متفرقات

سرسبز پاکستان اور ایف ڈبلیو او کا کردار 

 دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی سنگین ترین مسئلہ بن چکا ہے کیو نکہ اس کے اثرات براہ راست ہمارے قدرتی ماحول کو متاثر کررہے ہیں۔دنیا جس رفتار سے ترقی کررہی ہے، موحولیاتی تبدیلیاں بھی اسی رفتار سے جنم لے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے دنیا بھر میں ان تبدیلیوں کی وجوہات اور اثرات کا جائزہ لے کر انہیں ختم یا کم سے کم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان میں بھی اس پر کافی کام ہورہا ہے اور اس سلسلے میں حکومتی اور نجی ادارے انتہائی سرگرم ہیں۔وزیر اعظم  جناب عمران خان کے بلین ٹری سونامی اور گرین پاکستان ویژن اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔وزیر اعظم پاکستان نے بطور وزیر اعظم حلف اٹھا نے کی تقریب میں اپنے خطاب سے ہی اس عہد کا اعادہ کیا تھا کہ ان شا ء اللہ ہم ملک کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک کریں گے اور ملک کے کونے کونے کو سرسبز وشاداب بنا ئیں گے۔



گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس نے پاکستان کو شدید موسمیاتی تبدیلی والے ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر رکھا ہے۔نامساعد موسمی حالات سے جہاں ہمارے ملک کے بعض حصوں کو خشک سالی کا سامنا ہے وہاں کچھ دیگر حصوں میں شدید سیلاب کی نوعیت ہے۔کراچی میں گرمی کی شدید لہروں اوراندرونِ شہر سیلاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے برفانی تودوںکا مسلسل جھیلوں میںتبدیل ہونا، مکران کے ساحلی علاقوں اور اندرون سندھ میں جاری قحط اور گلگت  بلتستان میں گلیشیئرز کا مسلسل پگھلائو اس کے مضر اثرا ت ہیں۔پاکستانی آب وہوا میں  یہ نمایاں تبدیلی اب ماحولیاتی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے۔
 حال ہی میں پاکستان نے کاربن کے اثرات میں کمی کے لئے نمایاں کوششیں کی ہیں جن میں پولی تھین بیگز پر پابندی عائد کرنے کے لئے نئے وفاقی قانون کا اجراء اور دیگر اہم سرسبز منصوبوں کا آغازجیسا کہ10ارب درخت لگانے کا پروگرام، سرسبز وشاداب پاکستان مہم کاآغازاور ماحولیاتی نظام کی بحالی کے فنڈوغیرہ شامل ہیں۔ 
پاکستان کاصرف 5.1فیصدرقبہ جنگلات پر محیط ہے جو کہ اس خطے میں سب سے کم ہونے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی کم سے کم تجویز کردہ سطح سے 12فیصد کم ہے۔تباہ ہوتے جنگلات کی بحالی اور از سر نو آغاز جیسے اقدامات جیسا کہ 10ارب درخت لگانے کا پروگرام، مستقبل قریب میں پاکستان میں جنگلات کی بحالی اوراضافے کا خاطر خواہ باعث بنے گا۔  
 ملک وقوم کی خدمت کے جذبے سے سرشارپاکستان آرمی نے ملکی ضروریات پر ہمیشہ لبیک کہا ہے۔ قومی ترقیاتی منصوبے ہوں یا قدرتی آفات کے نتیجے میں تباہی کے بعد بچائو،بحالی، بازیابی یا تعمیر نو، حب الوطنی سے سرشار فوج نے بھرپور ردعمل کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو قوم کی نظر میں ایک فلاحی تنظیم کے طور پرمنوایاہے ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیر اعظم کے اس ویژن کو بھرپور پذیرائی بخشی اور پاکستان آرمی نے اس سرسبز وشاداب پاکستان مہم کو کامیابی سے ملک بھر میں روشناس کرایا ۔پاکستان میں جنگلات کے رقبے کو بڑھانے کی اہمیت کے پیشِ نظر پاک فوج نے 2018 میں ''سرسبز و شاداب پاکستان''کے نام سے اپنی الگ مہم کاآغاز کیا۔ تب سے فوج نے ملک کے طول وعرض میں وسیع پیمانے پر شجرکاری کی ہے۔''سرسبز و شاداب پاکستان '' پروگرام کی اس مہم کا پاک آرمی میں ہر سطح پر انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس شجر کاری مہم میںافسران اورجوانوں سمیت ان کے خاندانوں، بچوںاور سویلین عملے نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اوراس ملکی کاوش میں لاکھوں درخت لگائے۔
پاک فوج کا لازم حصہ ہونے کے ناتے، ایف ڈبلیو او نے بھی 2018 سے'سرسبز و شاداب پاکستان' مہم میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف کے حکم پر ایف ڈبلیو او نے انجنیئر ان چیف کے زیر سرپرستی اس کام کا بیڑا اٹھایا اور موٹرویز پر کامیابی سے اس کام کو سرانجام دیا۔سکولوں میں نہ صرف اپنے بچوں اور نوجوانوں کو اسلام آباد کے قریب مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں زیتون اور پائن کے پودے لگانے کی ترغیب دی بلکہ لاہور اسلام آباد موٹر وے کے دونوں اطراف ایک بڑی شجرکاری مہم بھی چلائی۔
اس سال ایف ڈبلیو او نے لاہور۔اسلام آباد ، سوات،کراچی۔حیدرآباد اور سیالکوٹ موٹر ویز کے لئے اڑھائی سال کاجامع شجر کاری کا منصوبہ ترتیب دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں یہ شاہراہیںجدت اوراعلیٰ معیار کی مثال ہیں وہاں یہ اپنے مضافات کے قدرتی جمالیاتی حسن سے بھی مالا مال ہیں۔ان کی تعمیر کے دوران ماحولیاتی پہلو کو بھی خاصی اہمیت دی گئی اور وقت کے ساتھ ساتھ موحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے اور ان کے مضر  اثرات کو ختم یا کم کرنے کے عملی اقدامات بھی کئے گئے۔ یہ منصوبہ مقامی درختوں کی افزائش اور ابتدائی تین سالوں تک ان کے تحفظ اور پرورش کی تکمیل پر مبنی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد، اِن شاء اللہ ایف ڈبلیو او موٹرویز پر لگ بھگ دس لاکھ اضافی درخت موجود ہوں گے۔گزشتہ کچھ برس میں ایف ڈبلیو او نے فراخدلانہ طور پر مختلف موٹرویز پر شجر کاری مہم میں حصہ لیا ہے۔ ایف ڈبلیو او نہ صرف نئے درخت لگائے گی بلکہ جنگلات کی دیکھ بھال اور ان کو نقصان پہنچانے کی حوصلہ شکنی بھی کرے گی۔ ایف ڈبلیو او اپنے نعرے''استحکام کو برقرار رکھنا'' کے تحت سرسبز پاکستان کو آئندہ نسلوں کے لئے نہ صرف زندگی اور صحت کی علامت سمجھتا ہے بلکہ وطن عزیزکو ترقی یافتہ پاکستان سے بھی عبارت کرتا ہے۔
 ماحول کی بہتری اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو ایف ڈبلیو او نے کبھی نظرانداز نہیں کیا۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکموں اور اداروں سے مشاورت کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کی رائے کو بھی مقدم رکھا گیا ہے۔ یقینا اس باغبانی و شجرکاری مہم سے ماحول پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اورموٹرویزکے جمالیاتی حسن میںمزید اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی فصلوں اور پانی کی زیر زمین گرتی سطح کے اثرات بھی کم ہوجائیں گے۔ 
حکومت پاکستان، پاک فوج اور پوری قوم کی کوششوں کے نمایاں مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں کیونکہ ڈیڈ لائن سے دس سال قبل ہی پاکستانSustainable Development Goal نمبر 13 حاصل کر چکا ہے ۔ یہی وہ اصل تبدیلی ہے جسے ہم اپنے پیارے ملک و ملت میں کامیابی سے روشناس کرا سکتے ہیں۔
آئیے ہم سب اس عزم کا اعادہ کریں کہ تعمیر وطن کے دوران خدمت اور جدت کے اصولوں کوہمیشہ مقدم رکھیں گے اور یونہی اس چمن کو سنوارتے رہیںگے۔ آئیے ہم سب مزید بڑے مقاصد کے حصول کی طرف کام کریں اور صحیح معنوں میں پاکستان کو صاف، ستھرا اورسر سبز وشاداب بنائیں۔ ||

یہ تحریر 82مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP