ہمارے غازی وشہداء

سپیدہ سحر کی نوید

’’میں سپاہی افتخار اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اقوام متحدہ کے امن مشن (وسطی افریقہ) میں خدمات انجام دیتے ہوئے سپاہی فہد نے بہادری سے جان دی۔‘‘ (اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے خط سے اقتباس) سلگتے لوبان اور اگربتی کی خوشبو میں مدغم ہوتی سہاگ جوڑے اور مسلے ہوئے پھولوں کی مہکار۔۔۔ عمر بھر ساتھ نبھانے کی سر گوشیوں پر حاوی ہوتی تسبیح کے گرتے دانوں کی ٹک ٹک اور افسوس بھرے جملوں کی بھنبھناہٹ۔۔۔ سہانے وصل کے سپنے بنتی خواب آور آنکھوں سے مسلسل ٹپکتے آنسوؤں کی لڑی۔۔۔ حنائی ہاتھوں کی سُرخی میں شامل ہوتی چوڑیوں سے خالی کلائی سے ٹپ ٹپ ٹپکتے خون کی چھوٹی چھوٹی بوندیں۔۔۔ ملن کے اُڑان بھرتے بے نیاز پنچھی کی یکبارگی وچھوڑے کے کبھی نہ ٹوٹنے والے جال میں پھرپھڑاہٹ ۔۔۔ سیج کی نوچی ہوئی لڑیوں اور تازہ قبر پر بچھی روپہلی چادر کی مماثلت۔۔۔ روشن پیشانی پر سجے سہرے کے پھولوں کی تابوت پر رکھے پھولوں کے گلدستوں میں تبدیلی ۔۔۔ پیاملن کی مراد سے رنگے لبوں پر ہجر اور وچھوڑے کی جمتی پیپڑیاں۔۔۔ یہ سب جملے افسانوی نہیں۔۔۔ یہ سب باتیں شاعرانہ نہیں۔۔۔ یہ سب لمحات خیالی نہیں۔۔۔ یہ سب جذبات تخلیق نگاری نہیں۔۔۔ ایسا ہر جملہ‘ ایسا ہرجذبہ‘ ہیچ ہے اُس درد ‘ اُس کیفیت کے سامنے جس سے اس وقت سپاہی افتخار شہید کی جواں سال اہلیہ گزار رہی ہے۔ یہ سن کر بڑے سے بڑے شقی القلب کا کلیجہ بھی منہ کو آتا ہے کہ سپاہی فہد کی اہلیہ صرف چار مہینے کی رفاقت کے بعد بیوگی کی چادر اوڑھ چکی ہے۔ اوراس کی کوکھ میں پلتی زندگی کبھی اپنے باپ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ پائے گی۔ کراچی کے ایک متوسط خاندان میں آنکھ کھولنے والا فہد افتخار (شہید) اپنی ضد اور شوق سے فوج میں بھرتی ہوا۔ دو بھائیوں اور دو بہنوں کے لاڈلے نے2002 میں 32 پنجاب میں بطورِ ڈرائیور شمولیت اختیار ۔کی فہد افتخار ہمیشہ سے ہر اول دستے میں شامل ہوتا تھا۔ جون 2008سے نومبر 2010تک جب اس کی یونٹ جنوبی وزیرستان میں اہم مشن پر مامور تھی تو وہ کوئک ری ایکشن فورس(Quick Reaction Force) میں بطور ڈرائیور خدمات انجام دیتے ہوئے ہمیشہ ہر مشکل آپریشن کے لئے خود کو آگے کر دیتا۔ جب یونٹ وزیرستان سے واپس آ گئی تو یونٹ کی کچھ تباہ شدہ گاڑیوں کی مرمت و درستگی کے لئے وہ کوہاٹ میں ہی مقیم رہا اور کام مکمل کروا کر لوٹا۔ ستمبر2014 میں آنکھوں میں خواب اور دل میں جذبات لئے پاک فوج کے دستے کے ساتھ وسطی افریقہ میں قیامِ امن کے لئے اقوام متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دینے روانہ ہوا۔ وہ اس دستے میں شمولیت پر بہت نازاں و فرحاں تھا اور ایسا لگتا تھا کہ اس کی منزل اس کو پکار رہی ہے۔ 9اکتوبر کو وسطی افریقہ کے دارالحکومت بنگوئی میں حالات بہت کشیدہ تھے اور باغی جگہ جگہ حملے کر رہے تھے۔ جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی پیش آ چکے تھے۔ ان سارے حالات میں 32پنجاب کی 15رکنی ٹیم لیفٹیننٹ احسن اور صوبیدار نواز کی قیادت میں پیٹرولنگ کے لئے روانہ ہوئی۔ اچانک اس دستے پر باغیوں نے شدید حملہ کر دیا۔ سپاہی فہد کو اس حقیقت کا پوری طرح ادراک تھا کہ گاڑی بلٹ پروف نہیں ہے اور امن کے رکھوالوں کی جان بچانا اس کا اولین فریضہ ہے۔ باغی چاروں طرف سے شدید فائر کر رہے تھے‘ اس شدید ترین فائرنگ میں بھی فہد نے اپنے ہوش وحواس برقرار رکھے اور گاڑی اور اپنے ساتھیوں کو کمال چابک دستی سے محفوظ مقام تک لانے میں کامیاب ہوگیا‘ مگر شہادت اُس کے نصیب میں لکھی جا چکی تھی۔ وہ باغیوں کے ایک دوسرے گروہ کی نظروں میں آچکے تھے۔ ان باغیوں نے گھات لگا کر ان کی گاڑی پر شدید فائرنگ شروع کردی۔ فہد نے اس مرحلے پر بھی ہمت نہ ہاری اور گاڑی کو محفوظ ٹھکانے تک پہنچانے کی کوشش میں رہا۔ دریں اثنا ایک گولی اس کی کنپٹی پر آ لگی اور گاڑی اس کے کنٹرول سے باہر ہو کر الٹ گئی۔ سپاہی فہد افتخار نے موقع پر ہی جام شہادت نوش کیا۔ جبکہ صوبیدار نواز‘ سپاہی صفدر‘ سپاہی شہزاد اور سپاہی امتیاز زخمی ہوئے۔ سپاہی رفیق جو اسی گاڑی میں سوار تھا‘ نے اپنی جان اور زخمیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے قریبی نالے میں پوزیشن لے کر باغیوں پر لائٹ مشین گن سے فائر کھول دیا۔ اس کے بہادرانہ اقدام کی وجہ سے سٹینڈ بائی کوئک رہی ایکشن فورس کے پہنچنے تک باغیوں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا۔ میجر سہیل کی قیادت میں کوئک ری ایکشن فورس موقع پر پہنچی اور موثر جوابی کارروائی سے باغیوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستانی فوجی نہ صرف اپنے ساتھیوں بلکہ بنگالی امن دستے کے افسران و سپاہیوں کو بھی بحفاظت کیمپ میں واپس لے آئے۔یوں فہد افتخار کے وسطی افریقہ میں قیام کو ابھی ایک مہینہ بھی پورا نہ گزرا تھا کہ وہ اپنی مراد پا گیا اور سربلندی و افتخار کے دائمی سفر پر روانہ ہو گیا۔ سپاہی فہد افتخار خود تو پوری عزت سے جان جان آفریں کے سپرد کر کے اپنے مقصد کو پا گیا مگر اپنے پیچھے اپنے گھر والوں‘ اپنی ماں اور اہلیہ کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والا انتظار چھوڑ گیا۔ ایسا کٹھن اور جسم و جان کو برفانے والا انتظار جس کی تاب کوئی عام انسان نہیں لا سکتا۔ اس مشکل امتحان میں شاید فہد شہید کے اہل خانہ جیسے مضبوط و بہادر انسان ہی پورا اتر سکتے ہیں۔ بیٹے کی بخیریت واپسی کی دعائیں مانگنے والی ماں کے ہونٹوں پر اب بیٹے کی دائمی عافیت کی دعائیں ہیں۔ بھائیوں کے کندھوں کو مضبوط کرنے والا فہد چلا گیا اور رہتی دنیا تک اپنے بھائیوں کو ایک نئی پہچان اور عزت دے گیا۔ انتہائی قلیل عرصے میں سسرال کا ایک اہم فرد بن جانے والے فہد کی کمی اس گھر میں بھی اتنی ہی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ فہد کی جواں سال اہلیہ خوشی و صدمے کے منجمد احساسات سے لمبی چپ سادھ چکی ہے۔ خالی خالی نظروں سے دروازے کو تکتی فہد افتخار شہید کی جواں سال اہلیہ امن دشمنوں سے سوال کرتی ہے کہ کیا ہے تم میں اتنی ہمت کہ تم اپنی انمول متاع وطن کی سربلندی کی خاطر چپ چاپ قربان کر دو۔ اس کے لبوں پر تھرکتی مچلتی بے نوا سسکیاں یہ پوچھتی ہیں کہ ملک کے امن و امان کو داؤ پر لگاتے بے رحم دہشت گردو! اتنا ظرف اور کلیجہ ہے تم میں کہ بغیر کسی شکایت کے اپنا سرمایۂ جاں عالمی امن کے قیام کے لئے نذر کردو۔ امتدادِ زمانہ کی اونچ نیچ سے بے خبر یہ کم سِن بیوہ ان دہشت گردوں کو چیلنج کرتی ہے کہ کیا تم اپنا سائبان نچھاور کرسکتے ہو ہزاروں معصوموں کو چھت فراہم کرنے کے لئے ۔۔۔ یہ للکارتی ہے ان درندوں کو جو ماؤں بہنوں کے سروں سے باپ‘ بھائی کا سایہ چھین لیتے ہیں کہ تم اتنے بہادر کبھی نہیں ہوسکتے کہ اپنی چادر امن و بھائی چارے کے قیام کی خاطر نذرانہ دے دو۔ یہ بظاہر کمزور مگر مضبوط لڑکی ان کو سبق دیتی ہے کہ تم میں اتنا حوصلہ ہی نہیں کہ تم عالمی امن اور بھائی چارے کے لئے اپنا گھر کا سکون تج دو بلکہ تم تو اپنے پیارے گھر کے سکون کے دشمن ہو اور بھائی چارے کی فضا کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرتے ہو۔ افسوس کرتی خواتین کے جھرمٹ میں گھری‘ سکڑی‘ سمٹی اور لرزتی یہ کمزور سی لڑکی ابھی تک خود فراموشی کے گہرے سمندر میں ڈبکیاں لے رہی ہے۔ ہوش و خرد سے تقریباً بیگانہ اُس کمزور وجود میں وصال و ہجر کے بھانبھڑ بیک وقت جل رہے ہیں تلخ حقیقت سے انکاری اس کے دل کی سکرین پر ابھی تک وصل کی گھڑیاں گویا ریوائنڈ ہو ہو کر بار بار چل رہی ہیں۔ چند ماہ قبل اسی طرح وہ خواتین کے گھیرے میں کونے میں دبکی بیٹھی تھی۔ مگر اس کے ہاتھوں پر محبوب سے ملنے کی شوخی رنگ دکھلا رہی تھی۔۔۔ اس کی آنکھوں میں ملاپ کی کہکشائیں جھلملا رہی تھی۔۔۔ اس کے لبوں پر پیاملن کی مسکراہٹیں تھیں۔۔۔ اُس کے انگ انگ میں یار سے ملنے کی کلبلاہٹیں تھیں۔۔۔۔ پہروں ایک زاویے پر بیٹھی وہ ان رنگوں‘ ان روشنیوں‘ ان شوخیوں‘ ان قہقہوں ‘ ان چلبلاہتوں کو کُرلا کُرلا کر بے نوا صدائیں دے رہی ہے۔ وہ ان گنے چُنے لمحوں۔۔۔ ان انگلیوں کی پوروں پر گنے ہوئے وصل کے دنوں کی یاد میں ہے جو کوچۂ شب و روز سے یوں دبے پاؤں گزر گئے کہ خبر ہی نہ ہوئی۔ اُس کے دماغ کی سلیٹ پر وہ لمحے ضوفشانیاں بکھیررہے ہیں جو چند لمحے اس نے فہد افتخار شہید کی رفاقت میں گزارے۔۔۔ وہ تو اپنے رفیق سے ابھی تک کھل کے فسانۂ دل بھی نہ کہہ پائی تھی۔۔۔ فہد کے سوالوں‘ باتوں‘ کھلکھلاہٹوں کے جواب میں تو ابھی تک اس کے پاس شرماتی لجاتی مسکراہٹ کے سوا کچھ نہ تھا۔۔۔ ابھی تو وہ فہد کو بتا بھی نہ پائی تھی کہ تم جب چند روزہ چھٹی گزار کر اپنی یونٹ چلے جاتے ہو تو میری آنکھیں تمہارے لوٹ آنے تک دہلیز پر ہی پڑی رہ جاتی ہیں۔۔۔ جب تم نے اتنے دور‘ انجان دیس جانے کا بتایا تھا اور خوشی خوشی تیاری کررہے تھے تو تم سے چھپ کر‘ نظربچا کر آنسو پیتے‘ تمہاری چیزیں سمیٹتے میں تمہیں کہہ ہی نہیں پاتی تھی کہ تم میرے وجودِ جاں کو خالی کرکے جارہے ہو۔۔۔ رات کو پہروں تمہارے چہرے کو تکتے‘ تمہارے نقوش کو ازبر کرتے‘ ابھی تو تمہاری آنکھوں کو چھونے کی جُرأت بھی اکٹھا نہ کرپائی تھی۔۔۔ تم جب ٹیلیفون پر میرا حال احوال پوچھتے اور میرے لجا کر ’’جی ‘ جی‘‘ کرنے پر چڑجاتے تو میں کیسے تمہیں بتاتی کہ سہاگ کی خوشیوں میں بسابسا میراانگ انگ تم سے باتیں کرتا ہے۔۔۔ تم جب کہتے ہو کہ تمہیں ابھی چھٹی نہیں مل سکتی تو میں بِن پانی مچھلی کی طرح تڑپتی ہوں۔۔۔ جب تم مستقبل کے خواب بنتے ہو تو میرا رُوا ں رُواں دعا کرتا ہے کہ میری زندگی کے ہر خانے میں رنگ صرف تم سے بھریں ۔۔۔ تمہارے انجان جزیروں کے سفر پر چلے جانے کے بعد میرے جسم کا ہر ایک عضو گویا کان بن کر صرف تمہارے کال کی گھنٹی آنے کا انتظار کرتا ہے۔۔۔ راتوں کو پہروں جاگ کر میں موبائل کی سکرین پر تمہارے میسج کے روشن ہونے کا کشت کا ٹتی ہوں مگر تم تو اتنے دُور دیس گئے ہو کہ جہاں سے رابطہ بھی مشکل ہے اورکئی دنوں تک تمہارے فون کے‘ تمہاری آواز سننے کے‘ تمہاری خیریت جاننے کے جان لیوا اور صبر آزما امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ دنیا ومافیہا سے تقریباً انجان یہ لڑکی ابھی تک ان لمحوں کے سرُور میں کھوئی ہوئی ہے جب اُسے اپنی دنیا کے مکمل ہو جانے کی خبر ملی۔۔۔ اُس کے کانوں میں فہد کی خوشی بھری آواز گونج رہی ہے جب وہ ہزاروں میل دور بیٹھے بار بار پکار پکار کر باپ بننے کی خوشخبری ملنے پر تصدیق چاہ رہا تھا۔ ملن کے دائمی ہونے کی سرشاری سے چوُر اُن معصوم وجودوں کو خبر نہیں تھی کہ کہیں قریب ہی ازلی جدائی کا اژدھا پھنکاررہا ہے۔۔۔ اپنے بچے کی آمد کی خبر ملنے کی خوشی مناتے یہ دو دل قطعاً انجان تھے کہ خوشی کی دھنک کو نگلنے کے لئے غم کا کالا بادل تیزی سے گھِر کر آرہا ہے۔۔۔ ننھے وجود کے استقبال کی تیاری کی منصوبہ بندی کرتے یہ نادان جانتے نہ تھے کہ فہد کبھی ننھی قِلقاریاں نہیں سن سکے گا اور وہ معصوم فرشتہ کبھی باپ کی گود کا لمس نہیں پاسکے گا۔۔۔ اپنے پرایوں میں یکساں ہر دلعزیز ‘ دوستوں‘ افسروں اور ساتھیوں میں مقبول‘ خاموش طبع‘ شرمیلا‘ نیک طینت فہد افتخار تو جی بھر کر نئے مہمان کی آمد کا جشن بھی نہیں مناسکا تھا۔۔۔ ابھی تو وہ اپنی شریکِ حیات کے پاس پہنچ کر اس خبر پر جی بھر کر مسرور بھی نہیں ہوسکا تھا۔۔۔ ابھی تو وہ اس خوشخبری کی لذت کو جی بھر کر محسوس بھی نہیں کرسکا تھا کہ وہ حیاتِ جاوداں کی لذت پاگیا۔ خوشی خوشی جہاز کی سیڑھیاں چڑھنے ولا فہد افتخار جب امن کا پرچم بلند رکھے‘ سبز ہلالی جھنڈے میں لپٹے تابوت میں بند ہو کر گھر پہنچا تو اس کی دائمی جدائی کے غم میں نڈھال‘ اپنی کوکھ میں پرورش پاتے اس کی امانت کو سنبھالے اس کی رفیقۂ حیات پاکستان اور عالمی امن کے دشمنوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ان کے جارحانہ ہتھکنڈے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ فہد افتخار شہید زندہ ہے اپنی زندہ نشانی کی صورت میں۔ ماں کی کوکھ میں نمو پاتا یہ وجود سپیدۂ سحر کی نوید ہے۔ یہ ہم سب پر فرض ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے عفریت کا خاتمہ کرکے عالمی امن کی بحالی و قیامِ امن میں اپنا کردار بااحسن طریقے سے انجام دیں اور دنیا میں آنے والی اس نئی زندگی کو ایک روشن پاکستان اور محفوظ دنیا فراہم کریں۔

یہ تحریر 66مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP