متفرقات

سنو!ستمبرپھر آ گیا ہے

سنو! ستمبر پھر آ گیا ہے۔
کبھی کبھی کوئی یاد۔۔۔
کوئی بہت پرانی یاد۔۔۔
دل کے دروازے پر ایسے دستک دیتی ہے
شام کو جیسے تارا نکلے۔۔۔
صبح کو جیسے پھول۔۔۔
جیسے روح کی پیاس بجھانے۔۔۔
اترے کوئی رسول
یہ یاد بھی کتنی عجیب چیز ہے۔ کبھی تنہائی میں میلہ لگا دیتی ہے تو کبھی میلے میں تنہا کر دیتی ہے۔
گزشتہ دنوں پاکستان اور اس کے ہیرو کو خراج عقیدت پیش کرنے کی ایک فلم سایہ خدائے ذوالجلال کی لانچنگ کی تقریب میں لاہور جانا ہوا۔ میزبان نے میری رہائش کا انتظام لاہورجم خانہ میں کیا تھا۔ لاہور جم خانہ کی بلندو بانگ، باوقار عمارت کے اندر داخل ہوتے ہوئے نہ جانے کیسے ماضی میں کہا ہوا ایک جملہ اور اس کی بازگشت مجھے سنائی دی۔ کچھ مکار انسان اپنے ناپاک عزائم کا اظہار کرتے ہوئے یہ الفاظ ادا کر رہے تھے کہ لاہور فتح کر کے ہم اپنی فتح کا جشن لاہور جم خانہ میں منائیں گے۔


مجھے میرے کمرے تک پہنچایا دیا گیا اور بعد کا شیڈول بھی بتایا گیا۔ لیکن میں تو کہیں اور پہنچ چکی تھی ۔چشم تصور میں وہ سب مناظر دیکھ رہی تھی کہ جب 5اور 6 ستمبر کی درمیانی شب مکار دشمن نے سلطنت خداداد پاکستان کی پاک سرزمین پر اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ شب خون مارا لیکن اسے ایک ایک پاکستانی نے یاد دلا دیا کہ میں جاگ رہا ہوں۔ یہ وہ وقت تھا جس نے دلوں کو مرکز مہروفا بنا دیا۔ بھٹکے ہوئے آہو کو حرم کا راستہ دکھا دیا۔ کیا جذبہ تھا کہ جب
میرے وطن کا ہر جواں
دشمنوں کے درمیاں
خطہ تمیز بن گیا
کوئی یونس بن گیا
کوئی عزیز بن گیا۔

 

وہ وقت جب سب سے پہلے دشمن کا سامنا ارض پاک کے جری اور بہادر سپوت میجر شفقت بلوچ اور ان کے ساتھیوں سے ہوا جو مادر وطن کی سرحد کی حفاظت کے لئے چوکس اور جذبہ جہاد سے سرشار،سرفروشانہ وقار کے ساتھ دشمن کو زیر کرکے جام شہادت کے منتظر تھے۔ میری آنکھ سے ایک آنسو گرا اور چشم تصور میں ہی ان سے پوچھا
اپنی جاں نذر کروں
اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مرد مجاہد
تجھے کیا پیش کروں؟


میرے کانوں میں ایک بارعب آواز گونجتی ہے۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی وہ تقریر جس نے واقعی تاریخ رقم کر دی۔ کلمہ توحید پڑھ کر قوم کو باور کروایا گیا کہ آگے بڑھو اور دشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے، کس قوم کی غیرت پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے اور زندہ دلان لاہور کو سلام ہے کہ جنگ کا خوف طاری کرنے کی بجائے بہادری اور شجاعت کے جذبے سے سرشار لاٹھیاں اور ہاکیاں لے کر نکل پڑے۔ اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمن کا سامنا کرنے کے لئے فضا نعرہ تکبیر سے گونج رہی تھی۔
دل میں قرآن ہونٹوں پہ تکبیر ہے
جوش عباسؓ ہے عزم شبیرؓ ہے
ہر مسلمان حیدرؓ کی شمشیر ہے
سر پہ سایہ فگن دستِ خیبر شکن


زندہ دلانِ لاہور کے اس جذبے کو کراچی میں بیٹھے رئیس امروہوی نے کچھ اس طرح الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔
خطۂ لاہور تیرے جاں نثاروں کو سلام
شہریوں کو غازیوں کو شہ سواروں کو سلام
تو ہے اک سالم قلعہ ارض زمین پاک کا
اے شہیدوں کے چمن تیری بہاروں کو سلام


جنگ ستمبر کا ذکر ہو اور میں اپنے فالکن کی بات نہ کروں جی ہاں محمد محمود عالم (ایم ایم عالم) جس نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جہازوں کو نیست و نابود کر دیا اور رہتی دنیا تک کے لئے ایک ایسا ریکارڈ قائم کر دیا جو جنگی ہوابازی کی تاریخ میں کسی معجزے سے کم نہیں سمجھا جاتا۔ میری خوش قسمتی یہ کہ ساری زندگی میں غازی ملت ایم ایم عالم نے صرف ایک کو بیٹی بنایا اور یہ اعزاز رب العزت نے مجھے عطا کیا۔ وہ ساری دنیا کے لئے ایم ایم عالم تھے۔ لیکن میرے فالکن تھے۔ لاتعداد غازی اور شہداء جنگ ستمبر کے ہیرو ہیں لیکن ان میں سے اقبال کے شاہین کے مرتبے پر اگر کوئی فائز ہوا تو وہ ایم ایم عالم تھے۔


پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہین بناتا نہیں آشیانہ
اور واقعی فالکن نے ذاتی طور پر شہرت اور دولت کی کوئی تمنا نہ کی، کوئی جائیداد نہیں بنائی، نہ ہی کوئی پلاٹ قبول کیا۔
قفس تو خیر مقدر میں تھا مگر فیلکن
ہوا میں شور ابھی تک تیری اڑان کا ہے
ریٹائرمنٹ کے بعد ساری زندگی ایک کمرے میں گزار دی۔
دوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
اور شاید اسی لذت آشنائی نے ایم ایم عالم کو عالم سے بیگانہ کر دیا تھا۔


مستنصر حسین تارڑ کے بقول ’’نیوی سمندر گردی ہے‘ آرمی مشقت اور قربانی ہے اور ایئرفورس ایک رومانس ہے، عشق ہے اور ایم ایم عالم اس رومانس کا سب سے بڑا ہیرو ہے۔ آج کی نسل تصور بھی نہیں کر سکتی کہ ستمبر 65میں جب ایم ایم عالم نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں بھارت کے 5جیٹ فائٹر تباہ کر دیئے تو کیسے وہ ہماری نسل کے محبوب ہو گئے۔‘‘
میں جب بھی فالکن سے ان کے ساتھیوں کا ذکر سنتی سیسل چودھری ہوں یا سرفراز صدیقی، عزیز بھٹی ہوں یا یونس حسن اور جس انداز میں وہ ان تمام مجاہدین کا ذکر کرتے تو میں یہی سوچتی کہ کون لوگ تھے یہ؟ کہ جب دھرتی ماں نے یاد کیا۔۔۔ لبیک دیوانے چل نکلے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ پیچھے رہ جانے والوں کا حال کیا ہو گا؟ جنون تھا تو یہ تھا کہ وطن سلامت رہے۔ سبز ہلالی پرچم اپنی آب و تاب سے لہراتا رہے۔


وہ ایک پرچم رہے سلامت
اس اک لوا کو سلام پہنچے
وطن کی عزت پہ کٹنے والوں
کے نقش پا کو سلام پہنچے
کچھ اس ادا کو پیار آیا
خدا کی رحمت کو پیار آیا
بلالؓ و بوذرؓ کے ہم نشان
باوفا کو سلام پہنچے


6ستمبر اب بھی آتا ہے لیکن نہیں آتا تو وہ وقت واپس نہیں آ سکتا۔ جب میں عام دنوں کے علاوہ 6ستمبر کو خاص طور پر اپنے فالکن کو سلیوٹ کرنے جاتی تھی۔ کیونکہ مجھے پتا ہے اب کوئی بھی فیصل بیس کے بلاک ٹو میں فالکن کے کمرے کے باہر کھڑا میرا انتظار نہیں کر رہا ہو گا۔ اب کوئی مجھے ٹافیوں سے بھرا ہوا جار نہیں دے گا۔ یہ کہہ کر کہ ہم نے دو دن پہلے ہی آپ کے لئے یہ ٹافیاں منگوا کر رکھی ہیں۔ اب کوئی مجھے یہ بتانے والا نہیں ہو گا کہ بنگلہ دیش کی ہائی کمان نے ہم کو اپنی فضائیہ کا سربراہ بننے کی پیش کش کی تھی لیکن ہم نے انکار کر دیا۔ ہم پاکستانی ہیں، پاکستان کے لئے جیئے تھے، جیئے ہیں اور یاد رکھیں ہمارے یہ الفاظ کہ ہم دفن بھی پاکستان کی مٹی میں ہی ہوں گے۔ کیسے چھوڑ دیں ہم یہ وطن؟ جہاں ہمارے ساتھیوں، ہمارے رفیقوں کی یادیں ہمیں ان کے ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ سیسل چودھری، علاؤ الدین اور رفیقی جو اپنے رفیق کے ساتھ شہید ہو گئے۔
فالکنمجھے بتاتے تھے کہ جنگ ستمبر حوصلوں کی جنگ تھی۔ دشمن کے پاس کثیر تعداد میں اسلحہ اور بارود تھا مگر میرے پاکستان کے غازی اور مجاہدین جذبہ جہاد سے سرشار سپاہی افسر سے آگے جانے کی کوشش کرتا۔ افسر سپاہی سے کیونکہ یہ وہ داستان شجاعت ہے جو مادر وطن کے جان نثاروں نے اپنے خون سے لکھی ہے۔ جو قیامت تک کے لئے انمٹ ثابت ہوئی ہے۔
دشمن نے چونڈہ کے محاذ پر ٹینکوں کا سب سے بڑا حملہ کیا۔ ہماری فوج کی تعداد کم تھی لیکن ان کے دل میں شوق شہادت کا وہ جذبہ اور یہ امید کہ
چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم
رسول پاکؐ نے بانہوں میں لے لیا ہو گا


اس جذبے کو سامنے رکھتے ہوئے میرے جری جوان دشمن کے ٹینکوں سے ٹکرا گئے اور ان کے آگ اُگلتے ہوئے ٹینکوں کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے۔ دنیا حیرت میں تھی کہ میرے وطن کے دلیر بیٹوں نے دشمن تو کیا تاریخ کا رخ موڑنے کا بھی تہیہ کیا ہوا تھا۔
سوئے میدان وارث حیدر چلا
یادگار غزوہ خیبر چلا
غزنوی کوئی اور کوئی بابر چلا
سربکف ہر ایک شہپر پر چلا
غازیان دین کا لشکر چلا
سینہ کفار پر خنجر چلا

پاک نیوی ساحلوں کی پاسبان
غلبۂ ابلیس میں حق کی اذان
ایک وہ وقت تھا کہ جب محمود غزنوی نے سومنات کے مندر پر حملہ کر کے برہمنوں کا غرور مٹی میں ملا دیا تھا۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی تھی۔ امیر البحر خیرالدین باربروسہ کے جانشینوں نے معرکہ دوارکا میں یہ ثابت کر دیا کہ
فرمانروائے بحر عرب پاک بحریہ
دنیا میں تیرا نام ہے بے باک بحریہ


منظر بدلتا ہے لیکن پاکستان کے سپاہی کا خمیر آج بھی وہی ہے۔ لاہور میں اپنا کام پورا ہو جانے کے بعد میں نے اپنے میزبان سے درخواست کی کہ مجھے ایک بار بی آر بی نہر اور یادگار شہداء کی زیارت کروا دیں۔ میرا واپسی کا وقت قریب آ رہا تھا۔ مجھے بی آر بی نہر لے جایا گیا میں نے ایک بار پھر آنکھیں بند کیں اور میرے تخیل کی پرواز مجھے پھر ستمبر 1965میں لے گئی۔
لاہور جم خانہ جس میں بھارتی فوج کے افسران شام کو فتح کا جشن منانے اور فتح کے جام پینے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ بی آر بی کاخاموش پانی آج بھی رواں دواں ہے۔ لیکن خاموشی کی زبان میں وہ اپنے محسنوں کا شکریہ ادا کر رہا ہے اور ساتھ ہی خطہ لاہور کے جاں نثاروں، غازیوں اور شہسواروں کو سلام بھی پیش کرتا ہے۔


بی آر بی نہر کے بہتے ہوئے پانی میں مجھے عکس نظر آتا ہے گھنگھریالے بالوں اور مخمور آنکھوں والے راجہ عزیز بھٹی کا۔ ان کے تمام جوانوں اور سپاہیوں کا، جو آگ، بارود، گولیوں اور ہتھیاروں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے تھے وہ نہ صرف دشمن کے حملوں کو روک رہے تھے بلکہ شجاعت اور دلیری سے ان کا منہ توڑ جواب بھی دے رہے تھے۔ دشمن کا خواب پورا نہیں ہو پا رہا تھا، لاہور جم خانہ تک پہنچنے کا۔۔۔ یہ بی آر بی نہر ان کافروں کے لئے پل صراط بن چکی تھی۔ نہر کے پانی میں ہلچل ہوئی اور مجھے عکس نظر آیا کہ ایک گولہ تیزی سے آ رہا ہے اور اس گھنگھریالے بالوں اور مخمور آنکھوں والے مرد مجاہد کے سینے پر لگ کر اس کو شہادت کے عظیم رتبے پر فائز کرتا ہے۔
؂ شہادت جو میراث ہے حسینؓ ابن علیؓ کی
نہر کا خاموش پانی فضاؤں کو گواہی دے رہا ہے۔ کہ جو کل تک راجہ عزیز بھٹی تھا آج وہ میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نشان حیدر بن چکا ہے۔
میں نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ لیکن یہ اشک عقیدت کے تھے۔ بھیگی پلکوں کی نمی نے سلامی دی، بی آر بی نہر کو۔ یہ اشک اس فخر کے تھے کہ میں اس قوم کی بیٹی ہوں جس کے بیٹے اپنے سینے پر گولیاں کھا کر اپنے سینوں پر بم باندھ کر ارض مقدس کی حفاظت کرتے رہے اور اپنی قسم کو نبھا کر رب ذوالجلال کے سامنے سرخرو ہوئے۔ لیکن دشمن کے ناپاک قدم اس پاک سرزمین کی جانب نہ آنے دیئے۔ چاہے وہ رن کچھ ہو یا چونڈہ یا شاہینوں کا شہر سرگودھا۔


1965کا جذبہ گزرتے وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوا بلکہ قتل گاہوں سے ان شہیدوں اور غازیوں کے علم چن کر یہ عاشق قافلوں کی صورت میں آج بھی سرزمین پاکستان اور اس کی سرحدوں کی حفاظت میں اسی جوش و جذبے سے اپنے فرائض پورے کر رہے ہیں۔ چاہے وہ کیپٹن کرنل شیرخان شہید نشان حیدر ہوں یا آپریشن ضرب عضب کا کیپٹن آکاش ربانی شہید ۔۔۔۔۔ جوانوں کا یہ جذبہ ان کے ایمان کی نشانی ہے۔
وطن باقی رہے یہ زندگی تو آنی جانی ہے
یہی اﷲ کے شیروں کا طرزِ زندگانی ہے


مجھے اپنی قوم پر فخر ہے جو کل بھی زندہ تھی جو آج بھی زندہ ہے۔ میری فلائٹ کا وقت ہونے والا تھا۔ اب میں واپسی کا سفر طے کر رہی تھی۔ میں نے ایک بار پھر مڑ کر یادگار شہداء اور بی آر بی نہر کو دیکھا۔ میرے آنسو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ جب تک اﷲ کا کرم اور اس کی مدد میری پاک فوج کے ساتھ ہے میرے پاکستان کو کچھ نہیں ہو گا۔
پاکستان زندہ باد
افواج پاکستان پائندہ باد


[email protected]

یہ تحریر 129مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP