہ ، موسیٰ بن نصیر، سلطان ٹیپو شہید کے جاں نشینوںکا لہو آج بھی سرخ ہے۔ کیپٹن کامران ، نوید، اور اُن کے ساتھیوں کی طرح مادرِ وطن کے سپوت آج بھی اس بلند ترین جنگی محاذ پر اس سبزہلالی پرچم کی حفاظت اسی جذبے سے کررہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس دنیا میںعزت اور سربلندی صرف ان کے لئے ہے جو اس کی قیمت ادا کرسکتے ہیں۔ قوم کی عظمت کی داستانیں اسی خون سے لکھی جاتی ہیں جودفاعِ وطن کے لئے بہنے کو تیار رہتا ہے۔
ہم نے ہر عہد کے فرعون کو غرقاب کیا
ہم ہیں دریائوں میں طوفان اٹھانے والے
ہم نے کفار کو منہ توڑ شکستیں دی ہیں
ہم ہیں ہر دور کی تاریخ بنانے والے
نوٹ :  آج 19 اپریل 2020 ہے میری یہ تحریر آج سے 31 برس قبل 19اپریل1989کوہونے والے اس تاریخی معرکے کے فاتحین، غازیانِ چمک  آپریشن کو چھوٹا ساہدیہ ہے اور فدایانِ رسولۖ کے غیور بیٹوں کے لئے جو دفاعِ وطن کا مقدس فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ سلامتی کی دعا ہے۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد !!


مضمون نگارمیڈیا سائیکالوجسٹ اور رائٹر ہیں۔ 
[email protected]

یہ تحریر 36مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP