قومی و بین الاقوامی ایشوز

سرچھپائے گی بے قراری کہاں

جرمنی نے پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم تک اپنے صحن میں دیکھیں اور جنگ سے وابستہ تمام تر تکالیف‘ ذہنی عذاب اور جذباتی تذلیل کو بچشم خود مشاہدہ کیا مگر ایک کمال اور بھی کیا۔ وہ یہ کہ اپنی شعوری سطح سے اپنی وطنیت کو مسخ نہیں ہونے دیا۔ اپنی ہی حکومت کے ظلم سہے مگر حکومت کو آنی جانی چیز سمجھا اور وطن کو ابدی حقیقت۔ لیکن آج ان چیزوں کو تجزیاتی زبان میں لکھنا قدرے آسان ہے۔ مگر ظلم کو سہتے ہوئے اپنے کل پر یقین کو نہ ڈگمگانے دینا ایسا مشکل ہے کہ جنگ سے آگے کا مرحلہ ہے۔ جرمن قوم بنیادی طور پر اس آزمائش پر پوری اتری کہ انہوں نے اپنے مستقبل پر یقین کو نہیں ڈگمگانے دیا۔ مگر اس کا ہمارے معروضی حقائق سے کیا تعلق ہے۔ جی ہاں تعلق ہے اور بہت ناگزیر نوعیت کا ہے۔ ہم اہلِ پاکستان ابتلاؤں اور آزمائشوں کی ایسی گھمبیر صورت حالت سے گزر رہے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ ہمارے مزاح نگار اب کوئی ہلکی پھلکی بات بھی کریں تو زمینی حقائق کی گھمبیرتا اور سنگینی انہیں سنجیدہ بنا دیتی ہے۔ انور مسعود صاحب کہیںیورپ وغیرہ میں آئے تو لوگوں نے پوچھا کہ پاکستان کے حالات حاضرہ کے بارے میں کچھ بتائیں تو موصوف نے بظاہر ایک مزاحیہ مصرعہ پڑھا لیکن بے حسی اگر حجاب نہ ڈال دے تو اس کی سنجیدگی قابل فکر ہے۔ فرمایا

حالات حاضرہ کو کئی سال ہو گئے

یعنی کچھ بھی نہیں بدلا۔ مطلب جمود ۔۔۔۔ اور جمود کے لئے کم سے کم کیا مفہوم لیں ہم؟ موت یا قریب المرگ۔۔۔ بے حسی یا فالج؟؟ آخر دنیا میں کہیں بھی اگر معاملات ساکن یا ساکت ہو جائیں تو مطلب کیا لیا جاتا ہے۔۔۔؟ ہمارے لئے استثناء کیوں اور کیسے؟؟؟

یہاں میں اپنے قارئین سے ایک ضمنی گزارش کر دوں کہ قلم کی اپنی زبان ہوتی ہے اور اس کی کاٹ بھی۔ جیسے ہم خودکلامی کرتے ہیں اسی طرح اگر ذہنی سوالات کو معاشرتی بندگی سے واسطہ پڑ جائے تو اسی طرح کی قلمی خود کلامی سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔ اس کی تلخی کی شکایت اس لئے نہ کریں کہ مرض اگر دب جائے تو زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ اظہار بہرحال فائدہ مند ہوتا ہے کہ اس سے تبدیلی کے راستے کھلتے ہیں۔ واپس آتے ہیں سوچنے لکھنے اور بولنے والے اہل علم و ادب کے مصائب حالات اور مسائل کی طرف ۔ پچھلے دنوں کئی سانحوں پر ایسا ہوا کہ کہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر مجھے ازراہ تبصرہ عبیداﷲ علیم کے یہ اشعار پڑھنے اور سننے کو ملے۔ اس قدر تکرار کے ساتھ کہ ضروری ہے کہ پہلے آپ کو بھی سنا دوں کہ

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

میرے شہر جل رہے ہیں‘ میرے لوگ مر رہے ہیں

کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطہ زمین پر

وہی خطہ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں

کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

ہمیں قتل ہو رہے ہمیں قتل کر رہے ہیں

اس پر کسی صاحب نے کمال تبصرہ کیا کہ یہ 70 کی دہائی کی غزل ہے مگر بالکل تازہ کلام محسوس ہو رہا ہے۔ یعنی وہی بات کہ حسب حالات ہے تو پرانی کیسے ہوئی؟ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مسئلے کی سنگینی پہ بات کرنا بھی ایک طرح کا جرم بن چکا ہے۔ کون پوچھے کہ اتنی قربانیوں سے آپ نے وطن لیا اور لوگ ایک پلاٹ بھی خرید لیں تو اس کو بنانے اور آباد کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ زرعی زمین لیتے ہیں تو اس میں شجر کاری‘ پانی کی فراہمی‘ اپنے لئے مکان‘ ڈیرہ ڈنڈا اور مال مویشی‘ آئے گئے کے لئے سامان تواضع اور مشکل وقت کے لئے مناسب انتظام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ آپ کو اﷲتعالیٰ نے ملک دیا۔ اب آباد تو اسے دوسروں نے نہیں کرنا تھا اور ساری دنیا میں لوگ یقین‘ حسن انتظام‘ حسن معاشرت‘ عدل‘ انصاف‘ تعلیم‘ معاشی تحفظ اور انسانی زندگی کو درکار سہولتوں کی فراہمی کے ذریعے گھروں اور ملکوں کو سنوارتے اور آباد کرتے ہیں مگر ہم؟ قائداعظم محمد علی جناح کے آنکھیں بند کرتے ہی بدنیتی پر اتر آئے۔ ملکیت اور حاکم مطلق بننے کے طریقے ڈھونڈنے میں لگ گئے اور ہر بدنیتی کا عنوان بہت خوبصورت رکھا اور ظاہر پرستی کا کوڑھ پھیلنے لگا۔ تعلیم چونکہ نہ ہونے کے برابر تھی اس لئے مطلب پرستوں کو موقع ملا کہ جو نعرہ بھی لگا دو چل جائے گا۔ تفصیل میں کوئی نہیں جائے گا کہ اس کا مطلب اور نتیجہ کیا ہو گا۔ وہ نہیں جو بانی اسلام حضرت محمدمصطفی ﷺ نے سکھایا تھا۔ جس کی ابتداء اپنے نفس پر خدا کی حاکمیت قائم کرنے سے ہوتی تھی اور جس کا دائرہ کار ہمیشہ مظلوم کو مدد دینا تھا نہ کہ توسیع اقتدار جس کے احکامات میں واضح ہدایات تھیں کہ

-1عورتوں‘ بچوں اور بوڑھوں پر حملہ نہ کرنا‘

-2مذہبی عبادت گاہوں پر حملہ نہ کرنا‘

-3درخت نہیں کاٹنے اور فصلوں کو نقصان نہ پہنچانا‘

-4جو اپنا دروازہ بند کرے اس پر حملہ نہ کرنا۔

-5دشمنوں کی لاشوں کے ساتھ بدسلوکی نہیں کرنی۔

مگر آج کے اِن نام نہاد جہاد پسندوں نے قتل انسانیت کے ہر غیر انسانی طریقے اختیار ہی نہیں کئے بلکہ رائج کئے۔ انسانی سروں سے فٹ بال کھیلنے اور سکولوں کے بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے ‘ مسجدوں اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملہ آور ہونے کے واقعات کی اگر ایک مختلف سی فلم دکھائی جائے تو تاریخ انسانیت کے کون سے مذہب سے آپ کو شاباش ملنے کی توقع ہے۔ یہ سب ہوا اور اچانک نہیں ہوا‘ یہ کم ظرفی اور کوتاہ نظری نے اورتعصب اور تنگ نظری نے بچے دیئے ہیں اور تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ قائداعظم کی وفات کے بعد ہی خوبصورت ٹائٹل کے ذریعے یہ سوچ عوام پر مسلط کرنے کا آغاز ہو چکا تھا۔ لیڈر شپ نے قائداعظم کا نام اور ان کی جماعت مسلم لیگ کا ٹائٹل اپنالیا مگر قائداعظم جیسی شفاف جرات کو نہیں اپنایا۔ کوئی پندرہ سال قبل ریڈیو پاکستان سے ایک مشاعرہ یوم پاکستان کے حوالے سے نشر ہو رہا تھا۔ وہاں ایک صاحب نے کچھ شعر سنائے جس میں سے سب سے زیادہ مبنی بر حقیقت شعر نشر نہیں ہوا۔ وہ یہ تھا۔

اس نے بہت تلقین کی

ایمان کی اتحاد کی تنظیم کی

ہم نے بہت توہین کی

اور خاص کر ان تین کی

جیسا کہ قارئین سے گزارش کی تھی کہ یہ تلخ حقائق ہیں مگر ان کا علم نہ ہو یا ان پر پردہ ڈال کر اگر ہم سمجھیں کہ یہ مصلحت ضروری ہے اور اسے حُب الوطنی پیدا ہو گی۔ تو اس سے بڑی جہالت کوئی نہیں۔

اصل بات یہی ہے کہ پاکستان ہمارے لئے ناگزیر ہے اور اس مہم میں عوام‘ لیڈر شپ‘ حکومتیں‘ ادارے‘ گروہ‘ دھڑے‘ اکثر یتیں و اقلیتیں‘ سول اور افواج سب شامل ہیں۔

بیماری کو سمجھیں جس مدارج سے گزر کر یہ پروان چڑھی ہے اُن سے آگاہی بہت ضروری ہے اور پھر غور کریں کہ کیا یہ وطن ہم نے ہجرتیں کرنے کی خاطر حاصل کیا تھا۔؟ یہ ہمارا ابدی گھر تھا‘ہے اوررہے گا۔ یہ ہماری آنے والے نسلوں کی وراثت ہے۔ ذرا سا صاحب عقل و فراست دادا اپنے پوتوں کی زمین بیچنے کی اجازت اپنے بیٹے کو نہیں دیتا۔ یہ تو آنے والی تمام نسلوں کی ملکیت ہے اور مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ شہری بنیادوں پر جو پاکستان میں پیدا ہوا ہے اس وطن عزیز کی تمام آسائشوں اور علاقوں پر اور وسائل پر اس کا حق ہے۔ وہ سماجی اور معاشرتی طور پر پورا پاکستانی ہے ۔ ادھورا ہر گز نہیں۔ ہر وہ سوچ اور ہر وہ طرز عمل جس سے ایک پورا پاکستانی ادھورا بن جائے تو وہ گمراہ کن ہے اور بانی پاکستان کی سوچ نہیں ہے۔یاد رکھیں قائدِاعظم نے لولے لنگڑے لوگ اس کے شہری نہیں دیکھے بلکہ بھرپور شخصیتوں والی کامیاب نسلیں ذہن میں رکھ کر یہ آماجگاہ اور وطن اُن کے لئے حاصل کیا اور ایک اور قابلِ غور بات یہ کہ لُٹے پٹے‘ غریب بے وسائل مسلمانوں نے یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا۔ اسلام اس کے حصول اور قیام کے باعث بنا ہے۔ ہر وہ سوچ جس سے اس کے قیام اور اس میں رہنے والوں کی زندگیوں پر زد پڑتی ہو وہ کسی دھڑے کی سوچ ہو سکتی ہے ۔ اسلامی ہرگز نہیں۔ اسلام طرزِ زندگی ہے‘ نظریۂ حیات ہے اور لوگوں میں اسلوبِ حیات کی ترویج اور بہتری کے لئے آیا ہے۔ جس چیز سے انسانوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو اور زندگی ایک جہنم بن جائے وہ کسی بدترین خواب میں بھی اسلام کہلانے کی مستحق نہیں۔ اس لئے ان ابتلاء کے دنوں میں اپنے دل و دماغ میں سیاسی اورمذہبی دھڑے بندیوں سے آگے بڑھ کر اپنی وطنیت کی روح کو سلامت رکھنا اور خدا کے نبی ﷺ کے ذریعے زمین پر رحمت بن کر اُترنے والے دینِ اسلام کی حقیقی شکل کو محفوظ رکھنا سب سے اہم اور مشکل کام ہے ۔ مگر یہ کام کرنا ہوگا۔

چند دن قبل ایک دوست کو میں نے ایک شعر سنایا کہ

سرچھپائے گی بے قراری کہاں؟

جب دلِ بیقرار ٹوٹ گیا

ریاست کے تمام کل پُرزے اپنی اپنی جگہ پر درست چل رہے ہوں تو ایک کی جگہ دوسرا لے ہی نہیں سکتا۔ اس لئے اپنے اپنے دائرہ کار میں احساسِ ذمہ داری کو فروغ دیں اور توجہ اپنے مشترکہ اثاثے پاکستان کی طرف مرکوز کریں اور کچھ قومی اہداف بنائیں۔

تو میں نے کہا کہ یہ ساری معاشرتی‘ سیاسی‘ سماجی اور مذہبی اٹھا پٹخ اور اکھاڑ پچھاڑ جو ہو رہی ہے اس کے کرداروں میں اتنی عقل ہو کہ وہ یہ سمجھ جائیں کہ اس بے قراری‘ اضطراب‘ بے چینی نے کہاں رہنا ہے اور کہاں سر چھپانا ہے۔ اگر خدانخواستہ دلِ بیقرار یعنی پاکستان ہی۔۔۔۔ اس لئے باہمی اختلاف اور باہمی منافرت کرتے وقت کم از کم یہ ضرور سوچ لیا کریں کہ پاکستان ہے تو آپ یہ سارے جلوس تماشے کرسکتے ہیں پردیسیوں کو ایسی عیاشیاں کون کرنے دیتا ہے کہ آپ آرام سے گھروں سے نکلیں اور سرکای املاک کی توڑ پھوڑ کرکے جا کے سو جائیں۔

-1آپ نے کتنے درخت لگائے؟

-2کب رضاکارانہ صفائی کی؟

-3کب ملک بنانے اور سنوارنے کا کوئی کام کیا؟

-4کب آخری دفعہ رضاکارانہ خون دیا؟

-5کب میڈیکل کیمپ میں رضاکارانہ خدمت کی؟

اور اس طرح کے سوال کرتے جائیں اور شرمندہ ہوتے جائیں۔ تو جن قوموں کی سیاسی جدو جہد کی مثالیں دیتے ہیں اُن کی معاشرتی کوششوں اور سماجی رضاکارانہ خدمات کو دیکھیں تو کوئی نسبت ہی نہیں ملے گی۔ تو جناب پھر یہ توڑ پھوڑ کیوں؟ یہ داستان طول پکڑ جائے گی۔ اصل بات یہی ہے کہ پاکستان ہمارے لئے ناگزیر ہے اور اس مہم میں عوام‘ لیڈر شپ‘ حکومتیں‘ ادارے‘ گروہ‘ دھڑے‘ اکثر یتیں و اقلیتیں‘ سول اور افواج سب شامل ہیں۔

دنیا میں ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ دست و گریباں اور نفرتوں کو پالنے والے دھڑوں اور گروہوں نے کوئی مضبوط ریاست اور ترقی یافتہ ملک یا باعزت اور باوقار قوم بنا کر دکھائی ہو۔ چھوٹے اور فوری دائروں میں محبت کو عام کریں۔ انفرادی سطح پر ذمہ داری اور احترام کو قائم کریں۔ اظہار کے صحیح رستے تلاش کریں اور ایسی تعلیم کے لئے پریشان ہونا شروع کریں جو جذبوں اور شعور کو نکھارتی ہے اپنی زبان ‘مٹی‘ وسائل ‘ مسائل اور ماحول سے تعلق اور پیار کو بڑھائیں اور یاد رکھیں کہ سترہ اٹھارہ کروڑ لوگ اجتماعی ہجرت تو کر نہیں سکتے اس لئے خدا نے جو سرزمین عطا کی ہے اُس کو وطنیت کی حقیقی روح کے ساتھ آباد کریں۔ باہمی رحم اور عفو نہیں کریں گے تو آپ پر رحم کیوں کیا جائے گا؟ قومیں اور ملک اصولوں اور محبتوں سے بنتے ہیں۔ ہمارے لئے نئے معاشرتی اصول وضع نہیں ہوں گے۔ جمہوریت ایک طرزِ حکومت ہے اور اس کے اجزائے ترکیبی میں اپنی فوج کو گالیاں دینا کہاں سے شامل ہوگیا؟ دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں! ایک دانشوری کا معیار یہ بھی بن رہا ہے کہ جو فوج کی جتنی کردار کشی کرے گا وہ اتنا ہی بڑا دانشور ہوگا۔ اگر یہی معیار ہے تو آفات و مصائب اور شدید بدامنی اور سیلاب کے سامنے فوج ہی کو کیوں رکھا جاتا ہے۔ یہ ادارہ اگر منظم نہ ہو تو پھر شائد اس کو اسٹیبلشمنٹ بھی نہ کہا جائے لیکن۔۔۔ آخر مقصد کیا ہے بے معنی تنقید کا؟

سول ادارے مستحکم ہوں تو فوج کا کردار واقعی سرحدوں تک ہوتا ہے لیکن یہ پہلے ادارے مستحکم کرنے آئیں پھر واپس جائیں تو آپ خود عدمِ استحکام کی طرف جاتے ہی کیوں ہیں؟ ریاست کے تمام کل پُرزے اپنی اپنی جگہ پر درست چل رہے ہوں تو ایک کی جگہ دوسرا لے ہی نہیں سکتا۔ اس لئے اپنے اپنے دائرہ کار میں احساسِ ذمہ داری کو فروغ دیں اور توجہ اپنے مشترکہ اثاثے پاکستان کی طرف مرکوز کریں اور کچھ قومی اہداف بنائیں۔

میں یہاں جرمنی میں دیکھتا ہوں کہ ان جنگلات کی معاشی لحاظ سے کوئی خاص حاجت نہیں مگر ہر فرد کو جنگلات کے فروغ میں دلچسپی ہے۔ حکومت کام کے مواقع دیتی ہے اور عوام کام کرنے میں عزت محسوس کرتے ہیں۔ ٹیکس کے لئے ترغیب نہیں دینی پڑتی بلکہ ٹیکس ادا کرنے کا رواج ہے۔ خوش دلی سے بات کرنا پیشہ ورانہ مہارت کا حصہ ہے۔ صاف گوئی عام ہے کسی کے معاملات میں دخل اندازی بدتہذیبی ہے۔ انفرادی آزادی کی کثرت نے اجتماعی آزادی اور باوقار آزاد ملک کو جنم دیا ہے۔ جو مرضی مذہب اختیار کریں مذہب کا ٹھیکیدار بن کر لوگوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی ریاست اجازت نہیں دیتی۔ پچھلے دنوں جو پیرس میں حملہ ہوا اور یورپ بھر میں ردِ عمل کا خطرہ تھا تو جرمن چانسلر کا ٹی وی پر یہ بیان تھا کہ ’’مجھے صرف اس بات پر گہری نظر رکھنی ہے کہ جرمنی میں رہنے والے کسی بھی مذہب یا مکتبۂ فکر کے انسان کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچنا چاہئے اور اُن کے سماجی تحفظ پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘‘ اس طرح انسانی حقوق کی پاسداری‘ اکثریتوں اور اقلیتوں کے یکساں تحفظ‘ تعلیم و صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور بلا امتیاز مواقع۔ ترقی کے تحفظ سے ملک اور قومیں ترقی کرتی ہیں اور وہ ماحول پیدا ہوتا ہے کہ جس کا خواب سلیم کوثر نے یوں دیکھا ہے کہ

وہ برگ جن پہ رتوں کے خواب اترتے ہیں

شجر سے کٹ کے بھی گلشن کے ترجماں رہے

یہ وہ حقیقی وطنیت ہے کہ آدمی کہیں بھی چلاجائے اور کیسے ہی حالات کیوں نہ ہوں وہ اپنے گلشن کے ہی گیت گاتا ہے اور اسی کا ترجمان رہتا ہے۔ کئی دہائیاں رسہ کشی اور توڑ پھوڑ پر ضائع کر لی ہیں اور اپنے وقار پہ داغ ہی لگائے ہیں۔ اب صرف ایک دہائی اجتماعی محبت کے فروغ‘ حقوق کے قیام‘ انصاف کی فراہمی‘ عدل کا رواج ‘ ذمہ داری کے شعور تعلیم کی ترویج‘ صحت کے خیال اور رواداری کو عام کرنے پر بھی زور لگاکے دیکھ لیں۔ فرق تو وقت ہی بتائے گا لیکن تاریخ ایک بات کی گواہ ہے کہ مندرجہ بالا اوصاف اور خوبیوں کے حامل کسی معاشرے اور ملک کو ترقی کرنے سے کوئی طاقت بھی نہیں روک سکتی۔ خدا اور خدا کے فیصلے ہمیشہ ایسے معاشروں کی مدد اور دستگیری کرتے ہیں اور منہ سے خدا کو ماننے والے اگر ان صفات کے حامل نہ ہوں تو خدا کی مدد کو جذب نہیں کرسکتے

[email protected]

یہ تحریر 28مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP