قومی و بین الاقوامی ایشوز

سوشل میڈیا۔ منفی پروپیگنڈے سے ہوشیار رہئے

جب سے نریندر مودی کی بھارت پر حکومت آئی ہے تب سے اس نے اپنے مقرر کردہ دفاعی مشیروں کی مشاورت سے پاکستان کے خلاف ’جارحانہ دفاع‘ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ اس پالیسی کی بازگشت ہمیں قبائلی علاقہ جات، کراچی اور بلوچستان میں مسلح دہشت گرد جتھوں کی صورت میں، پشاور، کوئٹہ، سوات، چارسدہ، مردان وغیرہ میں دھماکوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی صورت میں، مذہبی عناصر کی آڑ میں فرقہ وارانہ کارروائیوں کی صورت میں، معاشی معاشرتی ثقافتی و صحافتی حملوں کی صوت میں، علاقائی و قومیت پرستی کے انتہا پسندانہ رجحانات کو بڑھاوا دینے کی صورت میں اور پڑوسی ممالک سے ٹکراؤ کروانے کی حکمت عملی کی صورت میں نظر آتی ہے۔ مگر آپریشن ضرب عضب، کلبھوشن نیٹ ورک کا خاتمہ اور کراچی میں سیاسی جماعتوں کی آڑ میں دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نپٹ کر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ہندوستانی جارحانہ دفاع کی پالیسی کو تقریباً ناکام بنا چکے ہیں۔

 

اس جارحانہ دفاع کی پالیسی کا ایک جزو جھوٹا پروپیگنڈا کرنا بھی ہے۔ اس حکمت عملی کی بنیاد اس سادہ اصول پر رکھی گئی کہ جھوٹا پروپیگنڈا کرو اور اس نفاست اور جارحانہ انداز سے مسلسل پروپیگنڈا کرو کہ سچ لگنا شروع ہو جائے۔ اس حکمت عملی پر عملدرآمد کے لئے بھارت سرکار نے اپنی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را کو لامحدود فنڈز مہیا کئے ہیں اور یہ انڈین خفیہ ایجنسی بھرپور طریقہ کار سے ان فنڈز کا استعمال کرتی بھی رہی ہے اور ابھی بھی جارحانہ انداز سے کر رہی ہیں۔اس حکمت عملی کی بنیاد چار ستونوں پر رکھی گئی ہے۔

 

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر پروپیگنڈے کی حکمت عملی کی تربیت دینے کے لئے جن اصولوں کومدنظر رکھا گیا ہے ان میں سوشل میڈیا پر مقامی ذات اور قبائلی ناموں سے جعلی آئی ڈیز بنانا، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کے لئے صفحات اور گروپ بنانا، سوشل میڈیا پر ٹارگٹ بنائے گئے لوگوں کے بارے میں منفی اشتہارات بنانا، سوشل میڈیا پر سنسنی خیز مواد لکھوا کر پروپیگنڈا کرنا، پروپیگنڈے میں تیزی کے لئے تصاویر اور ویڈیوز کو گرافکس کی مدد سے بڑھاچڑھا کر سوشل میڈیا پر پیش کرنا، پوری حکمت عملی کو اپ ڈیٹ پالیسی کے مطابق نئی شکل دینا اور ہدف بنائی گئی نوجوان نسل سے براہِ راست بات چیت کرنا کہ وہ پروپیگنڈا مہم کو ایک عظیم مقصد سمجھ کر اس کا حصہ بنیں، شامل ہیں۔

 

اس حکمت عملی کے پہلے تین ستونوں پر جارحانہ انداز سے عملدرآمد کے لئے شروعات میں انڈین خفیہ اداروں کو جز وقتی کامیابی ملی مگر پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی اور کاری ضرب سے ریاست پاکستان کی حدود کے اندر مسلسل ناکامی سے دو چار اور لاچار رہے۔ (تاہم بیرونی ممالک میں اینٹی پاکستان حکمت عملی پر اپنے تنخواہ دار کارندوں اور ایجنٹس کے ذریعے را ابھی تک مصروف ہے۔) خطے میں جاری پراکسی وار کی صورت حال کو اگر مدنظر رکھا جائے تو دشمن ممالک کے خفیہ ادارے پاکستان کے بارے میں پروپیگنڈے کے لئے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پالیسی کو جارحانہ انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس پروپیگنڈا حکمت عملی کے لئے بے پناہ فنڈز مخصوص کئے گئے ہیں اوربہت بڑی سرمایہ کاری بھی کی گئی ہے۔ پاکستان کے خلاف سب سے مہلک اور زہریلا پروپیگنڈا سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔ کیونکہ اول تو اس کی پہنچ اور دسترس ہر عمر کے افراد بالخصوص نوجوانوں تک بذریعہ سمارٹ فون ہو چکی ہے۔ دوسرا یہ آزادانہ ذریعہ اطلاعات و نشریات ہے کہ جس پر کوئی سنسر شپ نہیں کوئی پابندی نہیں اوراس کے ذریعے چوبیس گھنٹے مسلسل پروپیگنڈا ہو سکتا ہے۔ اور ماضی میں کیا گیا تمام پروپیگنڈا محفوظ بھی رہتا ہے نیز اس وجہ سے بار بار اور ہمیشہ ہر وقت اس پروپیگنڈا کی اثرانگیزی رہتی ہے۔

 

اس مقصد کے لئے تقریباً پانچ سو ایسے پڑھے لکھے انڈین نوجوانوں کو سوشل میڈیا پروپیگنڈا کی تربیت دے کر ملازمتیں دی گئیں جن کو اردو اور انگلش لکھنے پڑھنے سمجھنے اور سمجھانے پر عبور حاصل ہے۔ اس کے علاوہ کچھ کو پنجابی، سندھی، بلوچی، براہوی اور پشتو جیسی مقامی زبانوں پر عبور ہے۔ دو سو سے زائد بیرون ملک مفرور اور پوشیدہ ہاتھ دہشت گرد تنظیموں کے کارکنان قائدین اور میڈیا مینجمنٹ سیلز بھی اس انڈین فنڈ حکمت عملی کا عملاً حصہ بن چکے ہیں ا ور انڈین خفیہ ادارے ان خفیہ دہشت گرد عناصر پر بھی روزانہ کی بنیادوں پر بھاری سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچ قومیت کے نام پر ہمیں سوشل میڈیا پر ایسے ہزاروں اکاؤنٹس اور آئی ڈی ملتی ہیں جو کہ درحقیقت فیک ہیں۔ ان کے ذریعے دراصل انڈین فنڈز پر پلنے والے عناصر پاکستان کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں۔ پاکستان کی ان مختلف قومیتوں کے حقوق اور ترقی کی جنگ لڑنے والے یہ کوئی حقیقی بلوچ، پشتون، سندھی یا مہاجر افراد نہیں ہیں بلکہ را اور این ڈی ایس کے گماشتے ہیں جو پاکستان سے باہر بیٹھ کر مذموم پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر پروپیگنڈے کی حکمت عملی کی تربیت دینے کے لئے جن اصولوں کومدنظر رکھا گیا ہے ان میں سوشل میڈیا پر مقامی ذات اور قبائلی ناموں سے جعلی آئی ڈیز بنانا، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کے لئے صفحات اور گروپ بنانا، سوشل میڈیا پر ٹارگٹ بنائے گئے لوگوں کے لئے اشتہارات بنانا، سوشل میڈیا پر سنسنی خیز مواد لکھوا کر پروپیگنڈا کرنا، پروپیگنڈے میں تیزی کے لئے تصاویر اور ویڈیوز کو گرافکس کی مدد سے بڑھاچڑھا کر سوشل میڈیا پر پیش کرنا، پوری حکمت عملی کو اپ ڈیٹ پالیسی کے مطابق نئی شکل دینا اور ہدف بنائی گئی نوجوان نسل سے براہِ راست بات چیت کرنا کہ وہ پروپیگنڈا مہم کو ایک عظیم مقصد سمجھ کر اس کا حصہ بنیں، شامل ہیں۔

 

-1پروپیگنڈا بذریعہ مین سٹریم میڈیا

یعنی اخبارات ، رسائل وجرائد، الیکٹرانک/ نیوز چینلز، صحافیوں، اینکر پرسنز کالم نگاروں دانشوروں، صحافی تنظیموں کے ذریعے زہریلا پروپیگنڈا کرنا اور مسلسل کرتے رہنا۔ انڈیا کا ایک مقامی زبان میں ریڈیو چینل کھولنا بھی اس پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔

-2پروپیگنڈا بذریعہ پرنٹڈ/ پبلشڈ میٹیریل

یعنی پمفلٹس، لیفلٹس، اسٹیکرز، کتابچوں، بینرز، کتابوں، اشتہارات کے ذریعے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا کرنا۔

-3ون ٹو ون ٹیکٹیکل پروپیگنڈا

یعنی ہڑتالوں، ہنگاموں کے اعلانات، بھوک ہڑتالوں، پریس کانفرنسز، نعرے بازی، فقرے بازی، جنگی / انقلابی نغموں و ترانوں، جوشیلی تقاریر، لانگ شارٹ اینڈ پیدل مارچز، میٹنگز، پریس و دیگر کانفرنسز محافل وال چاکنگز خطابت کے ذریعے اور اجتماعی طور پر پروپیگنڈا کرنا۔

-4آن لائن پروپیگنڈا بذریعہ سوشل میڈیا و انٹرنیٹ

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کو اپنے طریق کار کے مطابق استعمال کر کے صبح و شام چوبیس گھنٹے مسلسل ٹارگیٹڈ پروپیگنڈا کرنا اور مسلسل پروپیگنڈا جاری رکھنا۔

 

پراکسی وار، جوکہ سوشل میڈیا و انٹرنیٹ کے ذریعے جاری ہے، کے لئے جن پلیٹ فارمز کو استعمال کیا جا رہا ہے ان میں ویب سائٹس بلاگز و سمارٹ فونز اینڈ چینلز، یوٹیوب اور بہت سی دوسری ویڈیو سائیٹس، ٹویٹر انسٹاگرام اور واٹس ایپ، فیس بک آئی ڈیز پیجز اینڈ گروپس نمایاں ہیں۔ اینٹی پاکستان پروپیگنڈے والی تمام ویب سائٹس اور بلاگز کو کنٹرول کرنا اور ان کو بلاک کرنا حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اور اس قسم کی تمام تخریبانہ ویب سائٹس اور بلاگز کو گورنمنٹ آف پاکستان کے متعلقہ ادارے اپنی جغرافیائی حدود کے اندر اکثربلاک کرتے رہتے ہیں اور پاکستان کے اندر اس پلیٹ فارم سے پروپیگنڈا کافی حد تک ناکام ہو چکا ہے۔ تاہم دنیا بھر میں ان کو بلاک کرنا یا ختم کرنا پاکستان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اس لئے دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا سائٹس اور بلاگز بدستور اپنا پروپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یوٹیوب پر موجود اکثر ویڈیو چینلز مسلسل پاکستان کے خلاف اپنا پروپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسیز عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ان چینلز کے پاکستان سے ملتے جلتے اور مقبول عام نام رکھتی ہیں تاکہ نوجوان اور عوام اس کے نام سے گمراہ ہو جائیں اور یقین کے ساتھ سمجھنے لگیں کہ شاید یہ پاکستان سے ہی آپریٹ اور اپ ڈیٹ ہوتے ہیں۔ ایڈیٹ شدہ تصویروں، گمراہ کن ویڈیوز اور ہندی انداز کلام میں اردو کی سنسنی

خیز آوازوں کے ساتھ، دستاویزی فلمیں بنا کر منفی خیالات کی ترویج کرنا، جذبات کو ابھارنا اور ان کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلانا مقصود ہے۔ ٹویٹر اور انسٹاگرام کو استعمال کرتے ہوئے فرضی ناموں کے ساتھ فیصلہ ساز اور مشہور افراد، نامور صحافتی شخصیات اور اداروں کو اپنے ساتھ ساتھ

Tag

کر کے ان تک زہریلا پروپیگنڈا اور ان کی سوچ میں تغیر لانا بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔

 

جدید ٹیکنالوجی کے دور میں فیس بک ایک ایسا ذریعہ اور پلیٹ فارم ہے جو پوری دنیا کے ہر کونے میں ہر عمر اور ہر رنگ و نسل کے افراد میں مقبول عام ہے۔ دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان کے اندر بالخصوص اس کی اہمیت اور گراس روٹ پینی ٹریشن کو سمجھتے ہوئے بھارت نے اپنی جارحانہ سائیکلووجیکل پروپیگنڈا سٹریٹیجی میں اس پلیٹ فارم کو خصوصی اہمیت دی ہوئی ہے۔ انڈین سوشل میڈیا پروپیگنڈا ٹیمیں فرضی اور جعلی اسلامی ناموں، قومی و قبائلی ناموں، جعلی تعارف اور جعلی تصاویر کے ساتھ مسلسل اپنا مذموم پروپیگنڈا بذریعہ فیس بک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جعلی ناموں سے پیجز گروپس بنا کر ان پر اپنی مرضی کا ممبر بنانا تاکہ سب تک آسانی سے پروپیگنڈا پہنچ سکے۔ اپنی فرضی آئی ڈیز کے ساتھ ان سے دوستی بڑھانا اور ان سے پرائیویٹ بات چیت کے ذریعے اپنا آلہ کار بنانے کی کوشش کرنا اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کی طرف مائل کرنا شامل ہے۔

 

اس سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پروپیگنڈے میں جن ایشوز کو ترویج دی گئی ہے ان میں چند درج ذیل ہیں

*دہشت گردانہ کارروائیاں ‘ گھات لگا کر حملہ کرنے ‘ دہشت گردی کی تربیت‘ ہتھیاروں کی نمائش اور بم دھماکوں وغیرہ کی ویڈیوز اور تصاویر کو دکھا کرناپختہ ذہنوں کو مسلح جدو جہد کی جانب مائل کرنا۔

*دہشت گرد رہنماؤں و قائدین کے انٹرویوز‘ تقاریر‘ لائف سٹائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا۔

*دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مقابلے میں جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کو ہیرو اور نجات دہندہ بنا کر واویلا کرنا۔

*دہشت گرد گروپوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ممبران بن کر پہاڑوں ‘ جنگلوں یا انڈر گراؤنڈ (روپوش) افراد ‘ بیرون ممالک میں فراری کیمپس میں دہشت گردی کی ٹریننگ لینے والے تخریب کاروں کو مسنگ پرسن بنا کر ان کی گمشدگی اور جھوٹی تعداد کا واویلا کرنا۔

*جوان لڑکیوں اور بچوں کو مظلوم بنا کر پروپیگنڈا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا‘ بلکہ مسلسل استعمال کرنا اور اس قدر استعمال کرنا کہ ایک ہدف کردہ مخصوص علاقے میں کمیونٹی میں غیرت کے نام پر اشتعال و غم و غصہ کو پروان چڑھایا جاسکے۔

*بیرون اور اندرون ملک پانچ دس افراد کو اکٹھا کرنا اور پیسے دے کر مظاہرے کروانا اور فراڈ نمائندگان سے انٹرویوز لینا اور ان کو عام کرکے پروپیگنڈا کرنا (اس طریقۂ کار سے ان ممالک کی صحافتی تنظیموں ‘ نمائندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو متوجہ کرنا بھی پروپیگنڈے کا حصہ ہے)

*قومیت پرستی اور علاقائی تعصبات کو ہوا دینا‘ تاریخ کو مسخ کرکے بیان کرنا‘ معاشی ترقی کے بڑے منصوبہ جات اور معدنی وسائل کے خلاف زہرپھیلانا۔

*جنگی و انقلابی ترانوں کو مکس اپ کرکے پاکستان مخالف سرگرمیوں کی دستاویزی فلمیں بنانا اور پھر ان کی تشہیر کرنا۔

*مرکزی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا (بالخصوص انڈین میڈیا) میں لکھوائے اور چھپوائے گئے آرٹیکلز، اداریئے، خبریں اور الیکٹرانک میڈیامیں کئے جانے والے پروپیگنڈے‘ ٹاک شوز‘ پروگرامز‘ انٹرویوز کے کلپس اور تراشے بنا کر جلد سے جلد پھیلادینا۔

*لاشوں کو گرافیکلی ڈیزائن اور ڈیویلپ کرکے پھرایڈیٹنگ اور ری ٹچنگ کرکے ان کو مسخ شدہ بنا کر مقبول عام کرنا اور پھر اس بنیاد پر ریاست پاکستان‘ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس انڈین تخریبی پروپیگنڈا حکمتِ عملی کو بروقت اور جارحانہ طور پر مستقل مزاجی کے ساتھ ایک بہترین‘ جامع‘ کل وقتی‘ اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی کے ساتھ کاؤنٹر کیا جائے۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین اور اداروں ‘ سو ل سوسائٹی‘ طالب علموں‘ صحافتی تنظیموں‘ سیاسی جماعتوں اور ان کے ممبران و نمائندگان‘ نوجوانان و عوام پاکستان‘ بیرون ملک رہائش پذیر پاکستانیوں وغیرہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے جارحانہ انداز میں اس کا جواب دیا جاسکے اور اس حکمت عملی کو اسی طور پر ناکام اور زمین بوس کیا جاسکے ‘ جس طریقہ کار سے انڈین

Offensive Defense

کی پالیسی ناکامی کی جانب گامزن ہے۔


مضمون نگار انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفارمیشن سیکورٹی ایکسپرٹ اور تجزیہ نگار ہیں۔

[email protected]


ہماری جنگ

وطن کے دشمن طرح بدل کے
وطن پہ اب وار کر رہے ہیں
وطن کے بیٹے لہو سے اپنے 
چمن کو گلزار کر رہے ہیں
عجب تھا نقشہ میرے وطن کا
اِدھر دھماکہ‘ اُدھر دھماکہ
اُجاڑ ڈالی تھیں مسجدیں بھی
عوام غم سے بِلک رہے ہیں
وطن کے بیٹوں نے پھر یہ ٹھانی
عدو رہے گا کہ ہم رہیں گے
جنہوں نے بستی اُجاڑ ڈالی
اُنہی کو تاراج ہم کریں گے 
ہے عزمِ کامل زمانہ سُن لے
کسی بحث میں نہ ہم پڑیں گے
کسی کی ہوگی ہماری ہے اب
یہ جنگ ہر حال میں ہم لڑیں گے
وطن ہی دیں ہے سعیدؔ اپنا
اٹھاؤ پرچم لگاؤ نعرہ
وطن کے باسی وطن کے بیٹے
وطن کی حرمت پر کٹ مریں گے


لیفٹیننٹ کرنل سعیداحمد بھٹی

**

یہ تحریر 23مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP