قومی و بین الاقوامی ایشوز

سقوطِ قندوز کا پسِ منظر اور ممکنہ نتائج

شمالی افغانستان کے گیٹ وے قندوز پر طالبان کے حملے اور قبضے نے نہ صرف یہ کہ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کیا ہے بلکہ یہ خدشہ بھی یقین میں تبدیل ہوگیا ہے کہ افغان فورسز اور انٹیلی جنس اداروں سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ درست نہیں تھیں۔ عام خیال یہ تھا کہ 15 سال کے عرصے پرمحیط ٹریننگ اور عملی مزاحمت کے باعث افغان فورسز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہوگا اور یہ کہ وہ افغانستان کی سکیورٹی کے معاملات درست انداز میں نمٹاسکیں گی۔ تاہم قندوز کے واقعے نے تمام اندازے غلط ثابت کئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر ایک طرف فورسز پر عالمی برادری اور خود افغان عوام کا اعتماد متزلزل ہو کر رہ گیا تو دوسری طرف امریکہ نے 15 اکتوبر کو اعلان کیا کہ درپیش خطرات کے پیشِ نظر امریکی ٹروپس 2016 کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہیں گے۔ اس بات کا اعلان صدر بارک اوباما نے خود کیا اور ساتھ میںیہ بھی کہا کہ افغانستان کو افغان فورسز کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

اس وقت اس جنگ زدہ ملک میں امریکہ کے 9800 ٹروپس سمیت نیٹو کے کل17000 افسران تیکنیکی ماہرین اور فوجی جوان اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق امریکہ اپنے ٹروپس کی تعداد میں مزید اضافے کے آپشن کا بھی جائزہ لے رہا ہے اور امکان ہے کہ امریکی ٹروپس کو کابل کے علاوہ صوبہ ننگرہار میں شمالی افغانستان کے تین صوبوں میں خصوصی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ قندوز پر قبضے کے بعد دیگر حساس صوبوں میں طالبان کی پیش قدمی اور مسلسل حملوں سے یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ طالبان‘ القاعدہ اور بعض دیگر کے خاتمے کے جو دعوے کئے گئے تھے‘ وہ درست نہیں تھے ورنہ قندوز پر جس منظم طریقے سے قبضہ کیا گیااور قبضے کو جس طریقے سے طول دیا گیا اس کی نوبت نہیں آتی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قندوز کے گورنر عمرصافی نے ایک انٹرویو میں خود کہا ہے کہ انہوں نے رسمی طور پر حملے سے ایک ماہ قبل مرکزی حکومت کو آگاہ کردیا تھا کہ طالبان اس اہم صوبے پر حملہ کرنے والے ہیں‘ اس لئے اضافی کمک کا اہتمام کیا جائے تاہم مرکزی حکومت نے سرے سے اس کا نوٹس ہی نہیں لیا اور طالبان نے پندرہ سال کے دوران پہلی دفعہ نہ صرف یہ کہ افغان فورسز کو باقاعدہ شکست دی بلکہ شہر پرکئی روز تک قبضہ بھی کئے رکھا۔ ذرائع کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ حملے سے تین روز قبل بھی انٹیلی جنس نے اطلاع دی تھی کہ بڑی کارروائی ہونے والی ہے مگر ریاست اس کی روک تھام سے لاتعلق رہی۔ حکومت کی غیر سنجیدگی کا عالم یہ تھا کہ اس قسم کی اطلاعات کے باوجود گورنر موصوف حملے اور قبضے کے وقت خود بھی دارالحکومت میں موجود نہیں تھے بلکہ وہ تاجکستان گئے ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قندوز واقعے کے لئے بہت بڑی پلاننگ کی گئی تھی۔ اس تمام گیم میں دوسروں کے علاوہ صدر اشرف غنی کے بعض حکومتی اتحادی بھی شامل تھے جبکہ بعض اتحادی ممالک نے بھی بوجودہ اس کام میں اپنا حصہ ڈال دیا۔ اس واقعے سے قبل افغانستان کے ایک بڑے جنگی کمانڈر اور حکومتی عہدیدار رشید دوستم نے اپنی ملیشیا کے ذریعے بعض علاقوں میں پُر تشدد کارروائیاں کیں اور شمالی افغانستان کو درپیش خطرات کے پسِ منظر میں بعض غیرذمہ دارانہ اور غیرپیشہ ورانہ دھمکیاں بھی دیں جس پر پشتون آبادی اور ان کے نمائندوں نے سخت ردِّ عمل اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ مقامی آبادی نے ردِ عمل کے طور پر نہ صرف یہ کہ طالبان کو پناہ دی بلکہ متعدد نے اس کارروائی میں طالبان کے ساتھ مل کر حصہ بھی لیا۔ اگر ایک طرف حکومت کی صف بندی درست نہیں تھی اور حکومت کے بعض اتحادیوں کے علاوہ بعض اتحادی ممالک کا ایک مخصوص کردار تھا تو دوسری طرف عوام نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا حساب برابر کردیا۔ قندوز کے علاوہ طالبان‘ داعش اور بعض دیگر نے سال 2015 کے دوران 19 صوبوں میں کارروائیاں کیں جن میں کابل شہر بھی شامل ہے جس کو بار بار نشانہ بنایا گیا۔ قندوز سے قبل داعش نے گیٹ وے صوبے یعنی ننگرہار میں متعدد کارروائیاں کیں جن کے باعث یہ اہم ترین صوبہ عملًا ریاست کے ہاتھ سے نکلتا دکھائی دینے لگا اور تقریباً 30 ہزار خاندان تین ماہ کے عرصے میں داعش کی کارروائیوں کے نتیجے میں جلال آباد اور دیگر شہروں میں منتقل ہوگئے اور نقل مکانی کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

 

حیرت کی بات یہ ہے کہ ننگر ہار میں بھی اس تمام عرصے کے دوران افغان حکومت نے وہ دلچسپی یا مزاحمت نہیں دکھائی جس کی ضرورت تھی۔ اس اہم ترین صوبے کو افغانستان کے علاوہ سنٹرل ایشیا کے لئے بھی گیٹ وے کی حیثیت حاصل ہے تاہم اس کی سکیورٹی پر بھی حیرت انگیز طور پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی۔ حالت اتنی خراب ہوگئی کہ ننگر ہار سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ کابل میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے اور انہوں نے میڈیا کے ذریعے حکومت پر شدید تنقید کا راستہ اختیار کرکے استعفے دینے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اس عرصہ کے دوران داعش نے نہ صرف یہ کہ متعدد علاقے قبضہ کئے بلکہ بے شمار لوگوں کو بدترین تشدد اور حملوں کا نشانہ بنا کر ایک ایسے خوف میں مبتلا کردیا جس نے ننگر ہار کے علاوہ پورے افغانستان کو اپنے مستقبل کے تناظر میں 15 سال کے دوران پہلی دفعہ ہلا کررکھ دیا۔

 

افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں کتنی ابتری آگئی ہے اس کا اندازہ افغان وزارتِ داخلہ کی اپنی ایک جاری کردہ رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران ملک کے19 صوبوں میں دہشت گردی کی 1771 کارروائیاں ہوئیں جن میں41 خود کش حملے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں990 عام شہری جاں بحق اور1700 زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں نیشنل پولیس فورس کو بطورِ خاص نشانہ بنایاگیا جس کے چھ ماہ میں2150 افراد لقمۂ اجل بنے ان میں 70 کے لگ بھگ اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چھ ماہ کے عرصہ میں20 بار غیر ملکی فورسز‘ سفارتی عملے اور دیگر کو نشانہ بنایا گیا جس سے متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔ اس دوران فورسز نے طالبان وغیرہ کے خلاف2637 چھوٹے بڑے آپریشن کئے جن کے نتیجے میں 5635 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ 1200 کے قریب یا تو زخمی ہوئے یا گرفتار کئے گئے۔ رپورٹ میں افغان فورسز کو پہنچنے والے جانی نقصان کی تفصیلات شامل نہیں ہیں تاہم اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ سال2015 کے دوران متعدد بار شمالی افغانستان کے تین صوبوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

 

یہ اعداد و شمار کافی سنگیں صورت حال کی نشاندہی کررہے ہیں اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کی وافرتعدار اورصلاحیت تاحال موجود ہے۔ بلکہ ان کی کارروائیوں کا سلسلہ دیگر ’اور نسبتاً کافی پُرامن‘ صوبوں تک بھی پھیل چکا ہے۔

 

جغرافیائی لحاظ سے جتنے بھی اہم صوبے یا علاقے ہیں وہ حملہ آوروں کی کارروائیوں کی زد میں ہیں اس ضمن میں قندوز کے علاوہ ننگر ہار‘ بدخشاں‘ ہلمند‘ کنڑ اور غزنی کی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔14 اکتوبر کو غزنی میں150 سے زائد دوطرفہ ہلاکتیں ہوئیں اور اس صوبے میں حملوں کا سلسلہ پانچ چھ مہینوں سے جاری ہے۔ ہلمند کی بھی یہی صورت حال ہے۔ 15 اکتوبر کو طالبان نے ہلمند میں تین سے زائد چیک پوسٹوں پر حملے کئے جس کے نتیجے میں پولیس کے 22 اہلکار اور طالبان جنگجو لقمۂ اجل بن گئے۔ اس حساس صوبے میں حملوں کا سلسلہ تقریباً ایک سال سے جاری ہے اور یہاں بھی اب تک سیکڑوں جانیں لی جاچکی ہیں۔ حالیہ حملوں میں جو ایک اور نئی مگر اہم بات سامنے آگئی ہے وہ یہ ہے کہ شمالی افغانستان کے ان علاقوں یا صوبوں کو بطورِ خاص نشانہ بنایا جارہا ہے جو تین وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ قندوز اور بدخشاں کے حالات کو نہ صرف یہ کہ افغان حکومت کے دو بڑے اتحادیوں اور وزارتوں کی باہمی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے بلکہ متعددباخبر ماہرین ایسے ہیں جو کہ اس منظر نامے کو امریکہ‘ چین اور روس کی نئی پیش قدمیوں اور پالیسیوں کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں روس کے خلاف وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس مقصد کے لئے ان کے بقول امریکہ داعش اور بعض دیگر کو بھی استعمال کررہا ہے۔ افغان حکومت کو بھی بعض ایسے شواہد ملے ہیں جن کے مطابق امریکہ اندرونِ خانہ ایک خطرناک پالیسی کے تحت افغان علاقوں کی اسی صورت حال کو روس کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس گیم میں بھارت بھی امریکہ کا اتحادی ہے اور ایک اسلامی ملک کا نام بھی اس سلسلے میں لیا جارہا ہے۔ ایک ایسا اسلامی ملک جس کی سرحد افغانستان کے علاوہ پاکستان کے ساتھ بھی ملی ہوئی ہے اورمذکورہ ملک کو پاک چائنا اکنامک کاریڈور کے پراجیکٹ پر بوجوہ تحفظات ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق بھارت اب افغانستان اور پاکستان کے اندر داعش اور بعض دیگر کی فنڈنگ کررہا ہے۔ اس کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ پاکستان کو دباؤ سے دوچار کیا جائے تاہم اس کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ بھارت بدخشاں کے راستے چین کے انتہا پسند گروپوں کی سرپرستی بھی کررہا ہے۔ بدخشاں کے ذریعے یہ بہت آسان ہے کہ چین کو زبردست دباؤ سے دوچار کیا جائے اور ماضی میں بدخشاں کے ذریعے چینی انتہا پسند ایسا کرتے بھی آئے ہیں۔

 

بھارت کی کھلی مداخلت کی ایک اور وجہ مذکورہ (اشارتاً) اسلامی ملک کی طرح پاک چائنا اکنامک کاریڈور پر وار بھی ہے بھارت کو کسی بھی قیمت پر یہ منصوبہ سوٹ نہیں کررہا اور یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان کے اندر بعض قوتوں کی سرپرستی کررہاہے۔ بلکہ داعش اور بعض دیگر عناصر کے ذریعے وہ شمالی اورمشرقی افغانستان کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے کے علاوہ بدخشاں کے راستے چین میں انتہا پسندوں کی معاونت بھی کررہا ہے۔ اشارتاً اتنا ہی کافی ہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات صرف افغان حکومت کی نااہلی یا فورسز کی ناکامی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ بعض بااثر عالمی اور علاقائی قوتیں بھی ان حالات کی خرابی میں برابر کی شریک ہیں اور لگ یہ رہا ہے کہ اپنے دعووں کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے بعض اتحادی اور ہمدرد خطے میں اپنے اپنے مفادات کے تناظر میں ایک نئی گریٹ گیم کا باقاعدہ آغاز کرچکے ہیں۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ حال ہی میں سابق افغان صدر حامد کرزئی نے پہلی دفعہ پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف کرکے زور دیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا افغانستان کے لئے بہت ضروری ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ خطے میں پھر سے ایک نئی جنگ کا آغاز ہونے کو ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس سے زیادہ نقصان افغانستان اور پاکستان ہی کا ہوگا۔

یہ تحریر 83مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP