قومی و بین الاقوامی ایشوز

سکوت اور سقوط

وہ ایک تھرتھراتی‘ لرزتی‘ کانپتی یخ بستہ زرد سی شام تھی۔ اسلام آباد کی پہاڑیوں سے کہرا اس طرح اٹھ رہا تھا جیسے کسی دل جلے کے سینے سے دھواں اٹھتا ہے۔ درختوں نے اپنے لبادے سیاہ کر لئے تھے۔ شاخیں مفلوج ہو کر ٹنڈ منڈ لگ رہی تھیں۔ ہری بھری گھاس کا رنگ فق ہو چکا تھا۔ پتے شدتِ درد سے سکڑ گئے تھے۔ زرد ہوتے۔۔۔ پھر ملگجے ہو کر زمین پر گر رہے تھے۔ ایک کے بعد ایک۔۔۔ ہر درخت کے تنے میں خشک پتوں کا ایک ڈھیر سا جمع ہوتا جا رہا تھا جیسے شبِ ہجر کسی بیوہ کی آنکھ سے آنسو گرتے ہیں یکے بعد دیگرے۔۔۔ یا پھر ہر گرنے والا پتہ گرتے ہی دوسرے پتیوں کے ساتھ مل کر آہ و بکا کرنے لگتا تھا۔ اس شام ہوا کے پاؤں بھی لڑکھڑا رہے تھے۔ یوں چل رہی تھی جیسے ناقابلِ برداشت بوجھ اٹھا رکھا ہو۔ جب یہی برفیلی ہوا کوڑے برساتی تو درختوں کے تلے جمع ہونے والا پتوں کا ڈھیر یوں ایک سمت دوڑتا جیسے کسی گھر میں خیرات تقسیم ہونے والی ہو۔۔۔ سوکھے پتے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ ہری بھری شاخ پر ایک ساتھ رہتے ہیں تو زمین پر گر کر بھی ایک دوسرے کا ساتھ نبھاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں آفات میں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔

ورنہ وقت سب کچھ لوٹ کر لے جاتا ہے۔

رات سہمے ہوئے انداز میں زینہ زینہ اتر رہی تھی۔ شام خوف زدہ انداز میں چہرے پر نقاب ڈال رہی تھی۔

ہم سب گھر والے‘ دل گرفتہ و نم گرفتہ ٹی وی کے سامنے بیٹھے تھے۔ کوئی کسی سے بات نہیں کر رہا تھا۔ کچھ پوچھتا نہیں تھا۔

سب ہونی کو ’’انہونی‘‘ ہوتے دیکھنا چاہتے تھے۔

ہمارے آگے پڑی روٹیاں ٹھنڈی ہو گئی تھیں۔۔۔ اور پلیٹوں میں سالن جم گیا تھا۔ جس طرح پلکوں پر ٹھٹھرتے ہوئے آنسو پگھلنے کو بیقرار تھے۔

کئی دنوں سے ہم سب حالت جنگ میں تھے۔

میں بچوں کو لے کر اسلام آباد اپنے ایک عزیز کے ہاں چلی آئی تھی۔ لاہور میں خطرہ تھا۔ چند دنوں کا معصوم میری گود میں تھا رات کو فضا اندھیروں میں ڈوب جاتی تھی اور دن میں جہازوں کا شور آسمان کی وسعتیں چیرتا رہتا تھا۔ ہماری بے مثال افواج مشرقی پاکستان میں سینہ سپر تھیں اور پوری قوم مغربی محاذ پر دست بہ دعا تھی۔

بس ٹیلی ویژن ہی ایک ذریعہ تھا جو تازہ ترین خبریں نشر کر رہا تھا۔ وہ 16دسمبر کی آلام و ابہام میں لپٹی ہوئی ایک شکست خوردہ سی شام تھی۔ اور پھر۔ ٹیلی ویژن سے ایک آواز ابھری۔

آواز تھی یا بلبلاتی پکار۔۔۔ وہ آواز جس پر سارا مغربی پاکستان کان لگائے بیٹھا تھا‘ اپنی عاقبت نااندیشی اور ندامت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہماری تاریخ ساز فوج۔۔۔ جغرافیہ بدل دینے والی فوج۔۔۔ نعرہ تکبیر کی زرہ بکتر پہن کر لڑنے والی فوج۔۔۔ شہادت کے عنوان سے اپنی پیشانی سجانے والی فوج۔۔۔ کبھی نہ پیٹھ پھیرنے والی فوج۔

مشرقی پاکستا ن محاذ پر کیوں بے بس ہوئی۔۔۔؟

یہ عالمی سازش تھی‘ سیاسی بے تدبیری تھی۔۔۔ یہ قیادت کی بزدلی تھی۔۔۔ یہ کمان والوں کا غلط فیصلہ تھا۔۔۔ یہ ناقص پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔۔۔

کیا تھا بھلا۔۔۔

مگر تاریخ کا ایک صفحہ سیاہ ہو گیا تھا۔

کون یقین کرتا۔۔۔؟

کیوں یقین کرتا۔۔۔؟

ماؤں نے تو اپنے بیٹے شہید ہونے کے لئے بھیجے تھے۔ امام ضامن باند ھ کر۔۔

یہ جو تقریر نشر ہوئی‘ خجالتوں کے پسینے میں شرابور تھی۔ بے دم تھی

اس نے پاکستانیوں کے اندر آگ سی لگا دی۔

برفباری کے موسم میں شعلے بھڑکنے لگے۔۔۔ ہر زبان انگارہ بن گئی۔۔۔

ہم نے دیکھا۔۔۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر اس رات ایک انبوہِ کثیر نکل آیا تھا۔۔۔ اور مختلف انداز میں اپنے غم اور غصے کا اظہار کر رہا تھا۔ وقت کے آقاؤں پر۔۔۔ اس ہزیمت کا الزام دھر رہا تھا۔۔۔ اس ہجوم میں نوجوان‘ بچے‘ بوڑھے سب شامل تھے۔۔۔ وہ کچھ کر گزرنے کو گھروں سے نکل آئے تھے۔۔۔ پھر ان کا رخ یکایک شیشے کے شو کیسوں میں سجی ہوئی رنگ برنگے مشروبات کی بوتلوں کی طرف ہو گیا تھا۔۔۔ پھر اس رات فلک کج رفتار نے دیکھا۔۔۔ ہجوم نے نشہ میں بھری ہوئی وہ ساری بوتلیں نکال نکال کر سڑکوں پر پھوڑ دیں۔۔۔ چور چور بوتلیں۔۔۔ بہتی ہوئی بوتلیں۔۔۔ ڈھکنوں سے آزاد بوتلیں۔۔۔ اس رات اسلام آباد کی سڑکوں پر یوں بکھری ہوئی تھیں جیسے فرار ہونے والے اپنے جوتے چھوڑ گئے ہوں۔۔۔

بس تو بوتلوں پر ہی چلنا تھا۔۔۔

کون تھا جو اس رات سو سکا۔۔۔

ہم سب گھر والے اکٹھے بیٹھ کر روئے جیسے کوئی پیارا بچھڑ گیا ہو۔

اس رات قائداعظم کی روح بے قرار ہو کر اسلام آباد کے اوپر منڈلاتی رہی۔۔۔ ساری رات ہوائیں پہاڑوں کے اس طرف بین کرتی رہیں۔ ہم نے قائداعظم کو پرسہ دیا۔

ماؤں کی گودوں میں روتے چلاتے ہوئے نومولود اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے۔۔۔

اے قائداعظم ! ہم تیرا قرض اتاریں گے۔۔۔

ہم تیرا قرض اتاریں گے۔۔۔ ہم

یہ ہمارا وعدہ ہے۔۔۔

کون تھا جو اس رات سو سکا۔۔۔

ہم سب گھر والے اکٹھے بیٹھ کر روئے جیسے کوئی پیارا بچھڑ گیا ہو۔

اس رات قائداعظم کی روح بے قرار ہو کر اسلام آباد کے اوپر منڈلاتی رہی۔۔۔ ساری رات ہوائیں پہاڑوں کے اس طرف بین کرتی رہیں۔

ہم نے قائداعظم کو پرسہ دیا۔

ماؤں کی گودوں میں روتے چلاتے ہوئے نومولود اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے۔۔۔

اے قائداعظم ! ہم تیرا قرض اتاریں گے۔۔۔

ہم تیرا قرض اتاریں گے۔۔۔ ہم

یہ ہمارا وعدہ ہے۔۔۔

 

یہ تحریر 78مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP