متفرقات

سیاحوں کی جنت وادی پھنڈر۔۔۔۔

گلگت  بلتستان کا خوبصورت ترین علاقہ غذر جہاں کی سر سبز وادیاں، فلک بوس پہاڑ، نیلگوں آسمان اور یہاں کے صاف و شفاف پانی میں پائی جانے والی ٹرائوٹ مچھلی یہاں آنے والے سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتی ہے۔ ضلع غذر کے خوبصورت ترین علاقے پھنڈر میں جو زمین پر جنت کا ایک ٹکڑا ہے، سالانہ ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس جنت نظیر وادی میں خیمہ زن ہوتے ہیں۔ پھنڈر ضلع غذر کے ہیڈ کوارٹر گاہکوچ سے تین گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ سطح سمندر سے8500 فٹ کی بلندی پر واقع اس خوبصورت ترین علاقے کو چھوٹا کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔ اس وادی میں پی ٹی ڈی سی کے ہوٹل کے علاوہ سرکاری ریسٹ ہائوس اور نصف درجن کے قریب ہوٹل موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایک درجن سے زائد گیسٹ ہائوسز بھی یہاں کے لوگوں نے سیاحوں کے لئے بنائے ہیں تاکہ یہاں آنے والے سیاحوں کو رہائش کے حوالے سے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ضلع غذر کے لوگ انتہائی سادہ لوح اور مہمان نواز ہیں۔ اس ضلع میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ شرح خواندگی نوے فی صد سے زیادہ ہے۔ اس وادی کو شہیدوں اور غازیوں کی سر زمین بھی کہا جاتاہے۔ یہاں کے ہزاروں سپوت ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔ کارگل کے ہیرو شہید لالک جان (نشان حیدر) کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ یہاں کے عوام کی امن پسندی کی وجہ سے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں اور کئی کئی دن یہاں قیام کرنے کے بعد اچھی یادوں کے ساتھ اپنے علاقوں کا رخ کرتے ہیں وادی پھنڈر کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں پر موجود نصف درجن کے قریب جھیلیں سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں اور ان جھیلوں میں پائی جانے والی دنیا کی نایاب مچھلی ٹرائوٹ کا شکار کرکے سیاح خوب لطف اٹھاتے ہیں۔ زیادہ تر سیاح یہاں آکر ہوٹلوں میں قیام کے بجائے اپنے ساتھ لائے خیموں میں دریا کے کنارے وقت گزارتے ہیں۔ اگر وفاقی حکومت گلگت غذر کی شاہراہ کی حالت بہتر بنائے تو سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح اس علاقے کا رخ کرسکتے ہیں اور ہمارا ملک سیاحت کے شعبے میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔



گلگت  بلتستان کے ضلعے غذر کی وادی پھنڈر کے علاوہ دیگر ایسے علاقے بھی ہیں جو سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیں مگر سڑکوں کی حالت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں آنے والے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے لئے گلگت چترال روڈ کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پھنڈر کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر سیاح براستہ گلگت پہنچ جاتے ہیں اور یہاں سے ہوتے ہوئے چترال کے راستے پشاور اور وہاں سے اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں۔اگر کوئی سیاح اسلام آباد سے گلگت پہنچ جائے تو وہ براستہ گلگت واپس اسلام آباد نہیں جائے گا بلکہ غذر سے چترال اور پشاور سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچ جائے گا جس سے یہاں آنے والے سیاحوں کو گلگت  بلتستان دیکھنے کے علاوہ غذر کی خوبصورت ترین وادی پھنڈر میں قیام کے بعد چترال دیکھنے کا بھی موقع ملے گا۔ ||


<[email protected]>

یہ تحریر 160مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP