متفرقات

سیاچن بہادروں کا مسکن

سیاچن صرف ایک لفظ نہیں ہے بلکہ یہ ایک دنیا ہے جس میں بہت ساری کہانیاں زندہ دفن ہیں۔ برف کا صحرا دنیا کے سب سے بلند ترین محاذِ جنگ ’سیاچن‘ کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے‘ ڈاکو مینٹریز بھی بنائی جاچکی ہیں لیکن آج تک کسی نے اس انداز سے نہیں سوچا تھا کہ اس موضوع پر تھیٹر کا کوئی کھیل بنایا جاسکے۔

 

انور مقصود پاکستان اور پوری دنیا میں اپنے قلم کے ذریعے ایک مضبوط شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں لکھتے ہوئے مجھے الفاظ کے چناؤ میں کافی دقت ہو رہی ہے۔ کیونکہ جو خود لفظوں کے سحر سے لوگوں کو مسحور کردے اس کے بارے میں کیا لکھوں۔ یوں تو انور صاحب نے ٹی وی کے لئے بہت سی شاہکار اور لازوال تخلیقات پیش کیں اور بے تحاشا داد پائی۔ پھر تھیٹر کی جانب قدم بڑھایا اور ایک سے بڑھ کر ایک کامیاب کھیل پیش کیا۔ پونے چودہ اگست‘ سوا چودہ اگست ‘ آنگن ٹیڑھا‘ ہاف پلیٹ‘ دھرنا۔۔۔ لیکن جس کھیل کا ذکر اب ہو رہا ہے اس کھیل نے اپنے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں ایسا جکڑا ہے کہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ پاکستان سے باہر بھی اس کھیل کی بازگشت گونج رہی ہے۔

 

سیاچن انور مقصود کا وہ شاہکار ہے جو ایک وقت میں دیکھنے والوں کے قہقہے سنواتا ہے تو دوسرے لمحے میں آنکھوں میں آنسوؤں کی قطار دکھاتا ہے۔ سیاچن صرف ایک کھیل نہیں ہے۔ یہ آنسوؤں ‘ مسکراہٹوں اور شجاعت کی نہ ختم ہونے والی کہانی ہے۔ سیاچن دراصل پاک فوج کی دلیری، قربانی اور برف کے صحرا کے مکینوں کو انور مقصود کے قلم کاخراجِ تحسین اور ساری قوم کی طرف سے سلام ہے۔ سیاچن کیوں لکھا گیا ؟ کن کے لئے لکھا گیا؟ لکھنے کے پیچھے کیا محرکات تھے اور کن مراحل سے گزر کر یہ شاہکار وجود میں آیا۔۔۔ ان تمام سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لئے ہم اس ملک کے مایہ ناز قلمکار اور ڈرامہ نویس انور مقصود کے ہاں جا پہنچے۔ ذیل میں ان سے گفتگو کے چیدہ چیدہ اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

 

سوال : آپ نے بہت سارے کھیل لکھے اور سارے سپر ہٹ گئے لیکن دیکھا جائے تو سیاچن ایک بہت ہی مختلف نوعیت کا موضوع ہے۔ ایسے کیاجذبات یااحساسات تھے جنہوں نے آپ سے سیاچن جیسے موضوع پر لکھوایا؟

انور مقصود: پنجاب اورفرنٹیئر کے چھوٹے چھوٹے قصبے اور گاؤں ہیں وہاں کے سپاہی جاتے ہیں اور وہ واپس نہیں آتے۔ وہ جب جاتے ہیں تو اپنے بیوی بچوں سے‘ والدین سے ادھورے وعدے کرتے ہیں کہ ’’ہم لوٹ آئیں گے۔‘‘ ہمارے ہاں یہ مانا جاتا ہے کہ شہید زندہ رہتے ہیں۔ وہ زندہ تو رہتے ہیں مگر گھر نہیں آتے۔ ان سپاہیوں کا گھر آنا بہت ضروری ہے۔ میں اپنے کئی سپاہیوں کے خاندانوں سے ملا تو انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے بارے میں کیوں نہیں لکھتے؟ تب میں نے فیصلہ کیا کہ میں سیاچن پر لکھوں گا۔فوج سے میرا اتنا زیادہ تعلق نہیں ہے۔ خیر فیصلہ یہ ہوا کہ آئی ایس پی آر سے اجازت لیتے ہیں کیونکہ ان کی اجازت اور مدد کے بغیر اس پر کام نہیں کیا جاسکتا تھا۔ پھر آئی ایس پی آرمیں کرنل صلاح الدین صاحب سے بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ لکھیں گے تو یقیناًبہت اچھا ہوگا۔ ’آپ لکھیں‘ جو بھی مدد ہوگی وہ آئی ایس پی آر فراہم کرے گا‘خیر میں نے سکرپٹ لکھنا شروع کردیااورآئی ایس پی آر کو بھیجتارہا۔ شروع میں تو سمجھ نہیں آیا کہ کریں گے کیسے پھر یاسر (جس نے آنگن ٹیڑھا میں سلیم ناصر والا رول کیا تھا) سے سیٹ کو ڈیزائن کروایا کہ ’’ پہاڑی بناؤ‘ اس نے کہا کہ 2 پہاڑیاں بناتے ہیں۔ ایک پاکستان دوسری ہندوستان کی۔ میں نے کہا نہیں ہندوستانیوں کی صرف آواز آئے گی۔ جس پر کام شروع ہوگیا اور مختلف مراحل سے گزرتا ہوا آج سیاچن ڈرامہ سب کے سامنے ہے۔ اس کی بے پایاں مقبولیت ہی اس کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

 

میرا لکھنے کا طریقہ ہے کہ مزاح بھی ہو اور جو میسج میں دینا چاہ رہا ہوں وہ بھی پہنچ جائے۔ میں دوبار سیاچن جا چکا ہوں اور میں نے ان سپاہیوں سے باتیں بھی کی ہیں۔ یہ ہلکا پھلکا مذاق بھی کرتے ہیں آپس میں ‘ کبھی سگریٹ کا‘ کبھی پانی گرم کرنے کا‘ تو کبھی لُڈو کھیلتے ہوئے معصوم سی بے ایمانی کا‘ میں نے کہا کہ سچ لکھتے ہیں جو ہے وہی دکھایا جائے۔ ظاہر ہے اس جنگ پر بہت پیسہ خرچ ہورہا ہے اور اس جنگ کا انجام کسی کومعلوم نہیں۔ اب جو آپریشن ضربِ عضب شروع ہوا ہے میری نظر میں تو پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسی جنگ نہیں ہوئی کہ دشمن معلوم ہی نہیں کہ کون ہے مگر ہماری پاک فوج وہاں بھی اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ سیاچن میں ہمارے سپاہی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں 13شو کرنے تھے لیکن وہاں 52 شو ہوئے۔ اسلام آباد میں جب یہ کھیل پیش کیا تو جیسے بچے روتے ہیں میں نے لوگوں کو ویسے روتے دیکھا۔ اسلام آباد میں لوگ کہہ رہے تھے کہ اس کو مزید بڑھائیں لیکن میں نے کہا کہ ملتان میں بھی فوجی رہتے ہیں تو یہ ملتان میں بھی پیش کرتے ہیں۔ مجھے کہا گیا کہ ملتان میں کوئی اس طرح کا ڈرامہ دیکھنے نہیں آئے گا۔ ملتان میں ہم نے 6 شو کرنے تھے ہم نے وہاں 22 شو کئے۔ اسی طرح فیصل آباد میں پہلی مرتبہ شو کیا۔ ان لوگوں کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ بغیر ناچ گانے کے بھی کوئی شو ہو سکتا ہے اب کراچی میں ہو رہا ہے۔ میرا صرف یہ ایک چھوٹا سا خراجِ تحسین ہے اُن سپاہیوں کے لئے۔ کیونکہ اس ملک کے سب سپاہی اچھے ہیں صرف حکم کے منتظر رہتے ہیں کہ جانا ہے۔ کہاں جانا ہے؟ یہ نہیں پتا‘ کیوں جانا ہے؟ یہ بھی نہیں پتا، بس ایک چھوٹا سا صندوق تیار کیا، بچوں کی تصویریں رکھیں اور چل دئیے۔ ایک نظم کا مصرعہ ہے کہ

جانے والے سپاہی سے پوچھو وہ کہاں جارہا ہے۔۔۔

 

بس وہی مصرعہ میرے دماغ میں تھا۔۔۔ کمال کی بات اس میں تمام نوجوان ادا کاروں کی ہے جو پہلی مرتبہ کوئی کھیل کررہے ہیں نہ کبھی انہوں نے سٹیج کیا‘ نہ فلم کی‘ نہ ہی ٹی وی میں کام کیا۔یونیورسٹیوں کے طا لب علم ہیں اور جورسپانس اسلام آباد‘ ملتان ‘ فیصل آباد اور کراچی میں ملا ہے سیاچن کو ۔۔ وہ میرے کسی کھیل کو نہیں ملا۔۔ کل کے شو میں بھی گیارہ بارہ لوگ ایسے تھے جو چوتھی مرتبہ یہ کھیل دیکھنے آئے تھے۔ اب میں یہ چاہ رہا ہوں کہ یہ کھیل ہمارے طالب علموں کو دکھانا چاہئے اور ٹکٹ سستا کرنا چاہئے۔

 

سوال : میں نے تین مرتبہ یہ ڈراما دیکھا ہے اور ہر بار میں اسی شدت سے روئی ہوں اور اپنے اطراف میں بھی میں نے سامعین کو اسی شدت سے روتے دیکھا ہے۔ کیونکہ درد کامل ہو تبھی آنسو کے ذریعے باہر نکلتا ہے۔ آپ نے تو یہ لکھا ہے، تخلیق کِیا ہے، آپ پر کیا کیا گزرتی رہی؟

انور مقصود: بیٹا زبردستی کوئی چیز لکھی جائے تو پھر لکھی نہیں جاتی ۔ میں نے سیاچن بہت دل سے لکھا ہے اور یہ لکھتے ہوئے میں بھی تکلیف اور درد کے دورسے گزرا ہوں ۔ مگر یہ بات مجھے لوگوں تک پہنچانی تھی اور اﷲ کا کرم ہے کہ یہ پہنچ گئی۔ میں نے اپنا کام کیا جو مجھے کرنا تھا۔ ایک قرض تھا سپاہیوں کا مجھ پر۔۔۔ وہ اُتارنے کی کوشش کی۔

 

سیاچن جن کی کہانی ہے وہ اپنے گھر والوں سے ادھورے وعدے کرکے آتے ہیں۔۔۔۔ میں تیری شادی پر آؤں گا۔۔۔ بیٹا میں تیرے پاس ہونے پر آؤں گا۔۔۔ (بھرائی ہوئی آواز میں) ان چھوٹے چھوٹے مکانوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ کھڑکیاں کھلی رہتی ہیں۔ مگر وہ واپس نہیں آتے۔ انتظار کرنے والی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں مگر وہ واپس نہیں آتے۔

 

سوال : سپاہیوں کے ساتھ جب آپ کی ملاقاتیں ہوئیں‘ تو ان سے کیا گفتگو ہوتی تھی؟

انور مقصود : ان کا یہ کہنا تھا کہ انور صاحب ہم آپ کے کھیل دیکھ کر مسکراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں۔ اب آپ خود آئے ہیں چل کر ہمارے پاس۔۔۔ میں نے کہا کہ میں تم پر لکھنے کے لئے آیا ہوں تو وہ کہنے لگے سچی بات لکھیئے گا۔

 

 

سوال : کاسٹ سے جب میری گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ 4 مہینے ان کو ایک گھر میں بند کرکے رکھا گیا۔ اس کی وجہ کیا تھی؟

انور مقصود: ہم چاہتے تھے کہ ڈرامے میں کام کرنے والے اداکار سیاچن پر ڈیوٹی دینے والے سپاہیوں اور افسروں کی نفسیات ،عادات اور رویّوں کی نیچرل عکاسی کریں۔ اس میں ایکٹنگ کا شائبہ نہ ہو۔ جیسے سیاچن پر افسر اور جوان اپنی پوسٹ پر اکیلے رہتے ہیں۔ اسی طرح ان کو بھی اکیلے رہنے کی عادت ہونی چاہئے۔ ان کے موبائل فون لے لئے گئے۔لیپ ٹاپ لے لئے گئے۔ حتیٰ کہ اخبار تک بھی اُن کو رسائی نہیں تھی۔ یہ محسوس کروانے کے لئے کہ نہ کسی سے ملنا‘ نہ کسی اپنے سے کوئی رابطہ ،یہ کہ اکیلے رہنا کیا ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد 12 دن کے لئے ان کو سیاچن لے کر گئے کہ یہ وہ جگہ ہے جس پر یہ سارا کھیل انحصار کرتا ہے 14000 فٹ کی بلندی پر ساری لیڈ کاسٹ کو اصلی سیاچن اور اس میں رہنے والوں کا طرزِ زندگی دکھایا گیا۔

(اصل سیاچن اٹھارہ سے اکیس ہزار بلند برفانی چوٹیوں کا سلسلہ ہے۔)

 

سوال: برف کے صحرا کے مکینوں کے نام کوئی پیغام ؟

انور مقصود: میرا پیغام صرف یہی ہے کہ کوشش کریں جیتے رہیں۔ ان کا جیتے رہنا اور واپس آنا بہت ضروری ہے۔ سیاچن صرف ایک عام تھیٹر ڈراما نہیں ہے بلکہ یہ داستانِ شجاعت ہے ان فرزندانِ پاکستان کی جو اپنے گھر اور اپنے پیاروں سے دور برف کے صحرا میں مادرِ وطن کی حفاظت کے لئے دشمنوں کے سامنے سینہ تان کر ان کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ کبھی بھول کر نہ آنا میری سرحدں کی جانب۔ کامیابی کے لحاظ سے سیاچن اس وقت انور مقصود صاحب کے اپنے تمام لکھے ہوئے کھیل جوانہوں نے تھیٹر کے لئے لکھے ان سب کے ریکارڈ توڑ کر ایک تاریخ رقم کر چکا ہے۔ سیاچن ۔ نامور شخصیات کی نظر میں


سیاچن نامور شخصیات کی نظر میں

حسینہ معین

سیاچن جیسے کھیل آج کے دور کی اہم ضرورت ہیں۔ بہترین کھیل اور لاجواب کارکردگی‘ ہر اداکار نے اپنا کردار بہت خوبصورتی سے نبھایا‘ اور میں سمجھتی ہوں کہ ہماری قوم کو بار بار یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ ہماری سرحدوں کی حفاظت کس طرح کی جارہی ہے اور ہم کتنے غافل ہیں۔ہمارے سپاہی خوشی خوشی یہ کام کر رہے ہیں بغیر یہ سوچے کہ اس قربانی کے عوض ان کو کیا مل رہا ہے؟ کچھ بھی تو نہیں مگر پھر بھی وہ ہمارے لئے اسی خلوص سے سرحدوں پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ہم اپنے ملک کی حفاظت میں ان کا کتنا ہاتھ بٹا رہے ہیں؟ یہ سوال ہم کو بھی اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے۔ دفاعِ وطن میں ہمیں اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے اور ہماری یہ کوتاہی خدا نہ کرے کسی انہونی کا باعث بنے۔ سیاچن بلاشبہ انور مقصود کی بہترین تحاریر میں سے ایک تحریر ہے اور میری دعائیں، میرے پاک وطن، اور دفاعِ وطن میں مصروف، میری پاک فوج کی سلامتی کے لئے ہمیشہ رہیں گی۔

 

قا ضی واجد

بہترین لکھا ہوا ڈرامہ بہترین اداکاری اور انتہائی کامیاب پروڈکشن ایسے کھیل ہونے چاہئیں تاکہ عوام کو پاک فوج کی قربانیوں سے روشناس کروایا جائے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کھیل کی وجہ سے ہمارامورال اوربلند ہوا ہے۔ جس طرح اس کھیل کے ذریعے انور مقصود نے قلم کے خوب جوہر دکھائے انہوں نے کبھی ہنسا دیا تو کبھی رُلادیا۔ جو پرفارمنس ہوئی ہے۔ میرے پاس تو بھائی ان پرفارمر کے لئے الفاظ ہی نہیں اتنی خوبصورت اور کمال کی ٹائیمنگزئ میرا سلام ہے انور مقصود کو‘ ان کے تمام پرفارمرز کو اور سب سے زیادہ عقیدت بھرا سلام اور دل کی گہرائیوں سے دعا ہماری پاک فوج کے لئے۔

 

بہروزسبز واری

زبردست ڈراما !کیا کہوں سیاچن ایسا موضوع اور ایسا سوال اٹھایا ہے انور مقصود نے‘ ہم یہاں شہروں میں بیٹھ کر بہت سی باتیں کرلیتے ہیں لیکن احساس نہیں کرتے کہ ہمارے افسر و جوان کس کس طرح کے حالات میں سینہ سپر ہماری حفاظت پر مامور ہیں۔ انور مقصود نے ہم کو احساس دلایا ہے کہ ملک و قوم کی بقا کے لئے کیا کیا قربانیاں دی گئی ہیں، اور دی جارہی ہیں۔ میری دعا ہے اپنے سپاہیوں کے لئے کہ جو ملک و قوم کی حفاظت میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بھی ہم سے کسی ریٹرن کی امید نہیں رکھتے۔ اﷲ آپ سب کو سلامت رکھے۔ خوش رکھے۔ آمین!

 

مسز عمرانہ مقصود

انور مقصود میرے گھر کی تو مرغی ہیں یعنی دال برابر۔تھیٹر لکھتے لکھتے شیر بن گئے اور سیاچن لکھ کر ببر شیر بن گئے۔ سبھی ڈرامے جو انور نے کوپے کاٹس کے لئے لکھے۔ بہت کامیاب ہوئے ۔ یہاں صرف انور قابلِ تعریف نہیں ہیں بلکہ کوپے کاٹس کا ہر ممبر قابلِ ستائش ہے۔ سیاچن میں تقریباً سبھی نئے اداکار ہیں مگر ان سب کا کام قابل ستائش ہے۔ ڈائریکشن بھی نہایت عمدہ ہے۔ سیاچن نے جو نام کمایا اس میں آئی ایس پی آر کا بھی بہت اہم حصہ ہے۔ نام اتنا مشکل بلکہ ڈراؤنا ۔ لوگ سیاچن کا نام سُن کر ہی گرم کپڑے پہن لیتے ہیں اور یہاں سیاچن تھیٹر نے ماحول کو گرما دیا ہے۔ لوگ کئی کئی بار دیکھنے آتے ہیں۔ سیاچن کی کامیابی پر انور مقصودکوپے کاٹس اور آئی ایس پی آر کو مبارک ہو۔

 

سیاچن کی کاسٹ سے گفتگو

عمر اقبال

(خواجہ آصف)

میرا کردار خواجہ آصف کا ہے جو ایک سپاہی ہے۔ جس کی نئی نئی شادی ہوئی ہے اور پھر اس کی پوسٹنگ سیاچن ہو جاتی ہے اور اسے اپنی نوبیاہتا دلہن کو چھوڑ کر جانا پڑتا ہے۔ میں آپ کو سچ بتا رہا ہوں، اس کھیل میں کام کرنے کے بعد اور 12دن اپنے محافظوں کے ساتھ گزارنے کے بعد میرے دل میں ان کے لئے محبت میں ہی نہیں، عقیدت میں بھی شدت آ گئی ہے۔ شاید اس شدت کو میں الفاظ میں کسی طرح بھی بیان نہ کر سکوں۔ جس طرح کے حالات ہم نے اپنے کھیل میں دکھائے ہیں، اس طرح کی کہانیاں ہم نے خود اپنے جانباز سپاہیوں کے منہ سے سنی ہیں۔ ایک سپاہی کے پیٹ میں گولی لگ گئی اور وہ شہید ہو گیا تھا۔ موسم کی خرابی کے باعث تین دن تک ہیلی کاپٹر نہیں آ سکا تھا اور اس شہید کا جسد خاکی اسی اگلو میں تین دن تک رکھا رہا جہاں وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہتا تھا‘ ہنستا تھا‘ مسکراتا تھا‘ میں سن کر سکتے میں آ گیا۔ یہ سن کر کسی کی بھی روح کانپ سکتی ہے کہ وہ تین دن باقی سپاہیوں پر کیسے بیتے ہوں گے کہ کل تک جو سپاہی ان کے ساتھ زندگی کے لمحات شیئر کرتا تھا آج وہ ان کے سامنے بے جان پڑا ہوا ہے۔ ہماری بہادر فوج یہ سب برداشت کر رہی ہے۔ کس کے لئے؟ صرف ہمارے لئے۔۔۔

 

تنویر زمان

(سپاہی کریم خان)

میں نے سپاہی کریم خان کا کردار نبھایا ہے۔ جس کے دو بھائی پہلے ہی فوج میں بطور سپاہی اس ملک کے لئے جان دے چکے ہیں اور یہ سب سے چھوٹا بیٹا ہے۔ ماں کا کہنا ہے کہ آخری بیٹے کو بھی وطن کے لئے قربان کرنا ہے۔ یہ فوج میں بھرتی ہو جاتا ہے اور اس کی پوسٹنگ سیاچن ہو جاتی ہے۔ میں اپنے رول کے لئے 12دن کے لئے سیاچن گیا۔ وہاں پر سپاہیوں کے جذبات اور حوصلے دیکھے تو میرے دل میں اپنے ان بھائیوں کے لئے جو پہلی بات نکلی وہ تھی ’’سلام ہے تم پر میرے جان نثارو!‘‘۔ سلام ہے ان بھائیوں پر جو میرے لئے یہاں بیٹھے ہیں، جو ہمارے لئے ضرب عضب میں اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ جب ہم گوما سیکٹر گئے تو وہاں ایک کیپٹن سے میری بات ہوئی۔ اس نے یہ بتایا کہ میں ضرب عضب کا حصہ بھی رہا ہوں۔ جب میں محاذ پر آگے ہوتا تھا تو میرے سپاہی مجھ سے بھی آگے ہوتے تھے۔ وہ مجھے پیچھے کر کے خود آگے ہوتے۔ ان سب افسروں کی باتیں سن کر اور خاص طور پر سپاہیوں کی، جو انتہائی سادہ اور مخلص ہیں اور ایک ہی بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اپنے وطن کے لئے اور اس میں رہنے والوں کے لئے جان دینی ہے۔ ان کو اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ان کے مدمقابل کتنا طاقتور دشمن کھڑا ہے۔ میں ان تمام دلیر بھائیوں، اپنے پیارے سپاہیوں کو عقیدت اور محبت سے سلام کرتا ہوں جو اپنی جان کی پروا کئے بغیر ہمارے لئے وہاں کھڑے ہیں سلام ہے! تم سب پر، میرے ملک کے بہادر افسرو اور سپاہیو، تم سلامت رہو۔

 

سکندر خان

(سپاہی شاہد آفریدی)

میں نے اس کھیل میں سپاہی شاہد آفریدی کا کردار کیا ہے۔ یہ پشاور کا بہت جذباتی پٹھان ہے اور جوشیلا بھی۔ اس کو ماں بہت زیادہ یاد آتی ہے۔ جب ہم سیاچن گئے اور وہاں کے سپاہیوں سے ملے تووہ میری زندگی کا یادگار ترین لمحہ تھا جسے میں چاہتے ہوئے بھی زندگی بھر بھلا نہیں سکوں گا۔ میرے پاس تو الفاظ بھی نہیں ہیں کہ اپنے ان سپاہیوں کا، اپنی پاک فوج کا شکریہ ادا کر سکوں اور میں ان کا شکریہ ادا کروں گا بھی نہیں۔ میں ان کے تمام احسانات کا مقروض رہنا چاہوں گا۔

میرا سلام، اور میری دعائیں میری پاک فوج کے غازیوں اور شہیدوں کے لئے اور ان سب سپاہیوں کے لئے جو دنیا کی سب سے بلند اور خطرناک برف پوش چوٹیوں پر سب چیزوں کو ایک طرف کر کے صرف ہماری محبت اور حفاظت کے لئے اپنے محبت کرنے والوں سے دور ہیں۔

 

حاجرہ یمین

(لیلیٰ ۔ایک صحافی)

میں نے اس میں لیلیٰ کا رول کیا ہے اور میں واحد لڑکی تھی جو اپنی ٹیم کے ساتھ سیاچن گئی تھی۔ 16,000 فٹ کی بلندی پر جانے کے لئے کسی بھی شخص کا طبی طور پر مکمل فِٹ ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا سیاچن جانے سے پہلے ہم سب کا باقاعدہ میڈیکل چیک اَپ ہوا تب ہمیں بھیجا گیا۔ کیونکہ سیاچن ایسی جگہ ہے کہ جیسے جیسے آپ اوپر جاتے ہیں تو کچھ لوگوں کو سردرد شروع ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کی ناک سے خون نکلنے لگتا ہے جن کو یہ مسائل تھے ان کو واپس بھیجنا پڑا۔ میں خوش قسمت تھی کہ میرے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ وہاں جا کر یقین کیجئے، ایک الگ ہی دنیا نظر آئی اور ایسی کہانیاں اور تجربات سامنے آئے کہ شاید میں اس طرح بیان نہ کر سکوں کہ میں نے کتنی مشکل سے ان سب کا سامنا کیا۔ ان میں ایک سپاہی تھا جس کا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ اور وہ اس کو دیکھنے کے لئے نہیں جا سکتا تھا۔ وہ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے، کہ یہاں تو کوئی آتا ہی نہیں ہے۔ ان کی مہمان نوازی میں اتنا خلوص تھا کہ میں بتا نہیں سکتی اور ان کے درمیان رہ کر سپاہیوں کے ساتھ جذباتی وابستگی عقیدت اور محبت یا شاید اس سے بھی کچھ زیادہ ہی عزت پیدا ہو گئی تھی۔

 

آغا مصطفی

(کیپٹن شاہد)

یہ ڈرامہ میری زندگی کا مشکل ترین پراجیکٹ ہے۔ لیکن اس ڈرامے نے مجھے زندگی کے نئے معنی سکھائے اور سمجھائے۔ سیاچن ایک ایسی جگہ ہے جہاں ایک عام آدمی کبھی نہیں جا سکتا۔ میں ادھر بارہ دن رہا۔ وہاں جا کر گیاری سیکٹر کے شہداء اور باقی شہداء کا خیال آیا کہ ہمارے لئے انہوں نے یہ سوچے سمجھے بغیر جانیں دیں کہ پیچھے ان کے پیارے ان کے گھر والے ان کی راہ تکتے ہوں گے۔ میں نے شدید سردی ضرور دیکھی ہے لیکن سیاچن جیسی سردی ایک عام آدمی کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس شدید سردی کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے جس میں ہمارے یہ بہادر جوان ہماری حفاظت کر رہے ہیں۔ اس ڈرامے میں میراکردار ایک افسر کا ہے اور وہاں میں نے محسوس کیا کہ عام جگہوں پر جو آپ کی ڈیوٹی ہوتی ہے وہ بہت مختلف ہوتی ہے اور یہ کہ مشکل حالات میں افسر کو ذاتی مثال کے ذریعے اپنے جوانوں کو لیڈ کرنا پڑتا ہے۔ اس ڈرامے کے بعد میرے دل میں میری پاک فوج کی عزت، اس کی قدر، مزید بڑھ گئی ہے۔

 

طٰہ ہمایوں

(لانس نائیک رحمت علی)

کیا کہوں سیاچن کے لئے۔ زندگی بدل دی۔ بہت کچھ سیکھا، اس ڈرامے سے اور خود سیاچن جا کر سپاہیوں کے لئے اتنا پیار دل میں جاگ گیا ہے کہ عزت محبت جو بھی لفظ بولوں، وہ ان لوگوں کی قربانیوں کے آگے کچھ بھی نہیں۔


[email protected]

یہ تحریر 232مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP