قومی و بین الاقوامی ایشوز

سوات آپریشن ۔ دفاع وطن میں اہم سنگ میل

قیامِ پاکستان کی نوید دشمنانِ پاکستان کی سماعتوں میں سیسہ انڈیلنے سے کم نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وطنِ عزیز کے منصہّء شہود پر نمودار ہوتے ہی حریفوں نے اِسے صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا تھا۔ وہ نہ جانتے تھے کہ جِس کارساز نے اسلام کا یہ قلعہ مسلمانانِ برصغیر کو عطا کیا وہ اس کی حفاظت سے بھی ہر گز غافِل نہیں تھا۔ خالقِ کائنات نے وطنِ عزیز کو افواجِ پاکستان کی صورت میں ایسی شاندار سپاہ عطا کی جِس کے آفیسرز، جونئیر کمیشنڈ آفیسرز اور سولجرز پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہیں۔چنانچہ پاک سر زمین پر جب جب کڑا وقت آیا، افواجِ پاکستان کے اِن جا ن نثاروں نے ارضِ وطن کی حفاظت اور دفاع کے لئے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر مقابلہ کیا اور وطن دشمنوں کو ہمیشہ مُنہ کی کھانا پڑی۔ وطن کو درپیش خطرات خواہ داخلی ہوں یا خارجی افواجِ پاکستان نے سلطنت کی پُکار پر ہمیشہ لبیک کہا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وطن کی ناموس پر کبھی آنچ نہ آنے دی۔ ہمسایہ دشمن کی پے در پے جارحیت کے علاوہ داخلی شورشوں کو بھی بار بار ہوا دی گئی اور دشمن کی خُفیہ ایجنسیوں کے پروردہ آستین کے سانپوں نے اپنے ہی ہم وطنوں کے خُون سے ہولی کھیلنے کا وطیرہ اپنایا تو افواجِ پاکستان کو داخلی محاذ پر کڑی آزمائش سے گزرنا پڑا۔ لیکن آفریں ہے دھرتی کے اِن بیٹوں پر جِنہوں نے اِسلام کی اصل روح اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سب سے مقدم رکھا اور کفن بردوش ہر ایسی طاقت سے ٹکرا گئے جس نے سر زمین وطن کے امن و آشتی کو برباد کرنے کی کوشش کی۔ جِس طرح خارجی محاذ پر دفاعِ وطن کی خاطر افواجِ پاکستان نے ایک سنہری تاریخ رقم کی اسی طرح داخلی محاذ پر جب وطنِ عزیز کو دہشت گردوں کے فتنے سے پالا پڑا تو مادرِ وطن کے ان سپوتوں نے ایثار و قربانی کی ناقابلِ فراموش داستانیں رقم کیں۔ اِس سلسلے کا سب سے بڑا اور پہلا معرکہ مالاکنڈ ایجنسی سوات میں بپا ہوا، جب دہشت گردوں نے مقامی طور پر فتنہ و فساد کرتے کرتے دہشت گردی کی بساط کو ملک کے طول و عرض میں پھیلا نا شروع کر دیا اور حکومت پاکستان کی عملداری کو چیلنج کر دیا۔ سوات میں اِس سلسلے کا آغاز دراصل 1989ء میں ہی ہو چُکا تھا‘ جب صوفی محمد نے ایک ایسی تحریک کا آغاز کیا جس کی بنیاد انتہاء پسندی اور عسکریت پسندی پر رکھی گئی تھی۔اس تحریک نے بعد میں فضل اللہ کی دہشت گرد تحریک کی شکل اختیار کی جس کا تلخ اور زہریلا پھل پوری مالا کنڈ ایجنسی اور بالخصوص سوات کے عوام کو چکھنا پڑا۔

ابتداً سوات کے لوگ اپنی منکسِر المزاجی اور دین سے لگاؤ کی وجہ سے دہشت گرد ٹولے کو پہچان نہیں پائے۔ جو مکاری اور منافقت سے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اِن کی اپنی صفو ں میں گھس آیا تھا۔ 2002میں یہ لوگ سوات میں پھر سے اس وقت منظر عام پر آئے جب صوفی محمد کے داماد فضل اللہ نے دین کے نام پر لوگوں کی سادگی سے فائدہ اٹھایا۔ اس نے نفاذ شریعت کے نام پر سوات کے مقام مام ڈھیری میں ایک مدرسہ بنا لیا اور اپنا ایف ایم ریڈیو شروع کر دیا۔ مام ڈھیری مینگورہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر دریا کے کنارے پر ایک عام سا گاؤں تھا۔ جہاں صوفی محمد کا گھر تھا اور اس نے دریا پر لوگوں کی نقل و حمل کے لئے ایک لفٹ بھی لگا رکھی تھی جس کا آپریٹر فضل اللہ تھا جو بعد میں صوفی محمد کا داماد بھی بن گیا۔ سسر کی تحریک کو ایک متشدد حربی و جنگی تنظیم میں بدلنے والے فضل اللہ نے شروع میں تو مدرسے کے نام پر بے شمار فنڈز اکٹھے کئے، حتی کہ خواتین نے اپنے زیورات تک پیش کر دیے۔ بعد میں اس نے طاقت کے زور پر اپنی مرضی کا اسلام ٹھونسنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ وہ اپنے احکامات کی تکمیل کے لئے نہ صرف ریڈیو پر تقاریر کرتا بلکہ عوام اور انتظامیہ کو کھلے عام دھمکیاں بھی دیتا۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو اپنی نام نہاد شریعت کے نفاذ کے لئے ایک جارحانہ نعرہ بھی دے دیا تھا،’’ شریعت یا شہادت‘‘ ۔ دینِ اسلام کے یہ نام نہادداعی سرکاری اہل کاروں پر حملے، اغواء، قیدیوں کے بے رحمانہ قتل، پاکستان سے وفادار علمائے دین کے قتل، اپنی چیک پوسٹیں بنا کر غنڈہ ٹیکس کی وصولی، غیرقانونی ایف ایم اسٹیشنوں سے غلط پروپیگنڈہ ، لڑکیوں کے سکولوں کو تباہ کرنے اور معصوم بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف سفاکانہ اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ سوات اور باجوڑ میں تو ان دہشت گردوں نے ریاست کے اندر ایک اور ریاست بنا لی تھی اور حکومت کے تعینات کئے گئے سرکاری نمائندوں کو بے بس کر دیا گیا تھا۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ 2009ء کے اوائل تک سوات کے عوام کو دہشت گردوں نے عملاً یرغمال بنا لیا تھا،دہشت گردوں نے سوات کی اعلیٰ روایات ، تمدنی آثار اور ملی افتخارات کو نشانہ بنایا، حجروں کو مسمار کیا، سکولوں کو جلایا،بچیوں کی تعلیم پر یکسر پابندی لگا ئی، نوجوان لڑکوں اور معصوم لڑکیوں پر کوڑے برسائے ، سی ڈی شاپس اور حُجام کی دکانوں کو تباہ کیا اور سوات کے ہر خاص و عام پر ایسے مظالم ڈھائے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔یہ پشتونوں کے اقدار میں نہیں ہے کہ وہ کسی کو ذبح کر کے اُس کی لاش کی بے حُرمتی کریں۔ کسی کو قبر سے نکال کر اُس کی لاش کو اُلٹا لٹکائیں۔ عورتوں کو کوڑے ماریں اور مقدس مزاروں کی بے حُرمتی کریں۔یہ سارا تشدد فضل اللہ اور بدیشی حواریوں نے متعارف کرایاغیر مُلکی دہشت گردوں میں عرب، اُزبک اور تاجک دہشت گردبھی شامل تھے۔اِن دہشت گردوں نے بیک وقت عوام اور حکومت کے پاور سنٹرز کو نشانہ بنایا۔ یعنی عوام اور پولیس دونوں کو زیر کر کے اُنہوں نے سوات کے عوام کو یرغمال بنا لیا تھا۔ حکومتی رٹ کو ختم کر نے کے لئے پولیس سٹیشنوں کو تباہ اور پولیس اہلکاروں کو بے دردی سے قتل کیا جاتا، دوسری طرف لوگوں کی مزاحمت کو کچلنے کے لئے علاقائی مشران کو قتل کیا یا ملک بدر کرنے پر مجبور کیا جاتا اور حُجروں کو تباہ کر دیا جاتا۔ عوامی مزاحمت کو بروقت دبانے کے لئے انہوں نے جرگوں کو بھی نشانہ بنایا۔ گوالیرئی گاؤں کی مسجد میں بیٹھے ہوئے جرگے کے مشران کو بے دردی سے قتل کیا گیا ۔ پیر سمیع اللہ آف منڈل ڈاگ نے مزاحمت کی تو پہلے اُس کو شہید کیا گیا اور بعد میں اُس کی لاش قبر سے نکال کر بے حُرمتی کی گئی۔ عبدالکبیر خا ن ، محمد افضل خا ن لالہ، وقار خان ایم پی اے، شاہی خاندان کے میاں گل اسفند یار، امیر زیب بانڈی کے شیر شاہ خان، ڈھیری کے ڈاکٹر شمشیر اور واجد علی خان کے خاندانوں کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ ایسے حالات پیدا کر کے سوات پر فضل اللہ نے بادشاہت قائم کر لی تھی اور اُس وقت کے ڈی سی او سید جاویدکو عملاً غیر فعال کر ڈالا تھا۔ طالبانائزیشن عام ہو رہی تھی۔ سب لوگوں نے خوف و ہراس کی وجہ سے چپ کا روزہ رکھا اور شاذو نادر لوگ جو بات کرنے کا حوصلہ کرتے تو وہ بھی ڈر سے فضل اللہ اور اُس کے حواریوں کی بولی بولنے لگتے۔ ایسے بدترین حالات میں سوات کے لوگوں کے پاس دو ہی راستے تھے ۔ طالبان کا حامی بن کر سوات میں رہنا یا علاقہ چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہو جانا۔ سوات کا باشعور طبقہ اب فکر مند تھا کہ دینِ اسلام کے ساتھ ایسابے ہودہ مذاق کرنے پر کہیں سلطانِ افلاک کا قہر نازل نہ ہوجائے۔ مقامی انتظامیہ اور حکومت مکمل طور پر بے بس ہوچکی تھی۔ حکومت کی عملداری کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں نے اہلِ سوات کا جینا دُوبھر کردیا تھا۔ بالخصوص ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لئے عرصہ حیات تنگ ہو چکا تھا۔ بات جان ومال کے خطرے سے آگے بڑھ چکی تھی۔ایسے سفاکانہ طریقے تھے کہ انسانیت پناہ مانگے۔ ان شرپسندوں اور دہشت گردوں سے علاقے کے لوگ سخت نالاں تھے۔ یہ دہشت گرد بیٹیوں کو سکول جانے سے تو روکتے تھے ہی، ا ب عزّت کے درپے بھی ہونے لگے تھے۔ تعلیمی اداروں، مسجدوں، امام بارگاہوں،زیارتوں، کاروباری اداروں اورحساس تنصیبات کو نشانہ بنا رہے تھے ۔ جس سے نہ صرف حکومت بلکہ عوام کے لئے بھی شدید مشکلات پیدا ہوئیں اور ان علاقوں میں زندگی غیر محفوظ ہوکر رہ گئی تھی۔یہ ایک انتہائی نازک اور مشکل وقت تھا اور آپریشن سے پہلے حکومت پُرامن طور پر حالات ٹھیک کرنے کی آخری کوشش کرنا چاہتی تھی۔ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے صُوفی محمد سے حکومت نے 27فروری2009ء کو سوات میں آخری حد تک سمجھوتہ کرتے ہُوئے تقریباً اُس کی شرائط پر معاہدہ کیا کہ علاقے میں نظام عدل ریگولیشن بھی نافذ کیا جائے گااور فوجی آپریشن سے بھی گریز کیا جائے گا۔ بدلے میں کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی نے حکومت اور فوج کے خلاف کسی قسم کی جارحانہ کاروائی سے باز رہنے کی یقین دہانی کرائی۔ لیکن صرف چند ہفتوں میں معاہدے کی 200سے زائد خلاف ورزیاں کی گئیں۔ چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والوں سے بھتہ وصول کیا جانے لگا۔ جو پس و پیش کرتا اِسے ان کی قاضی عدالتوں کا سامنا کرنا پڑتا جہاں کسی بھی الزام پر سر قلم کرنے کا حکم دے دیا جا سکتا تھا، لوگوں کی سر کٹی لاشیں چوکوں میں آویزاں کر دی جاتیں اور حکماً 24گھنٹے تک عبرت عام کے لئے مینگورہ شہر کے گرین چوک(بعد میں خونی چوک کے نام سے مشہور ہوا) میں لٹکی رہتیں اور کسی کو جرأت نہ ہوتی کہ اتارنے کی بات کرے ۔ اُدھر سکولوں اور سرکاری دفاتر کو بارود سے اُڑا دیا جاتا۔ دہشت گردوں نے اسلام کی ایک اپنی ہی شکل گھڑ رکھی تھی۔ ادھر عوام بھی اپنے علاقے میں امن و استحکام کا قیام اور دہشت گردی کا قلع قمع چاہتے تھے۔ وہ متفکّر تھے تو اس بھیانک سیاہ را ت کے بارے میں جو شریعت کے نام پر سوات میں چھا چکی تھی۔حتیٰ کہ سوات، دیر، بونیر،شانگلہ ا ور دوسرے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے نے انتہائی سنگین اور خطرناک صورت اختیار کر لی،دہشت گردوں نے اپنی دسترس کے علاقوں میں خود کش حملہ آوروں کے لئے تربیت گاہیں قائم کر لیں جہاں کم سن نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کی جاتی اور پھر انہیں نشے کے زیرِ اثر ہپناٹائز کر کے ملک کے مختلف علاقوں میں تباہی و بربادی کے لئے بھجوا دیا جاتا۔ اقتصادی اور سماجی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئیں ۔ سیاحت جس کو علاقے میں اہم صنعت کا درجہ حاصل تھا اور وہاں کے لوگوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ تھی،بری طرح متاثرہوئی کیونکہ لوگوں کے جان و مال تک محفوظ نہ رہے تھے۔اس دوران2 ہزار کے قریب سویلین شہید اور 4 ہزار کے قریب زخمی ہوئے۔1992 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے،5 ہزار کے قریب گھر وں کو جزوی نقصان پہنچا۔303 دکانیں مکمل طور پر تباہ ہوئیں اور550 جزواً ، دہشت گردوں نے 149 ہوٹل بالکل برباد کر دیے جن پرسوات کی معیشت کا اہم دارومدار تھاجبکہ483 کو استعمال کے قابل نہیں چھوڑا۔اس صورتِ حال میں سکولوں اور تعلیمی نظام کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ سوات میں امن کی دگرگوں صورت حال پرمحدود آپریشن تو 2007 میں بھی کیا گیا تھااور صرف ایک ماہ اور ایک ہفتے میں ہی صورت حال قابو میں آ گئی تھی۔لیکن حکومت کی طرف سے کی گئی امن کی کوششیں اس وقت رائیگاں چلی گئیں جب فروری 2008میں دہشت گردوں نے دوبارہ تخریب کاری، اغوا برائے تاوان اور ڈاکہ زنی کی روش اپنا لی،۔ حکومت کی مصالحانہ کوششیں تو ناکام ہو ہی چکی تھیں اب کی بار دہشت گردوں نے خود کو اتنا مضبوط اور موئثر کر لیا کہ علاقے کے لوگ بھی ان کے خلاف کسی طاقت کے ساتھ تعاون کر کے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے لئے تیار نہ تھے۔اب حکومت نے پھر درمیانہ راستہ اپناتے ہوئے 27 فروری 2009 میں کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے مطالبہء نظام عدل کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔مگر افسوس صد افسوس یہ بھی دہشت گردوں کا ایک گھناؤنا ہتھکنڈہ ثابت ہوا۔نہ صرف اس نظام کے غلاف میں دہشت گردی اوریرغمال بنانے کی وارداتیں بڑھ گئیں بلکہ سیکیورٹی فورسز کے قافلوں پر کھلے عام حملے ہونے لگے اور 30 سیکیورٹی اہلکار شہید کر دیے گئے۔ اس کے باوجودباقاعدہ آپریشن سے پہلے حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کی طرف سے معاملات کو پُر امن طریقے سے حل کرنے کی کوششیں کی گئیں ۔ لیکن امن کا جواب ےُوں مِلا کہ پاک فوج کے دو آفیسرز، کیپٹن راجہ نجم ریاض، کیپٹن جنید خان اور دو سولجرز نائیک شاہد رسول ااور لانس نائیک شکیل احمد کو دھوکے سے یرغمال بنا لیا گیا اور 21دِن تک اپنے مکروہ عزائم کو منوانے کی کوششیں کیں۔ بالآخر جب حکومتِ پاکستان اور پاک فوج نے ناجائز مطالبات نہ مانے تو اِن نہتے آفیسرز اور سولجرز کو سفاکی سے شہید کر دِیا۔ دریں حالات پوری قوم نے یک زبان ہو کر ایسے سفاک دہشت گردوں کی سرکوبی اور سوات سے مکمل صفائی کا مطالبہ شروع کر دیا۔بالآخر6 مئی2009کو سوات اور خوازہ خیلہ میں آپریشن راہ راست کا آغاز ہوا۔ تقریباً ایک ماہ کے عرصے میں مٹہ، گلی آباد،چکدرہ اور لوئی سر کو محفوظ بنا لیا گیا۔ ادھر دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ اور تزویراتی اہمیت کے عظیم پہاڑ پیو چار کی چوٹی سر کرنے کے لئے کمانڈوز کی مدد سے بھرپور آپریشن شروع ہو گیا۔صرف ایک ہفتے میں پیوچار سے سینکڑوں دہشت گردوں کو بھگا کر اور متعدد کو ہلاک کر کے ہزاروں کی تعداد میں اسلحہ و برود کے ساتھ غزانو سر چوٹی پر سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کو دہشت گردوں نے چار وں طرف سے گھیر رکھا تھا اور بھر پور مزاحمت کر رہے تھے۔چار دن کی گھمسان کی لڑائی کے بعد ۲۷ مئی کو مینگورہ کو بھی محفوظ بنا لیا گیا اور پھر مینگورہ کو مرکزبنا کر چارباغ، شموزئی،چوپڑیال،وادیِ بہیااور شاہ ڈیرئی کے علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کر کے پورے مالا کنڈ ڈویژن میں کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔ سوات کی حسین وادیوں کا حسن پاک فوج کے بہادر بیٹوں کے لہو سے ایک بار پھر نکھر آیا۔ بہت سے نئے سرخ گلاب زمین پر کِھل اُٹھے‘ ان عظیم ماؤں کے حسین گلابوں کی یاد میں جنہوں نے اپنی جوانیاں اس سرزمین کی حُرمت پر بے دریغ نثار کر دیں۔ اس طرح صرف تین ماہ کے عرصے میں دہشت گردوں کی ایسی سرکوبی کی گئی کہ دہشت کے رسیااپنی جانیں بچانے کے لئے پہاڑوں، جنگلوں اور غاروں میں جا چھپے۔ دہشت گردوں کے خلاف جن علاقوں میں بھرپور آپریشن کیا گیا وہاں کامیابی نے پاک فوج کے قدم چومے۔ فوجی افسر اور جوان جذبہ حُب الوطنی، عزم بالجزم اور قوت ایمانی سے سرشار اس جنگ میں شریک رہے۔اس جنگ میں وطن عزیز کے ہر خطے سے معصوم شہری اور سکیورٹی فورسزکے سینکڑوں جان نثاردہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ۔ اس آپریشن میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں میں میجر حافظ عتیق جیسے نڈر آفیسر بھی تھے جو مسلسل 14 گھنٹے تک دہشت گردوں سے نبرد آزما رہے اور منگل تان روڈ (چار باغ) کو دہشت گردوں کے تسلط سے چُھڑانے میں کامیاب ہوئے۔ بالآخر اپنے ایک سپاہی محمد ارشد کے جسدِ خاکی کو اُٹھاتے ہوئے گولی لگنے سے شہادت کے مقام پر فائز ہوئے۔ اِسی طرح حوالدار مظہر شہید بھی اپنے زخمی ساتھی کو دہشت گردوں کے چنگل سے اُٹھا کر لا رہے تھے کہ سینے میں گولی کھائی۔ حوالدار نعیم اصغر نے دہشت گردوں کے سرغنہ خشمیر کو بحرین میں پہاڑ کی ایک چوٹی پر جا لیا اور واصل جہنم کیا بالآخر 15دہشت گردوں کے ایک جتھے سے تنِ تنہا لڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش کیا ۔ میجر زاہد حسین شہید نے ڈڈیال کے اہم مقام کو دہشت گردوں کے قبضے سے چھڑا کر اس وقت تک اپنے قبضے میں رکھا جب تک کہ پیو چار کی طرف اپنی سپاہ کی پیش قدمی آسان نہ ہو گئی۔ اِسی اثناء میں انہیں اتنی گولیاں لگ چکی تھیں کہ شہادت کا جام نصیب ہوا۔ کیپٹن وقاص ضمیر شہید نے اپنی پلاٹون کے ساتھ کانجو ٹاؤن میں سو سے زائد دہشت گردوں کا مقابلہ پانچ گھنٹے تک کیا۔ آخر میں اپنے زخمی سپاہیوں کو دہشت گردوں کے فائر کی زد سے اٹھا کر محفوظ مقام پر لاتے لاتے جب 14زخمیوں کو اٹھا چکے تو آپ کے حصّے کی گولی آپ کے سینے پہ لگی اور شہادت کا مقام عطا ہوا۔ کیپٹن بلال ظفر شہید ان ہیروز میں سے تھے جنہوں نے شروع میں ہی دہشت گردوں کے گڑھ اور مشکل ترین مقام پیوچار کی چوٹی غزانو سر پہ قبضہ حاصل کیا اور کئی دہشت گردوں کو موت کی نیند سُلا کر جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی ٹیم میں نائب صوبیدار صابر حسین نے شہادت سے پہلے پانچ دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا۔ میجر عابد مجید ملک شہید نے مٹہ کے قریب اپنے زخمی سپاہیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہادت حاصل کی۔ لیفٹیننٹ عاصم اقبال بری کوٹ کے قریب کوٹہ کے مقام پر دشمن کی گھات میں شہید ہوئے۔ کیپٹن عامر بٹ شہید چارباغ کی منگل تان روڈ پر 1800میٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے چُھڑانے کے بعد اپنے ایک شہید سپاہی کا جسدِ خاکی دشمن کے تسلط سے نکلواتے ہوئے شہید ہوئے۔ کیپٹن معراج محمد شہید نے اپنے ان ساتھیوں کی مدد کرتے ہوئے شہادت حاصل کی جو پہلے ہی دشمن کی گھات میں آ چُکے تھے۔ کیپٹن فیاض احمد شہید ایک پیدل گشت کی قیادت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے راکٹ لانچر کا نشانہ بنے۔ اس طرح آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کے 408 آفیسرز اور سولجرز شہید اور 1334 زخمی ہوئے جبکہ1641دہشت گرد صفحہء ہستی سے مٹا دیے گئے اور377 زخمی ہوئے،2000 سے زائد نے ہتھیار پھینک کر خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا یا قید کر لئے گئے۔اس دوران 27 لاکھ سے زائد آبادی کو گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں رہنا پڑا جنھیں کامیاب آپریشن کے بعد ستمبر2009میں واپس اپنے گھروں میں بحال کر دیا گیا۔ سوا ت میں امن بحال ہو گیا۔ دہشت گردوں میں سے کچھ مقابلے میں مارے گئے،چند ایک بھاگ کر ہمسایہ ملک افغانستان کی سرحد پار کرگئے اور بہت سے قیدی بنا لئے گئے۔ پاک فوج نے اِن کا پیچھا پہاڑوں اور جنگلوں میں بھی جاری رکھا۔ قیدیوں میں سے ایسے افراد جو مجبوراً دہشت گردوں کے ساتھ مل گئے تھے اور معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث تھے‘ انہیں پاک فوج نے خصوصی تربیت کے ذریعے معاشرے کے کارآمد شہری بنا کر واپس معاشرے میں شامل کردیا، اور باقیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ یہ اب حکومت اور عدلیہ پر منحصر ہے کہ وہ ان دہشت گردوں سے کیسے نمٹتی ہے۔ سوات آپریشن پوری دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد اور مثالی آپریشن ہے جِس میں مختصر ترین دورانئے میں دہشت گردوں کی اتنی موئثر سرکوبی کی گئی اور خطّے میں حکومت کی عملداری بحال ہوئی۔ بلاشبہ یہ اعزاز افواجِ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی زبردست فہم و فراست اور حکمت عملی کے علاوہ فوجی آفیسرز، جونئر کمیشنڈ آفیسرز اور جوانوں کے حصّے میں آتا ہے۔ جنہوں نے دفاعِ وطن کے مقدس فریضے کی تکمیل ہر خارجی اور داخلی محاذ پر اتنے عظیم جذبے اور بہادری سے کی کہ اُن کی کامیابی دفاعِ وطن کی کاوشوں میں ایک اہم سنگِ میل بن گئی۔

دریں حالات پوری قوم نے یک زبان ہو کر ایسے سفاک دہشت گردوں کی سرکوبی اور سوات سے مکمل صفائی کا مطالبہ شروع کر دیا۔بالآخر6 مئی2009کو سوات اور خوازہ خیلہ میں آپریشن راہ راست کا آغاز ہوا۔ تقریباً ایک ماہ کے عرصے میں مٹہ، گلی آباد،چکدرہ اور لوئی سر کو محفوظ بنا لیا گیا۔ ادھر دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ اور تزویراتی اہمیت کے عظیم پہاڑ پیو چار کی چوٹی سر کرنے کے لئے کمانڈوز کی مدد سے بھرپور آپریشن شروع ہو گیا۔صرف ایک ہفتے میں پیوچار سے سینکڑوں دہشت گردوں کو بھگا کر اور متعدد کو ہلاک کر کے ہزاروں کی تعداد میں اسلحہ و برود کے ساتھ غزانو سر چوٹی پر سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کو دہشت گردوں نے چار وں طرف سے گھیر رکھا تھا اور بھر پور مزاحمت کر رہے تھے۔چار دن کی گھمسان کی لڑائی کے بعد ۲۷ مئی کو مینگورہ کو بھی محفوظ بنا لیا گیا اور پھر مینگورہ کو مرکزبنا کر چارباغ، شموزئی،چوپڑیال،وادیِ بہیااور شاہ ڈیرئی کے علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کر کے پورے مالا کنڈ ڈویژن میں کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔ سوات کی حسین وادیوں کا حسن پاک فوج کے بہادر بیٹوں کے لہو سے ایک بار پھر نکھر آیا۔ بہت سے نئے سرخ گلاب زمین پر کِھل اُٹھے‘ ان عظیم ماؤں کے حسین گلابوں کی یاد میں جنہوں نے اپنی جوانیاں اس سرزمین کی حُرمت پر بے دریغ نثار کر دیں۔

یہ تحریر 46مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP