صحت

سماجی دُوری برقرار رکھیں۔۔۔کرونا ابھی گیا نہیں ہے

   کرونا وائرس ایک خوف کی علامت جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کرونا وائرس سے چین سمیت مختلف ممالک میں ہونے والی سیکڑوں ہلاکتوں کے بعد دنیا بھر میں اس مہلک بیماری سے محفوظ رہنے کے لئے مختلف احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔
کرونا وائرس کی علامات عام فلو کی طرح ہی ہیں اس میں بخار، کھانسی، زکام، سردرد ، سانس لینے میں دشواری کرونا وائرس کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔کرونا وائرس کی ترسیل یا پھیلائو کے تین بنیادی ذرائع ہیں ۔ ترسیل بذریعہ چھوٹی بوندیں یا قطرے مثلاً چھینکنا، کھانسنا، بات کرنا وغیرہ۔
پھیلائو بذریعہ ایرو سول(چھوٹے قطرات ہوا میں منتشر ہو کر معلق ہو جاتے ہیں اور ایرو سول کی صورت اختیار کر لیتے ہیںاور پھیلائو بذریعہ سماجی رابطہ۔
 کرونا وائرس کے وار میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آ رہی ہے جس کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں مگر خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے کرونا ابھی گیا نہیں ہے ۔وہ اب بھی ہماری غلطیوں کا انتظار کر رہا ہے کہ وہاں ہم نے تمام احتیاطی تدابیر سے ہاتھ اٹھا کر اپنے آپ کوپھر سے آزاد کر لیا اور پھر ویسے ہی یہ کرونا کا عفریت ہمیں پھر سے آن دبوچے اور کوئی بعید بھی نہیں کہ اس بار کرونا کے وار مزید تیز ہو ں۔ لہٰذا کرونا کے مکمل خاتمے کے لئے ہر فرد کو ابھی تمام احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا جن میں سرفہرست سماجی دُوری یا فاصلہ، ماسک کا استعمال اور ہاتھوں کو بار بار صابن اور پانی سے اچھے طریقے سے دھونا شامل ہے۔
 پوری دنیا میں لوگوں کو ایک دوسرے سے دُور رہنے کی تلقین کی جارہی ہے کہ یہ وائرس ایک متاثرہ فرد سے دوسرے فرد میں تنفسی نظام ، کھانسنے ، چھینکنے سے اور تھوک وغیرہ کے ذریعے پھیلتا ہے ۔اور اگر متاثرہ فرد کسی دوسرے فرد کو گندے ہاتھوں سے چھولے تو بھی یہ وائرس دوسرے فرد میں منتقل ہو جاتے ہیں۔  جبکہ متاثرہ شخص کے مختلف چیزوں مثلاً دروازے کی ناب ، موبائل فون ، لفٹ، کمپیوٹر، کی بورڈ، مشترکہ تولیہ ، برتن اور مختلف استعمال کی چیزوں کو چھونے سے یہ وائرس ان میں منتقل ہوجاتے ہیں اور پھر جب دوسرے نارمل افراد ان چیزوں کو استعمال کرتے ہیں یا ان چیزوں کو چھو کر اپنے منہ، ناک یا آنکھوں کو ہاتھ لگاتے ہیںتو اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ 
سماجی دُوری یا سوشل ڈسٹینسنگ کو ہم ایسے بیان کرتے ہیں کہ اس میں کسی فرد کا تعلق باقی تمام لوگوں سے منقطع ہو جاتا ہے اوراس دوران غیر ضروری سفر سے بھی گریز کرنا ضروری ہوتا ہے۔ سماجی دُوری میں تمام افراد سے رابطہ ختم یا کم سے کم کر د یتے ہیں تاکہ برادری یا علاقائی سطح پر وائرس کے پھیلنے کے عمل کو روکا جا سکے جبکہ تعلیمی ادارے، شاپنگ سینٹرز، سینما ہالز، پارکس وغیرہ جیسے عوامی مقامات پر بھی جانے سے گریز کرنا چاہئے اور جن افرادکے لئے ممکن ہو تو وہ دفتر بھی نہ جائیں اور گھر سے کام کریں اور اگر پھر بھی بحالت مجبوری آپ کسی فرد سے مل رہے ہیں تو کوشش کرنی چاہئے کہ اس سے کم از کم ایک میٹر کے فاصلے پر ہوں اور ہاتھ ملانے اور بغل گیر ہونے سے گریز کریں ۔ 
سماجی دُوری ستر سال سے زیادہ عمر کے افراد کے ساتھ ساتھ ستر سال سے کم عمر وہ افراد جن کو گردوں، دل، اعصاب کے دائمی امراض کے ساتھ ساتھ سانس کی بیماری لاحق ہو، کے لئے لازمی ہے۔ سماجی دُوری کے دوران کسی بھی ایسے فردسے رابطہ کرنے سے پرہیز کریں جس میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی علامات ظاہر ہو چکی ہو ںیا اس فرد کی کوئی حالیہ سفر کی ہسٹری موجود ہو۔ عام پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے سے پرہیز کریں اور بڑے اجتماعات اور بھیڑ سے بھی اجتناب کریں اور اپنے ڈاکٹر سے مشورے کے لئے آن لائن سروسز کا استعمال کریں۔
کرونا وائرس سے متاثرہ شخص میں اس کی بنیادی علامات جو کہ بخار، خشک کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف وغیرہ ہیں لازمی نہیں کہ بظاہر نظر آئیں۔ بعض اوقات متاثرہ افراد اس مرض کے کیریئر بھی ہو سکتے ہیں یعنی ان میں کوئی ظاہری علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں مگر وہ اس وائرس کو دوسرے افراد تک پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے گھر اور دفتر کی اندرونی ہوا کو تازہ رکھیں۔ کمرے میں روزانہ تازہ ہوا کو داخل ہونے دیا جائے۔ سورج نکلنے کے اوقات میں کھڑکیوں کو کم از کم تیس منٹ کے لئے کھولا جائے۔ چھینکتے یا کھانستے وقت اپنے منہ اور ناک کو ٹشو، تولیے وغیرہ سے ڈھکیں اور چھینکنے یا کھانسنے کے بعد لازمی اپنے ہاتھوں کو دھو لیں اور جب ہاتھوں کی صفائی کے بارے میں یقین نہ ہو تو اپنی آنکھوں، ناک یا منہ کو ہاتھ لگانے سے گریز کرنا چاہئے۔
اپنے ارد گرد کے ماحول کو جراثیم سے پاک رکھیں اور روزانہ کرسیوں، فرش، سوئچ بورڈز، ٹیلیفون، نلکوں اور زیادہ استعمال کی جانے والی سطحوں کو صاف رکھیں اور باقاعدگی کے ساتھ جراثیم کش ادویہ کے ساتھ صاف کریں اس کے ساتھ ساتھ موبائل فون، چابیاں، کی بورڈ، دروازے کے ہینڈل وغیرہ صاف کرنے کے لئے75 فیصد طبی الکوحل استعمال کریں۔
 زیادہ بھیڑ بھاڑ اور رش والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں اور ماسک کا لازمی استعمال کریں۔ لفٹ میں بھی ماسک کا استعمال کریں اور بھری ہوئی لفٹ میں جانے سے گریز کریں۔ لفٹ کے بٹن دباتے وقت ڈسپوزیبل ٹشو استعمال کریں یادیگر بالواسطہ اشیائے ضروریہ خریدنے یا کام کے لئے باہر جاتے وقت باہر کم سے کم وقت گزاریں اور مشترکہ استعمال میں آنے والی اشیاء کو چُھونے سے گریز کریں۔
 اقوام متحدہ کے صحت سے متعلق ادارے عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے انفیکشن سے محفوظ رہنے اور پھیلائو کو روکنے کے لئے مصروف یا عوامی مقامات پر سب کو ماسک کے استعمال پر زور دیا ہے ۔ماسک کے استعمال سے نہ صرف خود بلکہ اردگرد موجود دوسرے افراد بھی محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ ماسک پہننے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو صابن اور پانی سے بیس سیکنڈ تک دھولیں یا کم از کم ساٹھ فیصد الکوحل پر مشتمل ہینڈ سینی ٹائزر سے اچھی طریقے سے صاف کرلیں اور ماسک اتارنے کے بعد بھی ہاتھوں کو اچھی طریقے سے دھولینا چاہئے۔
مختلف سطحوں  مثلاً دروازے کا ہینڈل ، سیڑھیوں کی ریلنگ ، لفٹ کے بٹن کو چُھونے کے بعد اپنے ماسک کو ہاتھ لگانے سے کسی مریض کی عیادت یا ہسپتال کا دورہ کرنے کے بعد ہجوم والی جگہوں سے واپسی کے بعد ، چھینکنے کے بعد ، یا منہ سے نکلنے والی رطوبتوں کی وجہ سے ماسک میں اگر نمی آجائے تو فوری طور پر نیا ماسک لگا لینا چاہئے ۔
یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا بے حد ضروری ہے کہ کرونا وائرس کا ابھی تک کوئی علاج یا ویکسین منظر عام پر نہیں آئی ہے لہٰذا اس سے بچائو کا واحد حل صرف اور صرف احتیاط ہے۔ کرونا وائرس سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہمارے لئے سماجی دُوری بے حد ضروری ہے کیونکہ یہ وائرس انسانوں کے عہدوں سے بے نیاز ان کے سماجی مرتبوں سے آنکھیں ملاتا ہوا ہر اس شخص کو متاثر کرتا نظر آ رہا ہے جس نے سماجی دُوری اپنانے سے گریز کیا ۔



 سماجی دُوری کی صورتحال میں ہمیں گھبرانے اور خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے آپ کو مصروف رکھنے اور مثبت سوچ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔اپنوں سے جسمانی طور پر دُور رہنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے پیاروں سے دُور ہو گئے ہیں بلکہ آپ ویڈیو کال اور پیغامات کے ذریعے ہمہ وقت ان سے تعلق میں رہ سکتے ہیں۔سماجی دُوری کی صورتحال میں صرف اور صرف مصدقہ خبروں اور اطلاعات پر بھروسہ اور عمل کرنا چاہئے اور افواہوں اور سنی سنائی باتوں پر کان نہیں دھرنا چاہئے۔ اپنی صحت کا بے حد خیال رکھتے ہوئے تازہ ، متوازن اور صحت مند خوراک کا استعمال کریں اورجسمانی طور پر سرگرم رہنے کے لئے اپنے گھر یا کمرے میں ہی یوگا اور ہلکی پھلکی ورزش کا اہتمام کریں اوردماغی طور پر صحت مند رہنے کے لئے اپنی پسندکی کتابوں کے مطا لعے کو معمول بنا لیں۔ یاد رکھیں سماجی دُوری ہی کرونا وائرس کے مزید پھیلائو کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ لہٰذا صحت مند زندگی کے ساتھ اپنے پیاروں کے پاس رہنے کے لئے کچھ دنوں کی دُوری ان کو ہمیشہ کے لئے کھو دینے سے بہتر ہے۔
کرونا وائرس کی منتقلی اور پھیلائو کے خطرے کو کم کرنے کے لئے بنیادی احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔ اپنے ہاتھوں کو صابن اور پانی سے کم از کم بیس سیکنڈ تک اچھی طرح بار بار دھوتے رہیں اور اگر صابن اور پانی میسر نہ ہو تو کم از کم 60 فیصد طِبّی الکوحل پر مشتمل ہینڈ سینی ٹائزر استعمال کریں ۔ اپنے چہرے ، منہ ، ناک اور آنکھوں کو چھُونے سے گریز کریں اور ملنے جلنے میں مناسب فاصلہ رکھیں ۔ احتیاط کریں کیونکہ احتیاط ہی کرونا کا واحد علاج ہے۔  ||


مضمون نگار مائکرو بیا لوجسٹ  ہیں اورمختلف اخبارات میں کالم لکھتی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 132مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP