ہمارے غازی وشہداء

سنہری پٹی

سنہری پٹی

محمد ریحان رشید

میجر وسیم احمدکی ولولہ انگیز داستان
(دشمن کے ساتھ مقابلے میں دوران جنگ زخمی ہونے والے افواج پاکستان کے افسران، عہدیداران اور سپاہیوں کو پاک فوج کے منتخب کردہ بورڈ کی نشاندہی اور سفارشات کی رو سے سنہری پٹی سے نوازا جاتا ہے۔ یہ سنہری پٹی باوردی فوجی اپنے سینوں پر سجاتے ہیں جو اس بات کی غماز ہے کہ انہوں نے دوران جنگ شجاعت اور دلیرانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا)



پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اٹھارہ سال ہونے کو ہیں۔ اٹھارہ سال۔۔! ان سالوں میں اتنے دن رات نہیں، جتنی پاکستان کی قربانیاں ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے ان اٹھارہ سالوں میں تقریباً دس سے زائد پاکستانی ہر دن کے لحاظ سے اوسطاً شہید ہوئے ہیں۔ جانی و مالی نقصان کا المیہ اپنی جگہ لیکن اِس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں زخمی ہونے والوں کی فہرست بھی بہت طویل ہے۔ جن کے کٹے جسمانی اعضاء اور جھلسے بدن اِس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان کے امن اور سالمیت کی خاطر کس طرح ان بہادرجوانوں نے اپنے تن من دھن کی بازی لگائی اور دشمن کے شر سے اس پاک دھرتی کو محفوظ رکھا۔ کہنے کو یہ اٹھارہ سال کتنی جلدی بیت گئے لیکن ان اٹھارہ سالوں کا ہر ایک لمحہ ان غازیوں کی داستانوں سے رچا بسا ہے۔ ان نوجوانوں نے اِس ملک کی خاطر طرح طرح کی ذہنی و جسمانی تکالیف خوشی سے قبول کیں تاکہ اِس پیارے ملک کو دہشت گردی سے لگی آگ کی تپش بھی محسوس نہ ہو۔ یہ مٹی کے بیٹے آگے بڑھے اورگولیوں کی بوچھاڑ اور بارود کے طوفان کے سامنے ہماری ڈھال بن گئے۔اپنے ٹکڑے کروا دیے تاکہ اِس ملک کے ٹکڑے نہ ہو سکیں۔ ہم سب اِن بہادرجوانوں کے قرض دار ہیں ۔ یہ زخم ساری زندگی کے لئے اِن غازیوں کا اثاثہ ہیں اور اِن کے سینوں پر لگی سنہری پٹی اِس ملک کی حفاظت کی ضامن ہے۔ اس سنہری پٹی سے نکلنے والی روشنی نے ملکی سالمیت کو درپیش تمام مصائب کے اندھیروں سے باہر نکالا۔ یہ سنہری پٹی ہمارے روشن مستقبل کی تصدیق کرتی ہے۔
یہ داستان بھی ایک سنہری پٹی والے بہادر کی ہے جس کا نام میجر وسیم احمد ہے۔ آپ کا تعلق سکردو سے تقریباً٩٠کلومیٹر کے فاصلے پر ڈسٹرکٹ خپلو کے بہت ہی پسماندہ لیکن خوبصورت ترین گائوں ''یوگو''سے ہے۔ یہاں ضروریات زندگی کی سہولیات بہت ہی کم ہیں اور اِس بات کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ٢٠٠٩ میں پہلی بار بجلی کی سہولت اِس گائوں تک پہنچی۔ موبائل کے سگنل آج بھی کام نہیں کرتے۔ ایک چھوٹا سا پرائمری سکول ہے اور ہسپتال کی سہولت اب تک موجود نہیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں مریض کو ڈسٹرکٹ ہسپتال سکردو ہی منتقل کرنا پڑتا ہے۔
میجر وسیم احمد کے والد خپلو،سکردو اور والدہ کا تعلق کشتواڑ، جموں کشمیر سے ہے۔ یعنی آپ کا خمیر ہی پاکستان سے محبت کرنے والوں سے بنا ہے۔ والدین کا شروع میں ذریعہ معاش ، وہاں کے تمام لوگوں کی طرح کھیتی باڑی تھا لیکن پھرانہوں نے میجر وسیم احمد سمیت چھ بہن بھائیوں کی اچھی تعلیم و تربیت کے لئے سکردو شہر کا رخ کیا اور بہت ہی کٹھن مراحل سے گزرتے ہوئے چھوٹے سے کاروبار کا آغاز کیا۔
میجر وسیم کی والدہ کے مطابق آپ بچپن سے ہی بہت شرمیلے اور کم گوتھے۔ حتیٰ کہ بچپن میں سکول کی رپورٹس بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ آپ کی قابلیت اور محنت کی وجہ سے آپ نے سکردو کیڈٹ کالج کے داخلے کا امتحان پاس کیا جو بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اتنی چھوٹی عمر میں پہلی بار ہاسٹل میں رہنے کا اتفاق ہوا۔ کبھی گھر والوں سے دور نہیں رہے تھے اور پھر خاص طور پرامی کے پکائے ہوئے گرما گرم کھانوں کی بہت یاد آتی تھی۔ سارے کام خود کرنے پڑتے۔ ٹھنڈی راتوں میں کافی دیر تک فالن میں کھڑے رہنا پڑتا۔ صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے پی ٹی (جسمانی ٹریننگ) اور ڈرل کرنی پڑتی۔لیکن بچپن میں ہی آپ نے باوردی ہو کر ڈرل کے میدان میں پائوں مار کر اس دھرتی کو باور کرا دیا تھاکہ اس دھرتی ماں کا بیٹا اس ملک کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے۔
سکردو کیڈٹ کالج کی بنیادی تعلیم اور آپ کی فوج سے لگن نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کا راستہ آسان بنا دیا۔ ٩مئی٢٠٠٧ کو آپ ١١٩لانگ کورس میں منتخب ہو کر اکیڈمی پہنچے اور تھرڈ پاکستان بٹالین، حمزہ کمپنی میں شمولیت اختیار کی۔ آپ کی انتھک محنت نے پی ایم اے کی سخت ترین ٹریننگ کو بھی نہایت آسانی سے مکمل کرنے میں مدد دی۔ پاسنگ آئوٹ سے چند دن پہلے آپ کے والد وفات پا گئے جس کا دکھ آپ کو ساری زندگی رہے گا۔ ہر کیڈٹ کا ارمان ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی والے دن وہ اپنے والدین کو سلیوٹ کرے اور آپ کے والد نے متعدد باراس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاسنگ آئوٹ کی خوشی میں بھی آپ والد کی یاد میں اشکبار رہے۔
٢٥اپریل ٢٠٠٩ء کو پاس آئوٹ ہونے کے بعد ٢٩بلوچ رجمنٹ کو وارزون منزئی فورٹ، جنوبی وزیرستان میں جوائن کیا۔ شروع کے سخت ترین حالات میں سیکنڈ لیفٹنٹ وسیم احمد منزئی فورٹ سے جنڈولا فورٹ کے درمیان روٹ پکٹنگ کی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ بعد میں یونٹ کو آگے سپن کئی اور پھر شیشم وام جیسے سخت ترین علاقوں کو دہشت گردوں سے صاف کرنے کا کام سونپا گیا۔ سب سے مرکزی آپریشن شیشم وام سے آگے ٨.١٣٣٣کی چوٹی کو کلیئر کرنا تھا جو دہشت گردوں کی آماجگاہ تھا۔ آپریشن کی پہلی رات کو آپ کی یونٹ کے ٩جوان شہید ہوئے۔ لیکن اس کے باوجود آپ نے آگے بڑھ کر اپنے ساتھیوں کو حوصلہ دیا اور اس آپریشن کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا جس کی وجہ سے آپ کو چیف آف آرمی سٹاف اعزازی سند سے نوازا گیا۔
اڑھائی سال جنوبی وزیرستان کے سخت ترین آپریشن میں حصہ لینے کے بعد آپ اپنی رجمنٹ کے ساتھ اگست٢٠١١ء میں پنوںعاقل پہنچے۔ یہاں بھی آپ کو صحرا میں پاک بھارت بارڈر کے ساتھ بنکرز کی دفاعی تعمیرات کے اہم ترین کام پرمامور کیا گیا جو آپ نے احسن طریقے سے سر انجام دیا۔
سندھ کے صحرائوں سے آپ انفنٹری بیسک کورس کرنے کوئٹہ پہنچے۔ جیسے پی ایم اے کی ٹریننگ ٤حصوں میں مشتمل ہوتی ہے جسے فورتھ ٹرم کہتے ہیں اسی طرح فوجی اصطلاح میںانفٹری کورس کو پی ایم اے کی ففتھ ٹرم کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہاں دوبارہ سے پورا کورس کوئٹہ میں اکٹھا ہوتا ہے اور ٹریننگ کی سختی کا معیار بھی پی ایم اے سے کم نہیں ہوتا۔ یہاں بھی آپ نے بہت عمدگی سے کورس کے تمام مراحل عبور کئے اور پھر١٤اگست ٢٠١٢کو تتاپانی، کوٹلی میں پاک بھارت بارڈر کے ساتھ تعینات اپنی یونٹ میں واپس آگئے۔ یہاں آپ نے روایتی دشمن بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی اندھا دھند خلاف ورزی کا جواں مردی سے مقابلہ کیا۔ اس دوران آپ کی یونٹ کے دو جوان شہید بھی ہوئے۔ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے آ پ نے دو سال بارڈر پر گزارے۔ اسی دوران آپ کی شادی ١٦اگست٢٠١٤ء کو اپنی کزن سے ہوئی ۔
اس کے بعد آپ مڈکیئریر کورس پر کوئٹہ چلے گئے اور کورس کے دوران اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے آپ کو سکول آف انفٹری اینڈ ٹیکٹس کوئٹہ میں بطور انسٹرکٹر تعینات کر دیا گیا۔ سکول کے دوران آپ کی اعلیٰ تربیت اور تجربے کاینگ آفیسرزکو بہت فائدہ ہوا کیونکہ ابھی تک آپ کا سارا کیرئیر وار زون میں گزرا تھا۔ اسی دوران٤جنوری ٢٠١٦ء کو آپ کی بیٹی کی پیدائش ہوئی۔آپ کے مطابق یہ آپ کی زندگی کا خوبصورت ترین دن تھا اور آپ نے خود اپنی بیٹی کا نام اقرأ رکھا۔
کوئٹہ میں دو سال گزارنے کے بعد دوبارہ آپ کی پوسٹنگ آپ کی یونٹ ٢٩بلوچ رجمنٹ میں ہوئی جو اُس وقت باجوڑ ایجنسی میں چارمنگ کے مقام پر پاک افغان بارڈر فینسنگ کے انتہائی کٹھن مراحل سے گزر رہی تھی۔ کیونکہ ہر روز افغانستان کی جانب سے آئے ہوئے دہشت گردوں کی طرف سے مشکلات کا سامنا رہتا جو بارڈر فینسنگ کے کام میں خلل پیدا کرتے۔ کبھی فائرنگ ہوتی تو کبھی رات کی تاریکی میں آئی ای ڈی لگا دی جاتی تاکہ جب فینسنگ پرمامور جوان اِن راستوں سے گزریں تو انہیں دھماکے سے اڑا دیا جائے۔ ان نامساعد حالات و واقعات کو مدِنظر رکھتے ہوئے میجر وسیم احمد نے فوراً اپنی فیملی سکردو بھیجوا دی اور چھٹی ختم ہونے سے پہلے ہی اپنی یونٹ میں ٧فروری٢٠١٨ء کو چارمنگ، باجوڑ ایجنسی میں رپورٹ کی۔ ایک بار پھر سے میجر وسیم احمد جنگی حالات اور ماحول میں واپس آ گئے تھے۔ جس رات آپ نے بٹالین ہیڈ کوارٹرز رپورٹ کی اس دن بھی ایک آئی ای ڈی پھٹنے کا واقعہ ہوا جس میں ایک محب وطن پاکستانی شہید ہوا جو پاکستانی فوج کی مددکیا کرتا تھا۔
اگلے دن ٨فروری٢٠١٨ء کو دوپہر دو بجے آپ اپنی کمپنی ہیڈ کوارٹرز کے لئے روانہ ہوئے جوبالکل پاک افغان بارڈر پر تعینات تھی۔ مغرب سے کچھ پہلے آپ اپنی جیپ میںایلفا کمپنی پہنچے جہاں آپ کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ یہاں سے آگے آپ کو کمپنی ہیڈ کوارٹرزتک کا سفر پیدل کرنا تھا کیونکہ آگے گاڑی جانے کا راستہ موجود نہ تھا۔ مغرب ہوتے ہی آپ اپنی کمپنی ہیڈ کوارٹرز کے لئے نکلے اور ایک چھوٹی سے پگڈنڈی پر٧ساتھیوں کے ساتھ سفر شروع کیا جو ہیڈ کوارٹرز کی طرف جاتی تھی۔ ابھی تھوڑا ہی سفر طے کیا تھا کہ اچانک دو دھماکے ہوئے۔ پہلے دھماکے کی آواز ابھی سنی ہی تھی کہ دوسرا دھماکہ ہوا اور اس دوسرے دھماکے کے ساتھ ہی میجر وسیم احمد ہوا میں اڑتے ہوئے کافی دور جاگرے ۔ گرتے  ہی آپ نے دو مرتبہ اونچی آواز میں اللہ اکبر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ اسی دوران آپ کے ساتھیوں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا۔ آپ کی نظر سپاہی عابد پر پڑی جس کی دائیں ٹانگ تن سے جدا ہو چکی تھی اور درد سے اس کی آواز نے قیامت کا منظر بنا دیا تھا۔ اسی وقت آ پ نے محسوس کیا کہ آپ کی بائیں ٹانگ کا گھٹنے سے نیچے کوئی وجودہی نہیں ہے اور ساتھ ہی دائیں ٹانگ بھی بارود کی تپش سے جھلس گئی ہے۔ تھوڑی دیر بعد آپ کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے آپ کا آخری وقت آ گیا ہے اور اِس دھماکے کی وجہ سے آپ زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ آپ کے مطابق جب اِس دوران آپ نے اپنی آنکھیں بند کیں تو ایک سکون سا محسوس ہونے لگا اور آپ نے کلمہ طیبہ کا ورد شروع کر دیا لیکن یکدم اپنی بیٹی اقرأ کے خیال سے فوراً آنکھیں کھول لیں۔ اس لمحہ پہلی بار احساس ہوا کہ اولاد کی محبت کتنی انمول ہے۔ بعد میں بھی آپ نے متعدد بار اس بات کا ذکر کیا کہ اس سخت ترین لمحے میں بھی آپ کو آپ کی بیٹی کے خیال نے ہمت دی۔ آپ نے فیصلہ کر لیا کہ آپ نے اپنی بیٹی کے لئے زندہ رہنا ہے۔ اس احساس نے آپ کو حوصلہ دیا کہ آپ اپنے ہوش و حواس قائم رکھیں۔ اسی دوران کچھ سپاہیوں نے آپ کے بیگ میں سے چند کپڑے نکالے اور آپ اور سپاہی عابد کی ٹانگوں پر باندھ دیئے۔ اس کے بعد آپ دونوں کو اٹھا کر ایلفا کمپنی تک پہنچایا گیا۔یہاں سے گاڑی میں ڈال کر آپ دونوں کو بٹالین ہیڈ کوارٹرز تک لایا گیا جہاں پہلے سے ایمبولینس موجود تھی۔ بٹالین ہیڈ کوارٹرز سے آپ کو سول ہسپتال تک پہنچایا گیا اور پھر رات ایک بجے کے قریب ہیلی کاپٹر پر پشاور پہنچایا۔ یہ سارا وقت آپ ہوش میں رہے اور درد تک کا احساس نہ ہوا بس صرف بیٹی کی یاد ستانے لگ گئی۔ خون بہت بہہ چکا تھا اور آپ کا زندہ رہنا بہت مشکل تھا۔ لیکن آپ کے مطابق:''اگر اﷲ تعالیٰ کی پاک ذات ہمت و توفیق دے اور انسان اپنے ہوش و حواس برقرار رکھنے میں کامیاب رہے تو پھر اُسے کچھ بھی نہیں ہوتا۔''



رات دو بجے سے آپریشن شروع ہوا اور صبح٧بجے تک جاری رہا اور اللہ نے آپ کو دوسری زندگی عطا کی۔ جب ہوش آیا تو سب سے پہلے گھروالوں سے بات کر کے انہیں حوصلہ دیا اور کہا کہ بس پائوں کی انگلیاں زخمی ہوئی ہیںاور  ٹانگوں پرتھوڑی سی خراشیں آئی ہیں۔ اِس وقت تک آپ کو خود یہ معلوم نہ تھا کہ آپ کی دوسری ٹانگ بھی زخموں کے باعث شاید کاٹنی پڑ جائے لیکن دعائوں اور ڈاکٹروں کی مسلسل محنت اور خیال سے آپ کو اللہ نے دوسری ٹانگ مبارک کی جو اَب خطرے سے باہر ہے۔ واقعے کے بعد جب پہلی مرتبہ آپ کی شریک حیات کی آپ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اگر آپ سارے بھی کٹ جاتے لیکن صرف زندہ رہتے تو پھربھی ہمیں ویسے ہی قبول ہیں جیسے آپ پہلے تھے۔اِس موقع پر آپ کی ماں، بہنوں اور بیوی نے بہت بہادری سے ان حالات کا سامنا کیا۔ امی نے پہلی بار ملاقات میں آپ کا ماتھا چوما اور کہا کہ ''تو نے ہم سب کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔''اس واقعے کے چند ماہ بعد آپ کی دوسری بیٹی زوہا کی پیدائش ہوئی۔ شروع شروع میں آپ کی بیٹی اقرأ مصنوعی ٹانگ اور اس کے جوڑنے کے عمل کو دیکھ کر تھوڑا سہم سی گئی لیکن پھر اسے احساس ہو گیا کہ اُس کے والد غازی ہیں۔ اور ویسے بھی شہداء اور غازیوں کے گھر والوں کو اللہ اپنی جانب سے خاص حوصلہ عطا کر دیتا ہے۔
 دہشت گردی کے خلاف آپ کی قابل قدر خدمات کے سلسلے میں پاک فوج کی جانب سے آپ کو امتیازی سند سے نوازا گیا۔ آپ گزشتہ ایک سال سے راولپنڈی سی ایم ایچ میں زیر علاج ہیں۔ مسلسل جنگی زندگی گزارنے کے برعکس اب آپ ایک کمرے تک محدود ہیں۔ لیٹے لیٹے بوریت ہونے لگی تو آپ نے اپنے لئے مصروفیت شاعری کی شکل میں نکال لی۔ ویسے بھی آپ کے بہن بھائیوں کے بقول اگر آپ آرمی آفیسر نہ ہوتے تو ایک شاعر ہوتے۔ آپ کی شاعری کی کتاب ابھی زیرِطباعت ہے جو آپ نے اِس واقعے کے بعد ہسپتال میں رہ کر لکھی۔ یہ متفرق خیالات کا  ایک مجموعہ ہے جس سے آپ کے  ادبی ذوق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایک نظم جو آپ نے پاکستانی نوجوانوںکے لئے لکھی جس کا عنوان ہے'' نوجوانوں کے نام'' وہ کچھ اِس طرح سے ہے کہ



تلاشِ کہکشاں ہے تو ستارہ مل ہی جائے گا
ارادے پختہ ہوں تو کوئی سہارا مل ہی جائے گا
زمیں پر دیکھتے رہنے سے حاصل کچھ نہیں ہوتا
نظر کو آسماں پہ رکھ ستارہ مل ہی جائے گا
ریت کے ٹیلے پر چڑھنے سے منظر کم ہی دکھتا ہے
کسی چوٹی پر چڑھ کے دیکھ نظارہ مل ہی جائے گا
سمندر پیار کا بے ذوق لوگوں کو ڈبوتا ہے
خیال عشق سے کودو کنارہ مل ہی جائے گا
خدا تک پہنچے کا راستہ کسی پتھر سے نہ پوچھو
صراطِ مستقیم پہ چل اشارہ مل ہی جائے گا


جی کا تخلص آپ نے اپنے ٹیچر سے محبت کی وجہ سے اپنی شاعری کے لئے منتخب کیا کیونکہ بچپن میں وہ آپ کو وسیم جی کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔



٢٠اگست ٢٠١٨ء کو اِس واقعے کے بعد پہلی مرتبہ آپ نے سکردو جانے کا ارادہ کیا ۔ جب آپ سکردو ائرپورٹ کے لائونج میں پہنچے تو آپ کے ماموں اور بھائیوں نے آپ کے سر پر روایتی گلگتی ٹوپی رکھی اور کندھے پر اٹھا کر ائیرپورٹ سے باہر لائے جہاں ایک جمِ غفیر آپ کا استقبال کرنے پہنچا ہوا تھا اور آپ کی جھلک دیکھتے ہی سب مردوں، عورتوں اور بچوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجنے لگے۔ آپ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جارہی تھیں اور گلے میں ہار پہنائے جارہے تھے ۔ آپ کی تصویریں بنائی جارہی تھیں۔ اور ہر کوئی آگے بڑھ کر غازی کا دیدار کرنا چاہ رہا تھا۔ یہ انتہائی فخر کا مقام تھا۔ جب آپ کی ماں سامنے آئیں تو انہوں نے آپ کی کٹی ٹانگ پر بوسہ دیا۔ یہ نہایت ہی خوبصورت منظر تھا۔ پھر کوئی ٢٠سے زائد گاڑیوں کے کانوائے میں آپ کو گھر لایا گیا۔ گھر میں اونچی آواز میں ملی نغمہ لگاتھا:


کبھی پرچم میں لپٹے ہیں
کبھی ہم غازی ہوتے ہیں
جو ہو جاتی ہے ماں راضی
تو بیٹے راضی ہوتے ہیں


آپ نے جو عزت اپنے خاندان، علاقے اور خاص طور پر ملک کے لئے حاصل کی ہے اِس کی مثال کہیں بھی نہیں مل سکتی۔ اگر لوگ اپنی ساری زندگی کی کمائی بھی لٹا دیں تو ایسا مرتبہ نہ حاصل کر سکیں اور یہی عزت ایک فوجی کا کل سرمایہ ہے۔ اللہ نے ان غازیوں کو ایک عجب مٹی سے تشکیل دیا ہے اور ویسے بھی وطن کی خاطر درد لینا بھی بڑے نصیب کی بات ہے اورایسے نصیبوں والوں سے ہماری پاک فوج بھری پڑی ہے.


یہ تحریر 792مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP