متفرقات

سوات کے ریستوران

آج میرے ساتھ کھانا کھانے آئیے گا۔ میں نے کچھ ٹماٹر کئی مہینوں بعد خریدے ہیں ۔ کاگا نے اپنے دوست کے کان میں کہا۔ کاگا کو کئی مہینوں بعد ٹماٹر ملے تھے۔ دوست نے وہیں سے اپنے گھر اطلاع دی اور کاگا کے ساتھ ان کے گھر ٹماٹر کھانے چلتا بنا۔


یہ اگست 2009 تھا۔ کاگا اور ان کا دوست سوات کے مضافاتی قصبے بحرین کے بازار میں کئی دنوں بعدملے تھے۔ کاگا اور اس کے دوست کی طرح علاقے کے لوگوں نے چار مہینوں سے بازار میں سبزی نہیں دیکھی تھی۔ بازار سے آٹا ختم ہو چکا تھا۔ چاول کے ذخیرے بھی ختم ہوچکے تھے۔ کئی لوگ بھوکے سوتے تو بہت سوں نے اپنے مویشی ذبح کرنے شروع کر دیئے۔ سوات کی تاریخ میں ایسا انسان کا پیدا کردہ قحط پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ 
اس واقعے کے ماہ و سال سے آپ کو اندازہ ہوا ہوگا کہ اس سال سوات میں طالبان کے خلاف آپریشن جاری تھا۔ آپریشن سے پہلے سوات کے مرکزی علاقوں مینگورہ، بریکوٹ، مٹہ، کبل، خوازہ خیلہ وغیرہ سے لوگ صوبے کے دیگر علاقوں میں منتقل ہوچکے تھے لیکن بالائی سوات سے لوگ طویل کرفیو کی وجہ سے ایسا نہیں کرسکے تھے اور کئی مہینوں تک ایسی خوفناک زندگی گزاری تھی کہ جس سے ہماری آئندہ نسلوں کو خدا بچائے۔ کئی مہینوں بعد جب تھوڑا راشن علاقے میں براستہ شانگلہ آنے لگا تو کاگا جیسے خوش قسمتوں کو ٹماٹر اور پیاز بھی ملنے لگے جس پر وہ بجا طور پر اتراتے، اور اپنے ہمنواؤں کو کھانے پہ بلاتے تھے۔ 
میں یہ تمہید باندھنا نہیں چاہتا لیکن کیا کریں اب جب بھی سوات کے حسن، امن یا جشن کی بات کرتے ہیں تو ماضی ایک ڈراؤنے خواب کی طرح آکر سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ یوں جب سوات میں خوش خوراکی کا خیال آیا تو لامحالہ کاگا اور اس کے دوست کا واقعہ یاد آ گیا۔

علامہ اقبال کے بقول ان کو پوری زندگی میں چند شاندار ضیافتیں ہمیشہ یاد رہتی تھیں۔ ان ضیافتوں میں سے ایک علامہ صاحب نے افغانستان کے اس وقت کے بادشاہ کے ہاں تناول فرمائی تھی اور علامہ کو افغانی خوراک بہت پسند آئی تھی۔ 
صوبہ خیبرپختون خوا نسلی اور جغرافیائی لحاظ سے افغانستان سے ہمیشہ جڑا رہا ہے۔ البتہ سیاسی طور پر افغانستان سے الگ رہنے کی وجہ سے یہاں کئی چیزیں بدل چکی ہیں تاہم اس صوبے میں افغان مہاجرین کی رہائش اور فاٹا کے پختون قبائل کی آمدورفت کی وجہ سے کئی افغانی روایات کا احیاء ہوا ہے۔ ان روایات میں ایک خوراک کی روایت بھی شامل ہے۔


ریسٹورانٹ میں دسترخوان بچھانے کا عمل ہو یا پھر پکوان ہمیں ہر جگہ یہ افغانی رنگ نظر آنے لگے ہیں۔ اب تو پنجاب اور سندھ میں بھی کئی ریسٹوران افغانی یا شنواری لکھ کر اپنی دکان اونچی کرنے لگے ہیں۔ 
ہندوکش اور سلیمان کے لوگ گوشت خور زیادہ ہیں۔ یہاں اچھا کھانا گوشت کا ہی ہوتا ہے۔ افغانیوں کو دُنبے کا گوشت بہت مرغوب ہے۔ اس کے گوشت کی کڑاہی ہو یا پھر دم پخت و روش سب دنبے کے گوشت کا ہی بنا ہوتا ہے۔ بڑے گوشت کا بھی استعمال زیادہ ہے۔ چپل کباب بھی خیبر پختون خوا کا اہم پکوان ہے۔


مگر ایسی خوراک کے اچھے ریستوران پہلے اتنے عام نہیں تھے۔ سوات میں تو حالت ابتر ہی تھی‘ جو چند ریستوران ہوا کرتے وہاں بیٹھنے کا نظام اور اردگرد کا ماحول دلپذیر نہیں ہوتا۔ 
میرے ایک ساتھی کے مطابق خوراک سستی ہو یا مہنگی بس بیٹھنے کا انتظام اچھا ہونا چاہئے تاکہ لوگ کھانے سے لطف اندوز ہو سکیں۔ ان کے نزدیک خوش خوراکی ایک سلیقہ ہے۔ اس سے خوراک کا معیار مقصود نہیں۔۔۔ ان کی بات میں وزن ہے۔ تین سال پہلے جاپان کے مرکزی شہر ٹوکیو میں کچھ عرصہ رہنے کا موقع ملا۔ اس شہر میں مقامیوں کے مطابق کل آٹھ لاکھ ریستوران ہیں۔ میں نے وہاں بین الاقوامی فوڈز فرنچائز کو کم دیکھا۔ ہر ریستوران ایک ثقافتی نمونہ لگتا تھا جہاں لوگ عشائیہ کرتے ہیں‘ وہاں لنچ کا رواج اتنا نہیں البتہ لوگ ٹولیوں کی شکل میں ڈنر کرتے ہیں اور اس پر دو تین گھنٹے صرف کرتے ہیں اور اپنی خوراک سے بھرپور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ 
سوات میں پچھلے دو تین سالوں میں اچھے خاصے ریستوران بنے ہیں۔ مینگورہ شہر میں بائی پاس روڈ، جو دریائے سوات کے کنارے ایک دو کلومیٹر چلتی ہے پر اچھے اچھے ریستوران بنے ہوئے ہیں۔ یہ تازہ پانی کی ایک نہایت دلکش بیچ نظر آتی ہے۔


اسی طرح مینگورہ سے آگے بحرین اور کالام کی سڑکوں پر بھی مختلف جگہوں پر نئے نئے ریستوران بنے ہیں۔ سب میں ایک بات مشترک ہے۔ ان ریستورانوں کے لئے ایسی جگہوں کا انتخاب کیا گیا ہے جو حسن کے لحاظ سے پُرکشش ہیں۔ ان ریستورانوں میں مقامی کھانے ملتے ہیں۔ یہاں وہ لوگ ضرور مایوس ہوں گے جن کو ملٹی نیشنل کمپنیوں اور فائیو سٹار ہوٹلوں کے کھانوں کی لت پڑی ہوئی ہے۔ ان کے علاوہ سرسبز کھلیانوں کے بیچ یا دریا کنارے آپ کو سستی مچھلی کے ڈھابے بھی ملیں گے۔ یہاں آپ کو مقامی مچھلی ملے گی۔ ٹراؤٹ مچھلی کے لئے آپ کو مدین، بحرین یا پھر کالام جانا ہوگا۔


ہمارے بہت سے شہری دوست فائیوسٹار ہوٹلوں پر ان ڈھابوں یا کھلے کچن والے ریستورانوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہاں آپ کو کھانے والی چیز سامنے نظر آتی ہے اور آپ اپنی مرضی سے اس کا آرڈر دے سکتے ہیں اور پھر وہ آپ کے سامنے ہی پکائی جاتی ہے۔ کاگا کہتے ہیں کہ پاکستان میں گدھے کا گوشت کھانے سے بچنے کا واحد راستہ یہی ریستوران ہیں جہاں گوشت کا سالم دنبہ یا بکرا ریستوران کے ایک کونے میں لٹک رہا ہوتا ہے اور آپ اس میں سے ایک ٹکڑے کا آرڈر دیتے ہیں جسے متعلقہ باورچی آپ کے سامنے پکاتا ہے۔


منگورہ شہر سے آگے بحرین، کالام کی طرف جاتے ہوئے بھی آپ کو اچھے ریستوران ملتے ہیں۔ مدین پہنچ کر آپ کو ٹراؤٹ مچھلی فارم سے دستیاب ہوتی ہے۔ 
بحرین ریستوران چپلی کباب میں کافی انوکھا ہے۔ یہاں چائے خانے ہوں یا عام ریستوران سب میں صوفے رکھے گئے ہیں۔ ایسا سوات میں بہت کم ہے۔ بیٹھنے کے لئے اچھے صوفے آپ کو صرف بحرین کے ریسٹوران میں ملیں گے۔ یہاں کی دودھ پتی (چائے) بہت مشہور ہے۔ اسی طرح بحرین کے چپلی کباب کے لئے پورے سوات سے لوگ آتے ہیں۔ ایک غیر ملکی سیاح کے مطابق بحرین کا مختصر بازار پورے سوات میں صاف ستھرا ہے۔ یہاں آپ کو دریائی اور فارمی دونوں قسم کی ٹراؤٹ مچھلی ملے گی۔


بحرین سے کالام تک اس خستہ سڑک پر بھی آپ کو دریا کے کنارے خوراک اور سستانے کی جگہیں ملیں گی جن میں ایک آدھ میں تو بہت اچھے طریقے سے خوراک پیش کی جاتی ہے۔ 
کالام میں البتہ ریستورانوں کی کمی ہے۔ یہاں رہائش کے لئے بڑے بڑے ہوٹل ہیں مگر کوئی اچھا ریستوران نہیں ہے۔


ان ریستورانوں کے علاوہ بھی اب سوات کے لوگ گھر سے نکل کر دریا کے کنارے کھانا کھانے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ اس رمضان میں آپ کو روزانہ دریا کے کنارے کئی گروپس نظر آئے ہوں گے جو خود خوراک تیار کرتے ہیں اور پھر ٹھنڈی لہروں کی لائیو دھنوں کے ساتھ ساتھ اس کا مزا لیتے ہیں۔
خوشی اس بات کی ہورہی ہے کہ سوات کے لوگ اب آہستہ آہستہ اُس صدمے سے نکل رہے ہیں جس کا وہ بُری طرح سے شکار رہے ہیں۔ چشم بددور!


[email protected]

یہ تحریر 58مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP