یوم دفاع

ستمبر1965 کی جنگ میں شاہینوں کے کارنامے

بھارت نے2016میں فرانس سے36 رافیل طیارے خریدنے کا سودا طے کیا۔ جس میں سے پانچ رافیل طیارے امسال 29 جولائی کو ریاست ہریانہ کے ہوئی اڈے انبالہ پر پہنچ چکے ہیں اور دُنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارتی کرگسوں نے تقریباً ڈیڑھ سال کے بعد شاہینوں کے ہاتھوں، اپنے جھڑے ہوئے پرانے پَر پُرزوں کو دوبارہ نکالنا شروع کردیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار  نے13 اگست کو پریس کانفرنس کے دوران، ایک صحافی کے رافیل سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ''5 رافیل آجائیں یا500، ہمیں اپنی استطاعت پر فخر ہے۔ ہم ہر جارحیت کا بھر پور طریقے سے جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔،،



ایئر مارشل شاہد لطیف (ریٹارڈ)  نے بھی انتہائی بروقت بیان دیا کہ ''رافیل کے مقابلے کے لئے ہماراJF-17 تھنڈر ہی کافی ہے۔ جسے ہم نے امریکن سپیسیفیکشنز (Specificaticons)کے مطابق خود تیار کیا ہے اور اپنی ضرورت کے مطابق ہر شے نصب کردی ہے۔ ہمیں اپنے شاہینوں اور جہازوں پر مکمل بھروسہ ہے کہ جو حشر انہوںنے گزشتہ سال فروری میں MiG-21 اور SU-30 کا کیا تھا، ویسا ہی انجام ان شاء اﷲ رافیل کا بھی کریں گے۔
رقصاں ہوا کے دوش پہ شہباز دیکھئے
تھنڈر کی آسمان میں پرواز دیکھئے
 بھارت کسی بھی قسم کے ہائی ٹیک طیارے خریدے، مگر راشد منہاس (نشانِ حیدر) ایم ایم عالم(ستارئہ جرأت اینڈ بار کے ساتھ) سرفراز رفیقی شہید(ہلالِ جرأت، ستارئہ جرأت)  یونس حسین شہید (ستارئہ جرأت) او رسجاد حیدر (ستارئہ جرأت) جیسے دشمن پر جھپٹنے والے جری شاہین اور دلیرشہبازکہاں سے لائے گا۔
پاک فضائیہ کی اعلیٰ قیادت نے اپنے افسران، ایئر مینوں اور سویلین سٹاف کی پیشہ ورانہ تربیت کو روزِ اول سے ہی انتہائی بلند معیار پر برقرار رکھاہے۔ لہٰذا جب ستمبر سن 65 کی جنگ کا مرحلہ آیا تو دلیری، شجاعت اور جرأت کی وہ وہ درخشاں داستانیں رقم کیں جنہیں ہماری قوم ہمیشہ فخر سے بیان کرتی رہے گی۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں کی حربی معرکہ آرائیاں اور عزم و حوصلہ تاریخ کے افق پر مہرِ منور کی طرح دشمن کی آنکھوں کو خیرہ کرتا رہے گا۔ سرفراز رفیقی شہید، آسمانِ شجاعت کا وہ ماہِ منیر ہے جو18 جولائی1935 کو راجشاہی (سابق مشرقی پاکستان) کی سرخیٔ شفق میںطلوع ہوا۔ لہٰذا اُس کے خیز معصوم ذہن میں آزادی کے بے شمار مناظر نقش ہو چکے تھے۔ سرفراز رفیقی کے والد ایک تعلیم یافتہ شخص تھے اور انشورنس کمپنی میں ملازم تھے جو تقسیم کے بعد موجودہ پاکستان آگئے۔ جب سرفراز رفیقی گورنمنٹ ہائی سکول ملتان میں جماعت نہم کے طالب علم تھے تو فرانس میں ہونے والی سکائوٹ جمبوری میں شرکت کے لئے منتخب ہوئے۔ اس وقت اُن کی عمر صرف14 سال تھی۔17 اگست1947 کو آپ فرانس ہی میں تھے کہ پاکستان کی آزادی کا اعلان ہوگیا۔ تو شدتِ جذبات سے مجبور ہوکر اپنے دیگر تین سکائوٹ ساتھیوں کے ہمراہ گرل گائیڈز کے ہاتھوں کا سِلا ہوا سب ہلالی پرچم فرانس کی سڑکوں پر لہرا دیا۔ ایسے ہی کسی موقع کے لئے انجم خیالی نے کہا تھا   
سنبھال رکھی ہیں دامن کی دھجیاں میںنے
اگست آیا تو پھر جھنڈیاں بنائوں گا
سرفراز رفیقی کو خوشی تھی کہ اب اُن کی واپسی ایک آزاد فضا میں سانس لیتے ہوئے  ملک میں ہوگی۔ آپ میں حب الوطنی اور ملک پر مرمٹنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ 1965 کے آغاز ہی سے پاک بھارت سرحد پر تنائو آنا شروع ہوچکا تھا۔ جس پر پاک فضائیہ کی گہری نظر تھی، تمام شاہین ہمہ وقت تیار اپنے جوہر دکھانے کے لئے بے تاب نظر آتے تھے۔ اُس وقت کے کمانڈر انچیف ایئر چیف مارشل نور خان مرحوم و مغفور فخر سے بیان کرتے ہیں''مجھے اپنے ہوابازوں کو جنگ سے دور رکھنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔'' یہ خوبصورت جملہ اُن کے اپنے جذبات کا بھی عکاّس دکھائی دیتا ہے، یکم ستمبر 1965 میجر جنرل اختر ملک چھمب کے محاذ پر سرحد عبور کرکے جوڑیاں اور اکھنور کی جانب پندرہ میل تک آگے بڑھ چکے تھے۔ پاک فضائیہ کے دو ایف 86 سیبر اور ایک سٹار فائٹرF-104 ممکنہ فضائی حملوں کے پیش نظر فضا میں محوِ پرواز تھے مگر سہہ پہر تک کسی بھی قسم کی فضائی مزاحمت نہ ہوئی تو ایئرمارشل نور خان جن کی بہادری مشہور تھی ،گجرات سے بری فوج کا ایک چھوٹا طیارہ لے کر خود محاذ جنگ پر پہنچ گئے۔ واپسی پر کمانڈر انچیف نے فضائی گشت کا وقت بڑھادیا۔ ایئر مارشل نور خان بخوبی جانتے تھے کہ پاکستان  کی بری فوج جس طرح دشمن سے برسرِ پیکار ہے۔ بھارتی فضائیہ ضرور جنگ میں کودے گی۔ پانچ بج کر بیس منٹ پر بھارتی طیارے فضا میں پہنچ گئے تھے پھر اُس کے بعد آنِ واحد میں پاک فضائیہ کے دونوں سیبر دشمن پر چھپٹے۔ ایک طیارے میں سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی اور دوسرے میں فلائٹ لیفٹیننٹ امتیاز بھٹی تھے۔ یہ عدو کی زبوںحالی تھی کہ دشمن کے جہاز اپنی ہی فوج کو نشانہ بنا رہے تھے۔ بھارتی میجر جنرل جی ایس سندھو اپنی کتاب ''ہسٹری آف انڈین کیولری'' میں رقم طراز ہیں کہ ''بھارتی طیارے اپنی بری فوج کی مدد کے لئے روانہ ہوئے اور اپنی ہی فوج کے ایک یونٹ 20 لانسرز کے ٹینکوں پر حملہ آور ہوگئے جس سے تین ٹینک، اکلوتی ریکوری گاڑی اور اسلحہ فراہم کرنے والی گاڑی کو خود ہی تباہ کردیا۔ زمینی فائر سے ایک بھارتی ویمپائر تباہ ہوا جسے فلائنگ آفیسر پاتھک اُڑا رہا تھا۔'' اسی دوران پاک فضائیہ کے شاہباز میدانِ جنگ  میں پہنچ چکے تھے۔ جیسے ہی رفیقی کی نظر بھارتی طیاروں پر پڑی انہوںنے دو ویمپائر طیاروں کو نشانہ لے کر ڈھیر کردیا۔ تیسرا طیارہ امتیاز بھٹی نے مار گرایا۔ اس طرح بھارت کی اپنی فوج کا نشانہ بننے والے پاتھک کے طیارے کے علاوہ فلائٹ لیفٹیننٹ  اے کے بھگ واگر، فلائٹ لیفٹیننٹ ایم وی جوشی اور فلائٹ لیفیٹننٹ ایس بھرواج اپنے اپنے ویمپائر کے ساتھ وہیں زمیں بوس ہو گئے۔ یکم ستمبر کے اس فضائی حربی معرکے نے بھارتی فضائیہ کے حوصلے پست کردیئے۔ لہٰذا ان چار طیاروں کی تباہی کے باعث بھارت نے 130 ویمپائر لڑاکا طیارے اور 50 سے زائد اوریگن طیاروں کو فوری طور پر اپنی ناکامی پر موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے محاذِ جنگ سے ہٹا لیا۔ اس طرح ایک ہی جھٹکے سے بھارت کی فضائی مدافعت دم توڑ گئی۔ دوسری طرف پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نورخان جو اپنے چھوٹے طیارے میں معائنہ کرنے سرگودھاپہنچے تھے اُن کو اس شاندار کامرانی کی خبردی گئی۔  پاک فضائیہ کی اس کامیابی نے پاک آرمی کے حوصلے آسمان تک بلند کردیئے ۔ بریگیڈیئر امجدچودھری نے پا ک فضائیہ کو اظہارتشکر کے لئے خط لکھا:
''چھمب میں آپ کی پہلی کارگزاری نے ہم پر ثابت کردیا کہ دشمن کی فضائیہ کی طرف سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ اس طرح آپ نے اعلیٰ مثال قائم کی۔''
سرفراز رفیقی تو اتر کے ساتھ دشمن کے خلاف حملوں میں حصہ لے رہے تھے۔ 6ستمبر1965 جس دن صبح سویرے دشمن نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاک فضائیہ نے بھی شام کو غروبِ آفتاب کے وقت دشمن کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ سکواڈرن لیڈر رفیقی کی قیادت میں تین طیاروں کا دستہ سرگودھا سے بھارتی ہوائی اڈے ہلواڑہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوا۔ رفیقی کے ہمراہ نمبر2 فلائٹ لیفٹیننٹ سیسل چودھری اور نمبر3فلائٹ لیفٹیننٹ یونس حسین(پاک فضائیہ کے شہید سابق سربراہ ایئر چیف مارشل مصحف علی میر کے ماموں) تھے۔ یہ دستہ شام کی ڈھلتی ہوئی روشنی میں سرحد عبور کررہا تھا کہ واپس آتے ہوئے ایم ایم عالم نے رابطہ پر فضا میں موجود دشمن کے بے شمار طیاروں کی اطلاع دی۔ مگر شاہین صفت سرفروشوں کی یہ جماعت ہلواڑہ جاپہنچی۔ بھارتی طیارے فضا میں شہد کی مکھیوں کی طرح اُڑ رہے تھے۔ دشمن کے کم از کم دس لڑاکا ہنٹر طیارے ہمارے تین سیبر طیاروں پر ٹوٹ پڑے۔ رفیقی نے اپنے جانبازوں کو پیٹرول کی فالتو ٹینکیاں گرانے کو کہا۔ یونس سے ٹینکیاں فنی خرابی کی وجہ سے نہ گر سکیں۔ جس سے جہاز کی فوری حرکت متاثر ہو رہی تھی۔ رفیقی نے دوہنٹر کودیکھا اور ان کے پیچھے پہنچ کر اُن کے قائد کو نشانہ پر لیا، ہنٹر فضا میں ہی پھٹ گیا۔ یونس اور سیسل بھی اپنے شکار پر لپکے۔ سیسل نے ایک ہنٹر طیارہ مار گرایا اور دوسرا بھاگ گیا۔یونس کو پینترے بدلنے میں بڑی مشکل درپیش آرہی تھی مگر پھر بھی انہوںنے اتنے برے حالات میں ایک طیارے کو مارگرایا۔ اسی اثناء میںدشمن کے ایک طیارے نے عقب سے اُن کی ٹینکیوں کو نشانہ بنا لیا، اس طرح فلائٹ لیفٹیننٹ یونس نے جامِ شہادت نوش کیا۔ رفیقی اس معرکے میں جب عدو سے پنجہ آزماتھے اور دشمن کا ایک طیارہ ان کے ہدف پر آچکا تھا اُنہیں معلوم ہوا کہ اُن کی گنیں جام ہو چکی ہیں مگر رفیقی نے راہِ فرار اختیار کرنے کے بجائے کمانڈ اپنے نمبر2 فلائٹ لیفٹیننٹ سیسل چودھری کو سونپ دی۔ خود سیسل کو عقب سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے ان کے پیچھے چلے گئے۔ جب سیسل دشمن کے جہاز گرا رہے تھے تو دشمن نے رفیقی کے طیارے کو نشانہ بناڈالا اور اس طرح رفیقی نے جامِ شہادت نوش کیا۔ سیسل چودھری بخیریت دشمن کے نرغے سے بچ کر واپس پہنچ گئے۔ سکواڈرن لیڈر رفیقی کی بے مثال جرأت پر حکومتِ پاکستان نے انہیں ہلالِ جرأت اور ستارئہ جرأت سے نوازا۔ فیصل آباد ڈویژن میں اعلیٰ درجے کی177 ایکڑ زرعی زمین اُن کے والدین کو دی گئی۔ جو انہوںنے ایک ٹرسٹ بنا کر پاک فضائیہ کے درجہ چہارم کے ملازم کے نام پر وقف کردی۔
فلائٹ لیفٹیننٹ یونس حسین فضائی حربی معرکوں میں ایک نڈر، دلیر اور جارح پائلٹ کی شہرت رکھتے تھے، آپ نے ایک معرکے میں تنہا دشمن کے چھ ہنٹر طیاروں کا مقابلہ کیا اور اُن میں سے دو کو مارگرایا۔ اس مقابلے میں ان کے اپنے طیارے کو بھی نقصان پہنچا لیکن وہ بحفاظت اپنے بیس پر پہنچنے میں کامیاب رہے۔ چھ ستمبرکا معرکہ جسے ہم اوپر رقم کرچکے ہیں ہلواڑہ ایئر فیلڈ پر حملے کا تھاجہاں پاک فضائیہ کے تین جہاز دشمن کے دس جہازوں سے نبرد آزماتھے آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا،  آپ کی بے مثال بہادری ، پیشہ ورانہ مہارت اور فرائضِ منصبی کی ادائیگی سے لگن کے اعتراف میں آپ کو ستارئہ جرأت سے نوازا گیا۔
بھارتیوں کو اپنے ہوائی بیڑے اور بکتر بند ڈویژن پر بہت گھمنڈ تھا۔ وہ گمان کررہے تھے کہ  ان کے پاس اس وقت کے لحاظ سے طرح طرح کے جدید طیارے موجود ہیں۔ سب سے زیادہ ناز اُنہیں روس کے بنے ہوئے ''مگ21 لڑاکا طیاروں'' پر تھا۔ جنہوں نے کوریا کی جنگ میں امریکی ہوائی بیڑے کے بھی چھکے چھڑا دیئے تھے۔ بھارت کے مقابلے میں پاک فضائیہ کی حیثیت ایک فلائنگ کلب سے زیادہ نہ تھی جس کے پاس فضا میںلڑنے کے لئے پرانی طرز کے سیبر طیارے تھے وہ بھی تعداد کے اعتبار سے بھارت کا ایک چوتھائی حصہ۔ جنگ شروع ہوتے ہی ہر شاہین کو سورة الانفال کی ایک ایک نقل دے دی گئی جس میں ارشادِ ربُّ العزت ہے کہ ''اگر تم میں سے بیس آدمی ثابت قدم رہیں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ایک سو آدمی ہوں گے توایک ہزار کفار پر غالب رہیں۔ بے شک اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔''
پہلی ستمبر کو چھمب جوڑیاں کے محاذ پر بھارت نے اپنے ہوائی بیڑے کا کھل کر مظاہرہ کیا۔ چارمسٹیئر اور دوکینبرا پاک فوج کی پیش قدمی روکنے کے لئے بھیجے۔ ادھر سے صرف دو عقاب مقابلے کے لئے بھیجے گئے۔ چشم فلک اور دونوں طرف سے لڑتی ہوئی زمینی فوجوں نے دیکھا کہ دو سیبر طیارے دشمن کے مقابل، اس طرح ڈٹے کہ چار مسٹیئر طیاروں کو شاہینوں نے تباہ کردیا اور دونوں کینبرا ایک گولی چلائے بغیر دُم دبا کر بھاگ گئے۔ اس معرکے نے ہماری افواج کا حوصلہ افلاک تک بلند کردیا۔ اس لئے جب دو ستمبر کو دشمن نے جوڑیاں بچانے کے لئے جم کر لڑنے کی کوشش کی تو ایم ایم عالم اور دوسرے شاہینوں نے بھارتیوں کو بے انتہا  نقصان پہنچایا۔ تین ستمبر کو دشمن کے چھ جیٹ طیارے چھمب جوڑیاں کے محاذ پر آئے۔ ادھر سے ہمارے دو سٹار فائٹر F-104 پہنچے تو بھارتی بزدلی دکھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔ مگر اُن میں سے ایک کو گھیر کر پسرور میں اُتار لیاگیا۔ یہ لڑاکا  سکواڈرن کے فائٹر کمانڈر سکواڈرن لیڈر برج پال سنگھ سکند تھے۔ سکند کو پانچ ماہ قیدی رکھ کر چھوڑدیاگیا اور وہ بعد میں بھارتی فضائیہ کے ایئر مارشل کے رینک تک پہنچے۔F-104 سٹار فائٹر جس کے آگے سکند نے سرنڈر کیا، اُس کے ہوا باز فلائٹ لیفٹیننٹ حکیم اﷲ تھے، جو تقریباً دو دہائی کے بعد پاک فضائیہ کے سربراہ بنے۔
چھ ستمبر کا دن پاک فضائیہ کے لئے ایک کڑی آزمائش کا دن تھا۔ دونوں ملکوں میں کھلی جنگ شروع ہوچکی تھی۔ لاہورمیں فوج کو پاک فضائیہ کی شدید ضرورت تھی اور وہ وہاں برق رفتاری سے پہنچ گئے۔ اسی شام پاک فضائیہ کی ایک پرواز آدم پور بھیجی گئی جو تین بھارتی طیاروں کو تباہ کر آئی۔ اور ساتھ ہی جام نگر کے ہوائی اڈے پر بمباری شروع کردی گئی۔ جس سے وہ اڈہ ملبے کاڈھیر بن گیا۔ لیکن سکواڈرن لیڈر شبیرعالم صدیقی اور ان کا نیوی گیٹر سکواڈرن لیڈر اسلم قریشی واپس نہیں آسکے۔ اگلے روزB-57 بمبار طیاروں نے آدم پور پر حملہ کیا اور خوب تباہی مچائی۔ بمباروں کی ایک اور پرواز پٹھان کوٹ بھیجی گئی جنہوںنے وہاں کی رہی سہی کسر پوری کردی۔ پہلی پرواز واپس آئی تو اپنے اڈے سے بم لے کر ہلواڑہ چلی گئی۔
انڈین ایئر فورس پہلے ہی روز کے جھٹکے میں بائیس بمبار لڑاکا طیاروں سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی، بزدل بھارتیوں نے پنڈی اورکراچی پر ہوائی حملوں کی کوشش کی مگر کسی بھی فضائی اور فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنانے میں بری طرح ناکام رہے۔ 7 ستمبر کو انڈین ایئر فورس نے مشرقی پاکستان میں ڈھاکا، جیسور اور چاٹ گام پر راکٹ اور بم برسائے لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا جبکہ وہاں پاک فضائیہ کا صرف ایک سکواڈرن تھا، جیسے ہی بھارتی طیارے واپس لوٹے شاہین کلائی کنڈہ کے ہوائی اڈے پر جا کر جھپٹے۔ بھارتی طیارے  بڑی ترتیب  میں لقمۂ تر بننے کے لئے تیار کھڑے تھے۔ عقابوں نے ان تمام طیاروں کو حملہ آور ہو کر نیست و نابود کردیا۔ مگر اُس روز ہمارا ایک فلائنگ آفیسر افضال شہید ہوا اور دشمن کو دو ہنٹراور چودہ کینبرا طیاروں کا بھرپور نقصان اٹھانا پڑا۔ سات ستمبر کو ہی بھارتیوں نے سرگودھا کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا اور بمباری کے لئے اپنے طیاروں کو بار بار بھیجا، اُن میں سے چار مسٹیئر زمینی توپچیوں نے اڑا دیئے اورایک کوF-104سٹار فائٹر نے زمین بوس کردیا۔ اور پانچ سکواڈرن لیڈر ''ایم ایم عالم'' نے صرف ایک منٹ میں گرا کر عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔ اس روز کے بعد سے بھارتیوں نے دن کی روشنی میں سرگودھا پر حملہ کرنے کی کوشش ہی چھوڑ دی۔
پاک فضائیہ نے فاضلکا سیکٹر، چونڈہ سیالکوٹ اور لاہور سیکٹر میں بھی بری فوج کی امداد کے لئے ہوائی جہاز بھیجے جنہوںنے کئی ٹینکوں اور گاڑیوں کو تباہ کردیا۔ مقبوضہ کشمیر کے ہوائی اڈے پر بھی حملے کئے گئے جہاں تین مال بردار جہاز نذرِ آتش کردیئے گئے۔ پہلے دو دنوں میں ہی بھارتیوں کو ساٹھ طیاروں سے محروم کردیاگیا، 8ستمبر کوجب بھارت نے بکتر بندڈویژن سے چونڈہ سیالکوٹ پر حملہ کیا تو اس روز تقریباً بیس پروازیں اس محاذ کے لئے اڑائی گئیں۔ جنہوںنے جانوں کی پروا کئے بغیر درختوں کی بلندیوں تک نیچا اُڑ اُڑ کر بھارتی ٹینک اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا، ورنہ دشمن کے اس لوہے اور آگ کے خطرناک سیلاب کو روکنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ پاک فضائیہ نے نہ صرف چونڈہ اور لاہور کے محاذ وں پر انڈین آرمی کے دستوں پر تباہ کن بمباری کی بلکہ بے باک شاہینوں نے دشمن کے ہوائی اڈوں جودھپور ،آدم پور، انبالہ ، ہلواڑہ، جام نگر اور پٹھان کوٹ کا بھرکس نکال کر رکھ دیا۔ سولہ ستمبر تک بھارتیوں کی حالت یہ ہوگئی کہ دن کے وقت اُس کا کوئی طیارہ نظر نہیں آتا تھا۔ بلکہ شاہینوں کو اپنا شکار تلاش کرنے میں بڑی محنت کرنی پڑتی۔ مثلاً ''ایم ایم عالم'' کو دریائے بیاس سے کافی فاصلے پر جب دوہنٹر نظر آئے تو انہوں نے بھارتی فضائوں میںداخل ہوکر انہیں تباہ کیا۔ امرتسر کے قریب فلائنگ آفیسر یوسف علی خان نے ایک جیٹ مار گرایا۔ انیس ستمبر کو چونڈہ کے محاذ پر جو جیٹ گرایاگیا اُس کے پائلٹ مہادیو کو گرفتار کرلیاگیا۔ اکیس ستمبر کو ایک اور ہواباز 'موہن لال' کے جہاز کو گرا کر اُسے گرفتار کرلیاگیا۔جنگ کے آخر ی  روز کھیم کرن کی فضا میں بھارتی طیارہ تباہ کیاگیا جس کا پائلٹ ہندوستان کے پہلے کمانڈر انچیف کری اپاکا بیٹا تھا، اُس کا پائلٹ جونیئر کری اپا قیدی بنا لیاگیا۔ بائیس اور تئیس ستمبر کی درمیانی رات کو صبح تین بجے جنگ بندی ہوگئی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نور خان کہا کرتے تھے کہ '' بھارت سے جنگ لڑنے کے بعد پاک فضائیہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگئی ہے۔'' المختصر دشمن کے ایک سو دس طیارے تباہ ہوئے۔ جن میں سے35 فضائی معرکوں میں اور پینتالیس کو زمین پر تباہ کیاگیا۔ ان اعداد و شمار میں بھارت کے وہ پچیس طیارے شامل نہیں جو ایک امریکی نامہ نگار کے مطابق انبالہ کے ہوائی اڈے پر تباہ کئے گئے تھے۔ ورنہ اس طرح بھارت کے تباہ شدہ جہازوں کی تعداد ایک صد پینتیس بنتی ہے۔ اس کے علاوہ شاہینوں نے اپنے زورِ بازو پر ایک سو پچاس ٹینک، چھ سو فوجی گاڑیاں اورگولہ بارود سے بھری چارٹرینیں اور سوکے قریب توپیں تباہ کیں۔
سات بھارتی ہوا بازوں کو جنگی قیدی بنایاگیا اور ایک جہاز کو صحیح سلامت اُتار کرقبضے میںلیاگیا۔ جسے سکواڈرن لیڈر برج پال سنگھ اڑارہا تھا اور یہ جہاز اب فیصل میوزیم کراچی کی زینت ہے۔ اس کے مقابلے میں پاک فضائیہ کے چودہ طیارے ضائع ہوئے۔ ان میں سے فضائی معرکوں میں، چار زمینی فائر اور ایک دشمن کی بارود سے بھری گاڑی پر حملہ کرتے ہوئے، اس ریل گاڑی کے بارود پھٹنے سے تباہ ہوگیا۔
اس جنگ کے سینتیس برس بعدجنوری2002 میں ایئرمارشل ارجن سنگھ کو دہلی سرکار نے فضائیہ کا سب سے بڑا منصب یعنی مارشل آف دی ایئر فورس  عطاکیا۔ بھارت سرکار کی اس حد درجہ مہربانی کی وجہ خود بھارتی مبصرین بھی تلاش کرنے سے قاصر رہے۔ کیونکہ 1965 میں انڈین ایئر فورس کے وائس چیف آف ایئر سٹاف ''پی سی لائ'' کے مطابق انڈین ایئر فورس کے اس وقت کے سربراہ  ایئر مارشل ارجن سنگھ اور بھارتی آرمی کی قیادت کے مابین باہمی رابطے کا خطرناک حد تک فقدان تھا۔ ایک اور مغربی مبصر ''فرینک مورس'' نے ستمبر1965 کے آخری ا یّام میںاپنے تبصرے میں کہا تھا کہ ''بھارتی فضائیہ کے سربراہ ارجن سنگھ بھارتی فضائوں اور اپنی ایئر فورس کے تحفظ میں بری طرح ناکام رہا۔''
تمام قوم55واں یومِ دفاع مناتے ہوئے پاکستان کے تمام شہیدوں، غازیوں اور شاہینوں کو خراجِ تحسین اور سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
قافلے برق کے یہ جلو میں لئے
جب اُڑیں تو عدو تھرتھرانے لگے
فتح و نصرت قدم چوم کے خود کہے
رب کی رحمت رہے ان پہ سایہ فگن
میرے شاہین ہیں افتخارِ وطن ||


 

یہ تحریر 92مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP