ہمارے غازی وشہداء

سرزمینِ شہدا 

ٹانک سے تعلق رکھنے والے چند شہداء کاتذکرہ
یوں تو وطن عزیز کا ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں کی مٹی نے شہیدوں کو اپنے اندر سمویا نہ ہو مگر میں ذکر کروں گا پاکستان اور خیبر پختونخوا کے پسماندہ ترین علاقے ٹانک کا جہاں کے متعدد سپوتوں نے مادرِ وطن کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور علاقے کا سر فخر سے بلند کیا۔ ٹانک جغرافیائی لحاظ سے کچھ ایسا ہے کہ مغرب کی طرف جنوبی وزیرستان، شمال اور مشرق کی طرف لکی مروت اور بنوں جبکہ جنوب میں ڈیرہ اسماعیل خان واقع ہیں۔ سرزمین ٹانک سے تعلق رکھنے والے افواج پاکستان کے آفیسرز اور جوانوں نے دفاعِ وطن میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے جن میں سے چند کا ذکرذیل میں درج ہے۔
کیپٹن محمد اشفاق شہید
 کیپٹن اشفاق شہید1986 کو ٹانک میں پیدا ہوئے۔ ایک بھائی اور ایک بہن میں سب سے بڑے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کیڈٹ کالج رزمک میں حاصل کی اور ایف ایس سی کے بعد پاکستان ایئرفورس اور پاکستان آرمی میں اپلائی کیا۔ خوش قسمتی سے دونوں سے کال لیٹر آئے مگر آپ نے بری فوج کا حصہ بننا پسند کیا۔ 2007 میں پی ایم اے جوائن کیا اور 119 لانگ کورس کا حصہ بنے۔ دو سالہ پی ایم اے کی کڑی تربیت کے بعد آپ 19 ایف ایف میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ شامل ہوئے اور کشمیر کے محاذ پر یونٹ کو جوائن کیا۔ بعدازاں یونٹ کی پوسٹنگ گلگت ہوگئی۔ یہ چلاس کی ایک سرد رات تھی ماہ رمضان کا آخری عشرہ اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا۔وہحسب معمول رات گئے پیٹرولنگ پر تھے جب چلاس میں پاک فوج پر دہشت گردوں کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی۔ آپ اور آپکی ٹیم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وطن کے دشمنوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا مگر اس دوران آپ خود بھی فائرنگ کی زد میں آئے اور 27رمضان المبارک کی بابرکت رات اگست 2013  میں شہید ہوگئے جب کہ اگلے ماہ آپکی شادی طے تھی۔ کیپٹن اشفاق شہید ٹانک کی مٹی کے تادم تحریر پہلے نوجوان آفیسر ہیں۔ آپ کی شہادت پر سارا شہر سوگوار تھا۔ بعد از شہادت حکومت خیبر پختونخوا نے ٹریفک پوائنٹ چوک اور ڈگری کالج ٹانک کو کیپٹن اشفاق شہید کے نام سے منسوب کیا ہے۔
 کیپٹن اشفاق شہید کے والد محترم عبدالرشید صاحب نے اپنے جوان بیٹے کی شہادت پر رب کا شکر ادا کرتے ہوئے نمناک انکھوں سے کہا کہ وہ رب متعال کی بارگاہ میں روزانہ شکر ادا کرتے ہیں جس نے ان کے پیارے بیٹے کی بدولت انہیں عزت و تکریم بخشی۔ انہیں اس بات پر بہت فخر ہے کہ ان کا بیٹا کسی غلط راستے پر نہیں گیا بلکہ ایک عظیم شہادت کی سعادت حاصل کر گیا۔ 
کیپٹن اشفاق شہید کے والد کہتے ہیں کہ کیپٹن اشفاق شہید میرا سب سے بڑا بیٹا تھاان کی ایک بہن اور ایک بھائی ہیں۔ اشفاق بچپن ہی سے انتہائی نفیس اورتابعدار بیٹے تھے۔ عاجزی اور انکساری سے اللہ پاک نے انہیں خصوصی طور پر نوازا تھا۔ ہمیشہ ماں کے قدم چوم کر گھر سے نکلتے اور گھر میں ہمیشہ ہنستے اور مسکراتے داخل ہوتے۔ 
محلے میں اشفاق سے ہرکوئی محبت کرتا کیونکہ انہیں ادب کا قرینہ آتا تھا۔ غضب کی خود اعتمادی اسے نوازی گئی تھی اورذہانت میں اپنی کلاس اور محلے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ہمیشہ کلاس میں اول آتے اور کمزور دوستوں کی تعلیم میں مدد بھی کرتے۔ دینی علوم میں بھی اشفاق کو اللہ تعالیٰ نے کرامات سے نوازا تھا۔ قرآن مجید ترجمہ و تفسیرکے ساتھ پڑھتے اور نماز پنجگانہ مسجد میں باجماعت ادا کرتے۔ 
کیڈٹ کالج میں داخلے کی خواہش اسے رات دن پڑھنے پر مجبور کرتی اور شب بھر جاگ کر پڑھتے۔
فوج سے دیوانگی کی حد تک لگا ئواشفاق کو کافی بے چین رکھتا اور گھر میں ہمیشہ ٹی وی اور کمپیوٹر پر فوج کی ہی ویڈیوز دیکھتے رہتے۔ جب کیڈٹ کالج میں داخلہ مل گیا تو خوشی سے پھولے نہیں سمائے اور فوراً اﷲ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو گئے۔ وقت گزرتا گیا اور اشفاق اگے بڑھتے گئے اور یوں ایف ایس سی کرنے کے بعد اشفاق آئی ایس ایس بی میں کامیاب ہوئے۔ گاؤں میں جشن کا سماںتھا۔ خیرات و لنگر کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا اور اہل علاقہ جوق در جوق مبارک باد کے لیے آئے۔ اس دن مجھے اپنے بیٹے اشفاق کی قابلیت پر رشک آ رہا تھا اور مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہو رہا تھا۔
ٹریننگ سے یونٹ تک سفر گزر گیا اور اشفاق ترقی کرتا چلا گیا۔ مختلف جنگی محاذوں پر سخت ڈیوٹیاں دینے کے بعد اشفاق کو کیپٹن کے عہدے پر ترقی مل گئی اور ایک مرتبہ پھر مبارک باد دینے کے لیے لوگوں کا تانتا بندھ گیا اور یہ سب اشفاق کی قابلیت اور اس کی علاقہ سے محبت اور ملنساری کا نتیجہ تھا۔
 چھٹی پر آنے کے بعد جب جانے لگے تو اشفاق کے رشتے کی بات طے ہو گئی اور گھر میں خوشی کی انتہا نہ تھی کہ اب اشفاق کے سر پر سہرا سجے گا اور گھر میں ڈھول بجیں گے۔ اشفاق نے چھٹی کے بعد گلگت میں یونٹ کو جوائن کیا۔ اشفاق کے والد نے ایک منٹ رکنے کے بعد ایک لمبی آہ بھری اور روتے ہوئے کہا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے یہ 2013 میں اگست کا مہینہ تھا اور ماہ رمضان کی 27  تاریخ تھی، ہر طرف برکتیں تھیں اور دنیا عید کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ ہم بھی ہر قسم کی تیاریاں کررہے تھے۔ میں گھر کے بچوں کے لیے نئے سوٹ سلوا لایا تھا جس میں کیپٹن اشفاق کے کپڑے بھی تھے کہ جب میرا بیٹا عید پر آئے گا تو نیا جوڑا زیب تن کرے گا۔ گھر میں چہل پہل تھی مگر اسی گھڑی 27 رمضان کو گھر میں اطلاع ملی کہ آپکا بہادر بیٹا کیپٹن اشفاق چلاس میں دہشت گردوں کے ساتھ بہادری سے لڑتے ہوئے پورے ٹانک اور علاقے کا نام روشن کر گیا ہے۔ وہ پل ایسا تھا کہ ہم پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ میرے بڑھاپے کا سہارا، میرا لخت جگر اشفاق شہادت کو گلے لگا کر ہمیں چھوڑ گیاتھا۔
کیپٹن اشفاق کی شہادت کی خبر ملتے ہی علاقہ سوگ میں ڈوب گیا۔ جس بیٹے کی شادی کی تیاریاں گھر میں چل رہی تھیں وہی بیٹا سبز ہلالی پرچم میں لپٹا کفن پہن کر ہمارے گھر میں آ گیا۔عید کی تیاریاں ماند پڑ گئیں علاقہ سوگوار ہو گیا اور جس بیٹے کے ہاتھوں پر مہندی کا رنگ چڑھنا تھا وہ خون میں لت پت ہو گئے۔ میں جانتا تھا کہ میرا بیٹا وہ عظیم کام کر گیا ہے جسکی حسرت میں لوگ اپنی زندگیاں گزار دیتے ہیں۔
فوجی اعزاز کے ساتھ کیپٹن اشفاق شہید کو سپرد خاک کر دیا گیا۔اللہ نے ہمارے قبیلے پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کیں اور میرے بیٹے کوعظیم قربانی کے لیے منتخب کیا۔
آج جب میں گلیوں سے گزرتا ہوں اور میرا تعارف کیپٹن اشفاق شہید کے والد کے طور پر ہوتا ہے تو میں اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کرتا ہوں۔
میں پاکستان آرمی کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ٹانک میں واقع بوائز ڈگری کالج کو کیپٹن اشفاق شہید کے نام سے منسوب کیا۔ جب تک ٹانک کالج کی عمارت قائم ہے تب تک کیپٹن اشفاق شہید کا نام لوگوں کے ذہنوں میں زندہ رہے گا۔ 
سپاہی محمد کامران بھٹنی
 چھ بھائیوں میں سب سے چھوٹا بھائی کامران ٹانک کے نواحی علاقے کڑی مروتی میں حوالدارمبارک شاہ (ر)کے گھر پیدا ہوئے آپ کے تین بڑے بھائی افواج پاکستان میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ گھر میں بچپن سے ہی پاک فوج  میں بھرتی اپنے بھائیوں کو دیکھ کر آپ میں پاک فوج کاحصہ بننے کی خواہش نے انگڑائی لی اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد صرف سولہ سال کی عمر میں ایف سی سائوتھ میں بھرتی ہوئے اور 4ونگ جو کہ جنوبی وزیرستان جیسے دشوار گزار اور شورش زدہ علاقے میں تعینات تھا، کاحصہ بنے۔ 23جون 2021 کو دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ میں بروند کے مقام پر 18 سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا۔
سپاہی محمد کامران بھٹنی کے والد صاحب حوالدار ریٹائر مبارک شاہ کا حوصلہ دیکھنے کے لائق تھا۔ ان کے چہرے سے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ اپنا جوان بیٹا اپنا خون سپرد خاک کر کے آرہے ہیں ان کی آنکھوں میں بے شک آنسو تھے مگر چہرے پر ایک عجیب اطمینان تھا کیونکہ ان کو یقین تھا کہ ان کے بیٹے کی قربانی رائیگاں نہیں گئی بلکہ  وہ اپنے پاک وطن کی خاطر، اپنے وطن کے دفاع کی خاطر، اپنے بچوں کے کل کو محفوظ اور پرامن بنانے کی خاطر اور اس جنت نظیر ارض پاک سے دہشت گردی جیسے ناسور کو ختم کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔ اپنے بیٹے کے بارے میں تاثرات بیان کرتے وقت ان کی آواز بھرائی ہوئی تھی ان کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی چھٹی آتا تھا سب سے پہلے اپنی والدہ کو، پھر مجھے اور باقی گھر والوں کو ملتا تھا۔ اپنی ماں کا بے حد لاڈلا تھا۔ چھٹی پر آنے کے بعد صرف اپنی ماں کے ہاتھ کا بنا  ہوا کھانا ہی کھاتا تھا اور اس کی بوڑھی ماں اپنے جوان بیٹے کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کرتی نظر آتی تھی۔ان کی والدہ کی خواہش تھی کہ بیٹے کی شادی تو بہت دھوم دھام سے کروں گی اس کی بھابیاں اور بہنوں نے تو ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی کہ بابا اب کی بار اس کی شادی کراکر ہی چھوڑیں گے اور انہوں نے باقاعدہ شادی کی شاپنگ بھی شروع کردی تھی۔ کامران شہید اپنے بھائیوں کا بھی لاڈلا تھا چونکہ بھائی بھی پاک فوج میں تھے اس لئے جب کبھی چھٹی پر ایک ساتھ ملنا ہوجاتا تو خوب جمتی اور گھر میں ہلہ گلا لگا رہتا۔ کامران شہید کے قریبی دوستوں کا کہنا تھا کہ کامران بہت ہی ملنسار، خوش اخلاق اور ہنس مکھ جوان تھا۔ گائوں میں سب کے ساتھ ملتا تھا۔ دوران ڈیوٹی گاؤں میں کوئی فوتگی ہوجاتی تھی تو جب بھی چھٹی آتا فاتحہ خوانی اور بیمار پرسی ضرور کرتا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ" آج کسی کا حال پوچھون گا تو کل کوئی میرا حال پوچھے گا۔ ہماری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اور دیکھنا ایک دن تم سب مجھ پر فخر کروگے ۔'' آخری بار جب چھٹی آیا تھا تو کچھ خاموش خاموش سا تھا۔ ہم نے بارہا وجہ پوچھی مگر وہ ٹال دیتا تھا بس زیادہ تر گھر یا مسجد میں ہوتا تھا۔ہمیں کیا پتہ تھا کہ ہم اپنے بھائی جیسے دوست سے آخری بار مل رہے ہیں ۔میرے کانوں میں کامران کے والد کے الفاظ آج بھی گونج رہے ہیں جب کمانڈنگ آفیسر نے انہیں شہید کی وردی،ٹوپی اور پاکستان کا جھنڈا پیش کیا تو شہید کے والد نے پُرجوش لہجے میں کمانڈنگ آفیسر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ''جناب میں بوڑھا ہوں، میں جوانوں جیسے کام تو نہیں کرپاتا مگر یہ یقین دلاتا ہوں کہ اگر وطن عزیز کو اور افواج پاکستان کو میری آج بھی ضرورت ہوئی تو میں حاضر ہوں۔ مجھے فخر ہے اپنے بیٹے کی شہادت پر اگر میرے باقی بیٹے بھی وطن عزیز پر قربان ہوجائیں تو مجھے اور بھی فخر ہوگا۔'' اور میں اس غمزدہ باپ کے حوصلے کو سلام کئے بنا نہ رہ سکا۔
سپاہی اسد عباس بلوچ شہید
 اسد عباس ضلع ٹانک کے گائوں گرہ بلوچ میں ملک اسلم بلوچ کے گھر پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم گائوں کے سکول سے حاصل کی ۔بچپن ہی سے پاک فوج کو اپنا آئیڈیل مانتے ہوئے محض سترہ سال کی عمر میں بھرتی ہوئے۔ پنجاب رجمنٹ سینٹر میں کڑی تربیت سے گزرنے کے بعد 72 پنجاب کا حصہ بنے اور سیاچن جیسے سخت اور کٹھن محاذ پر تعیناتی ہوئی جِسے نوجوان سپاہی اسد عباس نے چیلنج سمجھ کے قبول کیا اور اگلے مورچوں پر ڈیوٹی دیتے رہے جہاں منفی چالیس ڈگری کی سردی اور آکسیجن کی کمی جیسی مشکلات کاڈٹ کر مقابلہ کیا۔ سیاچن کے مشکل ترین جنگی محاذ پر اٹھارہ ہزار فٹ کی بلندی سے برفانی تودے کے گرنے سے آپ کے چار ساتھی شہید ہوگئے تھے مگر آپ غازی رہے اور کئی ماہ بعد جب چھٹی آئے تو کسی کے وہم وگمان میں بھی آنے والے حالات کا اندازہ نہیں تھا اور قدرت کو اس نوجوان سے کچھ اور ہی مقصود تھا۔چھٹی ملتے ہی گھر واپسی پر جوانوں کو لانے والی بس کو بابو سر کے مقام پر حادثہ پیش آیا اور 2019 کو محض انیس سال کی عمر میں سپاہی اسد عباس سمیت پاک فوج کے 25 جوان شہید ہوئے۔ سپاہی اسد عباس ٹانک شہر کے کم عمر ترین شہیدوں میں سے ایک ہیں۔ 
 سپاہی اسد عباس شہید کی والدہ کا کہنا تھا کہ ا نہیں اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے۔ شہید اسد عباس بلوچ نے اپنے والدین اور سارے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ شہید اسد عباس کے والد 2013میں عین جوانی میں ہی ایکسڈنٹ میں وفات پا گئے تھے۔ اپنے شوہر کی موت کے بعد انہوں نے اپنی اولاد کی بہترین طریقے سے پرورش کی۔ ان کے 6بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں۔ شہید اسد عباس اپنے بہن بھائیوں میں8 ویں نمبر پر تھے اور سب سے لاڈلے تھے۔ اسد عباس کے بڑے بھائی سلیم بلوچ بھی ایف سی میں ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔ شہید اسد عباس کی والدہ  بتاتی ہیں کہ شہید اسد کو بچپن سے ہی پاکستان آرمی میں جانے کا شوق تھا۔ وہ روزانہ اٹھتے بیٹھتے فوج میں ہی بھرتی ہونے کا راگ الاپتے رہتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے دوڑ کے ساتھ ساتھ باقی ورزشیں بھی شروع کر دی تھیں۔ اسد عباس کردار میں بھی بے مثال تھے۔ سارا گائوں اسد عباس کے اخلاق اور گفتگو سے متاثر تھا۔ انتہائی کم گو اور سلجھے ہوئے اخلاق کے مالک تھے۔ طبیعت میں سنجیدگی اسد عباس کو اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی۔ وہ بہت کم دوست رکھتے تھے۔ کبھی غیر اخلاقی گفتگو نہیں کرتے تھے۔ اسد عباس کو اللہ پاک نے حُسن سے بھی نوازا تھا۔ قد کاٹھ بھی اچھا دیا تھا۔ اسد عباس انتہائی دلیر اور بہادر تھے۔ کبھی کسی چیز سے خائف نہیں ہوتے تھے۔ ویسے بھی بلوچوں کو بہادری ورثے میں ملی ہوتی ہے۔ سکول کے زمانے سے ہی اسد عباس اپنے دوستوں سے فقط یہی کہتے تھے کہ وہ آرمی میں بھرتی ہو کر اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی حفاظت کرے گا اور اسی وردی میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو گا۔ یہ خواہش اسد عباس کوبہت بے چین رکھتی تھی اور پھر یوں ہوا کہ وہ آٹھویں پاس کرنے کے فوراً  بعد 2018 میں فوج میں بھرتی ہو گئے۔ جب اسد عباس ٹیسٹ دینے کے لیے وانا جنوبی وزیرستان جا رہا تھا تو وہ میرے پاس آیا اور میرے قدموں پر گر پڑا اور میرے ہاتھ چومتے ہوئے کہنے لگاکہ امی دعا کرو میرا آج فوج میں ٹیسٹ ہے اور میں بھرتی ہو جائوں۔ وہ اس دن بڑا خوش تھا جب وہ ٹیسٹ دینے کے بعد واپس گھر آیا تو اس نے گھر میں داخل ہوتے ہی کہا کہ وہ دوڑ میں پہلے نمبر پر آیا ہے۔ وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ اس کی خوشی دیدنی تھی۔ مجھے کہنے لگا امی بس دعا کرو میں بھرتی ہو جاؤں۔ جب اس کو کال لیٹر آیا تو اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور ہر ایک کو دوڑ دوڑ کر اطلاع دینے لگ گیا۔ کچھ دنوں بعد وہ سلیکٹ ہو کر ٹریننگ کرنے چلا گیا۔ میں نے اسے نئے کپڑے سلوا کر دیئے۔ جیسے تیسے ٹریننگ ختم ہوئی تو اس نے چھٹی پر آ کر سبھی کہانیاں سنائیں کہ ٹریننگ کتنی سخت ہوتی ہے۔ بہر حال وہ چھٹی گزارنے کے فورا ًبعد سیاچن پر ڈیوٹی دینے چلا گیا ۔جہاں 9 مہینے تک اس سے کوئی رابطہ نہ ہو سکا۔ 9 مہینوں کے بعد اچانک اسد عباس کی کال آئی اور محبت بھری آواز میں بتایا کہ وہ کل گھر آ رہا ہے۔ سبھی گھر والے بہت خوش تھے۔ بھتیجیوں کے لیے شاپنگ کر کے سامان لیا اور کہا کہ وہ سب کے لیے گڑیاں اور کپڑے لا رہا ہے اور انشااللہ دو دن بعد پہنچے گا۔ جب دودن بعد رابطہ نہ ہوا تو پریشانی لا حق ہو گئی اور اچانک اسد عباس کی شہادت کی خبر آ گئی۔ میرے پیروں سے زمین نکل گئی۔ سارے ضلع اور گائوں میں اسد عباس کی شہادت کی خبر پھیل گئی اور پھر 3 دن بعد شہید اسد عباس کی میت کو گھر لایا گیا۔ اس کی شہادت پر دلی خوشی تھی کہ اللہ نے ہماری قربانی قبول کر لی۔ میرے بیٹے کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ مجھے میرے لخت جگر شہید اسد عباس بلوچ کی شہادت پر فخر ہے اور میں اپنے دوسرے بیٹے بھی اپنے ملک پر قربان کرنے کو تیار ہوں۔
لانس نائیک علی زر
علی زر ٹانک کے نواحی علاقے منزئی میں حیدر شاہ کے گھر پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم قریبی سکول میں حاصل کی اور بعدازں فرنٹیر کور میں بھرتی ہوئے اور ساتھ وزیرستان سکائوٹ 135 ونگ کا حصہ بنے اور جلد ہی اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے لانس نائیک کے عہدے پر پہنچے اور دوران ڈیوٹی دہشت گردوں کے حملے کو کامیابی سے پسپا کرتے ہوئے جون 2021ء میں شہید ہوگئے۔ آپ نے پسماندگان میں ایک بیوہ، چار بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا آپ کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
لانس نائیک علی زر کے والد محترم نے کہا "میرا علی زر لاکھوں میں ایک تھا۔ اس نے بچپن سے جوانی تک کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا، بہت صابر وشاکر تھا، کبھی بیجا ضد نہیں کی۔ چونکہ ہمارے گائوں میں فرنٹیر کور کا ٹریننگ سنٹر تھا جہاں صبح سویرے جوانوں کے نعرہ تکبیر کی آوازیں سن کر بچے جاگ جاتے تھے اور علی زر جیسے ہی آوازیں سنتا بھاگ کر گھر کے نزدیک قریبی ٹیلے پر چڑھ کر نیچے پاک فوج کے جوانوں کی ٹریننگ دیکھا کرتا تھا اور کافی دیر تک وہیں بیٹھا رہتا۔ جب سکول کا وقت ہوتا تو گھر آجاتا اور سکول جانے کی تیاری میں لگ جاتا۔ اکثر اوقات وہ مجھ سے پوچھا کرتا تھا کہ بابا میں کب بڑاہوں گا تو میں ہنس کے کہتا کہ بیٹا تم اب بھی بڑے ہو مگر اس کی یہی رٹ ہوتی تھی کہ مجھے جلدی بڑا ہونا ہے کیونکہ میں بھی فوجی بننا چاہتاہوں اور ان باقی فوجیوں کی طرح اپنے گائوں میں ٹریننگ کرنا چاہتاہوں اور پھر اللہ کی شان دیکھو کہ دیکھتے ہی دیکھتے علی زر لڑکپن سے جوانی کی منزل تک پہنچ گیا۔ بحیثیت والد میں اس کو ٹیچر بنانا چاہتا تھا مگر اس کی ضد تھی کہ جائوں گا تو فوج میں ورنہ نہیں اور یہ اس کی پہلی اور آخری ضد تھی۔ بہرحال اس کی والدہ اور میں نے اس کو اجازت دیدی چونکہ اس وقت سادہ دور تھا۔ بھرتی کے وقت قدکاٹھ دیکھ کر ہی اندازہ لگ جاتا تھا کہ جوان فٹ ہے اور علی زر بھرتی ہوگیا یقین کریں جس دن وہ بھرتی ہوا، اس رات خوشی سے سویا نہیں۔ اکثر اپنی والدہ کو کہا کرتا تھا کہ اماں جب میں نیچے وہاں ٹریننگ کروں گا توآپ اوپر سے دیکھنا ۔ ٹریننگ اس نے کافی جوش و جذبے سے پوری کی اور ساتھ ہی وزیرستان سکائوٹس کاحصہ بنے اور وانا چلے گئے۔ دوماہ بعد جب چھٹی آئے تو کافی خوش تھے وہ اکثر اپنی پلاٹون کے ساتھیوں کی باتیں سنایا کرتے  اور کہتے کہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ میں گھر سے باہر ہوں بلکہ ہم سب وہاں بھائیوں کی طرح ہیں بالکل گھر جیساماحول ہے اور ہم ماں باپ جوان بیٹے کی خوشی میں خوش ہوجاتے۔ علی زر بچپن سے ہی بہت حساس اور رحمدل تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار اس کو ایک زخمی بلی کہیں باہر سے ملی تھی اور یہ اس کو گھر لے آیا تھا وہ بلی ایک ماہ ہمارے گھر رہی اور اس کی دیکھ بھال کا ذمہ علی زر نے مکمل اپنے سر لے رکھا تھا۔ سکول واپسی پر اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا تھا اس کے زخموں کی مرہم پٹی بھی کرتا تھا اور جب تک وہ بلی صحتیاب ہوکر چلی نہیں گئی تب تک اس کو چین نہیں آیا تھا ۔اس دوران حجرے میں علی زر کے دوست بھی آگئے ان کا کہنا تھا کہ علی زر یاروں کا یار تھا اور دوستی میں جان تک قربان کرنے سے نہیں ڈرتا تھا چھٹی آتا تو تمام دوستوں کا حال احوال ضرور پوچھتا تھا اور اکثر تحفے تحائف ضرور لاتا تھا۔ علی زر شہید کے بھائی کے مطابق علی زر بہت سلجھا ہوا اور صلح جو طبیعت کا مالک تھا۔ بچپن سے جوانی تک گائوں میں کسی سے تلخ گفتگو تک نہیں کی۔ علی زر کے کردار کی گواہی بہت سے لوگوں نے دی گائوں کے لوگوں، اس کے دوستوں اور علی زر کے والدین کو اس کی شہادت پر فخر ہے۔ میں واپسی پر سوچ رہا تھا کہ جب تک اس وطن میں ایسی مائیں، ایسے باپ، ایسے بھائی اور ایسی بہنیں موجود ہیں وطن عزیز کو کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔
سپاہی فتح اللہ شہید 
تقریبا چھبیس سال پہلے 1995 میں ضلع ٹانک کے دور افتادہ، سادہ و پسماندہ علاقے گائوں ابی زر میں عنایت اللہ کے گھرانے میں ایک چاند سے بچے نے آنکھ کھولی، جس کا نام والدین نے فتح اللہ رکھا۔ علاقائی رواج کے مطابق بچے کی پیدائش پر خوب ہوائی فائرنگ کی گئی اور خوشیاں منائی گئیں، چونکہ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی ماں باپ بچے کی شادی اور دلہن کے خواب دیکھنے لگ جاتے ہیں، مہندی کی بھینی بھینی خوشبو اور سہروں کی گنگناہٹ والدین کے کانوں میں سرگوشیاں شروع کر دیتی ہے، ایسے ہی فتح اللہ کے والدین نے بھی اپنے من میں حسرتوں اور خواہشوں کے ان گنت شجر لگا دیئے، انہیں کیا خبر کہ حسرتوں، امیدوں، خواہشوں اور ارمانوں کے اس باغ کو دشمنانِ انسانیت کے عزائم اجاڑ دیںگے۔
ابتدائی تعلیم پڑوسی گائوں گل امام کے گورنمنٹ  ہائی سکول میں حاصل کی اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ملک و قوم کی محبت نے دل میں ایسے ڈیرے ڈالے کہ شوقِ خدمت و اطاعت نے پاک فوج کا حصہ بننے پر مجبور کر دیا۔ پاک فوج میں بھرتی ہونے اور ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد سپاہی فتح اللہ  242 ونگ کا حصہ بنے اور جوانی کو ملک و قوم کے لئے وقف کر دیا۔ 
پردیس کی مشکلات، دشمن کے ناپاک عزائم، فوج کے سخت ترین رولز اور وقت کی بے رحم ساعتیں آپ کے خدمت گار ارادوں کا بال بیکا بھی نہ کر سکیں بلکہ آپ کے ارادوں میں مزید پختگی اور استقامت آتی گئی، سال 2018 میں والدین کے ارمانوں کو عملی جامع پہنانے کی خاطر آپ رشتہِ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ شادی کی چھٹیاں گزارنے کے بعد دوبارہ وطن کی حفاظت کے لیے اپنے فرض کی ادائیگی کی خاطر پاک افغان بارڈر پر تعینات ہوئے اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری کو قبول کیا۔ اسی سال شر پسند عناصر کی بارڈر کراس کرنے کی انفارمیشن پر  (QRF  (Quick Reaction Force  ٹیم کا حصہ بنے اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر شرپسند عناصر کے ساتھ ایک جھڑپ میں جام شہادت نوش کیا۔
سپاہی فتح اللہ شہید بچپن ہی سے بہادری، ہوشیاری، جاں نثاری، لیڈر شپ اور خدمت گاری جیسی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ اپنے تمام بھائیوں میں ماں باپ کے سب سے زیادہ خدمت گزار، اطاعت بردار اور وفا شعار سپوت تھے۔ اپنے والدین کے سب سے لاڈلے اور فرماں بردار بیٹے تھے۔ تمام دوستوں میں اعلی اخلاق و اطوار کے حامل تھے اور بچپن ہی سے دل میں شہادت کے والہانہ جذبات رکھتے تھے۔ یقینا رب کائنات نے جس بندے کو شہادت جیسے مقام پر فائز کرنا ہو بھلا اس کی شخصیت میں کوئی کمی کیسے ہو سکتی ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ سپاہی فتح اللہ شہیدکے ملک و قوم کی خاطر شہادت نے ہمارا اور خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ہمیں فخر ہے جب روز محشر اللہ تبارک شہدا کے والدین کو پکارے گا تو ہمارا نام بھی ہوگا۔ اگر وطن عزیز کو ہمارے خون کی بھی ضرورت ہوئی تو دریغ نہیں کریں گے۔ سپاہی فتح اللہ کے والدین کا کہنا تھا کہ بچپن سے جوانی تک کے سفر میں ہم نے اسے ہمیشہ با ادب اور با اخلاق پایا، لڑنے، جھگڑنے، چیخنے اور چلانے جیسی باتوں سے کوسوں دور تھے۔ ماں باپ اور بڑے بھائیوں کی عزت کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھتے۔ فتح اللہ ایک معتدل طبیعت کے مالک تھے، ہمارے روایتی کھانے ثوبت سے اسے دلی لگائو تھا تا ہم انہوں نے کبھی بھی کسی کھانے میں کوئی نقص نہیں نکالا۔ مہمانوں کی آمد پر وہ خود ثوبت بڑے شوق سے بنایا کرتے تھے۔ تمام گھر والوں کے ساتھ فتح اللہ کا رویہ دوستانہ تھا۔ تمام بھائیوں میں وہ گھر والوں اور بہنوں کو سب سے عزیز تھے۔ والدین اور گھر والوں کی خواہش کو ہمیشہ اپنی خواہشات پر فوقیت دیتے، وہ بچپن ہی سے ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے تھے اور فورس میں بھرتی ہونے کا بے حد شوق رکھتے تھے۔ 
فتح اللہ نے شادی اپنے والدین کی پسند سے کی اور اپنی زوجہ سے بے حد پیار کرتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ اللہ نے اگر انہیں بیٹا دیا تو اس کو پاک فوج میں آفیسر بھرتی کروائیں گے تا ہم قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 
فتح اللہ کے دوست احباب کا کہنا تھا کہ فتح اللہ بہت ہی اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ لیڈر شپ جیسی صلاحیتوں کے مالک فتح اللہ کو رب کائنات نے دیگر کئی خوبیوں سے نواز رکھا تھا، مہمان نوازی، بہادری، خوش اخلاقی، رحم دلی اور سخاوت جیسی خوبیوں کے مالک فتح اللہ دوستوں میں گویا ستاروں میں چاند کی مانند نمایاں تھے۔ علاقے کے سماجی، فلاحی و اجتماعی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور لاچاروں کی ہمیشہ مددکرتے تھے۔ گائوں میں کبھی کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑا نہیں کیا، فرقہ واریت اور سیاست سے بالاتر ہوکر فتح اللہ ایک خدمت خلق کا جذبہ رکھنے والے انسان تھے۔ ان کی شہادت پر پورا گائوں سوگوار تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہمارا گائوں ایک عظیم شخصیت سے محروم ہوگیا۔ انہی خوبیوں نے انہیں یہ کمال بخشا کہ آپ شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ فتح اللہ شہید کے قریبی دوست کا کہنا تھا کہ وہ نہایت اعلیٰ اخلاق اور کھلے ذہن کے مالک تھے۔ چھٹی ملتے ہی دوستوں کو فون کرتے اور ضروریات پوچھتے کہ آپ کے لئے کیا لائوں ۔ اللہ تعالیٰ شہید سپاہی فتح اللہ کے درجات بلند فرمائے اور وارثین کو صبر جمیل اور اجر عظیم عطا فرمائے۔  آمین! ||

یہ تحریر 150مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP