قومی و بین الاقوامی ایشوز

سورج پہ دستک دینا آسان نہیں۔۔۔ آسان نہیں

’’ایک پیسے میں دو ٹینک۔۔۔ ایک پیسے میں دو ٹینک‘‘ پیسہ‘ دو پیسے‘ روپیہ‘ دوروپے‘ہر کسی نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر پیپے میں چندہ ڈالا۔ خصوصاً عورتوں نے۔ عورت جو اپنے بچوں کے بعد سب سے زیادہ پیار اپنے زیورات سے کرتی ہے‘ میرے لئے حیران کن تھا کہ انہوں نے اپنی بالیاں‘ ڈنڈیاں اور چوڑیاں اتار اتار کر اس طرح پیپے میں پھینکیں جیسے وہ ان پر بوجھ ہوں۔ ایک بڑھیا نے اپنے گلے سے مالا اتار کر پیپے میں ڈالتے ہوئے کہا۔

ستمبر 1965کی یہ صبح کتنی تروتازہ اور خنک تھی۔ میں تقریباً آٹھ بجے دفتر کے لئے روانہ ہوا۔ اچھرہ موڑ سے بس میں سوار ہونا تھا مگر سٹاپ سے پہلے ایک ہجوم دکھائی دیا۔ تجسس مجھے ہجوم کے اندر تک لے گیا۔ ایک بابا جی غصے سے لال پیلے ہو رہے تھے۔ وہ چیخ کر بولے۔ ’’باٹا پور میں ایک بم گرا کر بھاگ گئے ہیں بزدل۔۔۔ پتا تو جب چلے گا جب ہاتھوں میں ہتھ پڑے گا۔‘‘ دوسری آواز آئی۔ ’’میرے بھائی نے باٹا فیکٹری سے فون کر کے بتایا ہے۔ وہ BRB تک اندر آ گئے تھے۔ آگے آنے کا حوصلہ نہیں ہوا۔‘‘ حوصلہ ہو کیسے پتر جی۔۔۔ ہمت اور ہتھیار میں یہی فرق ہے۔۔۔ ہماری آرمی کا نام ہے جذبہ‘ حوصلہ‘ ہمت‘ جنون اور شہادت۔ وہ لوگ تعدادگن گن کر جیتے ہیں۔۔۔ تعداد تو پترو جنگ بدر میں بھی زیادہ تھی کفار کی۔۔۔ پھر کیا ہوا۔۔۔؟ تعداد کو فتح ہوئی یا جذبے کو؟‘‘ ’’نعرہ تکبیر۔‘‘ کسی نے پیچھے سے جوش بھرا نعرہ لگایا۔ ’’اﷲ اکبر۔۔۔ اﷲ اکبر۔۔۔ اﷲ اکبر‘‘ میں اٹھارہ انیس سال کا نوجوان ۔۔۔ لہو تمتمانے لگا۔۔۔ جوش اوپر ہی اوپر بڑھتا چلا گیا۔ دو منٹ میں معلوم ہو گیا تھا کہ بھارت نے پاکستان کا بین الاقوامی بارڈر کراس کر کے نہایت مجرمانہ قدم اٹھایا ہے۔ ہر کوئی غصے میں تمتمانے لگا تھا۔۔۔ میں بھاگ کر بس میں سوار ہو گیا۔ بس کے اندر ہر کوئی اس خبر پر تبصرہ کر رہا تھا۔۔۔ ان کا بس چلتا تو وہ میدان جنگ میں کود جاتے۔۔۔ (بعد میں معلوم ہوا بہت سے لوگ واہگہ بارڈر کی طرف جنگ میں شریک ہونے کے لئے گئے تھے) مگر آرمی کے جوانوں نے انہیں بہ منت واپس کیا تھا۔ دفتر پہنچا‘ ہر کوئی جنگ کی بات یوں کر رہا تھا جیسے کوئی میلے ٹھیلے کی باتیں کرتا ہے۔ کسی کوخوف تھا نہ تشویش۔ پھر ہم سب دوپہر کی چائے پہ اکٹھے ہوئے۔ ابھی چائے کا کپ لیا ہی تھا کہ بے پناہ زور کا دھماکہ ہوا۔ مجھے لگا میرے دفتر کے اوپر والے کمرے کی چھت کے اوپر دھماکہ ہوا ہے۔ اوپر پہنچا‘ اوپر کے کمرے کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ دھماکہ میرے ہی کمرے کے اوپر کیا گیا ہے۔ میں نیچے بیڈ روم میں سب کو بتانے آیا کہ دھماکہ میرے کمرے کے اوپر ہوا ہے کہ اسی لمحے فون پہ ماڈل ٹاؤن سے ایک دوست نے اطلاع دی کہ ان کے گھر کے اوپر دھماکہ ہوا ہے۔ پھر کرشن نگر ( اسلام پورہ) سے فون آیا کہ دھماکہ ہمارے ہاں ہوا ہے۔ گلبرگ سے سعادت سعید نے فون کیا۔ یہ دھماکہ میرے گھر کے اوپر ہوا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ دھماکہ ہماری ایئرفورس نے

دفتر سے چھٹی کے بعد سب گھروں کو لوٹے۔ میں پاک ٹی ہاؤس جا کر ادیبوں میں بیٹھ گیا۔ سب نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس سے پہلے یہ بڑے ادیب کسی جونیئر ادیب یا نوجوان کی طرف دیکھتے ہی نہ تھے۔ مگر لمحے بھر میں کیا ہوا تھا کہ سب گھل مل رہے تھے۔ خیرت دریافت کررہے تھے۔ محبت‘ یگانگت‘ اتفاق‘ تنظیم اور یقین کی طاقت نے سب کو ایک ہی دن میں ایک گروہ سے ایک قوم کی صورت دے دی تھی۔

ون او فور (104)طیارے سے ساؤنڈبیریئر کراس کر کے پورے شہر کو الرٹ کرنے کے لئے کیا ہے تاکہ لوگوں تک جنگ کی اطلاع ہو سکے۔ اس کے ساتھ ہی ریڈیو پر یہ ترانہ پہلی مرتبہ میں نے سنا۔ ساتھیو--- مجاہدو--- جاگ اٹھا ہے سارا وطن ساتھیو--- مجاہدو--- اس کے بعد اعلان ہوا کہ ابھی تھوڑی دیرمیں صدرمملکت قوم سے خطاب کریں گے۔ ہمارے کیمپس میں تین دفاتر تھے۔ مجلس ترقی ادب ادارہ ثقافت اسلامیہ بزمِ اقبال سب کے ملازمین ریڈیو کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھ گئے اور چاچا عبدالکریم کے ٹوٹے پھوٹے ریڈیو کو وہ عزت ملی کہ چاچا خوشی سے پھولا نہ سما رہا تھا۔ اس ریڈیو کو بلاشبہ ٹیپ کے 9ٹکڑے لگا کر جوڑا گیا تھا مگر اُس وقت یہ ریڈیو ہم سب کی آنکھ کا تارہ تھا۔ پھر صدر مملکت کی آواز ابھری۔ عزیز ہم وطنو! ہماری سرحدوں پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے۔ دشمن نے حملہ کیا ہے۔ جنگ شروع ہے۔ مگر جب یہ جملہ کہا ’’بزدل دشمن کو یہ معلوم نہیں کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔‘‘ تو نعرہ تکبیر۔۔۔ اﷲ اکبر سے ایک مرتبہ پھر ماحول گرم ہو گیا۔ تقریر مختصر تھی اور دوٹوک۔ اس کے بعد ترانے بجنے لگے۔ دفتر سے چھٹی کے بعد سب گھروں کو لوٹے۔ میں پاک ٹی ہاؤس جا کر ادیبوں میں بیٹھ گیا۔ سب نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس سے پہلے یہ بڑے ادیب کسی جونیئر ادیب یا نوجوان کی طرف دیکھتے ہی نہ تھے۔ مگر لمحے بھر میں کیا ہوا تھا کہ سب گھل مل رہے تھے۔ خیرت دریافت کررہے تھے۔ محبت‘ یگانگت‘ اتفاق‘ تنظیم اور یقین کی طاقت نے سب کو ایک ہی دن میں ایک گروہ سے ایک قوم کی صورت دے دی تھی۔ اسی لمحے بیرے نے سب کو یاد دلایا۔ سر جی ی ی ی۔۔۔ چھ بجے کرفیو کا اعلان ہوا تھا رات کو بلیک آؤٹ ہوگا۔ ساڑھے پانچ بج چکے ہیں۔۔۔۔ سب نے ہڑبڑا کر گھڑیاں دیکھیں اور اپنی اپنی منزل کی طرف لپک گئے۔ پھر صفدر میر کی نظم ’’علی حیدر‘ علی حیدر‘‘ انجم رومانی کی نظم ’’گن جنگ انڈیا‘‘ اور ڈاکٹر رشید کا لکھا ہوا نغمہ ’’مہاراج ایہہ کھیڈ تلوار دی اے جنگ کھیڈ نی ہوندی زنانیاں دی‘‘ ہرجگہ گونجنے لگے۔ آٹھ دن گزر گئے۔ نیشنل سنٹر میں ادیبوں کا جلسہ۔۔۔ حلقۂ اربابِ ذوق میں جوش وخروش کا مظاہرہ اور پھر ’’ایک پیسے میں دو ٹینک‘‘ روز نامہ مشرق کی تحریک چاروں طرف پھیل گئی۔ بتایا گیا تھا کہ اگر ہر شہری ایک پیسہ ہر روز جمع کرے تو دو

ٹینک خریدے جاسکتے ہیں۔ اسی دن میں پیسوں والا پیپا اٹھائے ریگل چوک کے بس سٹاپ پر کھڑا تھا کہ ہوائی حملے کا سائرن بجنے لگا۔ میں سٹاپ کی اوٹ میں ہوگیا۔ مگر لوگ آسمان کی طرف منہ اٹھا اٹھا کر ہوائی حملے کا انتظار کرنے لگے۔ اتنے میں پاکستانی طیاروں نے آکر دشمن کو گھیر لیا اور میرے سمیت سب یوں آسمان پر ہوائی جنگ دیکھنے لگے جیسے پتنگوں کے پیچ لڑائے جارہے ہوں۔ کچھ دیربعد شکیل احمد نے گرجدار آواز میں خبریں سناتے ہوئے لاہور کے شہریوں کو داد بھی دی اور یہ خبر بھی سنائی کہ پاک شاہینوں نے دشمن کے چاروں طیاروں کو مار گرایا۔ اور پانچویں کے پیچھے جا کر اسے ہٹ کیا۔ ہٹ ہونے کے بعد جب اس طیارے سے بہت سا دھواں نکلنے لگا تو وہ اپنی سرزمین کی طرف بھاگ گیا اور اپنی زمین پر گرتا ہوا دیکھا گیا۔ پورا بیڈن روڈ کا چوک جس میں لوگ اکٹھے ہو کر شکیل احمد کی خبریں سنا کرتے تھے یہ خبر سن کر نعروں سے گونجنے لگا۔ میں پیپا اٹھا کر پھر چندہ جمع کرنے لگا۔ جو پہلی بس آئی اس میں سوار ہو کر پکارا۔ ’’ایک پیسے میں دو ٹینک۔۔۔ ایک پیسے میں دو ٹینک‘‘ پیسہ‘ دو پیسے‘ روپیہ‘ دوروپے‘ ہر کسی نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر پیپے میں چندہ ڈالا۔ خصوصاً عورتوں نے۔ عورت جو اپنے بچوں کے بعد سب سے زیادہ پیار اپنے زیورات سے کرتی ہے‘ میرے لئے حیران کن تھا کہ انہوں نے اپنی بالیاں‘ ڈنڈیاں اور چوڑیاں اتار اتار کر اس طرح پیپے میں پھینکیں جیسے وہ ان پر بوجھ ہوں۔ ایک بڑھیا نے اپنے گلے سے مالا اتار کر پیپے میں ڈالتے ہوئے کہا۔ ’’ہمارے چاند کے ٹکڑے اور لعل و جواہر جیسے بیٹے سرحدوں پر اپنا لہو دے رہے ہیں۔ وطن کی‘ ہماری‘ ہماری بیٹیوں کی عزت آبرو کی حفاظت کررہے ہیں۔ ان شیروں کی قربانیوں کے سامنے ان مالاؤں اور چوڑیوں کی کیا حیثیت ہے۔۔۔۔‘‘ وہ رکی اور پھر زور سے کہا ’’لے وے پترا۔۔۔ میرے کڑے وی پیپے میں ڈال دے۔‘‘ میری آنکھیں نم سے دھندلا گئیں ۔۔۔ اور میرے منہ سے آپ ہی آپ نکل گیا۔۔۔ ’’نصر من اﷲ وفتح قریب‘‘

یہ تحریر 23مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP