قومی و بین الاقوامی ایشوز

ستمبر 6 نہ بھولنے والی کہانی

بریگیڈیر( ریٹایرڈ) نصرت جہاں سلیم ‘تمغہ امتیاز ‘کی زبانی

مجھے یاد ہے یہ جنگ کا دوسرا روز تھا۔ ایک انتہائی لمباترنگا فوجی جوان اسٹریچر پر لایا گیا۔ وہ بار بار کچھ بڑبڑا رہا تھا اور افسوس کر رہا تھا کہ ماں سے کیا ہوا وعدہ نہیں پورا کر سکا۔ ماں سے وعدہ کیا تھا کہ ماں گولی سینے پر کھا کر آؤں گا۔ ۔۔ اس کی حالت غیر ہو رہی تھی بلڈپریشر نیچے جا رہا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل محمود الحسن نے اس کی ٹانگ کے اندر والی جگہ سے زخم کھولا تو کوئی گولی نظر نہ آئی بلکہ گولی کا سوراخ پیٹ کی طرف جاتاہوا نظر آیا اور گولی سینے کی طرف جاتی ہوئی زخم سے پتہ چلی اور جب پیٹ بند کر کے سینہ کھولا گیا تو وہ گولی اس شہید کے عین خواہش کے مطابق اپنی ماں سے کئے ہوئے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے سینے میں اسے شہادت کا مرتبہ عطا کر کے بیٹھی تھی۔۔۔ اس دوران میری کیا حالت ہوئی‘ آج جب میں یہ داستان پھر سے لکھ رہی ہوں تو آج بھی میں خون کے آنسو رو رہی ہوں۔ ان آنسوؤں پر میرا کوئی زور نہیں یہ بہتے رہتے ہیں اور جب تک زندہ رہوں گی ان شہیدوں کی داستانیں لکھتے لکھتے سوچتے سوچتے ان پلکوں کو بھگوتی رہوں گی۔

ستمبر کا مہینہ جوں جوں نزدیک آتا ہے میری آنکھیں نم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ میرے دل و دماغ میں چھپے ہوئے وہ جذبات بار بار میری آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چلنے شروع ہو جاتے ہیں۔ میں کیسے بھول جاؤں اُن سچے جذبوں‘ اپنے وطن پر قربان ہونے والے ان شہیدوں کی بے مثال داستانوں کو جنہوں نے اپنی جان کے نذرانے دے کر اس پاک وطن کی حفاظت کی اور آج تک ہم اپنی پیاری آزادمملکت پاکستان میں سربلند کر کے زندہ ہیں۔ ان کی زندگیاں ختم ہوئیں اور ہم آج تک زندہ ہیں کیسے؟ آیئے ہم ان کی سچی کہانیوں کو پڑھ کر شاید کچھ سوچ لیں کہ وہ جو قربانیاں دے گئے ہیں ہم نے اس کا کتنا حق ادا کیا ہے۔ اس وطن عزیز کی حفاظت‘ ترقی اور اسے بنانے سنوارنے میں کتنا رنگ بھرا ہے۔ 6ستمبر1965 کی صبح جب میں اپنی ڈیوٹی پر پہنچی تو فون کی گھنٹی بجی۔ کمانڈنگ آفیسر نے ہمیں یہ خبر دی کہ دشمن نے لاہور بارڈر پر حملہ کر دیا ہے۔دشمن واہگہ بارڈر پر پہنچ چکا ہے۔ مریضوں کو جب وارڈز میں خبر ملی کہ دشمنوں نے حملہ کر دیا ہے تو وہ اپنے بستروں سے اُٹھے‘ اﷲ اکبر کا نعرہ لگایا اور اپنا سامان باندھ کر بغیر آرڈر کے ہی اپنی اپنی یونٹ میں چلے گئے۔ اﷲ اﷲ کیا جذبہ تھا ان جوانوں کا‘ ان کی زبانوں پر یہ الفاظ میں بار بارسن رہی تھی۔ 1947کا بدلہ لیں گے۔۔۔ کفر اور اسلام کی جنگ ہے۔۔۔ ہم نے جانا ہے۔ ہم نے کشمیر کا بدلہ لینا ہے۔ دشمن جو بی آر بی نہر تک پہنچ گیا تھا اور جس کی وائرلیس پر ہمارے جوانوں نے یہ خبر سنی کہ جلدی کرو‘جلدی کرو‘ لاہور صرف دو میل رہ گیا ہے۔۔۔ ہمارے بہادر مٹھی بھر جوانوں نے بی آر بی کو اس طرح کور (Cover)کیا کہ ہمارے ہوائی جہازوں نے شدید بمباری کر کے دشمن کو بی آر بی نہر پار نہ کرنے دی۔اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج پاکستان اتنا مضبوط اور ناقابل تسخیر ہو چکا ہے کہ دشمن سال بھر فوجیں سرحدوں پر کھڑی کر کے حسرت سے سوچتا ہی رہے‘ دیکھتا ہی رہے کہ کاش وہ حملہ کر سکے۔۔۔ لیکن ا لحمدﷲ پاک فوج میں اتنا دم خم ہے کہ وہ دشمن کے ایسے کسی خواب کو کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔ ایک نوجوان جس کی دونوں ٹانگیں شیل لگنے کی وجہ سے کٹ گئی تھیں اور بوٹ اس کے ساتھ لٹک رہے تھے ‘ خون بہہ رہا تھا اور وہ نڈھال ہو رہا تھا۔ لیکن زبان پر یہی الفاظ تھے ’’اﷲ پاکستان کی حفاظت کرنا‘‘ دعا کریں اﷲ ہماری مدد کرے‘ کبھی کبھار آنکھوں سے آنسو اتنے چھلک آتے کہ ماسک کے اندر مجھے کچھ دیکھائی نہ دیتا تھا۔

ایک نوجوان جس کی دونوں ٹانگیں شیل لگنے کی وجہ سے کٹ گئی تھیں اور بوٹ اس کے ساتھ لٹک رہے تھے ‘ خون بہہ رہا تھا اور وہ نڈھال ہو رہا تھا۔ لیکن زبان پر یہی الفاظ تھے ’’اﷲ پاکستان کی حفاظت کرنا‘‘ دعا کریں اﷲ ہماری مدد کرے‘ کبھی کبھار آنکھوں سے آنسو اتنے چھلک آتے کہ ماسک کے اندر مجھے کچھ دیکھائی نہ دیتا تھا۔

مجھے یاد ہے یہ جنگ کا دوسرا روز تھا۔ ایک انتہائی لمباترنگا فوجی جوان اسٹریچر پر لایا گیا۔ وہ بار بار کچھ بڑبڑا رہا تھا اور افسوس کر رہا تھا کہ ماں سے کیا ہوا وعدہ نہیں پورا کر سکا۔ ماں سے وعدہ کیا تھا کہ ماں گولی سینے پر کھا کر آؤں گا۔ ۔۔ اس کی حالت غیر ہو رہی تھی بلڈپریشر نیچے جا رہا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل محمود الحسن نے اس کی ٹانگ کے اندر والی جگہ سے زخم کھولا تو کوئی گولی نظر نہ آئی بلکہ گولی کا سوراخ پیٹ کی طرف جاتاہوا نظر آیا اور گولی سینے کی طرف جاتی ہوئی زخم سے پتہ چلی اور جب پیٹ بند کر کے سینہ کھولا گیا تو وہ گولی اس شہید کے عین خواہش کے مطابق اپنی ماں سے کئے ہوئے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے سینے میں اسے شہادت کا مرتبہ عطا کر کے بیٹھی تھی۔۔۔ اس دوران میری کیا حالت ہوئی‘ آج جب میں یہ داستان پھر سے لکھ رہی ہوں تو آج بھی میں خون کے آنسو رو رہی ہوں۔ ان آنسوؤں پر میرا کوئی زور نہیں یہ بہتے رہتے ہیں اور جب تک زندہ رہوں گی ان شہیدوں کی داستانیں لکھتے لکھتے سوچتے سوچتے ان پلکوں کو بھگوتی رہوں گی۔ دشمن نے تو پوری تیاری سے حملہ کردیا تھا۔ ہمارے فوجی تو ابھی خندقیں کھود رہے تھے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دوپہر تک ہمارے ٹینک بارڈر کی طرف جا رہے تھے۔۔۔لیکن قربان جائیں اپنے ان مٹھی بھر جوانوں پر جنہوں نے خود گہرے زخم کھائے مگر دشمن کی یلغار کو روکے رکھا ۔ مجھے یاد ہے اسی روز پاک فوج کا ایک کپتان آیا زخموں سے چور۔۔۔ کہنے لگا جب میں نے ایک دشمن کو اپنے جوانوں سے یہ کہتے سنا Come on, Lahore is only six miles تو میں نے بھی اسے وائرلیس پر یہ جواب دیا کہ Bloody Six Milesاور کیپٹن نصرت جہاں میں اپنے خون سے Mile Stoneپر یہ لکھ کر آیا ہوں۔ یہاں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی لیکن دشمن کو لاہور میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ یہ وہی بی آر بی ہے جو آج تاریخ کا ایک حصہ بن چکی ہے۔ اس بات کی گواہ ہے کہ دشمن کو اس مقام پر کیسی عبرت ناک شکست ہوئی۔ میں تو اپنے ایک ایک غازی کو آج بھی یاد کرکے حیرت زدہ ہو جاتی ہوں جس کے زخم بہت گہرے ہوتے تھے۔ لیکن ان کا صبر و استقلال‘ ہمت اور جذبہ قابل دید تھا۔ ایک روزجب میں آفیسر وارڈ میں گئی جہاں اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خان ایک قیدی آفیسر کو ملنے آ رہے تھے۔ یہ پائلٹ انڈیا کے کمانڈر انچیف کا بیٹا تھا جو کسی وقت ایک ساتھ کسی محاذ پر تھے۔ دوست کے بیٹے کو از راہ مروت دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے غازیوں پر بھی نگاہ ڈالی۔ شاباش دی ۔ مجھے اس وقت انہیں اپنے کمانڈنٹ کے ساتھ مل کر Receiveکرنا تھا۔ وارڈ کی حالت کا اندازہ لگانے جب میں جلدی جلدی اندر جانے لگی تو دیکھا دو عورتیں کھڑی رو رہی ہیں۔ مجھے آواز دی۔ میں پاس گئی تو کہنے لگیں اندر سے پتہ کریں کہ میجر حبیب تو زخمی ہو کر نہیں آئے۔ میں نے جلدی سے پوچھا کیا نام بتایا۔ کہنے لگیں میجر حبیب۔۔۔ میرے دماغ میں آندھیاں چلنے لگیں۔ ایک رات پہلے میجر حبیب کو جب شدید زخمی حالت میں آپریشن تھیٹر میں لایا گیا تو دماغ پر شیل لگنے کی وجہ سے وہ بہت serious تھے۔ میں نے جلدی جلدی وہیں ٹیبل پر لٹوایا اور انہیں Drip اور پھر خون پمپ کیا۔ کیونکہ ان کی نبض بیٹھ رہی تھی اور سانس اکھڑ رہی تھی۔ آکسیجن دی‘ ساری کوششیں کیں لیکن وہ ٹیبل پر ہی شہید ہو گئے تھے۔ چونکہ میں جلدی میں تھی تو اپنے خیالات کو جھٹک کر انہیں جھوٹی تسلی دیتے ہوئے باہر ہی ٹھہر جانے کو کہا۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ ابھی واپس آ کر بتاتی ہوں۔ کیا بتاتی اور کیسے بتاتی؟ اس جوان بیوہ کو جو یہ خبر سن کر آئی تھی کہ وہ زخمی ہوئے ہیں۔ جنرل موسیٰ کے جانے کے بعد میں باوجود اس کے کہ بے حد مصروف تھی میری آپریشن تھیٹر میں سخت ضرورت تھی‘ ان کے پاس گئی۔ اس کی بڑی بہن کو ایک طرف بلایا اور یہ خبر سنائی۔ مسز حبیب بھی ہماری طرف لپکی اور سمجھ گئی۔ ان دنوں انگیٹھیوں میں کوئلے جلا کر تے تھے۔ ان کی کیری کا ڈھیر وہاں پڑا تھا۔ انہی کوئلے کے ڈھیر میں مسز حبیب نے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر رونا شروع کر دیا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اس کی ایڑیوں سے خون نکلتے دیکھا۔ میں نے اسے تسلی دی کہ ٹھہرو میں اندر جاکر دیکھتی ہوں۔ میں نے جب مارچری میں قدم رکھا تو وہ نظارہ مجھ سے برداشت نہ ہوا۔ تازہ خون ان شہیدوں کے جسموں سے نکل کر کمرے کے فرش پر تہہ جما چکا تھا۔ میں نے جوتے اتارے لیکن میں ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکی۔ یہ بہادر خون آج بھی مجھے بہتا ہوا نظر آتا ہے۔ بار بار پکار کر کہتا ہے کہ اے میری بہادر قوم کے بہادر لوگو! بہادر فوج کے جوانو! اس خون کی لاج رکھنا اور اپنے وطن کے ایک ایک انچ کی اسی طرح جانوں کے نذرانے دے کر حفاظت کرنا۔ جنگ میں زخمیوں کو خون کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور بعض اوقات زندگی بچانے کے لئے 8 ۔10یا12 بوتلیں بھی خون پمپ کر کے لگایا جاتا ہے۔ جونہی جنگ چھڑی تو پاکستانی قوم کے نوجوان‘ طالب علم‘ عورتیں اور فوجی جوان خون دینے کے لئے جوق درجوق پہنچنا شروع ہو گئے۔ ہمارے پاس خون لینے اور پھر بینک میں رکھنے کے اتنے وسائل نہ تھے۔ انہیں سول ہسپتالوں میں بھجوانا شروع کیا۔ اتنے میں ایک لیفٹیننٹ یونیفارم میں ملبوس جلدی جلدی اپنا خون دینے کی ضد کرنے لگا۔ کہنے لگا جب تک آپ میرا خون نہیں لیں گے میں نہیں جاؤں گا۔ اس کی ضد کو دیکھتے ہوئے میجر افتخار ملک (بعد کے لیفٹیننٹ جنرل افتخار ملک) نے اس کا blood لے لیا۔ دوسری شام ایم ۔ آئی ۔ روم میں دیکھنے گئی کہ کہیں زیادہ Serious مریض نہ آیا ہو۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو چہرہ جانا پہچانا لگا۔ میں نے فوراً پہچان لیا۔انہوں نے بھی اپنا تعارف خود ہی کرواتے ہوئے کہا میں لیفٹیننٹ حبیب ہوں۔ کل ہی بلڈ دے کر گیا تھا۔ میں نے فوراً اسے ٹرالی پر ڈالا اور ایک سپاہی کی مدد سے آپریشن تھیٹر میں لے گئی۔ اس کے پیٹ میں برسٹ لگنے سے گہرا زخم آیا تھا۔ اسے بلڈ دیا۔ پھر آپریشن کے لئے تیار کیا۔ آپریشن کیا گیا۔ وارڈ میں جب بھی جانا ہوتا تو اس کے پاس جا کر چند لمحے ٹھہرتی۔ وہ بارڈز کی حالت پوچھتا‘ جنگ کے حالات جاننے کی کوشش کرتا اور دیر تک آہیں بھرتا۔ تنومند آفیسر تھا لیکن دن بدن اس کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ میں دیکھ رہی تھی کہ وہ موت کی وادی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مجھے جب بھی ذرا سی بھی فرصت ملتی میں اس کے پاس ضرور جاتی‘ اسے تسلی دیتی کہ تم ٹھیک ہو جاؤ گے اور پھر انشاء اﷲ جنگ کے میدان میں جاؤ گے۔ ہاں یہ بتانا بھول گئی جب اس کا آپریشن کرنے لگے وہ ہوش میں تھا میں نے ایک لڑکے سے کہا! جاؤ‘ بلڈ بینک میں دیکھو اگر اس کا خون پڑا ہے تو لاؤ ‘اسی کا خون اسے دے دیتے ہیں تو وہ کہنے لگا نہیں کسی اور سپاہی بھائی کو دیں اور پھر ایک روز صبح صبح یہ خبر ملی کہ حبیب شہید ہو گیا ہے اور میں اس روز اس کی موت پر خوب روئی۔ وہ ایک جوان ننھا مجاہد اپنے ارمان پورے نہ کر سکا۔ نہ ماں کا کلیجہ ٹھنڈا ہوا۔ نہ بہنوں نے سر پر سہرا سجایا اور وہ فرشتوں کی مسکراہٹ والا سپاہی مجھے آج بھی کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ کیپٹن نصرت اس قوم کو کوئی نہیں ہرا سکتا۔ میں ان شہیدوں کے آخری الفاظ کس کس ماں کو ڈھونڈ کر بتاؤں۔ کس کس سہاگن کو بتاؤں کہ تمہارا سہاگ کس طرح وطن عزیز پر قربان ہو گیاہے اور یوں میں ستمبر کی اس یادوں کو سمیٹ کر بار بار ہر سوال دہراتی ہوں کہ کوئی تو ماں ‘ کوئی بہن پڑھ کر یہ سکون حاصل کر سکے کہ ان کے جیالوں کی شہادتوں سے پہلے کیا کیا جذبات تھے۔ مجھے وہ نظارہ بھی کبھی نہیں بھولتا ایک زخمی مریض کے آپریشن کے بعد جب اسے وارڈ میں پہنچانے جارہی تھی تو دیکھا کہ ایک بے حد دراز قد حوالدار جس کے ایک بازو کی طرف ڈرپ‘ دوسری طرف خون کی نالی لٹک رہی ہے‘ ناک سے آکسیجن کی نالی بھی لٹک رہی ہے باہر کی طرف بھاگ رہا تھا۔ سٹریچر والے مریض کو چھوڑ کر اس کی طرف دوڑی۔ اس کی رنگت اور سانسیں بتارہی تھیں کہ اس کی کیا حالت ہے۔ اپنے اسسٹنٹ کی مدد سے جب اسے تھاما تو وہ چلایا: ’’جانے دو مجھے‘ میں نے مرناہے۔‘‘ میری ڈیوٹی پیٹرول لانے پر ہے۔ جانے دو۔ جانے دو‘ اور پھر مجھے حسرت سے دیکھ کر کہتا ہے کہ کون ہو تم۔۔۔ مسلمان ہو۔ میں نے کہا الحمدﷲ میں مسلمان ہوں۔ تو کلمہ پڑھو۔ میں نے کلمہ پڑھا تو وہ کہنے لگا پھر کیسی مسلمان ہو۔ کفر اوراسلام کی جنگ ہو رہی ہے اور تم مجھے روک رہی ہو اور پھر وہ نڈھال ہوگیا اسے بچانے کی میں نے سرتوڑ کوشش کی‘ آکسیجن لگائی۔۔۔ منہ سے سانس دیا۔ ہارٹ پمپ کیا لیکن وہ مادرِ وطن پر قربان ہوگیا۔ ان آخری لمحات میں نہ اسے ماں یاد آئی نہ بہن ۔ بس پاکستان کی حفاظت کی التماس کرتا وہ چلا گیا اور منظر دیکھ کر میری آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ جنگ ختم ہوئی‘ شاید میری خدمات سچے جذبے سے سرشار تھیں۔ وہ میرے اﷲ اور میرے وطن کے کرتا دھرتا لوگوں کے دلوں پر اثر کر گئیں جنہوں نے مجھے دن رات کی بھوکی پیاسی دیکھ کر اپنے فرض کو نبھاتے ہوئے دیکھا تھا محسوس کیا اور مجھے میری خدمتوں کے صلے میں ’’تمغۂ قائداعظم‘‘ سے نوازا۔ میں پاکستانی فوج کی پہلی خاتون ہوں جسے یہ اعزاز حاصل ہوا۔جب ریڈیو پر یہ خبر آئی اور اخباروں میں میری تصویریں چھپیں تو ایک سپاہی (جو ہمارے زیرِ علاج رہا) دوڑا دوڑا اپنے کمانڈنگ آفیسر کے پاس گیا اور کہا کہ یہ دیکھیں یہ میری باجی ہے‘ انہیں تمغہ ملا ہے۔ سر! میں نے انہیں مبارکباد دینے جانا ہے مجھے چھٹی چاہئے۔ اس کے کمانڈنگ آفیسر نے مجھے خط لکھ کر مبارکباد دی اورپوچھا کہ کیا واقعی میں اس کی بہن ہوں؟ میں نے جواب دیا کہ میں پورے پاکستان کے سپاہیوں کی بہن ہوں اور مجھے اسے اپنا بھائی کہتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے۔ پھر وہ آیا‘ مبارکباد کا ہار میرے گلے میں ڈالا۔ آپ یقین کریں اس کا اخلاص آج بھی مجھے یاد ہے ۔ جوان بوڑھے بچے سب اپنی اپنی بساط کے مطابق چیزیں پہنچا رہے تھے مجھے وہ بوڑھا بھکاری بھی یاد ہے جس نے اپنے مجاہد سپاہیوں کے لئے سگریٹ اور صابن کی ڈبی لا کر ہمیں پکڑائی تو میری اور کرنل ممتاز کی آنکھوں میں آنسو تھے ہم آپریشن تھیٹر والے کام کی زیادتی کی وجہ سے نہ کھانا کھانے جا سکتے تھے نہ ہی کوئی لا کر دے سکتا تھا۔ تھوڑا سا فروٹ لے کر آتی اور باقی ساتھیوں کو بھی تھوڑا تھوڑا بانٹتی اورتسلی دلاتی تاکہ وہ تھوڑی سی طاقت پا کر تازہ دم ہوجائیں۔کیا دن تھے کیا جذبے تھے۔ کچھ ہوش نہ تھا۔ تحفوں کے حوالے سے مجھے ایک سکھ پائلٹ کا قصہ یاد آگیا ایک روز آپریشن تھیٹر میں سکھ پائلٹ لایاگیا۔ شیل لگنے سے اس کا خون بہہ رہاتھا۔ جب اسے Tableپر لٹایا اور بے ہوش کرنے کے بعد اس کے زخم کو صاف کیا تو خون کا فوراہ نکلا جس نے ہماری Tableکی Lightکو بھی داغدار کیا یہ ایک شیل کا ٹکڑا تھا جو صفائی کرتے ہوئے باہر نکل آیا اس کے زخم پر فوراً ہم نے پیک رکھا تو دیکھا کہ اس کی بڑی نس کٹ چکی ہے۔اسے سینا نہایت ضروری تھا وگرنہ اس طرح اس کی زندگی خطرے میں تھی۔ اسے مسلسل خون دیاجارہا تھا۔ جنرل صاحب اس کی نس کو بار بار سینے کی کوشش کر رہے تھے ہر بار ناکامی ہو رہی تھی جب کافی وقت ضائع ہو چکا تو کہنے لگے اسے پیک کر کے چھوڑ دیتے ہیں میں نے کہا آخری بار کوشش کرلیں اور میں نے اپنے رب سے دُعا کی یا الہٰی کامیابی دے اور میں نے آیت الکرسی پڑھ کر جلدی جلدی پھونکی۔ نہ جانے میں کیوں یہ محسوس کر رہی تھی کہ یہ گو کہ ہمارا دشمن ہے لیکن کسی ماں کا بیٹا ہے جو ہماری پناہ میں ہے اﷲ نے میری سن لی اور اس بار نس سل گئی اس دوران اسے آٹھ بوتلیں خون کی دی جا چکی تھی۔ اسے وارڈ میں بھجوادیا گیا۔ اسی دوران جو تحفے تحائف آتے ہم جنگی قیدیوں کو بھجواتے KD.Singhاس کا نام تھا۔ اسے بھی یہ تحفے تحائف ملتے تو وہ سوچتا رہ جاتا پہلے تو وہ اسے شاید ڈرامہ سمجھا لیکن بعد میں اس نے مجھ سے ملنے کی خواہش کی۔ میں ایک روز جب اس کا حال پوچھنے گئی تو کہنے لگا کیپٹن نصرت صاحبہ میں آپ کی Hospitalityسے بہت متاثر ہوا ہوں اور سوچ رہاہوں آپ کی اس مہمان نوازی کا شکریہ ادا کروں گا جب کہ ہم ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ میں نے کہا KD. Singhجس روز تم یہاں سے جاؤ گے میں اس روز تم سے بات کروں گی فی الحال مصروف ہوں جب وہ صحت یاب ہو گیا اوراسے Campمیں بھجوایاجانے لگا تو اس نے کمانڈنگ آفیسر سے بات کی کہ مجھے کیپٹن نصرت جہاں سے بات کرنی ہے۔ کرنل ممتاز‘ جو کہ ایک صاحب ظرف آفیسر تھے‘ نے مجھے بلایا اور کہا کہ نصرت بیگم یہ کیا چکر ہے میں نے کہا سر چکر ہی چکر ہے مذاقاً کہتے گئے۔ I hope you are not spying. میں نے کہا سر چل کر خود ہی ساری بات سن لیں۔ خیر میں گئی۔ کہنے لگا آپ نے ایک وعدہ کیاتھا۔ آج میں جا رہاہوں۔ میری بات کا جواب دیں میں نے کہا ۔مجھے ایک بات کا جواب دو تم نے دیکھا جو سلوک تمہارے ساتھ ہوا کیا وہ ایک ڈرامہ تھا یا حقیقت؟ کہنے لگا میڈم اسی لئے میں نے آپ کو بلوایا ہے۔ آپ یقین کریں کہ میں بے حد متاثرہوا ہوں آپ کے حسن سلوک سے۔ میں نے کہا KD.Singh ہمارے پیارے رسولؐ کا قول ہے جب دشمن تمہاری دہلیز پار کرے تو وہ تمہارا دشمن نہیں تمہارا مہمان ہوجاتا ہے۔ اُنؐ کے قول کے صدقے ہم نے تمہارا خیال رکھا تو KD.Singhاگر آپ Hospitalityکا بدلہ دینے کا سوچو تو یاد رکھنا جب واپس جاؤ گے تو بات سچی سچی بتانا۔ ایک روز ایک زخمی ہندو کو لایاگیا اس کے زخم کو تقریباً 6 روز ہو چکے تھے‘ اسے اپنے سپاہی چھوڑ کر چلے گئے تھے‘ زخم کولہے پر تھا‘ بدبو سے آپریشن تھیٹر میں کھڑا ہونا مشکل ہو رہاتھا۔ اسے جب ٹیبل پر لٹایا اور میں بہت سارے Dettolسے اس کا زخم صاف کرنے کے لئے آگے بڑھی تو وہاں کھڑا ہونا مشکل ہو گیا۔ میں نے کہا کہ بھئی تم تومجھے ایسے لگتے ہو پچھلی جنگ کے زخمی ہو۔ یہاں پر توآج تک جتنے بھی ہمارے غازی اور شہید آئے ان کے خون کی خوشبو سے ہمیں پاکیزگی کا احساس ہوتا تھا وہ کہنے لگا کہ آج 6 روز کے بعد جس پل کے نیچے میں زخمی پڑا تھا اس پل پر ایک آفیسر نے سگریٹ سلگا کر جب ماچس نیچے پھینکی تو میں نے زور زور سے چلانا شروع کیا‘ بھگوان کا واسطہ دیا کہ میری مدد کریں وہ آفیسر جو میجرکی وردی میں تھا‘ نیچے آیا میری حالت دیکھی مجھے پانی پلایا اور پھر مجھ سے وعدہ کیا کہ میں ابھی تو کسی بڑے مشن پر جا رہا ہوں لیکن یہ ایک مسلمان کا وعدہ ہے کہ میں بہت جلد ایمبولینس بھجواؤں گا جو آپ کو CMHلے جائے گی اور یوں انہوں نے اپنا وعدہ پوراکیا۔ میں نے تو انہیں التجا کی تھی کہ مجھے گولی ماردیں اس اذیت بھری زندگی سے اب میں بھی تب تنگ آگیا ہوں۔ بہرحال اسے ٹھیک کرتے کرتے ہمیں کئی ماہ لگ گئے۔ ایک رات ہمیں حکم ملا کہ آج رات بہت بھاری حملہ ہونے والا ہے۔ دشمن شاید اپنی خفت مٹانے کے لئے ایک بھرپور حملہ کر کے لاہور کے جمخانہ میں شام گزارنے کا خواب پورا کرنا چاہتاتھا۔ ہم کس طرح Bunkersمیں جا سکتے تھے۔ ہمارے مریض ہمارے انتظار میں تھے۔ ہم باری باری انہیں آپریشن تھیڑ جا کر زندگیاں بخش رہے تھے۔ کرنل خان اور کرنل محمودالحسن نے ہی تہیہ کیا کہ تھیٹر چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ انہی کے ساتھ جئیں گے اور مریں گے۔ جنگ ختم ہوئی تو ہم نے اپنے COسے کھیم کرن اور چونڈہ وغیرہ دیکھنے کی خواہش کی۔ کھیم کرن میں جو نظارے ہم نے دیکھے وہ ناقابل بیان ہیں۔ آخر میں اپنے وطن پر قربان ہونے والے اس شہید کا ذکر ضرور کروں گی جس نے باوجود جانتے ہوئے کہ جس محاذ پر وہ کھڑا ہے‘ اس کی زندگی خطرے میں ہے‘ لیکن موت اور زندگی پر یقین رکھنے والے اور شہادت کا مرتبہ حاصل کرنے والے یہ مجاہد کسی خطرے کی پروا نہیں کرتے۔میجر عزیز بھٹی شہید جن کی آدھی کھلی آنکھیں جب یاد کرتی ہوں تو مجھے وہ شہید ہونے کے بعد بھی یوں لگ رہی تھیں جیسے اب بھی ان کی نظریں سرحدوں کی حفاظت کے لئے کھلی ہیں۔ وہ زندہ جاوید ہیں۔ شہید کبھی مرا نہیں کرتے۔

یہ تحریر 30مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP