متفرقات

سکونِ قلب کا نبوی نسخہ

اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر مبنی ہے۔ قرآنی تعلیمات ہوں یا سیرت طیبہ کے روشن چراغ‘ یہ تعمیر سیرت‘ تشکیل ذات و کردار اور تکمیل معاشرہ کا بہترین ذریعہ ہیں۔ حسن سلوک‘ صلہ رحمی‘ عدل و انصاف‘ معاشیات‘ سیاسیات‘ نفسیات اور طب غرضیکہ زندگی کے ہر شعبے میں تعلیماتِ رسولﷺ ہر ہر پہلو اور ہر ہر نہج سے بہترین طرزِ حیات اور باعث خیروبرکت ہیں۔ جیسا کہ انسانی بدن کے عارضوں کو طبی نسخہ جات سے دور کیا جاتا ہے ایسے ہی قلب و روح کے تمام مسائل و جملہ امراض سے نجات‘ جسم اور روح کی شفا بخشی اسوہ رسولﷺ کے بغیر ممکن نہیں۔ جسمانی صحت و توانائی‘ ذہنی طہارت و لطافت‘ روحانی بالیدگی و پاکیزگی‘ ارادوں اور نیتوں کی اصلاح اور کردار کی عظمت و بلندی اسوۂ حسنہ کے لازمی ثمرات ہیں جن کی ہر زمانے میں ضرورت رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ آج افراط و تفریط کے دور میں ذہنی تناؤ ، بے خوابی ، غائب دماغی اور بیزاری جیسے امراض بڑھ رہے ہیں اور پورا معاشرہ ان کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے نازک حالات میں صرف دین اسلام ہی وہ حیات بخش نظریہ ہے جو انسانیت کے ہر قسم کے مسائل و مشکلات کا شافی و کافی حل پیش کرتا ہے اور روحانی انقلاب کے ذریعے فلاح انسانیت بالخصوص ذہنی بیماریوں سے صحت یابی کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔

اسلام چند ایسی انسانی عادات و خصائل کی نشاندہی کرتا ہے جو انسانی شخصیت میں بگاڑ کا باعث بنتے ہیں اور مستقبل میں ذہنی خرابیوں اور نفسیاتی امراض کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرتے ہیں مثلاً بغض‘ حسد‘ کینہ‘ غصہ‘ غیبت‘ بہتان تراشی وغیرہ۔ دین اسلام نے جہاں ایسی خرابیوں کی نشاندہی کی وہاں اس کا حل پیش کرتے ہوئے بتادیا کہ یہ شیطانی اعمال انسانی شخصیت میں منفی اثرات پید اکرتے ہیں اور معاشرے کے بگاڑ کا سبب ہیں۔ اسلام نے نہ صرف ایسی خرابیوں سے بچنے کی تاکید کی ہے بلکہ سیرت پاک اور حدیثِ رسولﷺکی روشنی میں ان کا حل بھی پیش کیا ہے۔ حضور نبی کریمﷺکو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر اس علم سے نوازا ہے جس سے دنیا و آخرت میں انسان اور انسانیت کی فلاح و اصلاح وابستہ ہے۔ اگر رسول پاکﷺ کی سیرت طیبہ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ آپﷺ نے ذہنی خلجان پیدا کرنے والی تمام جبلتوں کی نشاندہی کی ہے اور ان کے علاج کے لئے وہ رہنما اصول بیان فرمائے ہیں جن کو اپناکرہم انفرادی اور اجتماعی خرابیوں سے بچ سکتے ہیں۔

: غیبت
حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک شخص نے رحمت عالمﷺ سے پوچھا کہ غیبت کیا ہے؟ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ تو کسی کے بارے میں کسی چیز کا اس کی عدم موجودگی میں ذکر ایسے انداز میں کرے کہ اگر اس شخص کے سامنے کیا جائے تو اسے بُرا لگے۔ سائل نے پوچھا: یارسول اللہ ! اگر حقیقت ہو تو! پھر آپﷺ نے فرمایا اگر تونے باطل کہا وہ بہتان ہوجائے گا۔ یعنی بہتان اور غیبت دونوں خرابیوں سے بچنے کی تاکید فرمادی گئی کیونکہ اس سے منفی سوچ پیدا ہوتی ہے جو انسانی شخصیت کو بے حد متاثر کرتی ہے۔

: احساس کمتری
خطبہ حجتہ الوداع میں احساس کمتری کا حل ملاحظہ فرمایئے۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا: ’’کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے رنگ و نسل کی وجہ سے ممتاز حیثیت نہیں رکھتا۔ اللہ کے ہاں برتری کا معیار صرف تقویٰ ہے۔‘‘

: ٹینشن اور ڈپریشن
آج ہر شخص ڈپریشن کا شکار ہے۔ تاہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات سے اپنا تعلق مضبوط کرکے اس بیماری سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے ۔ انسان کا اس بات پر کامل یقین ہونا چاہئے کہ جو اُس کے نصیب میں لکھا جا چکا ہے، اسے دنیا کی کوئی طاقت چھین نہیں سکتی اور جو اُس کے نصیب میں نہیں وہ دنیا کی کوئی طاقت اسے دے نہیں سکتی ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل اور حضور نبی اکرمﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونا ہی نجات کا واحد ذریعہ ہے ۔

:غصہ
غصہ انسانی جبلت ہے جس سے انسانی صحت و شخصیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ حدیث پاک میں ہے ’’غصہ آئے تو بیٹھ جائے‘ اگر زیادہ غصہ آئے تو لیٹ جائے‘‘ اس حدیث مبارکہ میں غصے کا فوری علاج بتایا گیا ہے۔غصے کی حالت میں فوری بیٹھ جانے اور لیٹ جانے سے طبیعت میں اعتدال آنا شروع ہوجاتا ہے اور غصہ ٹھنڈا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ حدیث مبارکہ کی رو سے غصے کی حالت میں بیٹھ جانے یا لیٹ جانے سے دل کی دھڑکن میں کمی آجاتی ہے۔ بلڈ پریشر نارمل ہوجاتا ہے۔جس کی وجہ سے انسان اطمینان محسوس کرتا ہے۔

خوش خلقی اور حسنِ کردار
انسانی سیرت و کردار کی تشکیل کے بارے میں فرمانِ نبویﷺ ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا ’’مومن کے میزان میں خوش خلقی سے زیادہ وزنی چیز کوئی نہ ہوگی‘‘۔ حدیث نبویﷺ ہے: ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا ’’فحاشی اور بدگوئی تمہاری شخصیت کو خراب کرے گی اور حیاء اسے تزئین و آرائش دے گی‘‘ ۔ حضور نبی کریمﷺ کے ان مقدس فرامین کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ دورِ حاضر کے مسائل کا حل فقط اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے اور حضور نبی اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنانے سے ممکن ہے ۔ سکونِ قلب اللہ تعالیٰ کی خاص عطاء کا نام ہے جو صرف اور صرف اُس کی مخلوق سے محبت کی صورت میں ہی حاصل ہوتا ہے۔

یہ تحریر 18مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP