ہمارے غازی وشہداء

سعادت کی زندگی شہادت کی موت

شہید کی خالہ محترمہنغمہ اشرف کا ان کو خراج عقیدت

(کیپٹن حسن جاوید شہید (ستارۂ بسالت

مئی آ کر گزر چکا ہے۔ مگر مئی کا ستارہ نہیں آیا۔ کون۔۔۔؟ وہی ستارہ جس نے 3مئی 1988کو جنم لیا اور بدر کامل بن کر 31مئی 2013کو جام شہادت نوش کر گیا۔ ان ماں باپ کو خوش نصیب کہوں یا حرماں نصیب جن کا شیر جوان وطن کی سلامتی اور دین کی سربلندی کے لئے عین جوانی میں قربان ہو گیا۔ یقیناًوہ انتہائی خوش قسمت ہیں جن کے لال نے شہادت کا رتبہ پا کر نہ صرف خود حیات جاوداں پائی بلکہ ان کے لئے بھی فلاح دارین کا باعث ثابت ہوا۔ اس نے محض 25برس کی عمر میں وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جولوگ برس ہا برس جی کر بھی نہیں کر پاتے۔ مقامِ شوق تیرے قدسیوں کے بس کا نہیں انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد کیپٹن حسن جاوید شہید میرا وہ پیارا بھانجا تھا جو اپنے والدین کی دوسری اور واحد اولاد نرینہ تھی۔ اس سے پہلے منصور جاوید محض چھ ماہ اور چھ دن کی مختصر حیات لے کر آیا تھا۔ وہ ننھی کلی بھی پل کے پل مرجھا گئی تھی۔ لیکن اﷲتعالیٰ نے ایک سال کے اندر ہی حسن کی صورت اسے دوبارہ اس دنیائے فانی میں بھیج دیا توماں باپ کے آنسو خشک ہو گئے اور وہ ننھیال اور ددھیال کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ سرخ و سفید رنگت‘ بھولی صورت‘ کم گو‘ حساس‘ قدرے شرمیلا مگر انتہائی پھرتیلا اور جرأت مند۔ نیز احساس ذمہ داری اس کی ایسی صفات تھیں جو اسے ہر دلعزیز بنانے کے لئے کافی تھیں۔ خون کے رشتوں سے ہٹ کر وہ دوستوں‘ رشتہ داروں‘ محلے داروں اور آخر میں اپنے ماتحتوں میں بھی بے حد چاہا اور سراہا جاتا تھا۔ نچلا بیٹھنا تو گویا اس نے سیکھا ہی نہ تھا لیکن کسی کو نقصان پہنچانا‘ زبان درازی‘ فضول بحث و تکرار یا کسی کا مذاق اڑانا اس کا شیوہ نہ تھا۔ اکلوتا بیٹا ہونے کے باوجود والدین کی طرف سے کبھی بے جالاڈ پیار یا خصوصی رعایت کا مستحق نہیں ٹھہرا جبکہ دونوں بہنیں چھوٹی ہونے کا ناجائز فائدہ بھی اٹھا لیتیں۔ درحقیقت جاوید بھائی اسے ایک مضبوط‘ مکمل اور کامیاب انسان بنانا چاہتے تھے۔ جس میں وہ پوری طرح کامیاب ہوئے۔ حسن اپنی ذہانت‘ جرأت اور سعادت مندی کے باعث ہمیشہ ہم سب کی امیدوں پر پورا اترا۔ میدان خواہ تعلیم کا ہو یا کھیل کا‘ اسے مات دینا آسان نہ تھا۔ FScمیں شاندار کامیابی اور انجینئرنگ کالج میں داخلے کے باوجود پاک آرمی میں شمولیت کا شوق اس پر حاوی تھا۔ لہٰذا جب اس طرف گیا تو بلا رکاوٹ ہر ٹیسٹ پاس کرتا ہوا PMAجا پہنچا۔ اکیڈمی کی سخت فوجی تربیت اس کی خطرپسند طبیعت کے لئے گویا کھیل تھی۔ کچھ کر گزرنے کی خواہش بلوچ رجمنٹ میں اس کی شمولیت کا باعث بنی۔ ساڑھے پانچ سالہ فوجی نوکری کے دوران وہ اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے کبھی سوڈان میں UNامن مشن کا حصہ بن کر دہشت گردوں اور شدید ملیریا سے جنگ لڑتا رہا تو کبھی سندھ میں سیلاب زدگان کی خدمت میں دن رات مصروف کار رہا۔ کبھی کوئٹہ میں Survival Course میں کامیابی سے ہمکنار ہوا تو کبھی چھور کی فوجی مشقیں جیت کر نام کمایا۔ شکست کا تصور اس کی زندگی سے دور تھا۔اُس کے شاندار عسکری ریکارڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے کورس کے لئے مصر بھی بجھوایا گیا۔ پچھلے پونے دو سال سے وہ سوات‘ کرم ایجنسی‘ ہنگو‘ خیبر ایجنسی اور بالآخر وادی تیراہ میں دہشت گردوں سے نبردآزما تھا جہاں اس نے چھوٹے بڑے 30سے زائد آپریشنز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ اپنی جان کی بازی لگا کر دہشت گردوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کی شمولیت کو آپریشن کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ 30اپریل 2013کو جب وہ زندگی کی آخری چھٹی گزار کر واپس جا رہا تھا تو اس کی چھٹی حس اسے شہادت کی خوشخبری دے رہی تھی جس کا اظہار اس نے اپنے دوستوں سے بھی کیا اور آخری رات جاوید بھائی نے اسے زیرلب کہتے سنا۔ کسی کی شہادت کی خبر ٹی وی پر چل جائے گی۔ اپنے پیاروں سے بچھڑنے کا دکھ لئے وہ معصوم موت کی وادی کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس کے جانے کے بعد ہم صبح و شام حسب معمول اس کی اور پاک فوج کی کامیابی اور سلامتی کی دعائیں مانگتے رہے۔ زندگی کا یہ آخری ماہ اس نے کس کرب‘ صبر و برداشت میں گزارا ہو گا‘ یہ وہی جان سکتا ہے جسے شہادت کا اشارہ مل چکا ہو۔ لیکن ہمیشہ کی طرح اس نے فون پر بھی کبھی حوصلہ نہ ہارا حتیٰ کہ آخری آپریشن پر روانگی سے قبل ماں اور بہن سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں بھی محض اسی کامیابی کے لئے دعا کرنے کے لئے کہا اور پرس میں رکھے گئے بہن کے نام خط کے بارے میں بتایا۔ اس خط کو پڑھ کر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی منزل دیکھ چکا تھا۔ وہی منزل جو ہر مجاہد کی تمنا ہوا کرتی ہے۔

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن

نہ مالِ غنیمت ‘ نہ کشور کشائی

30اور 31مئی 2013کی درمیانی شب‘ پانچ چھ گھنٹے اسلحہ اور بھاری بوجھ کے ساتھ سنگلاخ چٹانوں کو عبور کرتے ہوئے وہ اپنے ٹارگٹ پر پہنچ چکا تھا۔ اس نے اپنے لیفٹیننٹ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پیش قدمی جاری رکھی۔ کیونکہ اس کی اصلی منزل اسے پکار رہی تھی۔ دیگر دو کمپنیاں دہشت گردوں کی لگاتارفائرنگ کی زد میں تھیں۔ حسن شہید انہیں کور دینے کے لئے آگے بڑھا اور فائرنگ کا رخ اپنی جانب مبذول کروایا تاکہ دونوں کمپنیوں کو سنبھالا مل سکے۔ تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹہ ’’جھپٹنا‘ پلٹنا‘ پلٹ کر جھپٹنا‘‘ کی حکمت عملی اپنائے وہ دہشت گردوں سے لڑتا رہا۔ وہ اپنے کسی بھی جوان کی شہادت کے لئے خود کو اﷲ کے سامنے جوابدہ سمجھتا تھا اسی لئے اپنے ساتھ آئے جوانوں کو حفاظت و کامیابی سے لڑاتا رہا۔ وہ خود خطرہ مول لے کر دشمن کو کاری ضرب لگانے اور شدید جانی نقصان پہنچانے میں پیش پیش تھا۔ یہاں تک کہ سامنے سے آنے والی ایک گولی میرے شہزادے کے گلابی چہرے کو گلنار کرتے ہوئے سر کی پچھلی جانب سے نکل گئی اور رات بھر کے پیاسے حسن نے موقع پر ہی جام شہادت نوش کر لیا اور آپریشن کا پہلا شہید بن کر کامیابی کی ضمانت دے دی۔ آہ! وادی تیراہ! تو نے ہماری دنیا تیرہ و تاریک بنا دی۔ ہمارے گھر کا وہ روشن چراغ گل کر دیا جو اپنے ساتھ ہماری ساری خوشیاں بھی لے گیا۔ ہم جس کے لئے زندگی اور کامیابی کی دعائیں مانگتے تھے اﷲ تعالیٰ نے اسے دونوں سے نواز دیا یعنی ’’سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت‘‘ کیپٹن حسن نے شہید ہو کر حیات جاوداں اور بلندئ درجات پائی ہے۔ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم خاکی انسان شہید کے درجات کی بلندی کا شعور نہیں رکھتے اسی لئے اس کے وجود کی جدائی میں تڑپتے ہیں۔ حکومت نے اس کی جرأت و بہادری کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ستارہ بسالت سے نوازا ہے۔

یہ تحریر 24مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP