متفرقات

سرفروش

بابا۔بابا۔ سکاڈرن لیڈر اسد ابھی تیار ہو کر کمرے سے نکلا ہی تھا کہ اس کی پانچ سالہ بیٹی پونی ٹیل بنائے سکول یونیفارم پہنے بابا۔ بابا۔ کہتی بھاگتی ہوئی اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئی ۔ اسد نے جھک کر اسے اٹھایا اور اس کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے پوچھا ۔ جی بابا کی جان! کیا بات ہے ؟ بابا کل ہمارے سکول میں پیرنٹس ڈے ہے۔ آپ آئیں گے ناں! ماما کے ساتھ؟ مناہل نے کہا۔ اوکے بیٹا میں کوشش کروں گا۔اسدنے جواب دیا ۔ نہیں با با آپ آئیں گے بس! مناہل نے کہہ دیا ۔ مناہل کا انداز روٹھنے والا تھا۔ ہا ہا اوکے اب تو آرڈر مل گیا ہے میں آ جاؤں گا ۔اسد نے ہنستے ہوئے کہا۔ پرامس کریں مناہل نے اپنا ننھا سا ہاتھ آگے بڑھایا ۔ اوکے پرامس ۔ اسد نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ پکا والا پرامس ہے نا بابا ؟؟ مناہل ابھی تک بے یقین تھی کیونکہ پچھلی دفعہ اسد اپنی جاب کے سلسلے میں مصروف ہونے کی وجہ سے نہیں جا سکا تھا ۔ ہاں بیٹا پکا والا پرامس ۔ اسد نے مناہل کو یقین دہانی کروائی ۔ اگر باپ بیٹی کی باتیں ختم ہو گئی ہوں تو ناشتے کی ٹیبل پر آجائیں ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ مسز اسد نے آواز لگائی ۔ چلو بیٹا بریک فاسٹ کرتے ہیں ورنہ آپ کی ماما سے ہم دونوں کو ڈانٹ پڑ جائے گی ۔ اسد نے مسکراتے ہوئے مناہل کو چیئر پہ بٹھایا ۔ اور ناشتہ کرتے اپنے ڈھائی سالہ بیٹے کو جھک کر پیار کیا ۔ میرا جونیئر کیسا ہے ۔ بابا آئی ایم فائن ۔ ارسلان نے مصروف سے انداز میں جواب دیا ۔ نو بابا ہی از ناٹی بوائے ۔ اس نے میری ڈول کی ایک آرم ہی توڑ دی ۔ مناہل نے فورا شکایت لگائی ۔ آپ دو منٹ ارسلان کو دیکھیں دودھ گرا نہ دے میں آپ کے لئے چائے لے کر آتی ہوں ۔ مسز اسد نے اٹھتے ہوئے کہا ۔ اوکے ۔ ارسلان بیٹا آرام سے دودھ پیو آپ ۔ اور مناہل بیٹا کوئی بات نہیں ارسلان چھوٹا ہے نا! با با آپ کے لئے نیو ڈول لے آئیں گے ۔اسد نے پہلے ارسلان اور پھر مناہل سے کہا ۔ اور بابا میرے لئے اڑنے والا پلین لے کر آئیے گا جیسا آپ کے پاس ہے ۔ ارسلان نے بھی جھٹ سے فرمائش کر دی ۔ چلیں جی آپ کے بیٹے نے ابھی سے آپ کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا ہے ۔ مسز اسد نے چائے لے کر آتے ہوئے کہا ۔ ہاں میرا بیٹا بھی میری طرح پائلٹ بنے گا اور ہمارے پاکستان کی حفاظت کے لئے اپنا فرض نبھائے گا۔ اسد نے پیار سے اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔ بابا میں بھی پاکستان کی حفاظت کروں گی بڑی سی گن لے کر ۔ مناہل نے معصوم سے انداز میں کہا ۔ ہاں ہاں میری بہادر بیٹی جو ہے اسد نے مسکراتے ہوئے پیار سے مناہل کے گال کو چھوا۔ چلیں اب جلدی سے ناشتہ کر لیں ورنہ آپ بھی لیٹ ہو جائیں گے اور مناہل کی سکول وین بھی نکل جائے گی ۔ مسز اسد نے کہا۔ اوکے چلو بیٹا ناشتہ فنش کرو جلدی سے ۔ ناشتے کے بعد مناہل کی وین آگئی اور سکول جاتے ہوئے ایک دفعہ پھر وہ اسد کو اس کا وعدہ یاد دلانا نہیں بھولی ۔ اچھا میں بھی چلتا ہوں ۔اسد نے کہا ۔ کب تک آ جائیں گے آج آپ ؟ مسز اسد نے پوچھا ۔ آج آنے میں تھوڑی دیر ہو جائے گی فلائنگ ہے اور ایک میٹنگ بھی ہے ۔ اسد نے جواب دیا۔ اوکے اپنا خیال رکھیئے گا فی امان اللہ ۔ تم بھی اپنا خیال رکھنا ۔ اللہ حافظ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اے راہِ حق کے شہیدو! وفا کی تصویرو! تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں اے راہِ حق کے شہیدو!! شہر کے ایک مصروف بازار میں ایک چھوٹی سی چائے کی دکان میں ٹیپ ریکارڈر یہ نغمہ بکھیر رہا تھا ۔ یار گل خانا یہ کیا تم ہر وقت نغمے سنتا رہتا ہے کبھی کوئی اورپیار محبت والا گیت بھی لگالیا کرو ۔ پرویز لالہ نے گل خان کو مسلسل ملی نغمے سنتے دیکھ کر کہا ۔ لالہ تم تو جانتا ہے یار مجھے اپنا وطن اور پاک فوج سے کتنا محبت ہے ۔ اور میں جب بھی یہ نغمہ سنتا ہوں ناں تو یہ محبت اور بڑھ جاتا ہے ۔ گل خان نے جواب دیا ۔ اگر تجھے فوج سے اتنا ہی محبت ہے تو تم فوج میں کیوں نہیں گیا ۔ پرویز لالہ نے گل خان سے پوچھا ۔ کیسا جاتا لالہ تم تو جانتا ہے میرا باپ نے مجھے بچپن سے ہی کام پہ لگا دیا اور میں پڑھ نہ سکا ۔ لیکن لالہ قسم خدا کی اگر کبھی میرا وطن یا فوج کو میری ضرورت پڑی تو سب سے آگے کھڑا نظر آؤں گا ۔گل خان کے لہجے میں ایک عزم نظر آ رہا تھا ۔ لالہ میرا دل چاہتا تھا سب دہشت گردوں کو چن چن کر مار دوں لیکن ہم کو پتا نہیں چلتا ہے کون اپنا ہے اور کون دشمن ۔ گل خان نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا ۔ گل خانا ہمارا فوج لڑ رہا ہے ایک دن ضرور یہ دشمن یہاں سے دم دبا کر بھاگ جائے گا ۔ پرویز لالہ نے جواب دیا ۔ا نشاء اللہ ۔ لالہ دو کپ چائے دینا ۔۔ کسی گاہک کی آواز آئی ۔ ٹیپ ریکارڈر اب بھی بج رہا تھا ۔۔

ہر ایک دشمن کی سازشوں سے

یہ دیس ہم کو بچانا ہو گا

محبتوں کو فروغ دے کر

شعور ملت جگانا ہو گا

یہ کون ہیں جو ہمی میں رہ کر

ہمارے گھر کو جلا رہے ہیں

چلو یہ سوچیں ہم آج مل کر

ارے بھئی ناشتہ کہاں رہ گیا۔ فلائٹ لیفٹیننٹ عمر نے آواز لگائی ۔ آرہا ہے صبر تو کریں ۔ مسز عمر کا جواب آیا۔ بیٹا آج بہو کو شام میں ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے یاد ہے نا تمہیں ۔ عمر کی والدہ نے پوچھا ۔ جی امی جان مجھے یاد ہے میں وقت پہ گھر آ جاؤں گا ۔ آپ بھی تیار رہئے گا آپ کی اپائنٹمنٹ بھی لے لی ہے میں نے ۔ عمر نے جواب دیا ۔ ارے بیٹا مجھے کیا ہوا ہے میں بالکل ٹھیک ہوں اتنی دوائیاں نہیں کھائی جاتیں مجھ سے ۔ عمر کی والدہ نے کہا ۔ لیجئے ناشتہ مسز عمر نے ناشتہ ٹیبل پر لگاتے ہوئے کہا ۔ امی جان آپ کی طبیعت بالکل ٹھیک نہیں رہتی ہے دوا نہیں کھائیں گی تو ٹھیک کیسے ہوں گی اور پھر آپ نے اپنے آنے والے پوتے یا پوتی کے بھی تو لاڈ اٹھانے ہیں نا ۔ عمر نے والدہ کو سمجھاتے ہوئے کہا ۔ جی امی عمر ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ مسز عمر نے بھی تائید کی۔ اچھا بیٹا لے چلنا مجھے بھی ۔ عمر کی والدہ نے ہار مانتے ہوئے کہا ۔ عرشی آ بھی جاؤ کالج سے دیر ہو جائے گی تمہیں ۔ مسز عمر نے اپنی نند کو آواز دی۔ بھابھی لیجئے میں آگئی ۔ عرشی نے چیئر پہ بیٹھتے ہوئے کہا ۔ کیسی چل رہی ہے تمہاری سٹڈی عرشی ۔ عمر نے پوچھا ۔ بھائی بہت اچھی چل رہی ہے بلکہ دوڑ رہی ہے ۔ عرشی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ دیٹس گڈ ۔ اوکے میں چلتا ہوا امی جان ۔ عمر نے اپنی والدہ کے سامنے جھک کر پیار اور دعا لیتے ہوئے کہا ۔ بھائی مجھے کچھ بکس لینی ہیں اور نیکسٹ ویک کالج میں فنکشن ہے مجھے ڈریس لینا ہے اور کچھ شاپنگ کرنی ہے ۔ عرشی نے عمر کو روکتے ہوئے کہا ۔ عرشی ابھی پچھلے دنوں جو تم اتنی شاپنگ کر کے آئی ہو اب دوبار رہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ عرشی کی والدہ نے منع کیا ۔ کوئی بات نہیں امی جان کرنے دیں ۔ اوکے گڑیا آج تو نہیں ہم کل چلیں گے شاپنگ کے لئے عمر نے پیار سے عرشی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔ اوکے بھائی یو آر دا بیسٹ عرشی نے خوشی سے کہا ۔ اوکے میں اب چلتا ہوں۔ ٹھیک ہے بیٹا اللہ تمہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ عمر کی والدہ نے بیٹے کو دعاؤں میں رخصت کرتے ہوئے کہا ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم سر ۔۔ فلائیٹ لیفٹیننٹ عمر نے اندر داخل ہوتے ہوئے سکاڈرن لیڈر اسد کو سلام کیا ۔ وعلیکم السلام ! آؤ بھئی میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا ۔ اسد نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا ۔ چلیں سر ٹائم ہو گیا ہے ۔میں نے بک آؤٹ کر دیا ہے ۔ عمر نے کہا۔ ہاں چلو اسد نے اٹھتے ہوئے کہا ۔۔ اور یار گھر میں سب خیریت ہے ۔ اسد نے جہاز کی طرف جاتے ہوئے پوچھا ۔ یس سر الحمدللہ سب ٹھیک ہے آپ بتائیں سر بھابھی اور بچے ٹھیک ہیں؟ عمر نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔ ہاں اللہ کا شکر ہے ۔ اسد نے جواب دیا اور سامنے کھڑئے ایئرمین بابر کی طرف متوجہ ہو گیا۔ بابر تمہاری والد ہ کی طبیعت کیسی ہے اب ؟ سر اب اللہ کے فضل اور آپ سب کی دعاؤں سے کافی بہتر ہیں وہ۔ بابر نے جواب دیا ۔ یہ تو اچھی بات ہے خیال رکھنا ان کا ۔ اسد نے بابر کے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔ سر ایک اچھی خبر ہے شیر خان کی منگنی ہو گئی ہے اور صبح سے یہ لڑکیوں کی طرح شرماتا ہوا ادھر ادھر چھپ رہا ہے ۔ بابر نے شیر خان کو آتا دیکھ کر کہا ۔ بابر کے انداز اور شیر خان کے شرمانے پر عمر اور اسد کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔۔ یہ تو اچھی خبر ہے شیر خان بہت بہت مبارک ہو ۔ اسد نے شیر خان کو مبارک باد دی ۔ شیر خان یار اس بات پر مٹھائی تو بنتی ہے کب کھلا رہے ہو ۔ عمر نے کہا ۔ سر جب آپ بولو کھلا دوں گا شیر خان نے جواب دیا ۔ اوکے پھر ہم مشن سے واپس آ کر تم سے مٹھائی کھائیں گے اسد نے کہا اور جہاز کی طرف بڑھ گیا ۔۔ کچھ ہی دیر میں دونوں پائیلٹس اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھے ٹیک آف کے لئے پوری طرح تیار ہو چکے تھے ۔ ہدایات ملتے ہی جہاز ٹیکسی کرتا ہوا رن وے کی طرف بڑھا اور پھر کچھ ہی لمحوں میں فضا میں بلند ہو گیا۔ یہ ایک نارمل روٹین کا ٹریننگ مشن تھا ۔ سب کچھ نارمل تھا جہاز مشن ایریا میں پرفارم کرنے کے بعد اب واپس ریکوری پر تھا کہ اچانک پاور کم محسوس ہونے لگی ۔ دونوں پائیلٹس نے فوراً کنٹرول ٹاور کو اطلاع دی اور ایمرجنسی اسٹیپس لینے لگے۔ پاور بتدریج کم ہوتی جا رہی تھی پائیلٹس نے ایمرجنسی لیڈنگ کی کوشش کی لیکن اچانک پاور بالکل ختم ہو گئی ۔ جہاز کا انجن بند ہو چکا تھا اور جہاز نیچے کی طرف گرنے لگا ۔ وی لوسٹ دا کنٹرول۔ وی لوسٹ دا کنٹرول اسد نے کنٹرول ٹاور کو اطلاع دی ۔ جلد ہی انہیں ایجیکٹ کر جانے کی ہدایت مل چکی تھی ۔ سر نیچے آبادی ہے۔ سکواڈرن لیڈر اسد کو فلائیٹ لیفٹیننٹ عمر کی چلانے کے آواز آئی ۔ جہاز کا فاصلہ زمین سے لمحہ بہ لمحہ کم ہوتا جا رہا تھا ۔ دونوں ہواباز موت یا زندگی کسی ایک کو چننے جا رہے تھے۔ زندگی جس میں ان کے خوبصورت رشتے ان کا انتظار کر رہے تھے ۔ جس میں بہت سی خوشیاں ان کی منتظر تھیں ۔ وہ زندگی جس میں مناہل کے بابا کو اس سے کیا وعدہ نبھانا تھا ۔ وہ زندگی جہاں ایک بیٹا اپنی ماں اور بہن کا واحد سہارا ہے ۔ وہ زندگی جس میں ابھی ایک باپ کو اپنے آنے والے بچے کو بانہوں میں لینا تھا ۔ وہ زندگی جس میں ارسلان کے بابا کو اسے اپنی طرح اس دھرتی کے محافظ کی وردی پہنے دیکھنا تھا۔ وہ زندگی جسے وہ بھی جینا چاہتے تھے ۔۔ دوسری طرف موت۔۔۔ لیکن وہ موت جس میں بہت سے لوگوں کی زندگی کی نوید تھی ۔ وہ موت جس میں بہت سے گھروں کی خوشیاں باقی رہنی تھیں ۔ وہ موت جس میں شاید مناہل جیسی کئی بیٹیوں کے بابا کی زندگی چھپی تھی ۔ وہ موت جسے شہادت کہا جاتا ہے ۔ شہادت جس کی تمنا اس دھرتی کا ہر سپاہی کرتا ہے ۔ لمحوں کی بات تھی ۔ فیصلہ ہو چکا تھا ۔ زندگی یا موت ایک کو چنا جا چکا تھا ۔۔ عمر ایجیکٹ ۔ عمر ایجیکٹ ۔ اسد نے فلائیٹ لیفٹیننٹ عمر کو ہدایت تو دی لیکن خود اس کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ جہاز نیچے موجود بازار پر نہ گرنے پائے ۔ سر نیچے بازار ہے۔ عمر کے جملے کا مطلب سکاڈرن لیڈر اسد اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔ وہ خالی میدان ہے میں جہاز کا رخ اس کی طرف کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اسد کی آواز میں ٹھہراؤ تھا ۔۔ چند ساعتوں کی بات تھی زندگی موت کی سرحد پار کرنے جا رہی تھی ۔ پاک فضاؤں کے دونوں محافظ جانتے تھے کہ اب ایجیکٹ نہ کیا تو بہت دیر ہو جائے گی لیکن اپنی زندگی اپنے پیارے اپنی بوڑھی ماں معصوم بچے کوئی بھی تو یاد نہیں تھا ۔ کچھ یاد تھا تو صرف یہ کہ جہاز بازار پہ نہ گرنے پائے ۔ کسی کا بیٹا ، باپ ، ماں ، بہن ، بھائی کوئی پیارا ان سے نہ چھنے ۔ دونوں کی زبان پر کلمہ جاری تھا ۔ آنکھوں کی چمک بڑھ چکی تھی۔ وہ جانتے تھے اگلے ہی لمحے کیا ہونے والا ہے ۔ لیکن ان کی جرأت موت کو بھی حیران کئے دے رہی تھی ۔ چند سیکنڈ ۔ صرف چند سیکنڈ ۔۔ بابا پرامس کریں کل آئیں گے میرے سکول ۔۔ بھائی کل شاپنگ کے لئے جانا ہے ۔۔ آج کب آئیں گے آپ ۔ بیٹا بہو کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا آج ۔۔ بابا میرے لئے پلین لے کر آنا ۔۔ ماں میں وقت پر آجاؤں گا آج ۔ واپس آ کر تم سے مٹھائی کھائیں گے ۔ ۔۔۔۔ جہاز کا رخ خالی میدان کی طرف ہو چکا تھا ۔۔ چند سیکنڈز اور ۔۔ زندگی موت سے جا ملی زندہ جاوید ہونے کے لئے ۔ زمین سے فاصلہ بہت کم رہ جانے کی وجہ سے دونوں ہواباز ایجیکٹ نہ کر سکے لیکن اپنی زندگی کے چراغ گل کر کے بہت سی زندگیوں میں روشنی بھر گئے ۔ بازار میں گل خان کا ٹیپ ریکاڈر آج بھی بج رہا تھا۔

 

چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم

رسول پاک ﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہو گا

علی تمہاری شہادت پہ جھومتے ہوں گے

حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہو گا

تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں

یہ تحریر 34مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP