متفرقات

سفید پوش

سفید پوش لوگ اپنے لئے تو غالباً کچھ زیادہ نہیں کر سکتے البتہ ملک چلانے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے ،یہ وہ طبقہ ہے جو ہمارے ملک کی معیشت اور اس کا نظام چلا رہاہے ۔ہمارے ملک کی انڈسٹری میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگ ملازمت کرتے ہیں۔

’’ہمارے پڑوس میں ایک عورت رہتی ہے ،کسی نجی تعلیمی ادارے میں استانی ہے ،اس کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ۔بیٹیاں گھرمیں چھوٹی موٹی ٹیوشن پڑھاتی ہیں، ہمارا بچہ بھی انہی سے ٹیوشن پڑھتا ہے۔ جبکہ بیٹا ’’میں نے کنیڈا کی امیگریشن لینی ہے ‘‘ کی چلتی پھرتی تصویر ہے اور اسی لئے کوئی کام نہیں کرتا۔ بھلا جس کی دو جوان بہنیں اور ماں زندہ ہو اسے کام کرنے کی کیا ضرورت؟اس عورت کا خاوند فوت ہو چکا ہے ،مکان کرائے کا ہے اور آمدن محدود۔۔۔ سو گزارا محال۔ایک روز اس نے ہمارے گھر پیغام بھیجا کہ کیا اسے کچھ دیر کے لئے ہمارا ملاز م مل سکتا ہے ؟ ہم نے اپنے ملاز م کو بھیج دیا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد اس کی واپسی ہوئی ،ہم نے پوچھا کیا کام تھا،اس نے دانت نکالتے ہوئے جواب دیا کچھ خاص نہیں ،میڈم مجھے ساتھ لے کر بازار گئیں۔ وہاں ایک لمبی لائن لگی تھی اور مفت راشن تقسیم ہو رہا تھا،انہوں نے مجھے اس لائن میں کھڑا کر دیا ،جب میری باری آئی توخودآگے بڑھ کر راشن لیا اور پھر ہم واپس آگئے ۔ہم نے یہ بات سنی تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ ہم خواب میں بھی یہ تصور نہیں کر سکتے تھے کہ جو عورت ہمارے برابر والے مکان میں رہتی ہے اور ایک تعلیمی ادارے میں معلمہ ہے ،وہ مجبوری کی اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں اسے کسی مخیر شخص کے ہاتھوں مفت راشن لینا پڑ رہا ہے۔

میرے دوست نے جب مجھے یہ واقعہ سنایا تو ایک لمحے کے لئے میرا دماغ بھی سُن ہو گیا۔اس وقت مجھے زر مبادلہ کے ذخائر،سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس،پاکستان کا جی ڈی پی،بین الاقوامی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ،اندرونی و بیرونی قرضہ جات کا حجم اور اس کا جی ڈی پی سے تناسب،خط غربت سے نیچے زندہ رہنے والی انسان نما مخلوق کی شرح بلحاظ آبادی اور اس نوع کی تمام دیگرخرافات بھول گئیں۔ یہ المیہ صرف اس ایک عورت کا نہیں بلکہ ان تمام سفید پوش لوگو ں کا ہے جو اس معاشرے میں اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے روز جیتے ہیں اور روز مرتے ہیں۔ غریب آدمی تو پھٹے پرانے کپڑے بھی پہن لیتا ہے ،اپنے خستہ مکان کے تھڑے پر بیٹھنے میں بھی اسے تامل نہیں ہوتا،لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بھی گریز نہیں کرتا ،حکومت کی کسی نہ کسی رعایت کا حقدار بھی بن جاتا ہے ،بیت المال یا سوشل ویلفیئر جیسے محکمے سے امداد حاصل کرنے کا بھی دعویدار ہوتا ہے اور بے شمار رفاہی اداروں کے پروگراموں کے تحت کوئی نہ کوئی فائدہ بھی حاصل کر لیتا ہے۔ مگر یہ سفید پوش لوگ۔۔۔یہ بیچارے صاف ستھرے کپڑے پہننے پر مجبور ہیں،بچوں کو مناسب سے سکول بھیجنے پر مجبور ہیں اور گھر میں ایک چھوٹا موٹا ’’ڈرائینگ روم‘‘ سجانے پر مجبور ہیں اور معاشرے میں ملنا ملانا بھی ان کی مجبوری ہے چاہے ان کی کمر دوہری ہی کیوں نہ ہو جائے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ زیادہ تر مواقع پر حکومتی یا نجی فلاہی اداروں کی امداد کے مستحق بھی نہیں ٹھہرتے۔ کیونکہ ان کی آمدنی اس خط سے اوپر ہوتی ہے جہاں سے ’’غربت‘‘ شروع ہوتی ہے ۔

سفید پوش کی اصطلاح سب سے پہلے انگریز ی راج میں استعمال ہوئی۔ اس زمانے میں سفید پوش اس شخص کو کہا جاتا تھاجسے سرکار باعزت سمجھتے ہوئے ’’سفید پوش‘‘ نامزد کرتی۔ یہ علاقے کا معتبر شخص ہوتا، اس کی گواہی مانی جاتی اور اسے تھانے کچہری میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا۔ آج کل سفید پوش کے معنی یکسر بدل گئے ہیں ، آج اگر کوئی سفید پوش تھانے چلا جائے تو اس کی اپنی شرافت کی گواہی دینے کوئی نہیں آئے گا۔

ہمارے ہاں سفید پوش لوگوں کو زندگی میں دوطرح کی جدو جہد کرنی پڑتی ہے ۔ایک ،اپنے طبقے سے نکل کر بہتر کلاس میں داخل ہونے کی کوشش اور دوسرے ،اپنے ہی طبقے میں زندہ رہنے کی جنگ۔اس سفاک دنیا میںیہ کام پہلے والے کام سے کہیں زیادہ مشکل ہے کیونکہ سفید پوش لوگوں کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں وہ لوئر مڈل کلاس سے کھسک کر لوئر کلاس میں ہی نہ لڑھک جائیں۔ سفید پوش لوگوں کی زندگی اس لئے کٹھن ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی کم آمدنی کے باوجود ایک کم سے کم معیار کا طرز زندگی اپنانے پر مجبور ہوتے ہیں۔فرض کریں کہ ایک لوئر مڈل کلاس فیملی اپنے کسی چھوٹے سے آبائی مکان میں رہتی ہے اور اس کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ اس مکان کو کرائے پر چڑھا کر کسی ایسے محلے میں شفٹ ہو جائیں جہاں ان کے اپنے مکان کا کرایہ کم ہو تواس سے ان کی آمدنی میں اضافہ تو ممکن ہو جائے گا مگر ان کا طرز زندگی کمتر ہو جائے گا لہٰذا وہ یہ آپشن استعمال نہیں کرتے۔ اسی طرح ہمارے ہاں ایک مسئلہ کمانے والوں کا بھی ہے ۔سفید پوش گھر میں ایک شخص کماتا ہے اور باقی سب کھاتے ہیں ۔تاہم پچھلے چند برسوں میں اس رویے میں تبدیلی آئی ہے اورملٹی نیشنل کمپنیوں،بنکوں اور بڑے سپرسٹورز کی بین الاقوامی چینز کی پاکستان میں آمد کے بعد لوئر مڈل کلاس خواتین نے باعزت ملازمت کے ذریعے گھر کی آمدن میں حصہ ڈالنا شروع کر دیا ہے ۔

یقیناًسرمایہ دارانہ نظام کی اشتہار بازی نے اچھے اچھوں کی مت مار کے رکھ دی ہے اور موبائل فون سے لے کر ڈیپ فریزر تک اور مائیکرو ویو اوون سے لے کر ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر تک سب ہی کچھ ’’ضروریات زندگی‘‘ میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن جس طبقے کا رونا میں رورہا ہوں ان کی خواہش صرف با عزت زندگی ہے اور فی زمانہ با عزت زندہ رہنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا با عزت طریقے سے فوت ہونا

سفید پوش لوگ اپنے لئے تو غالباً کچھ زیادہ نہیں کر سکتے البتہ ملک چلانے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے ،یہ وہ طبقہ ہے جو ہمارے ملک کی معیشت اور اس کا نظام چلا رہاہے ۔ہمارے ملک کی انڈسٹری میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگ ملازمت کرتے ہیں جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے چھوٹے سرکاری اہلکار اس کے علاوہ ہیں۔یہ لوگ اگر روزانہ صبح کام پر نہ جائیں تو ملک نہیں چل سکتا ،کوئی دفتر نہیں کھل سکتا ،کسی فیکٹری میں کام نہیں ہو سکتا، یعنی پورے ملک کا کام انہی کے دم سے چلتا ہے۔لیکن بد قسمتی سے یہ سفید پوش طبقہ حکومت کی رعایت کا مستحق نہیں ٹھہرتا کیونکہ حکومت کی اولین ترجیح معاشرے کے وہ لوگ ہیں جنہیں ’’غریبوں کا غریب‘‘ یعنی poorest of the poorکہتے ہیں ۔سفید پوش طبقے پر حکومت کا سب سے بڑا احسان یہ ہو سکتاہے کہ ان کے بچوں کے لئے سستی اور معیاری تعلیم یقینی بنا دے ۔یہی وہ واحد طریقہ ہے ۔ جس سے اس طبقے کے دلدر دور ہو سکتے ہیں اور کم از کم ان کی اولادیں اپنے سے بہتر کلاس میں زندگی گزار سکتی ہیں ۔

مشورے دینا چونکہ دنیا کا آسان ترین کام ہے اس لئے سفید پوش طبقے کے لئے بھی مشوروں کی کمی نہیں ۔ایک مشورہ انہیں بچت کا دیا جاتا ہے اور گھریلو معاشیات میں یہ زرّیں اصول سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اگرآپ دس روپے کماتے ہیں تو اس میں سے تین روپے ضرور بچائیے تاکہ برے وقت میں آپ کے کام آ سکیں۔گو کہ مشورہ برا نہیں مگر مصیبت یہ ہے کہ اس طبقے کی آمدنی اگر دس روپے ہے تو کم از کم خرچہ پندرہ روپے ہوتا ہے ،اب اس میں سے بچت کیسے ہو سکتی ہے ،یہ بات کوئی ٹیکنوکریٹ ہی بتا سکتا ہے۔ اسی سے متعلقہ دوسرا مشورہ یہ دیا جاتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں نے اپنی خواہشات کو خواہ مخواہ بڑھاوا دیا ہوا ہے اس لئے ان کے خرچے بڑھے ہوئے ہیں اور چونکہ ان کی آمدن محدود ہے اس وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی خود اجیرن کی ہوئی ہے۔ یقیناًسرمایہ دارانہ نظام کی اشتہار بازی نے اچھے اچھوں کی مت مار کے رکھ دی ہے اور موبائل فون سے لے کر ڈیپ فریزر تک اور مائیکرو ویو اوون سے لے کر ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر تک سب ہی کچھ ’’ضروریات زندگی‘‘ میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن جس طبقے کا رونا میں رورہا ہوں ان کی خواہش صرف با عزت زندگی ہے اور فی زمانہ با عزت زندہ رہنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا با عزت طریقے سے فوت ہونا!

[email protected]

یہ تحریر 76مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP