قومی و بین الاقوامی ایشوز

سرمایہ داری اور اشتراکیت کے موجودہ دور پر اثرات

فلسفہ ایک ایسا گورکھ دھندا ہے کہ جس کی گتھیاں سلجھانے کے لئے نسلیں درکار ہیں۔ فلسفے کے انسانی زندگی پرعمیق اثرات ہوتے ہیں یہ جتنا گہرا ہے اتنا ہی پیچیدہ بھی۔ انسانی تاریخ میں بہت سے ایسے فلسفی گزرے ہیں جنہوں نے اپنے خیالات کی بدولت آنے والی نسلوں کو سحر میں مبتلا کئے رکھا لیکن بہت کم ایسے ہیں جو وقت کے بدلتے دھاروں میں اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ جدید دور میں اگر کسی نئے فلسفے نے جنم لیا اور اثر انداز ہوا تو وہ فلسفہ صرف اور صرف معاشی فلسفہ تھا۔ جس نے اپنی توجیہات کی بدولت معاشروں کے اندر انقلابی اور ترقی پسندانہ رجحانات کو جنم دیا۔ سامراجی نظام کے عروج کا بنیادی سبب بھی فلسفہ معاشیات تھا جس کے ذریعے مغربی سامراجی طاقتیں نہ صرف دنیا پر غالب آگئیں بلکہ پوری دنیا کو ایک ہی معاشی نظام کی ساتھ جوڑ کر رکھ دیا۔ اٹھارویں صدی میں ایڈم سمتھ (Adam Smith) نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب The Wealth of Nations میں جو اصول و ضوابط مرتب کئے ان کی بدولت ایک آزاد عالمی منڈی کا قیام وقوع پذیر ہوا۔ ایڈم سمتھ کے نظریات آزاد منڈی‘ پیداواری نظام اور پیدواری ذرائع (Means of Production) کے گرد گھومتے ہیں۔ اس کے مطابق پیداواری ذرائع اور سرمائے کے ارتکاز میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مزدور طبقہ ایک طرح سے منڈی میں اشیائے ضروریہ کی طرح ہے جو سرمایہ دار کا آلہ کار بن کر اُس کے سرمائے میں بے حد اضافے کا سبب بنتا ہے۔ مزدور کی اجرت کا دارومدار مزدور کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بجائے مزدوروں کے منڈی میں مقابلے کے رجحان پر ہوتا ہے۔ اگر مزدوروں کی تعداد طلب اور رسد کے تناسب سے زیادہ ہو تو اجرت کم ہوتی ہے۔ اجرت کا دارو مدار وقت کے اصراف پر بھی ہے اور محنت کش اپنی ذمہ داری وقت کے حساب سے لے گا۔ ایڈم سمتھ پیداواری رشتوں کو معاشی ترقی کے لئے ضروری قرار دیتا ہے اور مقابلے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ فلسفیانہ تقسیم میں ایڈم سمتھ کو سرمایہ داریت کا حامی قرار دیا جاتا ہے۔

دوسری فلسفی شخصیت جس نے معاشی فلسفے کو نئی جلا بخشی‘ کارل مارکس تھا۔ انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب کے دوران جنم لینے والے طبقاتی معاشروں کا جو سائنسی نقطہ نظر کارل مارکس نے بیان کیا وہ بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے ایک مثال بن گیا۔ مارکس نے کہا کہ لوگوں کا شعور ان کے وجود کو متعین نہیں کرتا بلکہ اس کے برعکس سماجی وجود ان کے شعور کا تعین کرتا ہے۔ مارکس طبقاتی نظام کو معاشرتی برائیوں کی جڑ قرار دیتا ہے اور اس بات کی امید کرتا ہے کہ طبقاتی جنگ میں پرولتاریہ طبقہ بور ژوا طبقے پر کامیابی حاصل کرے گا۔ سرمایہ داریت پر تنقید کرتے ہوئے مارکس کہتا ہے کہ اس نظام کے ذریعے ایک ایسے سفاک گروہ نے جنم لیا جو محنت کشوں کی محنت محض اس لئے قابو کرلیتا ہے کہ اس کا ذرائع پیداوار پر کنٹرول ہے اور سرمائے کی بدولت وہ تمام تر محنت کا پھل خود اکیلے ہی ہڑپ کرجاتاہے۔ سرمایہ دار کی اجارہ داری کی بنیادی وجہ قیمت فروخت اور مزدور کی اجرت میں نمایاں فرق ہے۔ محنت کش جو چیز دن رات کی محنت سے تیار کرتا ہے‘ اجرت میں کمی اس کی قوتِ خرید کو اتنا کمزور کردیتی ہے کہ وہ اشیائے ضروریہ کو خریدنے کے لئے بھی آجر پر ہی انحصار کرتا ہے۔

ان معاشی فلسفوں کی کشمکش نے انیسویں اور بیسویں صدی میں ایسے حالات کو جنم دیا کہ جن کی وجہ سے سائنسی انقلاب‘ صنعتی انقلاب اور معاشی انقلاب بجائے انسان کی کُلی فلاح کے معاشرتی تناؤ اور ریاستی تشدد کا سبب بن گئے۔ آزاد معیشت کے نعرے نے ایک طرف سرمایہ داری نظام کو فرد کے تابع کیا تو دوسری طرف ریاست بحیثیت ایک ادارہ ان افراد کی آلہ کار بن گئی جو سرمایہ داری نظام کو قابو کرتے۔ اشتراکیت کا نعرہ جرمنی میں پروان چڑھا لیکن اس کی انتہا روس میں ہوئی جب 1917 میں پرولتاریہ طبقہ سرخ انقلاب کے بعد وہاں غالب آیا۔ سرمایہ داری نظام نے جس کا جغرافیائی مرکز یورپ اور امریکہ ہے‘ پرولتاریہ طبقے کو ایک خطرہ تعبیر کیا۔

روس میں پرولتاری طبقے کے لیڈر لینن نے مارکس کے فلسفے کو انقلابی رنگ دیا اور طبقاتی جنگ میں تشدد کو جائز قرار دیا۔ مارکس کے غیر طبقاتی معاشرے کا حصول ہی روس Russia میں طبقاتی جنگ کی وجہ بنا۔ تشدد کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پرولتاریہ طبقے کی کمیونسٹ پارٹی نے لاکھوں لوگوں کو محض اس وجہ سے قتل کیا کہ وہ اپنی املاک اور سرمایہ حکومت کے سپرد کرنے پر تیار نہ تھے۔ انیسوی صدی کے آخر میں جب سامراجی نظام اپنے عروج کے آخری دن دیکھ رہا تھا‘ اسی دوران اٹھنے والی قوم پرست تحریکوں نے نہ صرف اس نظام کے خلاف آواز بلند کی بلکہ نوبت جنگ و جدل تک جا پہنچی اور بیسیویں صدی کے آغاز سے ہی سامراجی قوتوں کے خلاف دنیا کے مختلف حصوں میں نبرد آزما قوتیں اتنی متحرک ہوگئیں کہ پہلی جنگِ عظیم کا آغاز ہوگیا۔ صنعتی انقلاب اور آزاد معیشت نے ایک طرف تو دنیا کو معاشی لحاظ سے جوڑ دیا تو دوسری طرف دو ریاستوں کی جنگ پوری دنیا کی جنگ بن گئی۔ جنگ کے اندر فیصلہ کن برتری ریاستی کنٹرول سے نکل ان غیر ریاستی اداروں (بینکوں‘ کارپوریشن اور کمپنیوں) کے کنٹرول میں آگئی جو حقیقت میں عالمی منڈی کے بے تاج بادشاہ تھے۔ اس سرمایہ دار طبقے کو Merchants of War کا نام دیا گیا جس نے اپنے سرمائے سے اسلحہ ساز فیکٹریاں لگائیں۔ اب سرمایہ داری نظام میں مقابلے کا رجحان معاشروں سے نکل کر بین الاقوامی شکل اختیار کرگیا اور پہلی جنگ عظیم میں وہی ریاستیں کامیاب ہوئیں‘ جن کے سرمایہ دار بین الاقوامی سرمایہ داری نظام میں سب سے مستند تھے۔ امریکہ کے جنگ میں داخلے پر گوکہ جنگ کا خاتمہ برطانیہ اور فرانس کی جیت پر ہوا لیکن بین الاقوامی طبقاتی تقسیم سے یہ ثابت ہوگیا کہ جنگ کا یہ عفریت رکنے نہیں پائے گا اور ٹھیک بیس سال کے بعد جنگ عظیم دوم کا آغاز ہوگیا جو پہلے سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن ثابت ہوئی۔

اب طاقت کا توازن یورپ سے نکل کر امریکہ منتقل ہوگیا جو ’’نیوورلڈآرڈر‘‘ کی شکل میں سامنے آیا۔ گو جنگِ عظیم دوم میں سرمایہ دار قومیں اور اشتراکی ریاستیں حلیف تھیں مگر ان کے اکٹھے ہونے کا صرف ایک سبب تھا اور وہ تھا مشترکہ دشمن۔ جنگ کے خاتمے پر دونوں کی راہیں جدا ہوئیں اور مستقبل میں یہ جدائی سرد جنگ کے آغاز کا سبب بنی۔ بیسویں صدی کا دوسرا حصہ نیوورلڈ آرڈر کے تحت بننے والے بین الاقوامی اداروں‘ اقوام متحدہ ‘ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF ,UN, World Bank) کی معاشی پالیسیوں کے زیرِ اثر رہا۔ نئی جنم لینے والی ریاستیں جو اب سرمایہ داری نظام اور سامراجیت کی دشمنی کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئیں اُن کے لئے اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لئے بین الاقوامی اداروں کا سہارا ناگزیر بن گیا۔ دوسری طرف اشتراکی نظام نے بھی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاستوں کو اشتراکیت کی طرف لانے کی سعی کی۔ اس عرصے میں سب سے زیادہ نقصان نئی جنم لینے والی ریاستوں کو ہوا جو اپنے مقامی نظامِ معیشت کو چھوڑ کر بین الاقوامینظام میں ضم ہوگئیں۔ بین الاقوامی نظام میں کمزور ریاستوں کو زبردستی شامل کرنے کا سہرا ان پر حکمرانی کرنے والے طبقے کے سرجاتا ہے جو اصل میں بین الاقوامی سرمایہ داریت کا آلہ کار بن کر اس نظام کی آفاقیت اور اپنے زیرِ نگیں لوگوں پر طوالتِ اقتدار کا خواہش مند رہتا ہے۔ یہ اس حکمران طبقے کی مجبوری ہے۔ پیداوار کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ متعین کرتی ہے اور مقابلے کا رجحان بڑھتا ہے۔ یہی مقابلے کا رجحان مارکیٹ کے اندر بڑے تاجروں کو چھوٹے تاجروں پر فوقیت دیتا ہے اور آخر کار چھوٹے تاجروں کا وجود ختم کردیتا ہے۔ کمزور ریاستوں میں موجود حکمران طبقہ اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لئے بین الاقوامی سرمایہ دار سے گٹھ جوڑ قائم رکھتا ہے اور بین الاقوامی سرمایہ دار کی خواہشات پر عمل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے دنیا کے چند حصوں میں ترقی نمایاں ہے جبکہ اکثر ترقی پذیر یا انتہائی غریب ہیں۔ تاہم اس رجحان کی چند دیگر وجوہات بھی ہیں۔ جو یہاں بیان نہیں کی جا رہیں۔

سرد جنگ کے دوران سرمایہ داری اور اشتراکیت کے درمیان تجارتی رشتوں میں کمی واقع نہ ہوئی۔ اس عرصے میں دنیا کی چالیس بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں سوویت یونین کے ساتھ کاروبار کرتی رہیں اور اُن میں اکثر کے دفاتر ماسکو میں تھے۔ اشتراکی سوویت یونین کا ایک تہائی کاروبار سرمایہ دار مغربی ممالک سے تھا جس کی بنیادی وجہ سرمایہ داری نظام کی فوقیت تھی۔ سرمایہ داری نظام مقابلے کے رجحان سے آگے بڑھتے ہوئے اب استعماری یا اجارہ دار سرمایہ داری میں داخل ہوگیا۔ اجارہ دار سرمایہ داری کے لئے بین الاقوامی سرمایہ دار نے اپنے زیرِ نگین بین الاقوامی اداروں کے توسط سے بین الاقوامی امداد کا جال بچھایا۔ بین الاقوامی امداد کا بنیادی مقصد ایک طرف کمزور ریاستوں کو مکمل کنٹرول کرنا تھا تو دوسری طرف اشتراکیت پسند ریاستوں کو سرمایہ داری نظام میں شامل کرنا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے زیرِ اثر کام کرنے والے تمام رفاعی ادارے سرمایہ داری نظام کو جلا بخشنے کے لئے سرگرم ہیں۔ بیرونی امداد یا بین الاقومی ادارے امداد اس شرط پر دیتے ہیں کہ غریب ملکوں کے بیوروکریٹس ان اشیائے ضروریہ کو ترجیح دیں گے جن کا براہِ راست فائدہ ان بین الاقوامی سرمایہ داروں کو ہوگا۔ بیرونی قرضے سرمایہ داری نظام کا ایک اور جال ہیں جن کے ذریعے ترقی پذیر ممالک معاشی بحران سے بچنے کے لئے ان اداروں کا رُخ کرتے ہیں۔ بیرونی امدادی ادارے قرضے کی ادائیگی کے ساتھ ایسی شرائط مرتب کرتے ہیں کہ جن کی بدولت غریب ملکوں کی آبادی کو‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ افراطِ زر اور خوارک کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سرمایہ داری نظام کی سفاکی ترقی یافتہ ممالک میں بھی غالب رہتی ہے ۔ مثال کے طور پر امریکہ میں پیدا ہونے والیWall Streetکی تحریک جس کا بنیادی مقصد عوامی فلاح کی پالیسیاں مرتب کروانا تھا اور یورپ کے اندر پیدا ہونے والا مالیاتی بحران جس سے تقریباً یورپ کی30% نوجوان نسل بیروزگار ہوئی‘سرمایہ داری نظام کی پیچیدگیوں کا سبب تھا۔ سرد جنگ کا خاتمہ درحقیقت امریکہ کی جیت کے بجائے سرمایہ داری کی جیت پر تھا اور اس میں سے پیدا ہونے والی آزاد معیشت بے راہ روی کا سبب بنی۔ اگر سرمایہ داری نظام ریاستی کنٹرول سے نکل کر بین الاقوامی سرمایہ داریت کا سبب بنا تو دوسری طرف غیر ریاستی عناصر ریاستی کنٹرول سے نکل کر بین الاقوامی عناصرکے طور پر ابھرے اور دنیا کے لئے ایک خطرہ بن گئے۔ اس کی ایک مثال ’’القاعدہ‘‘ جیسی تنظیم ہے جو کسی ریاستی کنٹرول سے آزاد بین الاقوامی امن کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔

القاعدہ جیسی تنظیم ابھرنے کا ایک بنیادی سبب آزاد بین الاقوامی معیشت میں کالے دھن کا راج ہے۔ چونکہ سرمایہ داری نظام کے دوام کا سبب آزادانہ تجارت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی ریاستی تجارت میں منشیات اور اسلحے کا کاروبار ایک طرف ریاستوں میں موجود سرمایہ دار کو مالی فائدہ دیتا ہے تو دوسری طرف ریاستی کنٹرول کو کمزور کردیتا ہے۔ غیر ریاستی عناصر کا مرکز آغاز میں تو ایک ریاست ہوتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دائرہ عمل بین الریاستی اور بین الاقوامی سطح تک پہنچ جاتا ہے۔ پسِ پردہ سرمایہ دار طبقہ غیر ریاستی عناصر کی پشت پناہی میں ملوث ہوتا ہے اور سرمایہ داری نظام کے دوام کے لئے ان غیر ریاستی عناصر کو تشدد اور جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کی تلقین کرتا ہے جس کا نتیجہ ریاست میں جبر اور تشدد پر منتج ہوتا ہے۔ اس غیر ریاستی عنصر کی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہوتی اور اس کی کارروائیاں بین الاقوامی تناؤ کا باعث بن سکتی ہیں جس کی انتہا تیسری بین الاقوامی جنگ کا نقارہ ثابت ہوسکتی ہے۔ سرمایہ داری نظام کا عروج و زوال وقت کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے اور چین کے عالمی معاشی نظام میں شامل ہونے کے بعد عالمی سرمایہ دار کو جہاں سستے محنت کش میسر آئے وہاں ایک ارب سے زائد آبادی کی ایک بڑی مارکیٹ اس کے زیرِ نگیں آگئی۔ سستی لیبر سے مغربی ممالک پیشہ ور افراد کا ایک بڑا حصہ بیروزگار ہوگیا۔ عالمی اداروں کا قرضوں کا نظام اس حد تک پیچیدہ اور مشقت طلب ہے کہ امریکہ جیسی ایک عالمی طاقت بھی ان اداروں کی مقروض ہو چکی ہے۔ موجودہ دور میں جہاں ہر روز نت نئے معاشی نظریات جنم لے رہے ہیں‘ وہاں سرمایہ داری نظام بھی اپنی بقا کے حصول کے لئے نبردآزما ہے۔ نئی ابھرنے والی معاشی قوتیں گو ابھی سرمایہ داری نظام کا سہارا لے رہی ہیں مگر بین الاقوامی برادری میں بڑھتے ہوئے سماجی شعور کی بدولت سرمایہ دار کو اپنی اجارہ داری قائم رکھنے میں بہت مشکل کا سامنا ہے۔ معاشی بحرانوں سے نکلنے کے لئے سرمایہ داری نظام ریاستوں کو استعمال کرکے ٹیکسوں میں اضافے‘ پینشنوں میں کمی یا خاتمے‘ مہنگائی اور زائد نوٹ چھاپنے جیسے اقدامات کررہا ہے اور اس کا براہِ راست اثر محنت کش اور تنخواہ دار طبقے پر پڑرہا ہے۔ مارکس نے کہا تھا کہ ’’ریاست سرمایہ دار طبقے کی آلہ کار ہے‘‘ اور سرمایہ داری نظام کے دوام کا سبب ہے۔ بے لگام سرمایہ داریت کو قابو کرنے کے لئے تمام ریاستوں کو بین الاقوامی معیار کے قوانین بنانے ہوں گے۔ اگر تمام ریاستیں اپنے فلاحی پروگرم کو عین عوامی امنگوں کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں تو آزاد معیشت کے نظریے میں ریاستی قوانین کو فعال بنانا ہوگا۔ نظریہ ’’قدر زائد‘‘ جو درحقیقت سرمائے کے ارتکاز کا سبب ہے کو نظریہ تناسب میں بدلنا ہوگا تا کہ پیداواری رشتوں میں نمائندگی کا اصول فروغ پاسکے۔

یہ تحریر 80مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP